کیا کراچی کو سندھ سے الگ سمجھا جاسکتا ہے؟


کچھ سیاست دانوں کی طرف سے بار بار یہ کوشش کی جاتی رہی ہے کہ کراچی کو سندھ سے الگ رکھا جائے اس کے باوجود کراچی اب بھی اسی صوبے کا حصہ ہے جس نے سب سے پہلے قیام پاکستان کے لیے قرار داد کو اپنی صوبائی اسمبلی سے منظور کیا تھا۔

اب پروفیسر اعجاز احمد قریشی نے 1947 سے 1970 تک ہونے والی ایسی تمام کوششوں پر ایک جامع کتاب لکھ ڈالی ہے۔ اعجاز قریشی ایک بڑے محترم دانش ور اور محقق ہیں جن کی کتابیں تاریخ پاکستان کے ایسے گوشے بے نقاب کرتی رہی ہیں جو مطالعہ پاکستان کی کتابوں میں نہیں ملتے کیوں کہ کتابیں سرکاری طور پر درسی کتب کی طرح طلبا اور اساتذہ کے لیے تیار اور تجویز کی جاتی ہیں۔

پروفیسر اعجاز قریشی نے اپنی پوری زندگی تحقیق اور تعلیم کے لیے وقف کر رکھی ہے اور پچھلے پچاس سال انہوں نے ہزاروں طلبا و طالبات کے لیے تدریس کے فرائض انجام دیے ہیں۔ اب تک ان کی ایک درجن سے زیادہ کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں جن سے ان کے بھرپور تحقیقی کام کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

ان کی ایک کتاب جس نے خاصی توجہ حاصل کی وہ ”ون یونٹ“ کے بارے میں تھی جو چاروں صوبوں کی تحلیل اور ون یونٹ کے خلاف تحریک کی تاریخ ہے۔

یاد رہے کہ ون یونٹ 1955 میں قائم کر کے مغربی پاکستان ایک صوبہ بنا دیا گیا تھا جس کا دارالحکومت لاہور تھا۔

پندرہ سال کی طویل جدوجہد کے بعد 1970 میں اس ون یونٹ کو جنرل یحییٰ خان کی فوجی حکومت نے مجبور ہو کر ختم کر دیا تھا۔ گو کہ اس موضوع پر مضامین اور پمفلٹ موجود تھے قریشی صاحب کی کتاب اس تاریخ پر ایک متاثر کن اضافہ ثابت ہوئی۔

پچھتر سال کی عمر میں بھی اعجاز قریشی کسی جوان محقق کی طرح سر گرم نظر آتے ہیں۔ اب ان کی کتاب ”دا کیس آف کراچی“ (THE CASE OF KARACHI) یا کراچی کا مقدمہ سامنے آئی ہے۔ جس کا انگریزی ترجمہ عبدالمالک سومرو نے کیا ہے۔ جسے پی کاک پبلشرز اور ایم ایچ پنھور انسٹی ٹیوٹ آف سندھ سٹڈیز یا مطالعہ سندھ نے شایع کیا ہے۔

پانچ سو تیس ( 530 ) صفحات پر مشتمل یہ کتاب کراچی کی تاریخ پر ایک شان دار اضافہ ہے۔

گو کہ اس سے قبل اختر بلوچ، عارف حسن، اسلم خواجہ اور گل حسن کلمتی کراچی کے ماضی و حال پر خاصا لکھ چکے ہیں۔ اعجاز قریشی کی کتاب اس موضوع پر موجود خلا کو پر کرنے کی ایک اور کام یاب کوشش ہے۔

مطالعہ سندھ کا ایم ایچ پنھور انسٹی ٹیوٹ اس طرح کی کتابوں کی تیاری میں اہم کردار ادا کر رہا ہے جو تاریخ کو ایک نئے رخ سے پیش کر رہی ہیں اور محض سرکاری بیانیے کی جگالی نہیں کرتیں۔ اس طرح کی سرکاری تاریخ کو اسٹیبلشمنٹ کے پروردہ بہت سے ”مورخین“ 1950 سے آج تک پھیلا رہے ہیں۔

”کراچی جو مقدمو“ نامی کتاب سب سے پہلے سندھی میں 2017 میں شایع ہوئی اور اب اس کا انگریزی ترجمہ اسے مزید قارئین تک پہنچانے میں مدد دے گا۔

اس کتاب میں بحث کا آغاز 1948 سے ہوتا ہے جب نوزائیدہ ریاست پاکستان نے کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ کتاب میں قیام پاکستان سے پہلے کے سندھ کا بھی کچھ پس منظر دیا گیا ہے۔

