مادری زبانوں کی بقا میں کہانی کی اہمیت
چند برس پہلے کی بات ہے، ہم بھی کہانی سننے کے خوش گوار تجربے سے گزرے ہیں اب بھی وہ منظر آنکھوں کے سامنے گھوم گھوم جاتا ہے۔ گھر کے تمام بچے مغرب ہوتے ہی نانی اماں کی چارپائی کو گھیر لیتے تھے اور ہر ایک کی کوشش ہوتی تھی کہ میں نے نانی اماں کے قریب بیٹھنا ہے۔ چارپائی کے چاروں پائیوں کو ایک ایک کر کے جو پہلے ہاتھ لگا لیتا وہ اس کی ملکیت تصور ہوتا باقی بچے زمین پر پاؤں پہ بیٹھ کر کہانی سننے کا شوق پورا کرتے تھے۔ اس دوران میں ہم بہت سے ایسے الفاظ اور اشیا کے نام سیکھتے تھے جو اس سے پہلے نہیں سن رکھے ہوتے تھے۔ اگر نانی اماں ”پرستان“ کا ذکر کرتیں تو اس کا پوچھتے۔
”نانی اماں یہ پرستان کیا ہوتا ہے، اس میں کون رہتا ہے، کہاں واقع ہے ؟“
اگر وہ دیو کی کہانی سناتیں تو پھر پوچھتے
”نانی اماں یہ دیو کیا ہوتا ہے۔ ؟“
اور جب اسلامی واقعات کا ذکر کرتیں تو ہمارے ”اللہ جی“ اور ہمارے ”نبی ﷺ جی“ کے الفاظ سے کان مسرور ہو جاتے تھے۔
اگرچہ اولاً بچوں کو سنائی جانے والی کہانیوں میں بھوت، پریت، پریاں، چڑیلیں اور جانوروں میں دیو، بھالو، بھیڑیا، ریچھ، اور مختلف جانوروں اور پرندوں کے نام لیے جاتے تھے جنھیں سنتے ہوئے دلچسپی کے ساتھ ساتھ خوف کی فضا بھی پیدا ہو جاتی تھی۔ پھر بھی بچے اپنی معلومات کے لیے ان جانوروں اور مافوق الفطرت عناصر کے بارے میں پوچھتے تو کہانی بیان کرنے والے ان کی ایسی لفظی تصویر کشی کرتے کہ سارا منظر اور وہ تمام شکلیں آنکھوں میں پھرنے لگتیں۔ اسی طرح مختلف ملکوں اور شہروں کے نام ان کے رسوم و رواج سب اس کہانی میں بیان کر دیے جاتے تھے جو تمام عمر یاد رہتے۔ گویا کہ بچوں کی مذہبی، اخلاقی، معاشرتی، تخلیقی تربیت، زبان فہمی اور زبان دانی کا تمام تر انحصار کہانیوں پر ہوتا تھا۔
اس طرح بچے کہانی سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ زبان کے بہت سے الفاظ بھی ذہن نشین کر لیتے تھے۔ یہ سب اپنی پیاری مادری زبان کی بہاریں تھیں جو آج کے دور میں تیزی سے ختم ہو رہی ہیں۔
بچوں کو مادری زبان میں سنائی گئی ایک کہانی، دلچسپی کے ساتھ ساتھ زبان کے ذخیرہ الفاظ میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ گھر میں روز مرہ کی گفتگو کے ساتھ جب کہانی شامل ہوتی ہے تو بچے گھر سے باہر کے ماحول اور ان میں موجود جاندار اور بے جان اشیاء کے نام، ان کی اہمیت اور ان کے استعمال کے بارے میں جانتے ہیں۔ جب بچے اپنے والدین، بزرگوں یا اساتذہ سے یہ الفاظ سنتے ہیں کہ
ایک دفعہ کا ذکر ہے۔ یا ”آؤ سناؤں تمھیں اک کہانی“ تو فوراً ان کا ذہن کہانی سننے اور اس سے کچھ سبق حاصل کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ کہانی سنانے والوں یا لکھنے والوں کے ذہن میں بچوں کی ذہنی اور نفسیاتی استعداد کے مطابق ان کی اخلاقی، مذہبی، معاشرتی تربیت بھی پیش نظر ہوتی ہے، اس لیے ہر کہانی میں بچوں کے لیے کچھ سیکھنے کا عمل موجود ہوتا ہے۔ دنیا کی تمام بڑی زبانوں میں قومی اداروں کی معاونت سے بچوں کا ادب لکھنے کا باقاعدہ اہتمام کیا جاتا رہا، جب کہ مقامی بولیوں میں سینہ در سینہ لوک کہانیوں کی روایت اب بھی موجود ہے۔
