فارن ہائیٹ 451 اور پاکستانی شہری


ایک ایسی ریاست کا تصور کیجئے جہاں ریاست نے انفرادی سوچ کو دبانے، کتاب پڑھنے پر پابندی، اور سینسر شپ کو اپنا نصب العین بنا رکھا ہو۔ ایک ایسی ریاست جہاں شہری کی تمام تر انفرادی و اجتماعی سرگرمیوں کو قابو میں رکھا جائے۔ ایسی ریاست کے جس کا شہری وہی سوچے، جو ریاست چاہے، وہی سمجھے جو ریاست سمجھانا چاہے، وہی مانے جو ریاست اسے منوانا چاہتی ہے۔ یعنی جو ریاست چاہتی ہے اس سے ادھر ادھر، دائیں بائیں اور کچھ نہیں۔

رے بریڈ بری کا شاہکار ناول ”فارن ہائیٹ 451“ ہمیں ایسی ہی ایک تصوراتی دنیا میں لے جاتا ہے۔ یہ ناول 1953 میں لکھا گیا۔ بریڈ بری کا تحریری انداز بہت دلکش اور فکر انگیز ہے۔ فارن ہائیٹ چار سو اکیاون میں بریڈ بری ہمیں ایک ایسے شخص جس کا نام ’گائے مونٹاگ‘ ہے اور جو ایک سرکاری ملازم ہے کی کہانی سناتا ہے۔ گائے مونٹاگ کی ملازمت کی نوعیت کچھ یوں ہے کہ گائے مونٹانگ حکومت کی جانب سے ایک فائر مین کی حیثیت سے کام کر رہا ہے۔

حکومتی منشا ہے کہ ریاست میں کوئی فرد کتاب نہ پڑھ سکے اور گائے مونتاگ کا کام ہے ایسے گھروں کا سراغ لگانا جہاں احتمال ہو کہ یہاں کتابیں موجود ہیں یہ کتابیں پڑھی جاتی ہیں۔ گائے منٹاگ حکومتی ہرکارہ ہے اور ایسے لوگ جو اپنے پاس کتابیں رکھتے ہیں یا پڑھتے ہیں، کی کھوج کے بعد ، گائے مونٹاگ کتابیں ضبط کرتا ہے اور کتابوں کو آگ لگا کر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیتا ہے۔ فارن ہائیٹ چار سو اکیاون ایک علامت ہے کہ، اس سطح کا ٹمپریچر جہاں کاغذ جل جائے۔

حکومتی ترجیحات سے ہٹ کر ذاتی طور پر گائے مونٹاگ کی سوچ حکومتی سوچ یا پالیسی سے مختلف ہے۔ خود گائے مونٹاگ یہ سمجھتا ہے کہ سینسر شپ کسی طور ٹھیک نہیں، فرد کی انفرادی حیثیت، اور فکری آزادی کو پامال کرنا کسی طور اچھا نہیں ہے۔ مگر ساتھ ہی ساتھ گائے مونٹاگ حکومت کے ساتھ اپنے حلف کی پاسداری کرنے کے لیے بھی پریشان ہے۔ اس کہانی میں گائے مونٹانگ کی آزمائش کے مراحل کیا کیا ہیں اور اس کی آزمائشوں کا انت کیا ہے یہ جاننے کے لیے میں آپ سے کہوں گا کے یہ ناول ایک مرتبہ ضرور پڑھ ڈالیے۔

فارن ہائیٹ چار سو اکیاون کی کہانی کا پریکٹیکل وطن عزیز میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ کہنے کو میڈیا آزاد ہے، ہمیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم اپنی مرضی سے کوئی بھی چینل یا اخبار یا کوئی سوشل میڈیا سائٹ دیکھ رہے ہیں۔ مگر حقیقت میں جو ریاست چاہتی ہے کے ہم دیکھیں، ہم وہی دیکھ رہے ہیں۔ ہمارا وہم ہمیں گھیرے ہوئے ہے کے ہم آزاد ہیں مگر ہماری فکر تک اصلاً مقید ہے جس کا ہمیں ادراک نہیں۔

ریاست چاہتی ہے کے الجھن کا میدان لگایا جائے، سو نیوز چینل اس پر ریاستی گائے مونٹاگ کے طور پر مامور ہیں۔ ذہنی خلجان کا بیوپار ہے سو ہو رہا ہے۔ ہمیں الجھایا جا رہا ہے کے الیکشن ہوں گے۔ مگر الیکشن کے نتائج کا تعین ہم نہیں کریں گے وہ کوئی اور کرے گا۔ ہمیں وہم ہے کے ووٹ کی طاقت سے ہم اپنے معیار اور پسند کا نمائندہ چن سکیں گے مگر ہم گائے منٹانگوں کی سرشت سے بے نیاز ہیں جو پہلے بھی ہماری تمناؤں پر انگنت شب خون مار چکے ہیں۔

ہمارا خیال ہے کے تعلیم کے حصول کے لیے ہم آزاد ہیں۔ مگر اول تو تعلیم کا حصول اب عام شہری کی پہنچ سے دور ہو چکا ہے اور دوسرا معیار تعلیم انتہائی مضحکہ خیز ہے۔

روزگار کی فراہمی سے ریاست بے نیاز ہو چکی ہے۔ معیار زندگی کو بہتر کرنے کے تمام دروازے شہری پر بند ہیں۔ ہماری ریاست فرد نگل رہی ہے اور شہری اگل رہی ہے تاکہ محصول کا نظام چلتا رہے۔ فارن ہائیٹ چار سو اکیاون میں کاغذ کا جلنا علامتی تھا مگر یہاں شہری کا جلنا اور جھلسنا ایک ریئلٹی ہے۔

Facebook Comments HS