گیارہ منٹ: جنسی نفسیات پر فلسفیانہ فکشن
’گیارہ منٹ‘ معروف برازیلی ادیب پائیلو کوئلہو کا شہرہ آفاق ناول ہے جسے 2003 میں پہلی بار پرتگیزی زبان میں شائع کیا گیا تھا۔ یہ جنسی نفسیات پر تحریر کیا گیا ایسا ناول ہے کہ جس میں محبت، ہوس اور خوابوں کی تکمیل کے پیچھے بھاگتی ایک بیسوا کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ یہ ناول محبت، قربت اور کثیرالجہتی تعلقات کی گنجلک داستان ہے جس میں ماریا کے کردار کے ذریعے قارئین کو ایک ایسے سفر پر لے جایا جاتا ہے جو غیر مستقل جنسی تعلق سے متعلق سماجی ضوابط اور تصورات کو چیلنج کرتا ہے۔ ناول کا عنوان قاری کو متجسس کرتا ہے لیکن جیسے ہی وہ کہانی ختم کرتا ہے تو اس پر آشکار ہو جاتا ہے کہ اسے مجامعت کے اوسط دورانیے کی علامت کے طور پر لیا گیا ہے۔ گیارہ منٹ 50 سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ اس کا اردو ترجمہ فہیم صابری نے خوش اسلوبی سے کیا ہے جو 256 صفحات اور 33 ابواب پر مشتمل ہے۔
ناول کی کہانی ماریا کے گرد گھومتی ہے جو برازیل کے شمال میں واقع ایک قصبے کی رہنے والی ہے۔ وہ بچپن میں صرف گیارہ سال کی عمر میں ہی پہلا عشق کر گزرتی ہے۔ مقصد پورا ہونے پر اس کا عاشق منظر عام سے غائب ہو جاتا ہے۔ وہ بار بار محبت میں گرفتار ہوتی ہے لیکن اسے ہر بار ہی بے وفائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ محبت میں پے در پے ناکامیوں کی وجہ سے دلبرداشتہ اور اکتاہٹ کا شکار ہو جاتی ہے۔ ایک دن وہ گاؤں چھوڑ کر شہرت اور دولت کمانے کی غرض سے ریو ڈی جنیرو پہنچتی ہے جہاں اس کی ملاقات ایک تاجر سے ہوتی ہے جو اسے سویٹزرلینڈ میں نوکری دلاتا ہے۔
اپنے خوابوں کے تعاقب اور بہتر زندگی کی تلاش میں وہ یورپ چلی آتی ہے۔ آغاز میں وہ ویٹریس کے طور پر کام کرتی ہے لیکن زیادہ پیسہ کمانے کی غرض سے وہ جلد ہی جنسی صنعت سے وابستہ ہو جاتی ہے۔ جب وہ اس انجان دنیا میں قدم رکھتی ہے تو اس کا معاشرے کی تلخ حقیقتوں سے سامنا ہوتا ہے۔ منصوبے کے مطابق ماریا ایک سال بھرپور محنت کر کے برازیل لوٹنا چاہتی ہے لیکن پھر ایک دن اس کی ملاقات رالف سے ہوتی ہے۔ وہ مشہور پینٹر ہے۔ وہ ایک ساتھ خوش گوار لمحات گزارتے ہیں اور مخلصانہ گفتگو سے بھی لبریز ہوتے ہیں۔ پھر ان کی دوستی محبت میں بدل جاتی ہے۔
مصنف نے ناول میں کئی اہم کردار خلق کیے ہیں۔ ان کرداروں کی خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے ہر کردار کو منفرد شخصیت اور مختلف پس منظر کے ساتھ پیش کیا ہے۔ انہوں نے برازیل اور سویٹزرلینڈ کے درمیان ثقافتی فرق کو بھی واضح کیا ہے بلکہ وہ اس کے ذریعے قبولیت اور افہام تفہیم کا پیغام بھی دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
انہوں نے اپنے بہترین انداز تحریر کے ذریعے محبت اور تعلقات کی مختلف اقسام کی نشان دہی کرتے ہوئے رومانس اور شہوانیت کے فرق کو بھی بیان کیا ہے۔ اس میں جسمانی قربت کی عارضی نوعیت کے ذریعے نفسانی خواہش کی مبہم صورت حال پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ وہ شہوت پرستی پر سماجی اصولوں اور فکر و عمل پر بھی منفرد رائے پیش کرتا ہے۔
اس ناول پر ناقدین کی طرف سے ملے جلے تاثرات سننے کو ملتے ہیں۔ یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ ادبی آرائی متنوع ہوتی ہیں اور اگر آپ پائیلو کوئلہو کے کام میں دل چسپی رکھتے ہیں تو ناول کا مطالعہ ضروری ہے۔ اس سے یہ فائدہ ہو گا کہ آپ اپنی ذاتی ترجیحات اور ناول میں پیش کیے گئے واقعات پر اپنا انداز فکر بیان کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔
بہت سے ناقدین ناول سے اخذ شدہ فلسفیانہ اور وجودی موضوعات کی تعریف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، خاص طور پر محبت، خواہش اور زندگی کی حقیقتوں کے بارے میں۔ بعض نے عالمی تناظر پر پھیلے ہوئے پلاٹ کو بھی سراہا ہے جو برازیل، سویٹزرلینڈ اور دیگر مقامات تک وسیع ہے۔ کوئلہو کی خوبی ہے کہ وہ اپنے کام میں متنوع ثقافتی عناصر اور ترتیبات کو شامل کرتا ہے۔ کوئلہو کا طرز تحریر، جس میں سادگی، روحانیت اور تصوف کا امتزاج ہے، قارئین کو اپیل کرتا ہے اور وہ اس کی نثر کو قابل رسائی اور دل فریب قرار دیتے ہیں۔
کچھ مبصرین اور قارئین نے ناول کے واضح اور شہوت انگیز مواد کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ پہلو تمام ناقدین کے لیے موزوں نہ ہو، اور اس کی وجہ سے ملے جلے ردعمل سامنے آئیں۔ بعض کا کہنا ہے کہ گیارہ منٹ کے کردار کسی حد تک دقیانوسی ہیں اور ان میں گہرائی کی کمی ہے۔ مرکزی کردار ماریا اور دیگر کرداروں کے سراپا کو حد سے زیادہ سادگی دی گئی ہے۔ کچھ ناول کے پلاٹ کو پیشن گوئی کے قابل سمجھتے ہیں، اور یہ دلیل دیتے ہیں کہ کہانی کے بعض پہلووں اور اس کے اختتام کے بارے میں ابتدا میں اندازہ قائم کیا جا سکتا ہے۔
بہرحال گیارہ منٹ سماجی حقیقت نگاری پر مبنی ایسا فلسفیانہ ناول ہے جو حساس موضوع پر تحریر کیا ہے۔ لیکن پیچیدگی اور حساسیت کے باوجود یہ بصیرت اور مہارت کے ساتھ کہانی بیان کرنے کی صلاحیت کا بہترین نمونہ ہے۔ پائیلو کوئلہو کی نثر سادا ہوتی ہے لیکن اس میں خوب صورتی نمایاں رہتی ہے۔ وہ سیدھا سادا بیانیہ اسلوب اختیار کرتا ہے اور قارئین کو کرداروں اور ان کی مہمات کے ساتھ جوڑے رکھتا ہے۔