1947 سے 1970 تک جب کراچی دوبارہ سندھ کا حصہ بنا۔ اس صوبے کے عوام نے مغربی پاکستان کی اس واحد بندرگاہ اور سب سے بڑے شہر کو دوبارہ سندھ میں شامل کرنے کی طویل جدوجہد کی۔

اس کتاب میں کراچی کی تاریخ پر نامور دانش وروں کے مضامین اور مقالے بھی شامل ہیں۔ پروفیسر اعجاز قریشی کی تحقیق کا دائرہ بڑا وسیع ہے جس میں نہ صرف اس مسئلے کے نسلی اور معاشی پہلو پر بحث کی گئی ہے بل کہ سیاسی و سماجی اثرات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

کتاب کے پہلے باب کا عنوان ہے ”کراچی کی سندھ سے علیحدگی“ اور اس کے ساتھ کتاب میں مفید تفصیلی گفتگو کا آغاز ہو جاتا ہے۔

کتاب کا سب سے معلوماتی اور تحقیقی حصہ اس کے چوتھے باب میں ہے جس میں پاکستان کی دستور ساز اسمبلی میں اس موضوع پر ہونے والی تقریریں دی گئیں ہیں۔ ان تقریروں میں کراچی کو وفاق کے حوالے کیے جانے پر تفصیلی بات کی گئی ہے۔ یہ امر دلچسپی کا حامل ہے کہ بائیس مئی 1948 کو دستور ساز اسمبلی کا اجلاس ہوا۔ جس کی سربراہی بنگالی اسپیکر مولوی تمیز الدین خان نے کی۔

اس اجلاس میں کراچی کو پاکستان کا دارالحکومت بنانے کے لیے اس کی سندھ سے علیحدگی کی تجویز پیش کی گئی۔ مزید دلچسپی کی بات یہ ہے کہ اس قرارداد کو پیش کرنے والے خواجہ شہاب الدین کا تعلق بھی مشرقی بنگال سے تھا۔ اس وقت تک مشرقی پاکستان نام کا صوبہ نہیں تھا اور اسے مشرقی بنگال کے نام سے ہی جانا جاتا تھا۔ اس قرارداد کا پہلا حصہ اس قابل ہے کہ اسے یہاں نقل کیا جائے۔

”پاکستان کا دارالحکومت کراچی میں ہو گا اور اس شہر کے تمام انتظامی معاملات بشمول نواحی علاقوں کے مرکزی حکومت کے پاس ہوں گے۔ علاقوں کی شمولیت کا فیصلہ کرنے کا اختیار اور کراچی کو دارالحکومت بنانے سے متعلق تمام مطلوبہ فیصلے حکومت پاکستان کرے گی اور وفاق کو ہی اس سلسلے میں قانون سازی کا مکمل حق حاصل ہو گا۔ قطع نظر اس کے کہ اس وقت کسی اور قانون میں کیا درج ہے حکومت پاکستان فوری طور پر تمام ضروری اقدام اٹھائے گی اور اس قرارداد پر عمل درآمد کے لیے ضروری فیصلے کرے گی۔ “

شہاب الدین رکن اسمبلی بھی تھے اور وفاقی وزیر بھی جن کا تعلق مشرقی بنگال سے تھا مگر انہیں یہ خیال نہیں آیا کہ خود ان کے صوبے میں ملک کی چھپن فی صد آبادی رہتی ہے اس لیے غالباً دارالحکومت وہاں بنانا بہتر ہو گا۔

کسی اور صوبے کی نسبت یہ مشرقی بنگال ہی تھا جس نے قیام پاکستان کے لیے سب سے زیادہ جدوجہد کی تھی اور مذہب کی بنیاد پر تقسیم ہند کی وکالت کی تھی۔ مغربی حصے کے دوسرے صوبوں نے نسبتاً کم اہم کردار ادا کیا تھا جہاں 1940 کے عشرے کے وسط میں اچانک تحریک پاکستان وارد ہوئی تھی۔

اسمبلی کی تقاریر جنہیں پروفیسر نے عرق ریزی سے جمع کیا ہے ہماری تاریخ کا ایک چشم کشا پہلو اجاگر کرتی ہیں۔ اس کا مطالعہ ہمارے طلبا اور تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے دیگر قارئین کے لیے بڑا کار آمد ہو گا۔

سندھ کے دوسرے ارکان اسمبلی مثلاً ایوب کھوڑو اور ہاشم گردر وغیرہ مختلف نکات پر آواز اٹھاتے رہے کہ یہ قرار داد کس طرح سندھ اسمبلی میں پیش کیے جانے سے پہلے تیار اور منظور کی گئی۔ لیکن شہاب الدین ان سوالوں کو گول کرتے گئے۔ پنجاب سے فیروز خان نون بھی کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی وکالت میں پیش پیش تھے۔

