پیپلز پارٹی کی کارکردگی اور انتخابات جیتنے کا دعویٰ


پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ضلع تھر پارکر کے شہر مٹھی میں ایک بہت بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے اپنے مخالفین کو کہا کہ کیا وہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پہ عوام میں واپس جا سکتے ہیں۔ انہوں نے خواجہ سعد رفیق، احسن اقبال سمیت نون لیگ کی دیگر قیادت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ آپ کی ساری توجہ اس بات پہ ہے کہ کسی بھی طرح ایک بار پھر لاڈلے کی سند حاصل کر کے اقتدار تک پہنچا جائے، جبکہ ہم اپنی کارکردگی کی بنیاد پہ عوام کی طاقت اور اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کے بھروسے پہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

چیئرمین بلاول بھٹو نے پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت اور اپنی چودہ پندرہ ماہ کی وزرات خارجہ کے دور کی اچیومنٹس کا خاص طور پہ ذکر کیا۔ بلاول بھٹو پاکستان کے نوعمر ترین وزراء خارجہ میں شمار ہوتے ہیں، عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے نتیجے میں بننے والی اتحادی حکومت میں جس وقت انہوں نے وزیر خارجہ کا قلمدان سنبھالا اس وقت کم وبیش ملک کے خارجی حالات ویسے ہی تھے جیسے شہید بھٹو کو وزرات سنبھالنے کے وقت درپیش تھے۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان سرد مہری اور مسئلہ کشمیر، اسرائیل فلسطین تنازعہ، امریکہ، چین اور روس سے تعلقات بنا کر رکھنے کی کوشش جس سے پاکستان کو معاشی فوائد بھی حاصل ہو سکیں اور چین سے مقابلے کے لیے امریکہ کی انڈیا کی پشت پناہی۔ وہی خارجہ محاذ کے چیلنجز جن کا پاکستان کو آج سامنا ہے، اس وقت بھی پاکستان کے پالیسی سازوں کے لیے ایک بڑا امتحان تھے۔ سعودی عرب، ملائیشیا، ترکی ہم سے ناراض تھے۔ نیازی حکومت کی ناقص معاشی پالیسیوں اور آئی ایم ایف کے معاہدوں کی پاسداری نہ کرنے کے باعث پاکستان مہنگائی کی عالمی درجہ بندی میں پہلے دس نمبروں پہ آ چکا تھا۔

زرمبادلہ کے ذخائر انتہائی خطرناک حد تک کم ہو چکے تھے جس کی وجہ سے پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ چکا تھا۔ ایسے میں ملک کو ضرورت تھی ایک ایسے وزیر خارجہ کی جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ عالمی برادری میں اچھی شہرت اور ساکھ کا حامل ہو۔ تب ہی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو پاکستان کا وزیر خارجہ مقرر کر کے ملک کی خارجہ پالیسی کی سمت سیدھی کرنے، ملک کو عالمی تنہائی سے نکال کر اہمیت والا مقام دلانے اور پاکستان پہ لٹکتی دیوالیہ پن کی تلوار کو ہٹا کر آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے لیے اپنے بین الاقوامی تعلقات استعمال کر کے ملکی کے خارجی اور معاشی سمت درست کرنے کی ذمے داریاں سونپی گئیں۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کم تجربے، نوعمری کے باوجود دن رات محنت کر کے وزراء خارجہ کی عالمی برداری میں وہ مقام حاصل کیا جو ان کے نانا شہید ذوالفقار علی بھٹو کو حاصل تھا۔ اسٹینلے ولپرٹ اپنی کتاب ”ذلفی بھٹو آف پاکستان“ میں لکھتا ہے کہ ایوب خان کابینہ میں صرف بھٹو ہی وہ وزیر تھے جن کے پاس یہ وژن تھا جو صلاحیت رکھتے تھے کہ وہ عالمی غیرجانبداری کو بطور سیاسی فلسفے کے سمجھ سکتے ”یہی وژن بلاول بھٹو میں بھی نظر آیا۔

چیئرمین بلاول کی ان ہی شبانہ روز کاوشوں اور محنتوں کا اعتراف سابق وزیراعظم میاں شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے فلور پہ اپنی الوداعی تقریر میں بھی کیا جبکہ وہ کئی دیگر تقریبات میں چیئرمین بلاول کی خداداد صلاحیتوں ان کی مختصر مدت میں شاندار سفارتی کامیابیوں آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی میں ان کی انتھک کوششوں اور ان کے روشن مستقبل کا برملا اظہار بھی کرتے رہے۔