اب جدید دور کے تقاضوں کے مطابق بھوت پریت اور چڑیلوں کی بجائے کہانیوں میں جدید ٹیکنالوجی کے متعلق سوالات بچوں کی ترجیح ہوتی ہے اگر انھیں کہانی سنانے کا ماحول مہیا کیا جائے۔ آج مختلف زبانوں کے اندر کہانیاں ریڈیو، ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا کے ذریعے سنائی اور دکھائی جاتی ہیں۔ بر صغیر پاک و ہند پاکستان میں اکثر انگریزی، اردو اور ہندی میں کہانیاں پڑھائی اور سنائی جاتی ہیں۔ کہانی کی اہمیت و ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اگرچہ تعلیمی نظام میں بچوں کے لیے کہانیاں ترتیب دی گئی ہیں لیکن چوں کہ تعلیمی اداروں میں تدریس کا ذریعہ اردو یا انگریزی زبان ہے اس لیے بچے عموماً کہانیوں سے کما حقہ فوائد لینے سے قاصر رہتے ہیں۔
اردو میں بچوں کا ادب لکھنے کی روایت انیسویں صدی عیسوی میں شروع ہو گئی تھی۔ مرزا اسداللہ خان غالب نے اپنے منہ بولے بیٹے زین العابدین خان عارف کے بچوں کے لیے منظوم لغت ترتیب دیا جو ”قادر نامہ“ کے نام سے مشہور ہے۔ فارسی اور عربی الفاظ کے اردو مترادف خوب صورت انداز میں لکھے ہیں اس کے کچھ اشعار دیکھیں۔
پیشوائے دیں کو کہتے ہیں امام
وہ رسول اللہ کا قائم مقام
ہے صحابی دوست خالص ناب ہے
جمع اس کی یاد رکھ اصحاب ہے
بندگی کا ہاں عبادت نام ہے
نیک بختی کا سعادت نام ہے
کھولنا افطار ہے اور روزہ صوم
لیل یعنی رات دن اور روز یوم
ہے صلوٰۃ اے مہرباں اسم نماز
جس کے پڑھنے سے ہو راضی بے نیاز
جانماز اور پھر مصلیٰ ہے وہی
اور سجادہ بھی گویا ہے وہی
اسی طرح بیسویں صدی میں بچوں کے لیے کہانی لکھنے کی روایت منشی پریم چند، سے شروع ہوئی اور پھر کرشن چندر، عصمت چغتائی، قرۃ العین حیدر نے بھی اس میں کافی ادبی سرمایہ شامل کیا۔ اسی طرح اردو شعراء میں الطاف حسین حالی، علامہ اقبال، اکبر الہ آبادی، تلوک چند محروم اسماعیل میرٹھی، صوفی غلام مصطفیٰ تبسم اور دیگر جدید دور کے تخلیق کار اور شعراء شامل ہیں اردو کی جو نظمیں جو ہر وقت بچوں کی زبان پر رہتی ہیں اور بہت مقبول عام ہیں ان میں
چندا ماموں دور کے
بڑے پکائیں بور کے
آپ کھائیں تھالی میں
ہم کو دیں پیالی میں
اس طرح کی نظمیں اپنے اندر اپنائیت کی خاصیت رکھتی ہیں اور اپنے ریت رواجوں کے بہت قریب ہیں۔ جو کہ اپنی مادری زبانوں میں بھی کہی جاتی ہیں۔
ان تمام تخلیق کاروں کے ہاں بچوں کے لیے لکھی گئی کہانیوں اور نظموں میں تعلیم و تربیت کے ساتھ دلچسپی پیدا کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔
آج کل بچے گھر کے اندر بھی وہی زبان بولنے کی کوشش کرتے ہیں جس میں وہ پڑھتے لکھتے ہیں جو کہ اپنی مادری زبان کی بقا کے لیے خطرے کی علامت ہے۔ ہمیں اس بات کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ بچے کی مادری زبان سے اس کی تہذیب و ثقافت اور وہ اقدار جڑی ہوئی ہوتی ہیں جو اپنے آبا و اجداد سے وراثت میں لے کر آ رہا ہوتا ہے۔ جب اس زبان کے بولنے اور سننے میں کمی آتی ہے تو اپنی مادری زبان کے ساتھ ساتھ وہ تمام تہذیبی اور ثقافتی اقدار بھی معدوم ہونے لگتی ہیں۔ اس سے انسان کی شخصیت دو زبانوں اور ان سے جڑی تمام تر روایات و اقدار کے درمیان مسخ ہو کر رہ جاتی ہے۔ انسان نہ تو مکمل طور پر نئی زبان اور تہذیب کو اپنا سکتا ہے اور نہ پہلی زبان سے مکمل الگ ہو پاتا ہے۔
آئیں مل کر اپنی اپنی مادری زبان کی بقاء کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ اپنے گھروں میں اپنی مادری زبان بولنے اور اس میں بچوں کو کہانیاں سنانے کی روایت کو فروغ دیں۔ تاکہ ہمارے بچے اپنی مادری زبان کو اپنی انگلی نسلوں تک منتقل کر سکیں۔