فیروز خان نون تو یہ بات زور دے کر کہتے رہے کہ کراچی کو سندھ سے الگ کیے بغیر کوئی راستہ نہیں ہے۔ گزدر کی دلیل تھی کہ حکومت پاکستان کراچی کو اپنا دارالحکومت بنا سکتی ہے لیکن اسے سندھ کے ہی زیر انتظام رہنا چاہیے اس پر مشرقی بنگال اور پنجاب سے ارکان اسمبلی نے اور خود وزیراعظم لیاقت علی خان نے اس بات کو خام خیالی کہا اور اسے ”سلطنت کے اندر سلطنت“ سے تشبیہ دی۔

یعنی ”ریاست کے اندر ریاست“ کا تصور نیا نہیں ہے مگر اکیسویں صدی میں اس بات نے کچھ نئے معنی ضرور اوڑھ لیے ہیں۔

کتاب کا دوسرا حصہ کراچی کی علیحدگی سے متعلق معاملات کے بارے میں ہے۔ مگر غالباً سب سے اہم ابواب چودھویں اور پندرہویں ہیں۔

چودھویں باب میں پناہ گزینوں کی آمد اور سندھ میں جائیدادوں کی الاٹ منٹ پر بحث کی گئی ہے جب کہ پندرہویں باب میں ان زمینوں پر بات کی گئی ہے جو مسلمانوں نے ہندوؤں کے پاس گروی رکھی ہوئی تھی مگر وہ ہندو اب سندھ سے بھارت جا چکے تھے۔ ان ہی ابواب میں جنوری 1948 کے ہولناک ہندو کش فسادات کا بھی ذکر ہے جب ہندوستان سے آنے والے پناہ گزینوں نے کراچی میں زبردستی ان مکانوں، دکانوں اور دیگر املاک پر قبضہ کرنا شروع کیا جو ہندو چھوڑ گئے تھے۔

کتاب کا تیسرا حصہ سب سے طویل ہے جو 200 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں بڑے اہم ضمیمے شامل ہیں مثلاً اہم ایچ پنہور، غلام محمد لاکھو، دین محمد وفائی اور دیگر کے مضامین اور مقالے ہیں جو انہوں نے تاریخ سندھ اور خاص طور پر کراچی اور اس کے گردونواح کے بارے میں لکھے ہیں۔

حیدر بخش جتوئی کا بیس صفحوں پر مشتمل مضمون کراچی میں سندھی زبان کی بقا کے بارے میں ہے۔

اس مضمون میں بڑی دل چسپ اور معلوماتی پیرائے میں بتایا گیا ہے کہ کراچی میں سندھی زبان بڑے پیمانے پر استعمال کی جاتی تھی اور نئے دارالحکومت میں سندھی کو شدید خطرے لاحق تھے کیوں کہ مقامی لوگ جو صدیوں سے سندھی بول رہے تھے اب اچانک بے اختیار نظر آرہے تھے۔

یاد رہے کہ 1941 کی مردم شماری کے مطابق کراچی کی ساٹھ فی صد آبادی کی مادری زبان سندھی تھی مگر 1951 کی مردم شماری کے مطابق یہ تناسب کم ہو کر صرف دس فی صد رہ گیا تھا۔

اس کتاب کے آخر میں فضل اللہ قریشی، اختیار کھوکھر، ڈاکٹر برکت نوناری، انجینئر اوبھایو خشک اور شفیع جاموٹ کے مضامین بھی شامل ہیں۔

اس کتاب کو نہ صرف سندھ بل کہ پورے پاکستان کی جامعات کے شعبہ تاریخ میں مجوزہ کتابوں کی فہرست میں شامل کیا جانا چاہیے۔ یہ ہی کتاب بتاتی ہے کہ کس طرح صوبوں کی اپنی ترجیحات کو وفاقی حکومت نے شروع سے ہی نظر انداز کرنا چاہا تھا۔

آخر میں ایک تجویز یہ ہے کہ اس کتاب کا ایک اور خلاصہ چھوٹی کتاب میں شایع کرنا چاہیے کیوں کہ بعض تقریریں اتنی طویل ہیں کہ ان کی بآسانی تلخیص کی جا سکتی ہے۔ دوسری تجویز یہ ہے کہ اس کی اگلی طباعت میں بہتر ایڈیٹنگ یعنی متن کی درستی ضروری ہے۔

Facebook Comments HS