چیئرمین بلاول بھٹو اور پیپلز پارٹی کے دیگر وزراء کی اتحادی حکومت کے دوران کارکردگی خاصی جاندار رہی۔ بینظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام کی وزیر شازیہ عطا مری کی سرگرم کاوشوں سے عمران نیازی حکومت میں اس عوامی فلاحی پروگرام سے نکالی گئیں لاکھوں خواتین کو دو بارہ پروگرام میں شامل کر کے ان کو مالی مدد فراہم کی گئی۔ بے شمار نئی خواتین کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں رجسٹرڈ کیا گیا، مالی معاونت کی رقم میں اضافہ کیا گیا اس طرح ملک کے طول و عرض میں لاکھوں خاندان اس معقول مالی، تعلیمی، وظائف سے استفادہ حاصل کر کے خود کفالت حاصل کر رہے ہیں۔ دیگر وزراء کی کارکردگی بھی چیئرمین بلاول کے اس دعوے کو درست ثابت کرتی ہے کہ وہ آئندہ انتخابات اپنی کارکردگی کی بنیاد پہ لڑیں گے۔

پیپلز پارٹی کی اگر سندھ حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو صحت و تعلیم کے شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ این آئی سی وی ڈی کی صورت میں دل کے ہسپتالوں کا جال بچھا کر عوامی خدمت بہترین مثال قائم کی۔ سندھ دنیا کے ان چند خطوں میں شمار ہوتا ہے جہاں اتنا مہنگا علاج حکومتی سرپرستی میں عوام الناس کو مفت فراہم کیا جا رہا ہے۔ سندھ ہی پاکستان کا وہ واحد صوبہ ہے جہاں سائبر نائف روبوٹک سرجری کے ذریعے کینسر کا انتہائی مہنگا علاج جس پر اسی لاکھ سے ڈیڑھ کروڑ روپے تک کا خرچہ آتا ہے عوام کو جناح پوسٹ گریجویٹ میں مفت فراہم کیا جا رہا ہے، اور دل کے امراض و کینسر کے اس مہنگے علاج کی سہولت صرف سندھ ہی نہیں پاکستان کے ہر شہری کو حاصل ہے۔

پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے ہی گمبٹ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، ساؤتھ ایشیا کا سب سے بڑا ایمرجنسی کیئر سینٹر بینظیر ٹراما سنٹر، بچوں کے لیے عالمی معیار کے چلڈرن ایمرجنسی سینٹرز، معذور افراد کے لیے این آئی ایس ٹی اے آر ایس ہسپتال، پاکستان کا پہلا انفیکشن ڈزیز ہسپتال، ملک کا پہلا مون میرو ٹرانسپلانٹ یونٹ، ایس آئی یو ٹی کراچی کا قیام، مختلف مہلک امراض کے لیے پاکستان میں واحد صوبہ سندھ ہے جہاں روبوٹک سرجری روبوٹس سکھر حیدرآباد لاڑکانہ اور کراچی میں لگائے گئے ہیں جہاں مہنگا اور جدید علاج سندھ کی عوام کو مفت میسر ہے۔

سندھ حکومت نے دس سال کے عرصے میں سندھ میں بیس نئی یونیورسٹیاں قائم کیں، اسکولوں کی حالت زار کے لیے انقلابی اقدامات اٹھائے، پاکستان کے پہلے گرلز کیڈٹ کالج کا قیام، سڑکوں، انڈر پاسز، اوور ہیڈ برجز، فلائی اوورز سمیت سندھ بھر میں سڑکوں کا جال بچھایا۔ دریائے سندھ پہ ضلع ٹھٹہ میں جھرک سے ملاکاتیار تک ملک کے سب سے طویل ترین برج کا قیام، 2010 اور 2022 کے بدترین سیلاب کی تباہکاریوں کے بعد عوام کی اپنے علاقوں میں بحالی ان کو نئے گھر بنا کر دینے سے لے کر ان کے مالی مفادات کا تحفظ اور سیلاب سے تباہ حال انفراسٹرکچر کی تعمیر نو پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کے بڑے کارنامے ہیں۔

چیئرمین بلاول کا یہ دعویٰ کہ وہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پہ اگلے انتخابات میں عوام کے پاس جائیں گے اور انتخابات میں کامیابی حاصل کریں گے، بہت حد تک درست ہے کیونکہ ایک عوامی جمہوری جماعت کو اچھی یا بری کارکردگی کے بعد عوام کے پاس ہی جانا چاہیے نہ کے ان اداروں سے سازباز کرنے کی کوششیں کرنی چاہیے جنہیں ملک کا مختار کل سمجھا جاتا ہے۔ آئندہ انتخابات میں بھی اگر پچھلے اور کئی دہائیوں کے ناکام تجربات کو دوہرایا گیا تو پاکستان شدید ترین معاشی، سیاسی بحران کا شکار ہو جائے گا، اس لیے بہتر ہو گا کہ پرامن منصفانہ غیر جانبدارانہ انتخابات کا انعقاد کر کے اقتدار حقیقی عوامی جماعت کے حوالے کیا جائے۔

Facebook Comments HS