ثقافتوں کا ٹکراؤ


ثقافتوں کا ٹکراؤ کیا ہے؟ آئیے اس سوال پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ دنیا میں کیمیونزم کا تخت و تاج دھڑام ہونے کے بعد کے حالات اور مستقبل میں لوگوں کی ثقافتی و مذہبی شناخت بارے پہلی بار یہ احساس اجاگر کیا گیا کہ اب سرد جنگ کے خاتمے بعد یہ دو عوامل جنگ کے بنیادی عنصر ہوں گے۔ ایک امریکی سیاسی پنڈت سیمیوئل پی ہنٹگٹن کے نزدیک مستقبل کی جنگیں ممالک کے بجائے ثقافتوں اور مذاہب کے درمیان لڑی جائیں گی۔ ان کے خیال میں ثقافت و ثقافتی شناخت جو کہ وسیع تر مفہوم میں ان تہذیبوں کی شناخت ہے۔

دراصل یہ انہیں ایک طرف آپس میں جڑے رکھنے پر مجبور کیے رکھے گی یا دوسری طرف علیحدگی پر مجبور کر دے گی۔ ان کے نزدیک اس کی اصل بنیاد سرد جنگ کے دور سے ہی محاذ آرائی پر مبنی چلی آ رہی تھی۔ سرد جنگ کے دوران اور اس سے قبل دنیا کے معاشرے جمہوری یا اشتراکیت گروپوں میں منقسم تھے۔ اب یہ معاشرے معاشرتی، ثقافتی و مذہبی تقسیم کی طرف مراجعت کرتے نظر آ رہے ہیں۔ مغربی معاشرہ سرد جنگ کے خاتمے بعد اپنی اجارہ داری قائم رکھنا چاہتا ہے۔

ان کے نزدیک اب دنیا کو نئے سرے سے منقسم کرنے کی ضرورت ہے۔ جس میں ان کے مفاد پر کوئی کاری ضرب نہ لگا سکے۔ جس میں سر فہرست چین اور چین سے ملکی جلتی ثقافتوں کا ایک جمگھٹا ہے۔ جاپانی قوم اپنا علیحدہ تشخص قائم رکھے گی۔ انڈیا کے ہندو اپنے مذہب اور ثقافت کے پرچارک رہیں گے۔ جبکہ مذہب اسلام کے ماننے والے پوری دنیا میں ایک طرف ہوں گے لیکن ان میں پڑی مذہبی و ثقافتی تقسیم واضح رہے گی۔ روس کے بنیاد پرست مسیح یورپ کے مسیحوں سے جداگانہ تشخص برقرار رکھیں گے۔

امریکہ اور یورپ ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہیں گے کیوں کہ یہ آپس میں قدرتی طور معاشرتی مماثلت رکھتے ہیں۔ لاطینی امریکہ کے ممالک جو کہ مسیح بنیاد پرست ہیں اور جہاں جبر و دھونس کا نظام قائم ہے، بارے کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ براعظم افریقہ کے ممالک جو کہ اپنی شناخت سے محروم ہیں اب اپنے طور افریقی شناخت کی طرف مراجعت کرتے نظر آئیں گے۔

اشتراکیت کی طاقت کو مغلوب کرنے کے بعد یورپ اور اس کے اتحادی امریکہ کو سب سے زیادہ خطرہ اسلام سے نظر آنے لگا ہے۔ اسی لئے اب ان کی ظاہری اور خفیہ جنگ کا محور اسلام ہو چکا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ مغرب اپنے مفاد کا خیال رکھتے ہوئے چین کے طاقتور ہونے سے بھی آنکھیں موند نہیں رہا بلکہ اس کے خلاف ہر جگہ اسے نیچا دکھانے اور اس کی طاقت کو کمزور کرنے میں مشغول ہے۔ اب اس میں ان کا نیا پارٹنر انڈیا بھی شامل ہو چکا ہے۔

اسلام اور مغربی معاشروں میں بیسویں صدی کے آخر سے تناؤ کی کیفیت پیدا ہونی شروع ہو گئی ہے۔ جس کی بنیادی وجہ مسلمانوں کے ہاں کثرت اولاد اور ان کی آبادی کا ان ممالک میں تیزی سے بڑھنا۔ یورپ کے نوجوانوں میں بیروزگاری میں اضافہ، کیمیونزم کی طاقت کمزور پڑ جانے کے بعد مغرب کی مسلمانوں کے خلاف محاذ آرائی اور ان کو اپنا دشمن سمجھنا اور دونوں معاشروں کے درمیان مماثلت ڈھونڈنے کی بجائے سوچی سمجھی سکیم کے تحت ان میں کشیدگی پیدا کرنا تا کہ مسلمان دوبارہ اپنی بالادستی قائم نہ کر سکیں۔

