فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف احتجاج


اقوام متحدہ میں فلسطین کی نمائندہ ندا ابو تربوش کی تقریر کی تلخیص اور ترجمہ: ڈاکٹر خالد سہیل

صاحب صدر! ہمیں اپنے خیالات و جذبات و احساسات کے اظہار کا موقع دینے کا شکریہ۔
ہم اسرائیل کے نمائندوں کی توجہ اس طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ ہم فلسطین کے غیور عوام ہیں اور ہمیں بھی دوسری قوموں کے عوام کی طرح عزت سے رہنے کا حق ہے۔
اسرائیل کے وزیر اعظم نے چوبیس ستمبر کو اقوام متحدہ کے نمائندوں کو جو نئے مشرق وسطیٰ کا نقشہ دکھایا تھا اس نئے نقشے میں اسرائیل تو موجود تھا لیکن فلسطین کہیں دکھائی نہیں دے رہا تھا۔

ہم اسرائیل کے نمائندوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ جب اقوام متحدہ میں تقریر کریں تو اقوام متحدہ کے اصولوں اور روایات کا احترام کریں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ جب اسرائیلی رہنما فلسطینیوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں تو وہ ان کی تذلیل و تحقیر کرتے ہیں۔ وہ اپنے بیانات میں یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ غزہ کے سب فلسطینیوں کو اس لیے قتل کر سکتے ہیں کیونکہ وہ فلسطینی
یا تو دہشت گرد ہیں
یا دہشت گردوں کے ہمدرد ہیں اور یا
دہشت گرد انہیں بطور ہیومن شیلڈ استعمال کرتے ہیں

اس لیے اسرائیلی یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے فوجیوں کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ جس فلسطینی کا چاہیں قتل کر دیں۔

اسرائیلی فوج ایک ماہ میں گیارہ ہزار تین سو پچاس سے زیادہ شہریوں کو بموں اور ٹینکوں سے قتل کر چکی ہے۔ جو شہری قتل ہوئے ہیں ان میں
بچے بھی شامل ہیں بزرگ بھی
صحتمند بھی شامل ہیں بیمار بھی
صحافی بھی شامل ہیں اقوام متحدہ کے کارکن بھی
حیرانی کی بات یہ ہے کہ اسرائیلی فوج ان تمام معصوم شہریوں کے قتل کو جائز سمجھتی ہے۔

جنگ کی ہولناکیاں دیکھ کر تو یوں لگتا ہے جیسے اسرائیلی فوجیوں کی انسانیت ختم ہو چکی ہے۔ ان کے ضمیر مردہ ہو چکے ہیں۔

اسرائیلی حکام اپنے قتل و غارت کے جو جواز پیش کر رہے ہیں وہ قابل قبول نہیں ہیں۔ اسرائیلی نمائندوں کو یہ حقیقت قبول کر لینی چاہیے کہ اقوام متحدہ کے اراکین اور ممبران تجربہ کار سیاسی کارکن ہیں۔ وہ تعلیم یافتہ ہیں۔ وہ عاقل و بالغ ہیں۔ وہ مشرق وسطیٰ کی تاریخ سے واقف ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اسرائیلی فوج اور حکومت فلسطینیوں کے قتل کے جو جواز اب پیش کر رہی ہے یہی جواز انہوں نے پچھلے پندرہ سالوں کی چھ جنگوں کے دوران فلسطینیوں کے قتل عام کے وقت بھی پیش کیے تھے۔ انہوں نے فلسطینیوں پر شدید حملے کیے تھے اور فلسطینیوں کی نسل کشی کی تھی۔

اقوام متحدہ کے نمائندے بخوبی جانتے ہیں کہ اسرائیلی حاکم معصوم فلسطینیوں کو اجتماعی سزا دے رہے ہیں۔ وہ فلسطینی مردوں عورتوں اور بچوں کو بے گھر کر رہے ہیں۔ وہ ان کے گھروں کو بمباری سے تباہ کر کے انہیں ہجرت پر مجبور کر رہے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اسرائیلی حکومت پچھلے پچتر سال سے فلسطینیوں کے ساتھ ایسا ہی بہیمانہ سلوک کر رہی ہے۔

اسرائیلی حکومت آج بھی اپنے جھوٹے پروپیگنڈے کی آڑ میں حقائق چھپا رہی ہے۔

جب اسرائیلی نمائندے یہ دعوہ کرتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پابندی کر رہے ہیں تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ اقوام متحدہ کے باقی نمائندے اور انسانی حقوق کے سب ادارے جھوٹ بول رہے ہیں۔

