اکبر الہ آبادی کے ایک شعر کا سہ جہاتی مطالعہ

اردو شاعری کی اصل ہندوستانی روایت، جس کا صحیح معنوں میں بھرپور اظہار فروز بیدری (ف1564) کے ہاں ملتا ہے، نشاطیہ اور سانولے حسن کی روایت ہے جو بعد میں قلی قطب شاہ اور پھر ولی دکنی تک چھائی ملتی ہے۔ یہ ہی وہ روایت ہے جو لکھنوی شعراء، جراءت، انشاء اور رنگین وغیرہ کی شاعری میں پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ لکھنوی دبستان تک آتے آتے خوبصورتی کے معیارات اور پیمانے بدل جاتے ہیں اور فارسی حسن در آتا ہے۔
یہاں تفصیل بیان کرنا اصل موضوع سے صرف نظر کرنے کے مترادف ہو گا۔ بات ہو رہی تھی نشاطیہ روایت کی۔ جب معاشرے کی رگ رگ میں نشاطیہ لے خون کی مانند محو گردش ہو اور صبح و شام رقص و سرود کی محافل سجتی ہوں تو مینا و ساقی کا وجود ایک طرح سے لازم ٹھہرتا ہے۔ جہاں مے ہو وہاں شیخ کا پایا جانا ممکن نہیں، کیوں کہ مے ہوش بھلا دینے کا نام اور شیخ پاکیزگی کی علامت۔ اسی نکتہ کے پیش نظر اردو شاعری میں شیخ کی مخالفت کی روایت مستحکم ملتی ہے۔ کچھ اشعار دیکھیے ؛
شیخ مت گھر سے نکل آج کہ خوباں کے حضور
گول دستار تری باعث رسوائی ہے (ولی)
شیخ کی تو نماز پر مت جا
بوجھ سر کا سا ڈال آتا ہے (میر)
عمامے کو اتار کے پڑھیو نماز شیخ
سجدے سے ورنہ سر کو اٹھایا نہ جائے گا (سودا)
مے پی تو سہی توبہ بھی ہو جائے گی زاہد
کمبخت قیامت ابھی آئی نہیں جاتی (داغ)
وہ تو گرجا پر رکا اور یہ گیا کعبہ کو پھاند
شیخ کا ٹٹو تو انجن سے بھی بڑھ کر تیز ہے (اکبر الہ آبادی)
ہم نے دیکھا ہے دہر میں اے شوقؔ
مولوی بد تمیز ہوتے ہیں (شوق بہرائچی)
ملا اور شیخ کو ویسے تو ہمیشہ مسجد و ممبر پر کھڑے پایا جاتا ہے مگر اکبر الہ آبادی جس دور میں شاعری کر رہے تھے وہ دور نوآبادیاتی دور تھا اور برطانیہ ہندوستان پر حکومت کر رہا تھا۔ اس دور میں جہاں زندگی کی معنویت تبدیلی ہو رہی تھی اور ہر طرف جدت کا چرچا تھا وہاں ہندوستانی کرداروں میں تغیر و تبدل وقوع پذیر ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہ تھی۔ اکبر کے دور کا شیخ وہ روایتی کردار نہیں رہتا جو ہر وقت عبادت میں مشغول رہتا ہے بلکہ وہ ایک ایسے کردار کے روپ میں سامنے آتا ہے جو پیانو کا شیدائی، ولایتی شراب سے مرعوب، عشوۂ دنیا میں غوطہ زن اور انگریز لیڈیز پر عاشق ہے۔ اب آئیے اس شعر کی طرف جس کی تفہیم اس بلاگ کا مقصود ہے۔
میم نے شیخ کو ڈانٹا تو پکارے وہ غریب
دیکھیے توپ نے لاٹھی کو دبا رکھا ہے
اس شعر کو اگر ہندوستانی معاشرتی مسلمات اور تہذیبی روایت کی روشنی میں دیکھا جائے تو شیخ کی پکار دراصل وہ چیخ ہے جو سماجی قوانین کی شکست کے درد سے پیدا ہوتی ہے۔ ہندوستانی معاشرے میں مرد حاکم اور عورت محکوم کے روپ میں ملتی ہے۔ اس پس منظر والے معاشرے میں یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ ایک عورت مرد کو دبا کر رکھے اور اس کو وہ مقام دے جو ہندوستانی روایت کے منافی ہے۔ شیخ بھی اسی معاشرے کا حصہ جس میں عورت ستی کی حقدار ٹھہرتی ہے اور جائیداد سے محروم۔ اس کے لاشعور میں عورت کا جو تصور ہے وہ ایک غلام کا سا ہے جو مرد کی نفسانی خواہشات کی تسکین کرے اور نسل بڑھانے کا فریضہ انجام دے، تو وہ کیسے ایک عورت کو با اختیار دیکھ سکتا ہے۔
اس شعر کا مطالعہ نوآبادیاتی پس منظر کے پیش نظر کیا جائے تو میم اور توپ مغربی تہذیب، شان و شوکت، جدت، طاقت اور قوت کی علامتیں جبکہ شیخ اور لاٹھی مشرقی تہذیب کی علامتیں ہیں۔ مغربی تہذیب نے مشرقی تہذیب پر اپنا تسلط قوت، طاقت اور زمانے کے بدلتے ہوئے حالات کے مطابق ترقی کی راہ پر گامزن ہو کر قائم کیا۔ جبکہ مشرقی اس وجہ سے غلامی کی زنجیر میں جکڑے گئے کہ انہوں نے زمانے کے بدلتے رجحانات کے مطابق خود کو تبدیل نہ کیا اور ترقی کا معیار قدیم اور فرسودہ آلات و خیالات کو بنائے رکھا۔ اس بات کا قرینہ توپ اور لاٹھی کے سے الفاظ سے واضح ہے۔ اگر ہندوستانی وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے خود کو تبدیل کرتے رہتے تو شاید وہ محکومیت کے کرب کا شکار نہ ہوتے۔
اگر اس شعر کو جنسی تناظر میں دیکھا جائے تو بالکل الگ معنی دیتا ہے۔ اس شعر میں توپ اور لاٹھی جیسے الفاظ محض الفاظ نہیں بلکہ انہیں فرائیڈ کے نظریات کی روشنی میں جنسی علامتیں قرار دیا جاسکتا ہے۔
میم=توپ
شیخ=لاٹھی
اکبر کی شاعری کا کرداری مطالعہ کیا جائے تو سب سے واضح تصویر جس کردار کی ابھر کر سامنے آتی ہے وہ شیخ کا ہے، اس کردار کا ایک ماضی تھا جب وہ عبادت گاہ میں رب رب کرتا تھا اور پھر اس کا ایسا روپ نظر آتا ہے جب وہ عشق بتاں سے خانہ دل کو آباد کر لیتا ہے اور خدا کے گھر (دل) کی صورت بگاڑ کر رکھ دیتا ہے۔ اس بلاگ کا مرکزی شعر اسی حال کی تصویر کشی ہے جب شیخ مسجد سے تعلق توڑ کر پیانو کی دھنوں سے جوڑ چکا ہے۔ اور میم کے بلانے پر تیر کی سی روانی سے اس جانب کو بھاگتا ہے۔

