کاش منزل سے بھی آگے کوئی رستہ جاتا


نئی تعمیرات سے پرانا مکان اوجھل ضرور ہو جاتا ہے مگر اپنی جگہ قائم ہوتا ہے، نقشہ بدل جانے سے راستے بدلنا پڑتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنے آپ سے ملاقات پیچیدہ عمل بنتا جاتا ہے۔ میں خود کو باہر تلاش کرتی ہوں یعنی وہاں جہاں میں ہوں نہیں۔ ہاں، میں اب بھی یاد کرتی ہوں اس دور کو جب سب سے طویل دورانیہ انتظار کا ہوا کرتا تھا۔ جب سچ اور جھوٹ معصوم جذبے تھے۔ جب محبت سوز و زیاں سے پاک تھی۔ اور جب اپنے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب صحرا میں پھول کھلتے تھے۔

تنہائیاں مہکتی تھیں، آنکھوں میں ستارے چمکتے تھے مگر اس نشے کے اترتے ہی لمحات برزخ شروع ہو گئے۔ کیا کھویا کیا پایا، امید محرومی میں بدل گئی اور آس یاس بن گئی۔ محبتیں اور وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ ایک نیا دور شروع ہوا جہاں ہر خواہش کو پذیرائی ملی پھر رفتہ رفتہ چاہت کے سوا سب کچھ مل گیا۔ اس سے آگے کا لمحہ اور بھی مشکل تھا۔ اداسی کا حل مکمل اداسی ٹھہرا۔ وقت کو کون روک سکا ہے۔ یاد آتا ہے مجھے وہ وقت کے ساتھ بندھا اپنا آپ، راستوں سے بے خبر، منزل کی تلاش میں ایک دائرے میں مسلسل گھومتی پھرتی رہی۔

آنکھوں پر سماج کی فرسودہ روایات کی پٹی باندھے بس گھومتی رہی، گول گول۔ کئی قسم کے خیال بھی آئے مگر مجھے تو بس چلنا تھا، چلتی گئی۔ میں کامیابی اور خوشی کے مفہوم سے مکمل ناآشنا تھی۔ میں وہم میں مبتلا رہی اور سفر کی رائے گانی کو پہچان نہ سکی۔ سفر کرتے کرتے سفر سے محبت ہو گئی اور یہی سب کچھ قسمت سمجھا۔ میں غنی اور میرے ہاتھوں میں ہی کاسہ، نہ خیرات ڈالی نہ مانگی۔ غالباً محبت مغالطے کی بھینٹ چڑھ گئی۔ جب آنکھوں سے پٹی کھلی تو شب و روز برق رفتاری سے انجام کی طرف دوڑ رہے تھے۔ اور میں سب کچھ پتھرائی ہوئی آنکھوں سے تک رہی تھی۔

ایک وقت آتا ہے جب ہر تجربہ خضر راہ بن جاتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب خون میں حرارت پیدا ہوتی ہے اور وہ حرارت اندر طوفان اٹھا دیتی ہے اس لمحے میں نے بھی اپنے بادبان کھول دیے۔ یہ گلشن میں بہار کا زمانہ تھا جب اتنے پھول کھلے کہ آشیانے ہی کی جگہ نہ طلب ہی باقی رہی۔ سانس پل پل خوشبوؤں سے لدی آتی اور میں نے بھی کشتی جاں کے بادبان کھول دیے اور ایک نئے سفر پر روانہ ہوئی۔ بغیر کسی منزل کی جستجو کے۔ یہ لمحات آتے سب پر ہیں نصیب کسی کسی کو ہوتے ہیں۔

ایسی محسوسات اپنے آپ کو انکار پر لا کر کی جاتی ہے۔ ذات کی مکمل نفی فطرت کی جانب رجوع کا سبب بنتی ہے انسان اسی منفی رویے پر آ کر مثبت بنتا ہے۔ ادھورا پن آسان نہیں ہے۔ یہ سالہا سال محرومیوں اور ناکامیوں میں رہنے کا صلہ ہے۔ پہلے پہل ایک خلا سا بنا۔ خلا جتنا بڑھا اتنی ہی تیزی سے تازہ ہوا اس جگہ کو پر کرنے کے لیے دوڑی آئی۔

یہیں اس عورت کا جنم ہوا جس کا آج جنم دن بھی ہے۔ اس کی بھی ہر خواہش کو پذیرائی ملی اور بے شمار چاہت کے ساتھ ملی۔ مگر اب بھی کئی خلا موجود ہیں ذات میں کبھی نہ پر ہونے کے لئے۔ یہی قانون قدرت بھی ہے۔ میں اپنا راستہ اور اپنی منزل سے بہت آگے نکل گئی ہوں جہاں بس خود احتسابی ہے اور کچھ نہیں۔

Facebook Comments HS