اسرائیلی سیاسی اور فوجی حکام بخوبی جانتے ہیں کہ جنگ کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ باضمیر فوجی معصوم بچوں کو قتل نہیں کرتے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ جب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے سچ بولا اور فلسطینیوں کے تاریخی پس منظر کی بات کی تو اسرائیلی نمائندے نے انہیں استعفیٰ دینے کا مشورہ دیا۔

اسرائیلی حکومت کی منافقت یہ ہے کہ خود تو غزہ میں نسل کشی کر رہی ہے اور دوسروں کو قوانین کے احترام کا درس دے رہی ہے۔ اسرائیلی حکومت جانتی ہے کہ ان کے مصنوعی سچ کی قلعی اتر رہی ہے اور ان کا جھوٹ ساری دنیا پر عیاں ہو رہا ہے۔

اب تو ساری دنیا کے عوام سڑکوں پر آ گئے ہیں اور وہ اسرائیل کی فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ وہ اپنی اپنی حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے تا کہ جنگ اور قتل و غارت بند ہو سکے۔

اسرائیلی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ وہ اپنے جھوٹے بیانات سے ساری دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک دے گی لیکن ایسا نہیں ہو گا۔ جب اسرائیلی رہنما یہ بیان دیتے ہیں کہ

وہ غزہ کو تباہ و برباد کر دیں گے
وہ فلسطینیوں پر ایٹم بم پھینکیں گے
فلسطینی جانور ہیں اور
فلسطینی تاریکی کے بچے ہیں

تو ان کا کیا خیال ہے کہ ساری دنیا ان کے ایسے بیانات سن کر خاموش رہے گی۔ ساری دنیا دیکھ رہی ہے کہ اسرائیلی فوج پچھلے ایک ماہ سے معصوم بچوں ’نوجوانوں‘ بزرگوں اور بیماروں کو بے دریغ قتل کر رہی ہے۔

اسرائیلی حکومت اس خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ جب وہ غزہ میں مواصلاتی نظام معطل کر دے گی اور چاروں طرف بلیک آؤٹ ہو جائے گا تو کوئی ان کے مظالم کو نہ تو دیکھ سکے گا اور نہ ہی اسے خبر بنا کر ساری دنیا کو دکھا سکے گا۔ اس طرح اسرائیلی حکومت اپنی نسل کشی کو چھپا سکے گی۔

ہم سب جانتے ہیں کہ بندوق کی لبلبی دبا کر رقص کرنے والے فوجیوں نے اب تک اکتالیس جرنلسٹ قتل کر دیے ہیں۔ اتنے زیادہ جرنلسٹ تو پچھلی تین دہائیوں کی کسی بھی جنگ میں اتنی قلیل مدت میں قتل نہیں ہوئے۔

اسرائیلی حکومت کیا سمجھتی ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتی رہے گی وہ معصوم فسلطینیوں کو دہشت گرد کہہ کر قتل کرتی رہے گی اور ساری دنیا خاموش رہے گی۔ یہ ان کی خوش فہمی اور خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔

اسرائیلی حکومت اور فوجی اب تک جن شہریوں کو قتل کر چکے ہیں ان میں
فلسطینی بھی شامل ہیں اسرائیلی بھی
جرنلسٹ بھی شامل ہیں سیاست دان بھی
یونیورسٹی کے پروفیسر بھی شامل ہیں اقوام متحدہ کے نمائندے بھی
جو بھی باضمیر انسان اسرائیلی حکومت کی نسل کشی پر تنقید کرتا ہے وہ مار دیا جاتا ہے۔

اب ساری دنیا کے امن پسند عوام سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ اب وہ جنگ بندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وہ فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ اسرائیل فلسطین پر اپنا قبضہ اور اس کا اپارتھائڈ نظام ختم کر دے۔

اسرائیلی حکومت پر اپنے پچھلے پچتر سالہ تجربے سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو جانی چاہیے کہ فلسطینی قوم کہیں بھی جانے والی نہیں ہے۔

اسرائیلی حکومت چاہے
ایٹم بم کی دھمکی دے
یا
غزہ پر ٹینکوں سے حملہ کرے
وہ فلسطینیوں کی قوت ارادی ’ہمت اور حوصلے کو ختم نہیں کر سکتی۔
فلسطینی دوسری قوموں کی طرح اپنی دھرتی ماں پر عزت نفس سے زندہ رہنا چاہتے ہیں۔

ہم نے اقوام متحدہ میں ہمیشہ یہ مطالبہ کیا ہے کہ تمام اقوام کو بین الاقوامی اصولوں اور قوانین کا احترام کرنا چاہیے جو اسرائیل نہیں کر رہا۔
ہم پہلے بھی اور آج بھی امن اور آشتی اور انسانی حقوق کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ہم جانتے ہیں کہ تاریخ قوموں کے اعمال کو تعصب اور نفرت کی کسوٹی کی بجائے اخلاقیات اور اعلیٰ اقدار کی کسوٹی پر پرکھتی ہے۔

اسرائیلی حکومت یہ پروپیگنڈا کر رہی ہے کہ فلسطینی یہودیوں سے نفرت کرتے ہیں۔ ہم یہ بات ببانگ دہل کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں یہودیوں سے کوئی عداوت نہیں ہے کیونکہ یہ جنگ مذہبی جنگ نہیں ہے یہ جنگ آزادی کی جنگ ہے۔

ہماری آزادی کو چھیننے والے چاہے
مسلمان ہوتے یا عیسائی ہوتے
بدھسٹ ہوتے یا ہندو ہوتے
دہریہ ہوتے یا کسی اور نظریے کے حامی ہوتے ہم ان سب کے خلاف لڑتے اور اپنی آزادی حاصل کرتے۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ فلسطین میں ہر قوم اور مذہب کے لوگ صدیوں سے مل

جل کر رہ رہے تھے۔ ایک وہ زمانہ تھا جب یہاں یہودی بھی فلسطینی بن کر رہتے تھے۔ ہم یہودیوں کو اپنے بھائی اور بہنیں سمجھتے ہیں۔
اسرائیلی حکومت بار بار ہولوکاسٹ کا ذکر کرتی ہے۔ ہم یہ بات واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ہم ہولوکاسٹ میں مرنے والوں اور زندہ بچ جانے والوں سب سے ہمدردی رکھتے ہیں۔

ہم یہ بات بھی واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ہولوکاسٹ میں یہودیوں کی نسل کشی کرنے والے فلسطینی نہیں تھے وہ یورپی حکومتوں کے رہنما تھے۔ اور آج وہی مغربی ممالک اسرائیل کا ساتھ دے رہے ہیں۔
ہم پہلے بھی نسل کشی کے خلاف تھے اور آج بھی ہیں۔

نسل کشی کے خلاف آج ہمارے احتجاج میں ساری دنیا کے امن پسند شہری شامل ہو گئے ہیں۔ ان امن پسند انسانوں میں امن پسند یہودی بھی شامل ہیں۔ وہ اسرائیل کو بتا رہے ہیں کہ اسرائیلی حکومت ان کے جذبات کی ترجمانی نہیں کر رہی۔ وہ امن کے حق میں ہیں اور اسرائیل کی نسل کشی کے خلاف ہیں۔

چاہے وہ
نیویارک ہو یا لندن
پیرس ہو یا برلن
سڈنی ہو یا ٹورانٹو

ساری دنیا کے بڑے بڑے شہروں میں عوام سڑکوں پر اس لیے احتجاج کر رہے ہیں تا کہ ان کی حکومتیں یہ جان سکیں کہ وہ

اپنی حکومتوں کے فیصلوں کے حق میں نہیں ہیں۔
وہ جنگ کے حق میں نہیں ہیں۔
وہ نسل کشی کے حق میں نہیں ہیں۔
ساری دنیا کے عوام امن چاہتے ہیں
وہ فلسطینیوں کے لیے عزت کی زندگی چاہتے ہیں
وہ ان کے حقوق کا احترام چاہتے ہیں۔
ہم اب مزید انتظار نہیں کر سکتے۔
جنگ بند ہونی چاہیے
نسل کشی ختم ہونی چاہیے
اب جنگ بندی کے لیے ایک دن یا ایک گھنٹہ کیا ایک لمحے کی بھی تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔
ہم اقوام متحدہ کے نمائندوں سے امید رکھتے ہیں کہ وہ فلسطینیوں کے حقوق کے لیے ہمارا ساتھ دیں گے۔
شکریہ۔
۔

ڈاکٹر خالد سہیل

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 681 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments