ہتھیلی پر سرسوں
ہم سب کی ایک عدد رشتہ دار یا آنٹی ایسی ہوتی ہیں گی جن کے پاس ہر مشکل کا ایک آزمودہ وظیفہ ہوتا ہے۔ دلیل کے طور پر ایک متاثر کن کہانی بھی۔ وہ مصر ہیں کہ میں ادھر ادھر کی باتیں نہیں کرتی۔ اور ویسے بھی یہ قرآنی دعائیں ہیں۔ اللہ کے نبیوں نے مانگی ہوئی ہیں۔ رب انی۔ بس ایک دفعہ شروع کرو۔ تہجد یا فجر سے پہلے، عصر یا مغرب کے بعد وغیرہ۔ ابھی چالیس دن نہیں گزریں گے کہ کام جو بھی ہو۔ بس نیت نیک ہونی چاہیے۔ اور ہم سب ہی عقیدت میں قریبا ان کے ہاتھوں کو چومنے والے ہو جاتے ہیں۔ اور ”اکیس روز میں نئے آپ، نئی زندگی۔“ کے فارمولے بیچنے والوں کے لیے بھی ہمارے کچھ ایسے ہی جذبات ہوتے ہیں۔
لیکن کرنے کے بعد یہ بھی ماننا پڑے گا کہ روز تک ایک ہی کام لگاتار کرنا اپنی جگہ حیرت انگیز ہے۔ تیسرے دن ہی ہمیں ادراک ہوجاتا ہے کہ یہ ایک احمقانہ خیال تھا۔ ساتویں روز ہم سوچنے لگتے ہیں ایک ہفتہ بہت ہوتا ہے بس کرنا چاہیے۔ پندرہویں روز ہم خود کو کوستے ہوئے ہر شے اٹھا کر پھینکنا چاہتے ہیں کہ ایسا خیال ذہن میں آیا ہی کیوں۔ انیسویں روز آپ خود کو دلاسا دیتے ہیں بس دو روز اور۔ اور اکیسویں روز آپ دوبارہ خود کو کمرہ امتحان میں پاتے ہیں کہ کیا اس نئی عادت یا کام کو جاری رکھا جائے یا بس بہت ہو گئی؟
اکیس روز کے لگاتار تسلسل کی اندھیری سرنگ کے خاتمے پر اپنی مستقل مزاجی کو دیکھ کر ایک خوشگوار حیرانی ہماری منتظر ہوتی ہے۔ کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ ہم خود کو کام نہ کرنے کے جو بہانے اور رعایتیں دینے کے عادی ہو جاتے ہیں اس سے ہمارے ارادے کمزور ہونے لگتے ہیں اور استقلال ایک کار محال لگتا ہے۔ اصل میں اکیس روز کا تسلسل کسی ایک ایکٹیوٹی کو کرنے کے لیے کوئی اتنا لمبا عرصہ نہیں ہے کہ ہمارا دماغ اس کو بالکل ہی ناممکن سمجھ لے۔ یہ نیو ائر پلان سے کم طویل ہے اور تین سالہ منصوبے سے تو اس کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ ہمارا دماغ اس کو ایک قابل حصول منزل سمجھتا کر اس پر جما رہتا ہے۔
لیکن کیا واقعی اکیس دنوں میں ہماری ایک نئے خود سے ملاقات ہوتی ہے؟ نئی عادات ہمارے اندر رچ بس چکی ہوتی ہیں؟ مکمل تو نہیں لیکن ہمارا خود پر اعتماد ضرور بڑھ جاتا ہے۔ ہمیں ایک نئی تکنیک ضرور سمجھ آجاتی ہے کہ اگر ہم اپنے کاموں اور منصوبوں کو سالوں اور مہینوں کے حساب سے سوچنے کی بجائے صرف دنوں یا ہفتوں میں سوچیں تو ہم گھبراہٹ کا شکار نہیں ہوں گے۔ اپنے چھوٹے پلانز کو مکمل کرتے ہوئے جب ہم سالوں بعد مڑ کر دیکھتے ہیں تو یقین نہیں آتا کہ کیسے عادت کی ایک چھوٹی سی تبدیلی سے اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر ہم نے یہ عظیم چوٹی سر کر لی ہے۔ یہ میں نے ویسے محاورہ بولا ہے۔ چوٹی سر کرنا اصل میں مجھے اتنا انسپائر نہیں کرتا کیونکہ چلنا پڑتا ہے۔
