ڈومیسائل کا آسان حصول اور مذہبی اقلیت
ڈومیسائل ایک شناختی دستاویز ہے۔ جس کا آغاز سٹیزن شپ ایکٹ 1951 کے تحت کیا گیا۔ ایک شہری ڈومیسائل کے ذریعے ہی کسی علاقے میں مستقل رہائشی و سکونتی ہونے کا ثبوت پیش کر سکتا ہے۔ ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ تعلیمی مقاصد اور حصول روزگار میں کار آمد ثابت ہوتا ہے۔ ڈومیسائل کی تیاری کے عمل میں جس طرح ہر شہری کو لوازمات پورے کرنے میں کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اسی طرح مذہبی اقلیتی برادری کو بھی بہت سارے مسائل درپیش آتے ہیں۔
خیبر پختون خواہ کے ضلع ہری پور میں تقریباً 1800 سے زائد مذہبی اقلیتیں آباد ہیں جن میں زیادہ تعداد مسیحی برادری کی ہے۔ تحصیل ہری پور میں 25 گھرانے محلہ عید گاہ، کوٹ نجیب اللہ اور حطار میں رہائش پذیر ہیں۔ تحصیل غازی کے علاقوں تربیلہ، غازی، رائٹ بنک کالونی، صوبڑا سٹی اور واپڈا کالونی میں ساڑھے تین سو سے رائد گھرانے آباد ہیں۔ تحصیل ہری پور میں ایک جبکہ غازی میں اقلیتی برادری کی تین عبادت گاہیں قائم ہیں۔
ضلع ہری پور میں مسیحی برادری کے لوگ صوبہ پنجاب کے مختلف اضلاع گوجرانوالہ، ساہیوال اور بکھر سے آ کر آباد ہوئے۔ ضلع بھر اور با الخصوص تحصیل غازی میں رہائش پذیر اکثر افراد یا ان کے والدین ملازمتوں کے سلسلہ میں یہاں آئے۔ سرکاری کوارٹرز یا کرایہ کے مکانات میں رہائش اختیار کی۔ قلیل آمدنی کے باعث کئی دہائیاں گزرنے کے بعد بھی ذاتی مکانات تعمیر کر سکے نہ ہی زمین خرید سکے۔ ڈومیسائل کے حصول کے لیے محکمہ مال سے تصدیق ضروری ہے لیکن جائیداد نہ ہونے کی وجہ سے اقلیتی برادری کو بہت زیادہ مسائل اور الجھنوں کا سامنا رہا ہے۔
اس حوالے سے مذہبی اقلیتوں کے نمائندوں، سول سوسائٹی اور سماجی تنظیموں کی جانب سے جدوجہد جاری رہی میڈیا پر بھی یہ مسئلہ اجاگر ہوتا رہا جس کے نتیجے میں لوکل گورنمنٹ نے سہولیات بھی دیں لیکن مستقل اور پائیدار حل نہیں نکل سکا۔ رواں سال سماجی تنظیموں نے مختلف طبقات کی شمولیت کے ذریعے مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط بنانے کے متعلق پراجیکٹ کے تحت ضلعی انتظامیہ، محکمہ سوشل ویلفیئر اور لوکل گورنمنٹ کے حکام سے ایڈووکیسی میٹنگز کا آغاز کیا۔ ویلفیئر ایسوسی ایشن جرید اور آئرس ویلفیئر ٹرسٹ سمیت دیگر متعدد سماجی تنظیموں، میڈیا، منتخب عوامی نمائندوں، وکلاء اور سول سوسائٹی کی مشترکہ کاوشوں کے نتیجے میں جہاں دیگر کئی شعبوں میں گڈ گورننس دکھائی دی وہاں ضلعی انتظامیہ نے ڈومیسائل کے حصول کا طریقہ کار تبدیل کر دیا ہے۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر عمران خان نے اس حوالے سے بتایا کہ شہریوں کی آسانی کے پیش نظر ڈومیسائل حاصل کرنے کے عمل کو انتہائی آسان بنا دیا ہے۔ شہری اب کم وقت میں بغیر تردد اور پریشانی کے ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ حاصل کر سکیں گے۔ اس سے قبل درخواست دہندہ کو اسکول کے ہیڈماسٹر، حلقہ کے پٹواری، سرکل کے گرداور، تحصیلدار، ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر سے تصدیق کروانے کے بعد ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ جاری کیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ بیان حلفی وغیرہ اور علاقائی معتبر شخصیت سے تصدیق کا عمل بھی کرنا پڑتا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ پرانے طریقہ کار کے مطابق جن افسران یا شخصیات سے تصدیق ضروری تھی اسے ختم کر کے اب صرف ایک افسر یا شخصیت کی تصدیق لازم قرار دی گئی ہے۔ سینیٹر، رکن قومی و صوبائی اسمبلی، تحصیل چیئرمین، اسکول ہیڈ ماسٹر، تحصیلدار، متعلقہ تھانہ کا ایس ایچ او، گرداور، پٹواری، دیہی یا شہری کونسل کا چیئرمین، سیکریٹری اور مستند علاقہ نمبر دار میں سے کسی ایک شخصیت کی تصدیق ضروری ہوگی۔ اسکول کے ہیڈ ماسٹر کی تصدیق صرف اس صورت میں ہی ضروری ہے جب طلبہ تعلیمی ادارہ کے ذریعے ڈومیسائل تیار کروائیں۔
ہیڈ ماسٹر کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ بچوں کے والدین یا سرپرست کے قومی شناختی کارڈ کی نقل و سادہ کاغذ پر اقرار نامہ لے کر ضروری تحقیق کے بعد بچوں کے ڈومیسائل اسسٹنٹ کمشنر ہیڈ کوارٹر کے آفس میں جمع کروائیں گے اور ڈپٹی کمشنر کی جانب سے منظوری کے بعد تیار ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ اسکول کو ارسال کیے جائیں گے۔ ہیڈ ماسٹر بچوں کو ڈومیسائل مہیا کر دیں گے۔
اسسٹنٹ کمشنر ہیڈ کوارٹر مس لبیقہ اکرم نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ڈومیسائل کے فارم ضلعی انتظامیہ نے نئے طریقہ کار کے مطابق پرنٹ کروائے ہیں جو 50 روپے کے عوض اسسٹنٹ کمشنر ہیڈ کوارٹر، تحصیلدار، گرداور، پٹواری اور مقامی کونسلز کے دفاتر سے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ فارم تمام سرکاری اسکولوں میں بھی دستیاب ہوں گے۔
اقلیتی برادری کے کمیونیٹی لیڈر اور تحصیل کونسل ہری پور کے ممبر ڈاکٹر عرفان ناصر منہاس نے ڈومیسائل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سرکاری ملازمتوں میں اقلیتوں کے لیے پانچ فیصد کوٹہ مختص ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت مختلف محکموں میں اقلیتی کوٹہ کی خالی سیٹوں کی معلومات حاصل کر کے کمیونیٹی کے بے روزگار نوجوانوں اور خواتین کو ملازمتوں کے لیے اپلائی بھی کروایا ہے۔ ڈاکٹر ناصر کا کہنا ہے کہ ان کی کاوشوں سے بیشتر محکموں میں اقلیتی کوٹہ پر کمیونٹی کے اہل افراد ملازمتیں حاصل کر چکے ہیں۔
تاہم چند محکموں میں اب بھی کوٹہ کی سیٹیں خالی پڑی ہیں۔ لیکن ڈومیسائل کے حصول میں مستقل سکونت کا ثبوت یا جائیداد نہ ہونے جیسے مسائل حائل تھے اور ڈومیسائل سے محرومی کے باعث بہت سارے پڑے لکھے نوجوان اور خواتین بے روزگار ہیں۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ڈومیسائل کے طریقہ کار کو آسان بنانے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ نئے طریقہ کار کے تحت اقلیتی برادری کے ان لوگوں کے لیے بھی ڈومیسائل بنا کر ملازمتوں کے اہل ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے جو مشکل شرائط کی وجہ سے ڈومیسائل حاصل کرنے سے محروم تھے۔