چین اور بعض ایشیائی ممالک میں ترقی کی شرح کا تناسب یورپ اور ان کے بزنس پارٹنر امریکہ کے مقابلے تیز تر ہے جو ان کے لئے ناقابل قبول ہے۔ اپنے اقتصادی مفادات کے تحفظ کے پیش نظر مغرب کچھ بھی کرنے کے لئے تیار ہے۔ خواہ اس کی انہیں بھاری قیمت ہی کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔ اس میں دوسرے ممالک میں شدت پسند مذہبی و دہشت گرد گروہوں کو اپنے ہی ملکوں کے خلاف منظم کرنا، ان کو باور کرانا کہ ان کی حکومتیں ان کا خیال نہیں رکھتی، جغرافیائی طور انہیں منقسم کرنا، انہیں پرتشدد کارروائیوں کی طرف مائل کرنا، ان کی قومی شناخت پر مذہبی شناخت غالب کرنا، ان کی ذہن سازی کرنا و مالی امداد مہیا کرنا اور ایک ایسا نا ختم ہونے والا سلسلہ برقرار رکھنا تا کہ ملکی تناؤ میں کمی واقع نہ ہو اور اس ملک کی مسلح افواج اپنوں سے ہی بر سر پیکار رہیں۔ اسی کے ساتھ ملکی عوام کو یہ باور کرانا کہ ان کا مسیحا دوسری قوتیں ہیں جو تمام ملکی معاملات کو ان کے لئے بہتری کی جانب گامزن کر دیں گی۔ یہ جدید دنیا کا رہتی دنیا کے لئے غلامی کا طوق ہے جوان کے گلے میں ڈالا جا رہا ہے جس کے بارے انہیں احساس تک نہیں ہو رہا۔

مسلم ممالک میں اقتصادی ناہمواری، نوجواں نسل کو ہر چیز میں برابری کے مواقع میسر نہ ہونا انہیں انتشار اور تشدد کی طرف مائل کر رہے ہیں۔ ان پر مایوسی کے سائے لہرا رہے ہیں۔ جو انہیں انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کر رہے ہیں یا دشمنوں کے ہاتھوں انجانے میں استعمال ہو رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ ان کا حکمران طبقہ ان کو جدید معیاری تعلیم دینے سے قاصر ہے اور نہ ہی ان کے لئے روزگار کے مواقع میسر کر رہا ہے۔ جس سے ان میں مایوسی کا عنصر پیدا ہونا ایک قدرتی عمل ہے۔

اسلام دنیا میں مسیحیت کے بعد دوسرے نمبر کا سب سے بڑا مذہب ہے۔ یہ سرعت کے ساتھ پھیل رہا ہے اور اس صدی کے خاتمے تک اسلام دنیا کا سب سے بڑا اور پہلے نمبر کا مذہب ہو گا۔ اسلام اور مغربی معاشرے میں سب سے بنیادی عنصر جو ان دونوں کے درمیان تفریق کا باعث ہے وہ اسلام کی تعلیمات ہیں مثلاً اسلام میں جوا کھیلنا، سود لینا، نا حق قتل و غارت، جھوٹ بولنا، چوری کرنا، ہوس میں مبتلا ہونا، زنا کاری، سے سختی کے ساتھ منع کیا گیا ہے جبکہ مغربی معاشرہ ان قباحتوں میں مکمل طور ڈوب چکا ہے۔

ان کے نزدیک یہ ان کے معاشرے کا جمہوری طور طریقہ ہے۔ جس کی حفاظت کرنا اور آبیاری کرنا ان کا فرض بنتا ہے۔ اسلام میں شرک ظلم عظیم ہے۔ جب کہ مغربی معاشرہ اس کی طرف خاص توجہ نہیں دیتا۔ مغرب کے مصنف، صحافی اور دانشور  اور کارٹون بنانے والے کبھی بھی ایسے موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے جس میں مسلمانوں کی دل آزاری کا ساماں نہ ہو۔ مثلاً پیغمبر اسلام کی ذات پر رکیک حملے کرنا یا بہتان تراشی کرنا۔ اسلامی معاشرے میں اسلامی قوانین مسلمانوں کو اپنے معاشرے میں ہر شعبہ زندگی میں قانونی و اخلاقی جواز مہیا کرتے ہیں۔

جن میں شادی بیاہ و طلاق کے مسائل، وراثت و معاہدے، جرائم کی تعزیرات اور سزا وغیرہ۔ ان سب کی بنیاد اسلامی شریعت ہے جب کہ مغربی معاشرہ انسانی ذہن سے اخذ شدہ قوانین پر عملدرآمد کو اپنے لئے بہتر سمجھتا ہے۔ ایسے کئی شعبوں میں اسلام اور مغربی معاشرہ ایک دوسرے سے مماثلت نہیں رکھتا جو ان دونوں کے درمیان وجہ تناؤ کا باعث بھی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں اسلامی معاشرہ معاشرتی طور ان افعال سے مبرا ہے جن میں مغربی معاشرہ ڈوب چکا ہے۔ اسلامی ممالک میں بھی یہ قباحتیں اب ہر طرف پھیلی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ جن کا تدارک وقت کی اشد ضرورت ہے۔ نوجوان نسل بے راہ روی کا شکار ہو رہی ہے۔ تمام ممالک میں نوجوان نسل منشیات و نشے کی لت میں پڑی ہوئی ہے۔ اس کا، حل باہمی اشتراک سے ہی ممکن ہے۔

اب پر تشدد واقعات و دہشت گردی کی بیخ کنی کرنا ہو گی کہیں یہ عفریت تمام دنیا کے معاشروں کو اپنی لپیٹ میں لیتے ہوئے عدم استحکام پیدا نہ کر دے۔ جو بھی اس کی دامے سخنے ایسے اقدامات کرنے والوں کی مدد ظاہری یا خفیہ طور کرتا ہے تو اسے بھی کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ اب بھی اگر تمام معاشرے جمہوری انداز میں در پیش مسائل کا حل تلاش نہیں کرتے تو ہم آئندہ نسل انسانی کو کیسا معاشرہ دے کر جائیں گے۔

ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے اب دنیا میں وہی پرانا طور طریقہ لوٹ رہا ہے جس میں ”جس کی لاٹھی اس کی بھینس“ کی بنیاد پر معاشرہ قائم ہوا کرتا تھا۔

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments