گندم سبسڈی، خالصہ سرکار، یو این کی قراردادیں اور گلگت بلتستان


گندم سبسڈی کو گلگت بلتستان کے عوام مسئلہ کشمیر سے منسلک متنازعہ خطہ ہونے کی وجہ سے اپنا بنیادی حق سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر بار گندم سبسڈی کے خاتمے کی اعلان پر خطے کے عوام تمام تر مسلکی علاقائی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر احتجاج کرتے ہیں۔ حال ہی میں خطے میں گندم سبسڈی کو کیٹگرائیز کر کے ایک طرح سے معاشرے کو طبقاتی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی رہے جس کی بنیادی وجہ آئی ایم ایف کے شرائط بتایا جاتا ہے۔

تاریخی طور پر خطے کے لئے گندم سبسڈی کا تذکرہ یو این کے کسی قرارداد میں نہیں اور نہ ہی شملہ معاہدے میں سبسڈی کا کوئی ذکر ہے۔ البتہ اتنا ضرور کہا جاتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو اور اندراگاندھی نے شملہ معاہدے کے بعد پاکستان اور ہندوستان کے زیر انتظام ریاست جموں کشمیر کی اکائیوں میں فوڈ سپلائی کے سفری اخراجات حکومتی سطح پر برداشت کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ سقوط ڈھاکہ کے بعد بھٹو پاکستان کا پہلا لیڈر تھا جس نے اس وقت خطے کے چپے چپے کا دورہ کیا۔

اس دور میں یہاں کے عوام راج گیری نظام کے سائے میں ایک طرح سے غلامانہ زندگی گزارتے ہوئے سال بھر کی کمائی کا لگان دینے پر مجبور تھے اور زرعی ترقیاتی کام نہ ہونے کے برابر تھے۔ یوں انہوں عوام کے اس کمزوری اور مجبوری کو سمجھتے ہوئے راج گیری نظام کا خاتمہ کر کے اشیائے خوردونوش پر سبسڈی کا اعلان کیا جس میں چینی، مٹی کا تیل، نمک، پکانے کا تیل، گندم وغیرہ شامل تھے لیکن آج صرف گندم پر سبسڈی ملتی ہے جسے وقفے وقفے سے ختم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہے۔

دوسری طرف بھٹو گلگت بلتستان کو کسی بھی طرح پاکستان میں ضم کرنے کی خواہش رکھتے تھے۔ اس سلسلے میں انہوں نے کوششیں بھی کی لیکن کی یو این قراردادیں آڑے آنے کی وجہ سے بے بس ہوئے۔ پس انہوں نے یہاں قانون باشندہ ریاست سٹیٹ سبجیکٹ رول کی خلاف ورزی شروع کی جس کے وہ مجاز نہیں تھے اور انہوں نے بھی خطے میں زرعی ترقی کے لئے بھی کو خاطر خواہ کوئی کام نہیں کیا اور آج بھی یہی صورتحال ہے۔ پس سٹیٹ سبجیکٹ کی خلاف ورزی کی وجہ سے آج خلاصہ زمینوں کو سرکاری زمین قرار دے کر عوام کو مسلسل بیدخل کرنے کا سلسلہ عروج پر ہے۔

اس اصطلاح کو سمجھنے کے لئے خطے کی بین الاقوامی قانونی حیثیت اور سپریم کورٹ کے تین فیصلوں، آئین کے آرٹیکل 1 اور 257 کے ساتھ معاہدہ کراچی 28 اپریل 1949 اور خالصہ ریاست کی تاریخ کا مطالعہ ضروری ہے۔ تقسیم برصغیر کے وقت گلگت بلتستان لداخ سابق ریاست جموں و کشمیر کا صوبہ تھے۔ ڈوگروں سے پہلے سکھ سلطنت برصغیر کی ایک بڑی طاقت تھی جو مہاراجہ رنجیت سنگھ کی قیادت میں ابھری۔ سکھوں نے 1799 ء میں لاہور پر قبضہ کر کے اور پنجاب کے گرد ونواح کے علاقوں میں حکومت قائم کی اور یہ سلطنت 1799 ء سے 1849 ء تک قائم رہے۔

