افنان جیسے بگڑوں کے والدین کے نام!
حکایت ہے، ایک بڑے آدمی کا بیٹا بہت بدتمیز تھا اور سربازار ہر شخص کی پگڑی اچھالتا تھا۔ علاقے کے ایک دانا شخص کے ساتھ جب اس نے یہی کیا تو اس نے بچے کو ڈانٹنے کی بجائے پاس بلایا۔ ماتھے پر پیار کر کے شاباش دی اور ساتھ کچھ رقم بھی دے کر کہا، بیٹا شاباش زبردست کام کیا ہے۔ دل خوش کر دیا! دیکھو جتنے بڑے آدمی کے ساتھ یہ حرکت کرو گے وہ تمہیں اتنی ہی زیادہ شاباش اور انعام دے گا۔ ساتھ موجود دوسرے شخص نے پوچھا، ”یہ کیا!“ ۔ کہنے لگا، ”دیکھتے رہو“ ۔ چند دن بعد ، اُسی بازار سے علاقے کے بادشاہ کا گزر ہوا۔ جو اہل علاقہ کے مسائل سن رہا تھا۔ سوئے اتفاق بڑے آدمی کا بگڑا بیٹا وہاں آن پہنچا اور بادشاہ کو دیکھ اس کے ساتھ وہی بدتمیزی کرنے لگا۔ بادشاہ نے اسے فوراً گرفتار کر کے قید خانے میں ڈلوا دیا۔ اور چند دن بعد قاضی شہر نے اس تحقیق کے بعد کہ یہ لڑکا اس حرکت کا عادی ہے۔ لڑکے کو پانچ سو کوڑے مارنے کا حکم دیا۔ وہ بھی ہر پندرہ دن بعد پچاس پچاس۔ دانا شخص نے سوال پوچھنے والے اپنے اُس دوست سے مل کر کہا۔ ”مجھے علم تھا کہ یہ بگڑا لڑکا کسی کی بات نہیں سنتا اور اس کے باپ کے خوف سے کوئی شکایت نہیں کرتا، اسی لئے میں نے اس لڑکے کو شہ دی تاکہ کسی دن وہ کسی بہت بڑے شخص کے ساتھ یہی حرکت کرے اور پھر وہ اور اس کا باپ دونوں خمیازہ بھگتیں!“ ۔
یہ تو دانا شخص کا انتقام تھا۔ لیکن جب کسی معاشرے سے انصاف ناپید اور قانون پر عملداری اس طرح غائب ہو جائے کہ غریب کے لئے قانون انصاف ایک ہو اور امیر کے لئے دوسرا تو اُس معاشرے اور تہذیب نے تو ختم ہونا ہی ہوتا ہے۔ کیونکہ پھر شروع ہوتا ہے قدرت کا انصاف۔ اگر قدرت کی یہ تلوار کسی شخص یا چند افراد یا گروہ پر چلے تو بھی غنیمت ہے لیکن اگر کسی ریاست یا اس کے حکمرانوں پر چل جائے تو لاشوں کا انبار لگنا لازمی سمجھیں۔
بڑے آدمیوں کی بگڑی اولاد کے کئی قصے آج کے لوگوں کے علم میں ہیں جن میں سرفہرست حالیہ لاہور میں چھ لوگوں کو کار حادثے میں جان سے مارنے والے بگڑے لڑکے افنان شفقت اعوان کا ہے۔ 25 دسمبر 2012ء کو کراچی میں مقتول شاہ زیب خان اور اس کے قاتل شاہ رخ جتوئی کا مقدمہ اب بھی لوگوں کو یاد ہے۔ دو سال پہلے اسلام آباد میں مقتولہ نور مقدم کے قاتل ظاہر جعفر کا کیس بھی سامنے ہے۔ ظاہر جعفر کو عدالت کی طرف سے سزائے موت سنائے ڈیڑھ سال ہو چکا لیکن یہ پاکستان کا قانون انصاف ہے کیونکہ نشئی اور بگڑے قاتل کے والدین اپنے بیٹے کو پاگل قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں اور سپریم کورٹ میں ان کی درخواست پچھلے چھ آٹھ مہینوں سے خودکار اِسٹے پر ہے کیونکہ سارے قاضی پہلے اپنے اور اپنے چاہنے والوں کے پرانے حساب برابر کرنے میں مصروف ہیں۔ اتفاق کی بات ہے کہ قدرت کے انتقام کی لاٹھی دیر سے حرکت میں آتی ہے لیکن جب پڑتی ہے تو عجب انوکھے طریقے سے، وہ بھی اس طرح کہ مجرم، ”دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو“ ، کی عملی تفسیر بن جاتا ہے۔ آج میں ایسے دو واقعات کا تذکرہ کروں گا جس میں قدرت کو انصاف دینا پڑا۔ ایک میں ساٹھ سال لگ گئے اور دوسرے میں محض چند سال۔ دونوں کو عام قاری لگ بھگ بھول چکا ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے کے بڑے لوگ لیکن ان سے سبق حاصل کرنے کو تیار نہیں۔
میرے سسر، سید حبیب احسن (اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے ) ۔ اپنے ”بچپن“ کے دو واقعات کو یادگار مانتے تھے۔ دونوں کا تعلق کوئٹہ شہر سے تھا۔ پہلا قائد اعظم سے کوئٹہ میں ان کے انتقال سے ایک دن یعنی دس ستمبر کو علاقے کے دوسرے بچوں کے ساتھ ملاقات کرنا، قائد کی بیمار آنکھوں میں چمک اور ان کا بچوں کو دیکھ کر تخت پر لیٹے لیٹے ہاتھ اٹھا کر چند الفاظ کہنا کہ، ”خوب پڑھو اور محنت کرو۔ آئی لَو یو آل“ ۔ وہ بتاتے تھے : اُنہی دنوں، کوئٹہ میں ان کے سامنے ایک دن ایک گلی میں ایک نوجوان اپنے گھر کے باہر کچھ کام کر رہا تھا کہ یکایک کسی رئیس کے بگڑے بیٹے نے ایک لمبی چوڑی کیڈلک نما گاڑی تیزی سے وہاں سے گزاری اور اس نوجوان کو چند لمحوں میں اڑا دیا۔ آگے جاکر اس نوجوان ڈرائیور نے سر باہر نکال کر نخوت سے نوجوان کی تڑپتی لاش دیکھی۔ اسی لمحے مرنے والے بے گناہ لڑکے کی ماں نے بین کرتے ہوئے اس ڈرائیور کو بددعا دی کہ ایک دن تو بھی اِسی طرح کی موت مرے۔ انکل کہتے تھے کہ جب میں نے ڈرائیور کی طرف دیکھا تو وہ کوئی اور نہیں 25 سالہ جواں سال اکبر بگتی تھا۔ اگست سن دو ہزار چھ میں انکل سے جب میں نے بم دھماکے کے بعد اُسی اکبر بگتی کی غار میں پراسرار موت اور اس عورت کی بددعا یاد دلائی تو انہیں سب یاد تھا۔ ساتھ چہرے پر افسوس بھی تھا۔
دوسرا اصل واقعہ : جس کا راوی، نہ مقتول کے خاندان سے ہے اور نہ قاتل کے۔ بلکہ ایک ایسا شخص جو دونوں کو جانتا تھا۔ ستمبر 2011ء کے ایک سیاہ دن، پنڈی کی ایک میڈیکل یونیورسٹی کے فائنل ائر کے ایک طالب علم نے جو، نو 9 دس سال سے ڈاکٹر بننے کی کوشش کر رہا تھا۔ تعلیمی درسگاہ میں آتا ہے اور وائس پرنسپل بریگیڈیئر ثناء اللہ (ر) کے دفتر میں داخل ہو کر انہیں پوائنٹ بلینک پر گولی مار دیتا ہے۔ جبکہ پچھتر سال سے زائد عمر رکھنے والے مرحوم ڈاکٹر، کمپیوٹر پر میڈیکل کے طالب علموں کے لئے امتحانی پرچے مرتب کر رہے تھے۔ قاتل طالب علم کا تعلق رحیم یار خان کے ایک امیر اور با اثر خاندان سے تھا۔ جو نو سال کے تعلق میں سے فائنل ائر کے پرچے چار سال سے پاس کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ دسواں سال اس کے لئے پاس کرنے کا آخری سال یا موقع تھا۔ ادارے کی پالیسی کے تحت چونکہ یہ شروع کے دو سال کے امتحان پاس کرچکا تھا اس لئے اسے پاس کرنے کے اتنے مواقع دیے گئے۔ یہ طالب علم جو اُس دوران شادی بھی کرچکا تھا اور ایک چھ سالہ لڑکے کا باپ بھی تھا۔ لامحالہ اب اس کے لئے اپنے جونیئرز کے ساتھ بغیر کلاسیں اٹینڈ کیے ناکام پرچوں کو پاس کرنا اتنا آسان نہیں تھا۔ شادی اور گھریلو ذمہ داریوں کے باوجود اُس کو ماں باپ کی طرف سے پیسوں کی کوئی تنگی نہیں تھی۔ متعدد مرتبہ تو وہ اِن پرچوں کے سپلیمنٹری امتحان میں خالی کاپیاں بھی جمع کرا چکا تھا جس سے اس کا ڈاکٹر بننے جیسے انتہائی ذمہ دارانہ کام کے لئے نا اہل ہونا ثابت ہوتا تھا۔
بہرحال یہ ناکام طالب علم، جس کی دو چھوٹی بہنیں اِس دوران اُسی یونیورسٹی سے ایم بی بی ایس کر کے قابل ڈاکٹر بن چکی تھیں انہوں نے بھی اپنے بھائی کو تعلیم میں واپس لانے کی بے انتہا کوشش کی مگر ناکام رہیں۔ اس دوگنے دباؤ کی وجہ سے یہ طالب علم یہ جاننے کے بعد کہ فائنل ائر کے ناکام پرچوں کو پاس کرنے کے آخری موقع میں بھی اس کا پڑھ لکھ کر پاس ہونا لگ بھگ ناممکن ہے۔ اپنے اساتذہ پر دھونس دھمکی دباؤ ڈالتا ہے اور ان میں بھی ناکام ہونے کے بعد بالآخر ایک دن پستول لئے تمام ٹیچروں کو قتل کرنے درسگاہ جا پہنچتا ہے۔ وائس پرنسپل پر گولی چلنے کی آواز سن کر طالب علم، اساتذہ اور دیگر اسٹاف پہنچتا ہے جہاں سے خرم نامی یہ طالب علم پستول پکڑے باہر آ کر دوسرے لوگوں کو بھی دھمکاتا ہے اور دو مزید اساتذہ پر بھی گولی چلا دیتا ہے۔ بہرکیف موقع واردات سے فرار ہونے سے پہلے گرفتار ہوجاتا ہے۔
دوسری طرف وائس پرنسپل کا بیٹا جو اُس وقت میجر تھا اسے فون کر کے آگاہ کیا جاتا ہے۔ جو کچھ وقت کے بعد وہاں پہنچ جاتا ہے۔ مرکز میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران یہ وہ وقت تھا جب پاکستان میں 2008ء سے سزائے موت کی سزا سنانے اور اس پر عمل درآمد پر لگ بھگ خود ساختہ پابندی تھی۔ میجر صاحب جب یونیورسٹی پہنچے تو ادارے نے شہر کے سب سے مشہور فوجداری وکیل اور پنڈی کے ایس ایس پی دونوں کی خدمات میجر صاحب کے حوالے کر دیں۔ لگ بھگ یہ تو طے تھا ان دنوں کے حالات کے تناظر میں قاتل کو سزائے موت تو ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ لیکن وکیل اور پولیس نے میجر صاحب کو آفر کی کہ اگر وہ اپنا بیان اس طرح دیں کہ وہ اپنے والد سے ملنے آئے ہوئے تھے۔ اور قتل کے وقت کمرے میں چند قدم پر موجود تھے۔ قاتل نے پہلے ان کے والد کو دھمکی دی اور پھر گولی مار دی اور جب تک وہ اس کے پیچھے جاتے وہ باہر جا چکا تھا۔ جب تک انہوں نے اپنے والد کو سنبھالا تب تک باہر لوگ قاتل کو پکڑ چکے تھے۔ وکیل اور پولیس افسر دونوں کا کہنا تھا کہ اول تو سزائے موت پر ویسے ہی پابندی ہے اور چونکہ کمرے میں کوئی بھی عینی گواہ موجود نہیں تھا اس لئے کوئی بھی تگڑا وکیل قاتل کو سزائے موت سے بچا لے گا۔ میجر صاحب نے صرف اِتنا کہا، لیکن یہ تو ایک جھوٹا بیان ہو گا! دونوں نے اس کی تائید کی۔ مقتول کے بیٹے نے صرف اتنا کہا کہ میں ہر حال میں صرف سچ ہی بولوں گا اور آپ لوگ بھی سچ بولیں مجھے دنیاوی انصاف سے کوئی غرض نہیں، کیونکہ میں یہ معاملہ اللہ تعالی کے سپرد کرتا ہوں۔ جو اُسے منظور۔
