دائیں سے بائیں بازو تک کا سفر – مکمل کالم


میں نے جس گھرانے میں آنکھ کھولی وہ ایک روایتی مذہبی گھرانا تھا، مذہبی یوں کہ میرے دادا جان پیر زادہ بہا الحق قاسمی باقاعدہ مولوی تھے، ماڈل ٹاؤن کی مسجد میں خطیب تھے، صالح، دیندار اور صحیح معنوں میں قناعت پسند انسان تھے۔ اُن کی چھ بیٹیاں اور دو صاحبزادے تھے، میری اِن چھ پھوپھیوں میں سے صرف ایک حیات ہیں جبکہ بیٹوں میں سے تایا ضیا الحق قاسمی وفات پا چکے ہیں جبکہ میرے والد عطا الحق قاسمی ماشا اللہ صحت مند ہیں اور اسّی سال کی عمر میں بھی آئیڈیل زندگی گزار رہے ہیں۔ میری پھوپھیوں نے مرتے دم تک نقاب کیا، جو پھوپھی زندہ ہیں اُن کی عمر چھہتر برس ہے اور وہ اب بھی نقاب والا برقع پہنتی ہیں۔ دادا جان سے پہلے ہمارے خاندان میں پیری مریدی کا سلسلہ تھا جو (کہ افسوس) انہوں نے ختم کر دیا، اسی نسبت سے میرے نام کے ساتھ پیرزادہ لگتا ہے، والد صاحب کے نام کا بھی یہ حصہ ہے مگر وہ لکھتے نہیں۔

کچھ دادا جان کی صحبت کا اثر تھا اور کچھ گھر کا ماحول ایسا تھا کہ میں لڑکپن سے ہی پورے روزے رکھنا شروع ہو گیا اور نمازوں کی باقاعدگی کا یہ عالم تھا کہ کڑاکے کی سردی میں بھی فجر کی نماز مسجد میں ادا کرتا تھا۔ اُن دنوں میں نے ایک ڈائری بنائی ہوئی تھی جس میں قضا ہو جانے والی نمازوں کا ریکارڈ رکھتا تھا، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب قضا نمازوں کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی تو ایک روز میں نے اللہ میاں سے دعا کہ یا اللہ آئندہ میں کوئی نماز نہیں چھوڑوں گا مگر پلیز گزشتہ نمازیں معاف کردے، بے شک تو رحم کرنے والا ہے۔ اِس دعا کے بعد میں یوں مطمئن ہو گیا جیسے مجھے یقین ہو کہ میری دعا قبول ہو چکی ہے۔ اِن باتوں سے آپ یہ مت سمجھیے گا کہ میں آج اپنے خاندان کی عظمت کے قصے سناؤں گا یا بچپن کی نیکیاں گنواؤں گا، میری قطعاً ایسی کوئی نیت نہیں، یہ مختصر سا تعارف محض اِس لیے کروایا ہے تاکہ آپ کو اندازہ ہو سکے کہ میری پرورش جس ماحول میں ہوئی وہ کٹر مذہبی تھا اور نظریاتی طور پر ہم دائیں بازو سے تعلق رکھتے تھے۔ دائیں بازو کی چھاپ میری شخصیت پر بھی لگی جس کی وجہ سے میں مہا محب وطن قسم کا نوجوان بن گیا، قدامت پرست، نگاہ بلند، سخن دل نواز، قبیلے کی آنکھ کا تارا، وغیرہ وغیرہ۔

زندگی بڑھتی چلی گئی، میں نے اخبار میں کالم لکھنے کا آغاز کیا جس کے بعد دھیرے دھیرے میرے خیالات میں کچھ تبدیلی واقع ہونا شروع ہوئی۔ جن دنوں دہشت گردی عروج پر تھی اور ہمارے گلی محلوں میں بم دھماکے ہو رہے تھے تو اُن دنوں میں نے اِس موضوع کی پڑتال شروع کی، اُس وقت مجھے احساس ہوا کہ بہت سے نظریات جنہیں میں بچپن میں درست سمجھتا تھا دراصل غلط تھے۔ اِس احساس نے مجھے بدل کر رکھ دیا اور میں ہر مرتبہ لکھنے سے پہلے کوشش کرنے لگا کہ اپنے ذہن سے تعصبات کو نکال پھینکوں اور اِس بات سے بے نیاز ہو جاؤں کہ ماضی میں میرے افکار کیا تھے۔ اِس مشق کے نتیجے میں میرے خیالات مزید تبدیل ہوتے چلے گئے اور پڑھنے والوں کو یوں لگنے لگا جیسے میں ایک لبرل، آزاد خیال اور بائیں بازو کے نظریات رکھنے والا شخص ہوں حالانکہ سچ پوچھیں تو میں نے کبھی ایسے سوچا ہی نہیں تھا۔ میری رائے میں کسی بھی شخص کو دائیں یا بازو کا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے پوری دیانتداری اور تمام دستیاب حقائق سامنے رکھ کر فقط یہ دیکھنا چاہیے کہ درست اور حق بات کیا ہے، اُس کے بعد چاہے وہ موقف دائیں بازو کو سوٹ کرے یا بائیں بازو کو ، لکھنے والے کو اِس سے کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ عملاً ایسا نہیں ہے اور اِس کی وجہ یہ ہے کہ ہم سب کہیں نہ کہیں اپنے تعصبات کے اسیر ہیں۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ آخر میں کہنا کیا چاہتا ہوں تو عرض یہ ہے کہ آج میں آپ سے صرف اپنے تاثرات شیئر کرنا چاہتا ہوں کہ کیسے دائیں اور بائیں بازو کی سوچ کے حامل افراد اپنے نظریات میں جامد ہیں اور کوئی دوسرا نقطہ نظر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ مذہبی رجحانات رکھنے والے احباب عریانی اور فحاشی کے مسائل سے ہی باہر نہیں آتے جبکہ لبرل نظریات کے حامل لکھاریوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ملک خداداد میں خالص مشروب باآسانی دستیاب نہیں۔ اسی طرح جو لوگ اسلام سے بیزار ہیں انہیں اسرائیل کی بربریت تک نظر نہیں آتی اور وہ اِس معاملے میں بھی حیلے بہانے سے مسلمانوں کو ہی مورد ِ الزام ٹھہراتے ہیں حالانکہ اسرائیل فلسطین تنازع مذہبی نہیں بلکہ سیاسی ہے اور سیاسی بھی یوں کہ اسرائیل کھلم کھلا فلسطینیوں کے بچے مار رہا ہے اور جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا اور مغربی دنیا کی اکثریت اُس کے پیچھے بے شرمی سے کھڑی ہے۔