جس کے اثرات اس وقت گلگت بلتستان لداخ اور گرد و نواح تک بھی پہنچے۔ وزیر زور آور سنگھ کشمیر میں سکھوں کے گورنر جموں، گلاب سنگھ کا وزیر تھا انہوں نے لداخ 1840 میں فتح کیا اور اسی سال سکردو کو بھی فتح کر کے بلتی سپاہیوں کو اپنی فوج میں شامل کر کے تبت پر بھی حملہ آور ہوئے۔ دوسری طرف سکھ فوج کا ہی کرنل نتھو شاہ، گلگت پر حملہ آور ہوا اور پہلی مرتبہ راجہ گوہر امان کو شکست دے کر اس نے گلگت میں قدم جما لیے۔ لیکن وہ 1848 میں، نو مل کے قریب جنگ میں ہلاک ہو گیا۔

اس وقت خالصہ سرکار کے چار صوبے تھے۔ لاہور، ملتان، پشاور اور کشمیر۔ کرنل زور آور سنگھ گلگت پر سرینگر کی جانب سے حملہ آور ہوا تھا اور سرینگر کے حکمران کو ہی جواب دہ تھے۔ 16 مارچ 1840 کو معاہدہ امرتسر کے تحت انگریزوں نے گلگت اور لداخ بشمول بلتستان کی وزارتیں، جموں کے ڈوگرہ راجے کے حوالے کیں۔ کرنل نتھو شاہ، حکمران تبدیل ہونے پر پریشان ہو کر سرینگر چلا گیا تاکہ معلوم ہو سکے کہ اب انہیں تنخواہ اور مراعات کون دے گا۔

ڈوگرہ حکومت نے اسے اپنی گلگت عملداری جاری رکھنے کو کہا۔ بالآخر 1860 میں کرنل نرائن سنگھ گلگت پر پوری طرح سے قابض ہو گیا۔ یوں تاریخی طور مہاراجہ رنجیت سنگھ ( 1780۔ 1839 ) کے دور میں غیر تقسیم شدہ زمینوں کو سرکار کی ملکیت قرار دیا جاتا تھا اس عمل کو خالصہ سرکار نام دیا۔ تاریخ لکھتا ہے کہ سلطنت پنجاب اور انگریزوں کی جنگ میں سکھ شکست سے دو چار ہوئے تو ایسٹ انڈیا کمپنی نے ڈیڑھ کروڑ نانک شاہی سکہ بطور تاوان جنگ کے سلطنت سے طلب کیا۔

نامور مصنف جی ایم میر اپنی کتاب کشور کشمیر کی پانچ ہزار سالہ تاریخ میں لکھتے ہیں کہ انگریزوں نے مصارف جنگ کے تاوان کے طور پر ایک کروڑ روپیہ طلب کیا۔ دلیپ سنگھ کا خزانہ خالی تھا، اس نے کشمیر اور ہزارہ کا علاقہ انگریزوں کے حوالے کر دیا۔ انگریزوں کو پیسے کی ضرورت تھی، انہوں نے 75 لاکھ روپے کے عوض ریاست جموں کشمیر کی حکمرانی گلاب سنگھ کے ہاتھ فروخت کر کے اسے مہاراجہ کا خطاب دیا۔ اس معاہدے کو امرتسر 16 مارچ 1846 ء کہتے ہیں جس کے شق نمبر ایک کچھ یوں ہے۔