جیسے لکھنے کی بات کریں تو جب تک ہم لکھنے کے لیے کسی خاص موڈ کا انتظار کرتے رہتے ہیں ہم میں کبھی بھی کسی قسم کا ڈسپلن نہیں پیدا ہوتا۔ کبھی تھوڑا سا لکھ لیا پھر مووی لگا لی یا کتاب پڑھنی شروع کردی تاکہ خیالات میں آئی ہوئی رکاوٹ کو دور کیا جا سکے۔ لیکن اگر ہم یہ سوچ کر لکھنے بیٹھتے ہیں کہ جو بھی ہو جائے ہمیں اکیس روز تک لازمی روز لکھنا ہے تو ہم ایک نتیجہ خیز عمل کی ابتدا کرتے ہیں۔ یہ نتائج خود بخود مزید عمل کی تحریک بن جاتے ہیں ہے۔ اور ہماری ذات سے اس عمل کا تعلق جتنا گہرا ہو گا اس کے ایک پکی عادت بننے کے مواقع اتنے ہی زیادہ ہوں گے۔
لیکن کیا یہ عادت محض ہے یا کام کی کوالٹی بھی اس میں پوشیدہ ہے؟ بیشتر لوگ اکیس روز میں نئی عادات قسم کے دعوؤں کو میکسویل مالز سے منسوب کرتے ہیں جس نے خیال ظاہر کیا تھا کہ انسان کم از کم تین ہفتے اپنی سرجری کے اثرات سے مانوس ہونے میں لگاتا ہے۔ بہرحال تحقیقات بتاتی ہیں نئی عادات بنانے اور پکانے میں، کوئی ہنر اپنے عام معمول کی طرح اپنانے میں ایک سے نو ماہ تک لگ سکتے ہیں۔ خاموشی کے دس سال ایک اور تحقیق ہے جس میں جان ہیز نے پہلے میوزک کے پانچ سو۔ اور بعد ازاں مشہور شاعروں اور مصوروں کے فن پاروں کے جائزوں سے نتیجہ نکالا کہ یہ تمام ماسٹر ورکس دراصل قریبا دس ہزار گھنٹوں کی محنت شاقہ کی ریاضت کا حاصل ہیں۔ ہم کہ سکتے ہیں کہ دس ہزار گھنٹوں کی ریاضت دراصل مشق کے فوائد اور تسلسل کے اثرات کے بارے میں ہے۔
اتنے سارے گھنٹوں اور اتنی ساری محنت کے مقابلے میں تیس دن میں زندگی بدلنے سے لے کر من کی تمام نیک نیت مرادوں کے بر آنے کا خیال بہت خوش کن ہے۔ ادھر شروع کریں ادھر فوری نتائج حاصل۔ دیر پا نتائج کے لیے ہماری نظر عموماً انجام کی بجائے اس کے پروسس پر رہتی ہے۔ لمبے عرصے میں استقلال سے ہونے والے کام میں ایک لمحے میں کوئی خاص سود و زیاں نظر نہیں آتا۔ کہیں سالوں بعد ایک قابل قدر اچیومنٹ ہمارے سامنے آتی ہے۔ فطرت کے نظام میں دھیرج کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ لیکن انسان جلد باز واقع ہوئے ہیں۔ اسی لیے اگر ہم خود نہیں سمجھتے تو وقت بہت تفصیل سے ہمیں سمجھاتا ہے کہ ہتھیلی پر سرسوں نہیں جمتی۔ پھر صبر اور استقلال سے ہماری واقفیت اور انسیت بڑھ جاتی ہے۔
جب ہم ان خاتون سے کہتے ہیں کہ جن لوگوں کی بات آپ کر رہی ہیں وہ تو کوئی قابل ذکر کامیابی حاصل کیے بغیر ہی۔ خاموشی کے کم از کم دس سال اور کبھی اس سے بہت زیادہ اپنے مقاصد کی راہ میں ان دعاؤں کے ساتھ چلتے رہے ہیں۔ اس طویل مدت کی محنت کی سمت اور نیت کے فوکس کا ایسا شارٹ کٹ کیسے بن گیا؟ وہ کہتی ہیں اعتقاد کی
بات ہے ساری۔ ہم ایک عمیق سی سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ اصبرو وصابرواورابطو کو اکیس روز میں نئے زندگی نئے آپ یا تہجد کے وظیفے سے کیسے میچ کریں۔