امیر ماں باپ کا بگڑا بیٹا جو لگ بھگ دس سال سے میڈیکل کے امتحان میں فیل ہو رہا تھا۔ ظاہر ہے پیسوں کی کثرت کی وجہ سے اِس دوران الٹے سیدھے گناہ اور غلط کاموں کے ساتھ نشے کا عادی بھی ہو چکا تھا۔ امیر باپ نے ملک کے تگڑے وکیل لگائے جو یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ وہ نشہ بھی کرتا تھا اور ماضی میں خودکشی کے علاوہ، اساتذہ کی پسند ناپسند کا نشانہ بھی بنا رہا تھا اور یہ اساتذہ جان بوجھ کر متعدد مرتبہ اس کی کلاس کی حاضری کو غیرحاضری میں بھی بدلتے رہے تھے وغیرہ اور یہ حادثہ اِنہی تمام زیادتیوں اور فرسٹریشن کا شاخسانہ تھا۔
اس سانحے کو سولہ مہینے گزر چکے تھے۔ فروری 2013ء آ چکا تھا۔ قاتل کے ماں باپ نے پیسہ پانی کی طرح بہا کر یہ ثابت کر دیا تھا کہ ان کا بیٹا نفسیاتی مریض ہے اور شیزوفرینیا کا شکار۔ عدالت ظاہر ہے اس کو اب تک کوئی سزا نہیں سنا پائی تھی۔ اور ماں باپ نے پیسہ خرچ کر کے اسے اڈیالہ جیل کے اندرونی اسپتال میں تمام سہولتوں سے مزین ایک خصوصی جگی رکھا ہوا تھا۔ جہاں ایک ماہر نفسیات اس کا علاج کر رہا تھا۔ راوی کہتا ہے کہ ماں باپ نے کہیں سے ایک دوا حاصل کی جو قاتل خرم کو پہنچا دی گئی۔ اور اسے بتایا گیا کہ (فرض کریں ) دن میں ایک گولی تین تین مرتبہ کھانی ہے۔ جس کے اثر سے اس پر ایسے دورے پڑتے جس سے اسے بعد میں مکمل پاگل ثابت کرنا آسان ہوجاتا یا ایسی حالت ہوجاتی جس کا علاج صرف ملک کے بڑے ہسپتالوں یا بیرون ملک ہی ممکن تھا۔ قدرت کا انصاف دیکھئے وہ بیٹا ایک گولی تین مرتبہ کھانے کی بجائے تین گولیاں تین مرتبہ کھانے لگا۔ نتیجہ، یہ نکلا کہ وہ پہلی رات کو ہی کوما میں چلا گیا۔
ماہر نفسیات اور ڈاکٹر تو ویسے بھی جانتے تھے کہ اسے کوئی خاص بیماری نہیں اس لئے اسے کئی گھنٹوں تک اس حالت میں کوئی چیک کرنے بھی نہیں آیا۔ لگ بھگ ایک دن بعد اسے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز اسپتال پنڈی منتقل کیا گیا جہاں تین چار دن کوما میں رہنے کے بعد وہ مالک حقیقی اور اصل انصاف کرنے والے کے پاس پہنچ گیا۔ راوی کہتا ہے کہ اس نے خود، قاتل کے بڑوں کو روتے اور بڑبڑاتے سنا کہ ہم نے پیسہ خرچ کر کے بیٹے کو دنیاوی عدالت کی پھانسی سے بچا لیا مگر اپنے ہاتھ سے اپنے بیٹے کو خود سزائے موت دے دی۔ بے شک اللہ تعالی بہتر اور صحیح انصاف کرنے والا ہے۔
یہ پیغام نہ صرف افنان شفقت اعوان جیسے تمام بگڑے بچوں کے والدین کے لئے ہے۔ بلکہ شاہ رخ جتوئی، ظاہر جعفر جیسے بگڑے بچوں کے والدین کے لئے بھی ہے جو جانتے بوجھتے بڑے فخر کے ساتھ اور خوشی خوشی اپنے بچوں کو سزائے موت کی طرف آہستہ آہستہ دھکیل رہے ہوتے ہیں۔