برطانوی حکومت وہ تمام پہاڑی علاقہ معہ نواحات جو دریائے سندھ کے مشرق اور دریائے راوی کے مغرب میں واقع ہیں بشمول چمبہ ماسوائے لاہول کے، جو اس علاقے کا حصہ ہے جو لاہور دربار نے معابدہ 9 مارچ 1846 کی دفعہ 4 کے تحت حکومت برطانیہ کے سپرد کیا ہے مہاراجہ گلاب سنگھ اور ان کی اولاد کے مستقل اور کلی اختیار میں دیتی ہے۔ یوں گلگت پہلے ہی گلاب سنگھ کے قبضہ میں تھا۔ جب گلاب سنگھ نے لینڈ ریفارمز کیا تو انہوں نے خالصہ کے اصطلاح میں ترمیم نہیں کی لیکن انہوں نے زمینوں کی تحفظ کے لئے 1927 میں قانون باشندہ ریاست سٹیٹ سبجیکٹ رول کا قانون منظور کیا اور یہ قانون ریاستی عوام کی شہریت اور حقوق کی ضمانت میں اپنی مثال آپ ہے۔

پانچ اگست 2019 تک انڈین آئین میں آرٹیکل 370 کی شکل میں ریاست کی خصوصی حیثیت اور ریاستی تشخص حاصل تھی جسے مودی حکومت نے ختم کیا اور حال ہی میں سپریم کورٹ آف انڈیا نے حکومت سے جواب طلب کی ہے ریاست پاکستان کا بھی مطالبہ یہی ہے کہ جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال کیا جائے۔ یہ باشندہ ریاست قانون ہی ہے جس نے پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر میں کاروبار پر حاوی غیر ریاستی سرمایہ دار طبقہ کو جائیداد کے مالکانہ حقوق سے دور رکھا ہوا ہے۔

لیکن جیسے اوپر ذکر کیا کہ گلگت بلتستان میں بھٹو نے 1974 میں سٹیٹ سبجیکٹ رول کا قانون معطل کر کے ناردرن ایریاز ناتوڑ رولز 1978 کے اطلاق کے ذریعے یہاں کی بنجر اراضیات کو خالصہ سرکار یعنی ریاست کی ملکیت قرار دیا گیا ہے جو کہ مسئلہ کشمیر کے تناظر میں سلامتی کونسل کے قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی تھی۔ کیونکہ گلگت بلتستان کشمیر تنازعے کا حصہ ہے پاکستان کے 1973 کے آئین کا حصہ نہیں ہے۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے تین اہم فیصلے بھی موجود ہیں۔

اس خطے کو 1949 سے 1973 تک ایف سی آر جبکہ بعد میں صدارتی حکم ناموں کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔ آج خطے کے عوام کا بنیادی سوال ہی یہی ہے کہ گلگت بلتستان میں سکھ دور کے اصطلاح کو کس طرح آج کی انتظامی حکومت اپنی ملکیت تصور کرتے ہیں حالانکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں یہ بات طے ہے کہ اس خطے کی قسمت کا فیصلہ ہونا باقی ہے لیکن اس وقت تک کے لئے اقوام متحدہ کے قرارداد 13 اگست 1948 کے مطابق لوکل اتھارٹی گورنمنٹ آج تک قائم نہیں ہوئے، گلگت بلتستان اسمبلی کے پاس خطے کی ڈیموگرافی تبدیل ہونے کی خدشات پر مبنی کسی قسم کے قانون سازی کا اختیار نہیں۔

لہذا خالصہ سرکار کی اصطلاح اس وقت تک رہے گی جب تک اقوام متحدہ کی موجودگی میں خطے میں رائے شماری نہیں ہوتی۔ اس وقت تک کے لئے قانون باشندہ ریاست کی معطلی کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ لہذا وقت کی اہم ضرورت ہے کہ جس طرح چاروں صوبوں کے مابین وسائل کی تقسیم کے لئے این ایف سی کا ادارہ موجود ہے بالکل اسی طرح گلگت بلتستان کے وسائل کی حساب کتاب کے لئے ادارے کی تشکیل کو یقینی بنائیں۔ اگر ایسا ہوا تو سوست ڈرائی پورٹ، شاہراہ قراقرم، دریائے سندھ، کے ٹو، دیامر بھاشا ڈیم، معدنیات، جنگلات کی رائلٹی اربوں بنتا ہے جس سے گلگت بلتستان والے آج تک محروم اور گندم سبسڈی کے لئے احتجاج پر مجبور ہیں۔

Facebook Comments HS