ہری پور کی تحصیل غازی میں رہائش پذیر اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے زرنیل جان نے بتایا کہ ان کا خاندان لگ بھگ پچاس سالوں سے یہاں مستقل رہائشی ہے۔ اس کے باوجود جب متعلقہ دفتر جا کر ڈومیسائل کے لیے درخواست دیتے تھے تو سابقہ ضلع سے این او سی لانے کے لیے لیٹر تھما دیا جاتا تھا۔ دور دراز اضلاع میں این او سی کے لیے جانا بہت مشکل ہے۔ وہاں کسی سے جان پہچان نہیں ہوٹلز پر ٹھہرنا پڑتا ہے۔ اکثر غریب لوگ ہیں رہائش اور کھانے پینے پر اٹھنے والے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے جس وجہ سے وہ مطلوبہ لوازمات پورے نہیں کر سکتے اور ڈومیسائل سے محروم رہ جاتے ہیں۔
تحصیل غازی کی واپڈا کالونی کے رہائشی اقبال مسیح نے کہا کہ ڈومیسائل کے طریقہ کار میں تبدیلی لانے کو ضلعی انتظامیہ کا انتہائی احسن اقدام سمجھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی برادری کو ریلیف دینے کے لیے ضروری ہے کہ مستقل رہائشی ہونے کے لیے پانچ یا دس سال کا عرصہ مقرر کر دیا جائے جو شخص جس علاقے میں مقررہ عرصہ تک رہائش پذیر رہے اسے وہاں کا رہائشی و سکونتی تصور کیا جائے اور این او سی کی شرط ختم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کے والدین کی سابقہ اضلاع میں جائیداد ہے یا ریکارڈ میں اندراج موجود ہے ان کے لیے این او سی لانا مشکل نہیں۔
صوبڑا سٹی کے البرٹ نامی شہری نے بتایا کہ وہ گزشتہ سال این او سی لینے اپنے آبائی ضلع گئے جہاں ایک ہفتہ قیام کرنا پڑا جس پر 15 سے 20 ہزار روپے اخراجات آئے لیکن این او سی حاصل نہیں کر سکے جس کہ وجہ سے تاحال ڈومیسائل سے محروم ہیں۔ سمیر نامی ایک شہری نے کہا کہ ان کے کاغذات میں مستقل پتہ چارسدہ کا درج ہے جس وجہ سے این او سی لانے کی ہدایت کی گئی ہے لیکن چارسدہ جا کر معلوم ہوا کہ این او سی سے پہلے ترک سکونت سرٹیفیکیٹ حاصل کرنا اور نادرا ریکارڈ میں تبدیل شدہ مستقل پتہ کا اندراج بھی کروانا ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ حصول ڈومیسائل کے طریقہ کار میں تبدیلی سے اقلیتی برادری کو خاطر خواہ ریلیف نہیں مل سکا۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ڈومیسائل کے طریقہ کار میں تبدیلی کے متعلق سوشل میڈیا پر کچھ شہری تحفظات کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق 12 افسران و شخصیات میں سے صرف ایک کی تصدیق قابل قبول ہونے سے جعلی کوائف کے اندراج کا خدشہ پیدا ہو گا۔
تاہم ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر عمران خان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ طریقہ میں آسانی کے بعد درخواست دہندہ اور تصدیق کنندہ دونوں کے لیے ہدایات سخت کر دی گئی ہیں۔ درخواست دہندہ اور تصدیق کنندہ دونوں احتیاط کریں غلطی یا جعل سازی کی صورت میں سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔


