روزانہ سونے سے پہلے اپنی ماں سے معافی مانگتی ہوں


اس کا شمار میری اچھی دوستوں میں ہوتا ہے۔ اس کو مولا نے بہت سی خوبیوں سے نوازا ہے۔ گھرداری ہو یا علمی، عملی میدان۔ وہ ہر ایک میں سبقت لے جاتی ہے۔ اس کے باوجود دل کی صاف، بناوٹ سے دور، عاجز مزاج اور ہمدرد۔ سادہ کھاتی اور پہنتی ہے۔ امارت کی جھلک اور نمودو نمائش سے پرہیز کرتی ہے۔ چاق و چوبند۔ لیکن پچھلے چار ماہ سے غیر متوقع طور پر اسے ذیابیطس یعنی شوگر کا مرض لاحق ہو گیا ہے۔ فون پر بات ہوتی رہتی۔ وہ کبھی بھی اس بیماری کو لے کر پریشان نہ لگی۔ لیکن ہفتہ پہلے اس سے ملاقات ہوئی۔

بے چین اور مرجھائی ہوئی لگی۔ بے کل، جیسے دل و داغ یکسوں نہ ہوں۔ بار بار استفسار پر وہ بھرائی ہوئی آواز میں کہنے لگی۔
مجھے آج کل اپنی ماں بہت یاد آتی ہیں۔ (اس کی والدہ کا انتقال پانچ سال پہلے ہوا تھا)۔
خیریت ہے؟ کیا ہوا ہے؟ کیوں؟ میرے سوال۔
بس جب سے مجھے شوگر ہوئی ہے۔ تب سے کوئی لمحہ ایسا نہیں ہے جب ان کی یاد مجھے نہ آئے۔
شائد اس لئے کہ تمہاری امی بھی اسی مرض میں مبتلا رہی ہیں۔
نہیں۔ یہ وجہ نہیں ہے تو پھر ایسا کیا ہوا ہے جو اس قدر پریشان ہو؟
پریشان نہیں پشیمان ہوں۔ اور یہ پچھتاوا روز افزوں بڑھتا ہے۔
میں اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیکر سہلانے لگی۔ اس کو گلے سے لگا کے حوصلہ دینے لگی۔ لیکن اس کی تشفی نہیں ہوئی۔ تب وہ بولی:
تمہیں یاد ہے ناں کہ میری ماں پڑھنا لکھنا نہیں جانتی تھیں؟
ہاں! ہاں! مجھے اچھے سے یاد ہے۔ انھیں تو گھڑی پر وقت بھی نہیں دیکھنا آتا تھا۔ لیکن کھانے ان کے مقررہ وقت سے کتنی تاخیر سے ملے ہیں، یہ پھر بھی انھیں معلوم ہو جاتا تھا۔
بالکل۔ اور ہم ان سے اکثر پوچھتے تھے کہ آپ کو اس دیر کا کیسے پتہ چلتا ہے؟ یا پھر آپ ہمارے سے مذاق کرتی ہیں۔ اور آپ وقت دیکھ سکتی ہیں۔
تو وہ ہم سب سے کہتی تھیں کہ جب ناشتہ، کھانا یا کوئی اور کھانے کی چیز میرے شیڈول سے لیٹ ملتی ہے تو میرا دل گھبرانے لگتا ہے۔ بہت عجیب محسوس ہوتا ہے جو برداشت نہیں ہوتا۔
تو ہم انھیں کہتے تھے کہ ماں پانچ، دس منٹ کی تاخیر تو کوئی دیر نہیں ہوتی۔آپ تو مسئلہ بنا لیتی ہیں۔ اتنا غصہ کرتی ہیں۔ چڑچڑی ہو رہی ہوتی ہیں۔ بعض اوقات عمداً نہیں لیکن کوئی کام درمیان میں اچانک آجاتا یے تو ایسا ہوتا ہے۔
مجھے یاد آرہا ہے کہ تم ان کے اس رویے کا تذکرہ اکثر کرتی تھیں۔ کہ پتہ نہیں ماں کو کیا ہو جاتا ہے۔ سمجھ نہیں آتا۔ میں نے کہا۔
اس پر اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اور ہم بہنوں سے کوئی جب بھی میکے جاتا تو دن کے دس بجے ہی وہ کہنا شروع کر دیتیں۔ کھانا ٹائم سے بنا لینا۔ میں ایک بجے کھانا کھاتی ہوں۔ ابھی تک سبزی نہیں کاٹی۔ آٹا گوندھ لیا؟ ہم نہ ہوتے تو اکلوتی بہو سے یہی دہراتی رہتیں۔ چھوٹے بچوں کے ساتھ وہ بھی کبھی کبھار بیزار ہو جاتی۔ ہم بھی الجھتے۔
تو ان سب یادوں اور باتوں کا تمہاری شوگر سے کیا تعلق؟ تم کیوں ہلکان ہو؟
تم تو میری ماں سے کافی دفعہ ملی بھی تھیں۔ جب سے انھیں شوگر کی تشخیص ہوئی تھی۔ وہ تو گھر، باہر، کہیں بھی ہوں۔ چینی چاول، بیکری کی اشیاء سے کتنا پرہیز کرتی تھیں۔ وہ بے ترتیب بول رہی تھی۔ جیسے میرا سوال سنا ہی نہیں۔
کیسے بھول سکتی ہوں؟ اگر کبھی غلطی سے بھی ان کی چائے میں، میں نے چینی ڈال دی ہوتی تو بہانے سے منع کرتیں۔ چائے نہ پیتیں۔ مجھے اپنے گھر ان کے ساتھ گزارے لمحات یاد آئے۔
لیکن پھر بھی ان کے ساتھ ظلم ہو گیا۔ روٹی ہم انھیں گندم کی ہی دیتے تھے۔ کبھی کبھار مکئی کی بھی استعمال ہوتی۔ اس کا افسوس ختم نہ ہوتا تھا۔
تو؟
تمہیں پتہ ہے جب سے مجھے شوگر ہوئی ہے۔ اور جب میرا شوگر لیول گرتا ہے تو مجھے واقعی دنیا ختم ہوتی لگتی ہے۔ ہاتھوں، پیروں سے جان نکلنے لگتی ہے اور کھانا کھانے کے بعد بھی اگلے کچھ گھنٹوں تک ہوش پورا نہیں ہو پاتا۔ اس کیفیت کو ہائپو گلیسمیا یا لو بلڈ شوگر کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہےکہ خون میں شوگر کی مقدار چار ملی مول فی لیٹر سے کم ہو گئی ہے۔ آنکھوں میں دھندلا پن، جسم سے جان نکلتی محسوس ہونا، ہاتھوں پیروں کا سن ہو جانا، کانپنے لگنا، توجہ کے ارتکاز کا فقدان وہ عام علامتیں ہیں جو کسی بھی شوگر کے مریض کو بلڈ شوگر کم ہونے کی صورت میں محسوس ہوتی ہیں۔ اور جب جب میرے ساتھ یہ ہوتا ہے تو میری ماں کی تکلیف میرے سامنے آجاتی ہے۔ مجھے اب ادراک ہوتا کہ بغیر دیکھے جو کھانے کے وقت میں دیر ان کے علم میں آجاتی تھی۔ تو اس کی وجہ یہ تھی۔

مزید جو میں نے اس بیماری پر پڑھا، طبیبوں نے بتایا وہ یہ کہ سب سے خطرناک غذائیں اس بیماری میں گندم اور چاول ہیں۔ تو ان معلومات نے میرا دن کا چین اور رات کی نیند چھین لی ہیں۔ مجھے میری پرہیزی ماں یاد آتی ہے۔ جسے کبھی کسی نے نہیں بتایا کہ گندم اس کے لئے اتنی نقصان دہ ہے۔ مکئی اس کے لئے نہیں۔ ہم چھوٹے تھے۔ ایک بہت چھوٹے شہر میں رہتے تھے۔ بڑا شہر بھی سینکڑوں میل کے فاصلے پر تھا۔ انٹرنیٹ نہیں تھا۔ آگاہی اور اس کے ذرائع اتنے دستیاب نہیں تھے۔ معلومات ناقص تھیں۔ خاندان میں دور دور تک کبھی اس بیماری کا نام نہیں سنا تھا تو ہمیں کبھی احساس ہی نہیں ہو پایا کہ یہ کتنا جان لیوا مرض ہے۔ ہم نے کبھی اس کو اتنا سنجیدگی سے لیا ہی نہیں کہ اس کے بڑے اثرات کا سدباب کر سکتے۔ ان کے طریقہ زندگی میں مزید تبدیلی و بہتری لاتے۔ اور یہ سمجھتے کہ صرف ایک گولی، اور انسولین کا ٹیکہ ہی اس کا واحد اور مکمل علاج نہیں۔

وہ یہ سب باتیں کر رہی تھی۔ رو رہی تھی۔ ہچکیوں سے روتی تھی اور کہتی تھی کہ میرا دل چاہتا ہے کہ روز بستر پر لیٹنے سے پہلے اپنی ماں سے ہاتھ جوڑ جوڑ کے معافی مانگوں کہ ہم اپنی کم علمی میں ان کے ساتھ بڑا ظلم کر بیٹھے۔ ان کی اذیت کا اندازہ نہیں کر پائے۔ ان کی بیماری کو سمجھ نہیں سکے۔
وہ مسلسل انھی جملوں کی تکرار کر رہی تھی۔ بلکتی تھی۔ اور میں صرف سامع تھی۔

نوٹ: بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں پچھلے کچھ سالوں میں ذیابیطس کے مرض میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور بدقسمتی سے پاکستان اس میں سر فہرست ہے۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس نظر نہ آنے والے مرض کو سمجھیں۔ جو لوگ اس میں مبتلا ہیں۔ ان کے محسوسات کو نظر انداز نہ کریں۔ اور بحیثیت مجموعی اپنی زندگی گزارنے کے طریقوں کو زیادہ فعال بنائیں۔

Facebook Comments HS