بالغ کون

کئی سال قبل ایک چھوٹی بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد اسے قتل کر دیا گیا تھا۔ پورا ملک احتجاج میں کھڑا ہو گیا تھا۔ ہر جگہ مطالبہ ہو رہا تھا کہ مجرموں کو پکڑ کر سرعام پھانسی دی جائے۔ پشاور میں سول سوسائٹی، این جی اوز، خواتین اور علماء کی ایک میٹنگ ہوئی۔ میں بھی مدعو تھا۔ میں نے درخواست کی کہ مجھے تلاوت کا موقع دیا جائے۔ میں نے تلاوت سورۃ بقرہ کی اس آیت سے کی ”اور آپ سے پوچھتے ہیں کہ حیض (ماہواری) کیا ہے؟“
ترجمے کے بعد میں نے حاضرین سے پوچھا کہ یہ قرآن کا پہلا پارہ ہے۔ آپ اپنے بچوں کو کس عُمر میں پڑھاتے ہیں۔ ”سات آٹھ برس کی عُمر میں“ جواب ملا۔ میں نے کہا کہ قرآن میں تو یہاں سے سیکس ایجوکیشن شروع ہوجاتی ہے۔ آپ کس وقت کرتے ہیں؟ ایک قبض زدہ صحافی غصے سے اُٹھے اور کہا کہ ہم ترجمے سے تھوڑی پڑھاتے ہیں۔ میں نے مُسکرا کر کہا کہ ترجمے کی ضرورت تو ہمیں پڑتی ہے، عرب بچوں کے ساتھ کیا کریں گے؟ میری مُراد اس سارے مکالمے سے یہ تھی کہ لڑکوں اور لڑکیوں کو سیکس ایجوکیشن نہ دینے سے ہی یہ مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ان جنسی حملوں کے ذمہ دار وہ لڑکے نہیں بلکہ ان ملزموں کے والدین ہیں جنہوں نے ان کو تربیت نہیں دی۔
یہ چھوٹے چھوٹے بچّے بچیاں کیسے ان جنسی مجرموں کے ہاتھ چڑھتے ہیں؟ یہ دراصل ایک کھیل سے شروع ہوتا ہے۔ محلّے کا پنساری، سکول کا اُستاد، ہمسائے کا لڑکا، ریڑھی والا، حتیٰ کہ قریبی رشتہ دار بچے کو پہلے ٹافی دیں گے۔ ہاتھ ملائیں گے، گود میں اُٹھائیں گے۔ رفتہ رفتہ چومنا شروع کر دیں گے۔ پھر جب نازک اعضاء کو کپڑوں کے اوپر سے بے نیازی سے چھوئیں گے تو بچے کو عجیب نہیں لگے گا۔ اب کھیل خطرناک ہوتا جائے گا۔ بچے کے کپڑوں کے اندر ہاتھ جائے گا تو بچہ منہ میں ٹافی لے کر مائنڈ نہیں کرے گا۔ ایک دن یا تو بچہ خون میں لہو لہان پڑا ہو گا یا اُس کی لاش ملے گی۔ ایک صورت یہ ہے کہ بچہ یا بچی عادی ہوجائیں گے اور بلوغت میں بھی یہ سب کچھ کرنے پر اعتراض نہیں کریں گے۔ اسے انگریزی میں گرومنگ (GROOMING) کہتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں یہ بہت عام ہے۔ اصل وجہ بچوں کو پہلے سے خطرے کی غیر آگاہی ہے۔ عامر خان کی ایک ویڈیو یو ٹیوب پر موجود ہے جس میں وہ پانچ چھ سالہ بچوں کو نہایت ہی خوش اسلوبی اور حُسنِ اخلاق سے تربیت دیتا ہے کہ جسم کے کون کون سے حصے کو کسی غیر کا چھونا ممنوع ہے۔ سکول میں اگر نہیں دکھاتے تو کم ازکم گھروں میں بچوں کو بار بار دکھانا چاہیے۔
جب ہم میڈیکل کالج میں تھے تو پوری یونیورسٹی میں صرف ہمارا کالج ہی تھا جس میں گو چند لڑکیاں تھیں لیکن لڑکوں کے ساتھ ہی پڑھتی تھیں۔ اس سے ہمارے طلبہ و طالبات میں نہ صرف خود اعتمادی آ گئی تھی بلکہ لڑکے بھی اخلاقی طور پر ان کے ساتھ عزت سے پیش آتے تھے۔ عمومی طور ہمارے ساتھی دوسری خواتین کے ساتھ بھی اعتماد سے ملتے تھے اور کبھی لڑکیوں پر آوازے نہیں کَسے۔ لڑکیاں بھی پُر اعتماد ہوتی تھیں اور کبھی کسی مرد سے بات کرتے ہوئے ہکلا نہیں جاتی تھیں۔ یہ اس کے باوجود تھا جب اسلامی جمعیت طلبہ کا یونیورسٹی پر راج ہوتا تھا۔ میں جمعیت کی طرف سے دو بار الیکشن بھی لڑ چکا تھا اور ہماری حامی طالبات رات کو بھی ہمارے ساتھ دوسری طالبات کے گھر پر کمپین کے لئے جاتی رہیں۔
میڈیکل کے مقابلے میں دوسرے کالجوں کے لڑکے ہمیشہ بھوکی نظروں سے لڑکیوں کے کالجوں کے باہر منتظر ہوتے تھے۔ میرا مطلب یہ نہیں کہ وہ لڑکیاں کچھ شوخ کپڑے پہنتی تھیں یا میک اپ تھوپتی تھیں۔ جتنا آپ بچوں اور بچیوں کو ایک دوسرے سے اچھوتوں کی طرح الگ کرتے ہیں، اُن کے درمیان کشش بڑھتی جاتی ہے۔ یہ ایک فطری جبلت ہے۔ اسی سے تو انسانی نسل کی بقا ہے۔
جنس، بھوک کی طرح زندگی کی ایک حقیقت ہے اور مخالف جنس میں کشش ایک جبلّت ہے۔ اشرف المخلوقات کی حیثیت سے ہمیں کچھ رشتوں کا احترام لازمی ہے۔ یہ تربیت ایک مہذب معاشرے میں تبھی پیدا ہو سکتی ہے جب دونوں جنس آپس میں احترام سے ملیں۔ یہ ملاقات اسلام میں مساجد تک میں جائز ہے تو بازار اور ہسپتال میں کیوں نہیں۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی آخری تین وصیتوں میں سے ایک وصیت یہ تھی کہ اپنی خواتین کو مسجد جانے سے نہ روکنا۔ بھلا ایک دوسرے کو دیکھے بغیر صحابہ اور صحابیات ایک دوسرے کو نکاح کا پیغام کیسے دیتے تھے۔ قرآن میں ہے کہ اگر آپ مطلقہ عورتوں سے شادی کے خواہش مند ہیں تو ان کی عدت سے قبل شادی کا پیغام نہ دیں۔ بھلا دیکھے، سُنے بغیر کسی کو شادی کا پیغام کیسے دیا جاسکتا ہے؟ اسلام اکیلے میں نامحرم افراد کا اختلاط روکتا ہے۔ مہذب ممالک میں بھی اب دفاتر اور پبلک مقامات پر خلوت کی جگہیں شیشوں کی دیواروں سے ختم کردی گئی ہیں۔ کلاس روم سے لے کر کانفرنس رومز تک شفاف دروازے اور کیمرے موجود ہیں۔
اب جبکہ نہ صرف یونیورسٹیوں اور کالجوں میں بلکہ جاب کی جگہوں پر بھی ہماری بیٹیاں اور بہنیں تعداد میں بڑھ رہی ہیں، ان کو نہ صرف اعتماد دینا ہو گا بلکہ اُن کو اُن غلط نظروں کو جڑ سے اُکھاڑنے کی طاقت بھی دینا ہوگی۔ ہر معاشرے میں چند ایک لوگ ہوتے ہیں جن سے جنسی گُناہ اپنی مرضی سے سرزد ہو جاتے ہیں اور اس سے نبی ﷺ کا دور بھی مُبرا نہیں تھا ورنہ سزائیں کیوں دی جاتیں، قوانین کیوں بنتے۔ لیکن صرف اس چند فیصد کے لئے لڑکیوں کو جدید تعلیم سے محروم کرنا، پڑوسی ملک کی طرح ان کے کالج بند کرنا، یا ان کو جاب نہ کرنے دینا معاشرے کے لئے کسی طور مناسب نہیں۔ جب حضرت خدیجہ رض اُم المومنین ہوتے ہوئے، کئی بچوں کی پرورش کے ساتھ ایک کامیاب بزنس وومن بن سکتی ہیں۔ حضرت عائشہ رض، ایک فقیہ، محدث اور ایک تحریک کی سربراہ ہو سکتی ہیں، اُمِ ورقہ ایک محلے کی سربراہ ہو سکتی ہیں، تو ہماری بچیوں کے لئے مذہب کے نام پر کیوں روڑے اٹکائے جاتے ہیں۔