ایسے میں مذہب بیزار افراد اپنے پسندیدہ مغربی ممالک پر تنقید کر نے کی بجائے الٹا مختلف میمز (چٹکلوں ) کے ذریعے مسلمانوں کا ہی تمسخر اڑا رہے ہیں جو کہ بالکل ناقابل قبول بات ہے۔ ایسا تو مغربی دنیا کے لبرل عوام بھی نہیں کر رہے جو اِس طبقے کا رول ماڈل ہیں۔ مذہب بیزار طبقہ جن بھی وجوہات کی بنا پر مذہب سے لا تعلق ہوا ہے، اُن سے قطع نظر، اِس طبقے کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ عقل سے ناتا توڑ کر محض مذہب دشمنی میں اِس قدر آگے نکل جائیں کہ انہیں ظالم اور مظلوم میں فرق ہی نظر آنا بند ہو جائے۔ اِس طبقے کا تو دعویٰ ہی یہ ہے کہ مذہب کی عقلی بنیادوں پر جانچ نہیں کی جا سکتی اور یہ کہ مذہب انسانوں میں نفرت پھیلانے کا سبب بنتا ہے، ایسے میں جب یہ طبقہ خود ہی اپنے عقائد کی خلاف ورزی کرے تو پھر اِن میں اور کسی مذہبی جنونی میں کیا فرق باقی رہ جاتا ہے!

مذہبی نقطہ نظر کے لکھاریوں کا حال بھی مختلف نہیں، انہیں ہر معاملے میں اسلام خطرے میں نظر آتا ہے، انہیں لگتا ہے کہ عورت کی آزادی اور اُس کی مرد سے برابری کے نعرے چونکہ مغرب سے درآمد شدہ ہیں اِس لیے اِن کی مخالفت مذہبی فریضہ ہے۔ وہ ہر شعبے میں مذہب کو گھسیٹنا ضروری سمجھتے ہیں اور دلیل اِس کی یہ دیتے ہیں کہ دنیاداری کا کوئی معاملہ ایسا نہیں جس پر مذہبی احکام موجود نہ ہوں۔ ہمارے مذہبی دوست مدارس میں ہونے والی زیادتیوں پر منہ میں گھنگنیاں ڈال کر بیٹھے رہتے ہیں اور لبرل لکھاریوں کو ماڈرن اسکولوں کی بے راہروی دکھائی نہیں دیتی۔

اِس پورے معاملے کو سمجھنا ہو تو بہترین مثال ملالہ یوسفزئی ہے۔ حال ہی منعقد ہونے والے مقابلہ حسن میں دوم آنے والی مس تھائی لینڈ نے کہا ہے کہ اگر انہیں موقع ملے تو وہ ملالہ کی طرح زندگی گزاریں گی، دوسری طرف ملالہ نے جو ٹویٹ اسرائیل فلسطین تنازع پر کی ہے اُس میں کھل کر اسرائیل کی مذمت کرنے سے گریز کیا ہے۔ اب اگر آپ مس تھائی لینڈ کے بیان کی تعریف کریں گے تو مذہبی لٹھ بردار پیچھے پڑ جائیں گے اور اگر اسرائیل کے معاملے پر ملالہ پر تنقید کریں گے تو میڈ اِن چائنا کے دو نمبر لبرل پھنکارنے لگیں گے، یہ ہے اصل مسئلہ۔ ہمارے ہاں زیادہ تر لکھاری اپنے ’کلائنٹس‘ کو سامنے رکھ کر لکھتے ہیں کیونکہ اگر وہ ایسا نہ کریں تو اُن کے قارئین انہیں چھوڑ کر اُس شخص کو پڑھنا شروع کر دیں گے جو اُن کے نظریات کے مطابق لکھتا ہو۔

میں معافی چاہتا ہوں کہ آج آپ سے کچھ بے ترتیب اور منتشر خیالات شیئر کیے، دراصل میں کہنا یہ چاہتا تھا کہ قارئین ہوں یا لکھاری، دائیں بازو سے ہوں بائیں بازو سے، مذہبی ہوں یا لبرل، صرف اسی صورت میں کسی دوسرے بندے کے خیالات کی تحسین کرتے ہیں اگر وہ خیالات اُن کے مجموعی نقطہ نظر سے میل کھاتے ہوں جبکہ اصول کی بات یہ ہے کہ کسی بھی معاملے میں یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ کون کہہ رہا ہے بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا کہہ رہا ہے! آج فقط یہی کہنا تھا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 480 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments