انسانیت مر گئی ہے، بس ایک آس باقی ہے


آج دفتر میں ایک خاتون اپنے بیٹے کے ساتھ پتہ تبدیلی کا پراسیس کرانے آئی۔ لڑکا میری عمر کا ہی لگ رہا تھا۔ پراسیس کے بعد انہیں فارم پڑھ کر ریسیپشن پر جمع کرانے کا کہا۔ ان کے جانے کے بعد مجھے یاد آیا کہ ان کے بقیہ ڈھائی سو تو میں نے انہیں ادا ہی نہیں کیے۔ سو میں نے اپنی نشست سے اٹھ کر ہال میں نظر دوڑائی۔ ایک طرف دونوں ماں بیٹا فارم پڑھتے دکھائی دیے۔ ان کے پاس جا کر میں نے اس لڑکے کو ہزار کا نوٹ تھمایا اور کہا کہ آپ اپنے بقیہ پیسے تو بھول ہی گئے اور مجھے بھی ادا کرنا یاد نہیں رہا۔ یہ پیسے لو اور چھٹے کروا کر اپنے ڈھائی سو بھی رکھ لو اور باقی مجھے میرے کاؤنٹر پر ادا کر دینا۔ اس پر اس کے چہرے سے تشکر کے جذبات میں دیکھ سکتا تھا۔

میں اطمینان سے اپنی نشست پر آ کر بیٹھ گیا اور آس پاس سے بے خبر ہو کر اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔ کچھ وقت گزر گیا پر وہ لڑکا نہیں آیا۔ میرا ماتھا ٹھنکا۔ اس عورت کا نام اتفاق سے مجھے یاد تھا۔ ریسیپشن پر گیا تو دیکھا کہ وہ فارم ریسیو ہو چکا تھا اور جمع کروانے والے کا کوئی اتہ پتہ نہیں تھا۔ مجھے اس وقت اس لڑکے پر شدید غصہ آیا۔

خیر میں نے وہ فارم اپنے پاس رکھ لیا جس کے ساتھ اس لڑکے کے شناختی کارڈ کی کاپی چسپاں تھی۔ پھر میں نے سوچا کہ ہو سکتا ہے اسے قریب سے چھٹے نہ ملے ہوں اور وہ کہیں اور چلا گیا ہو اس وجہ سے تاخیر ہو رہی ہو۔

میں پھر اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔ مزید وقت گزرتا چلا گیا۔ اس لڑکے پر میرا غصہ بڑھتا جا رہا تھا کہ میں کیا سوچ کر اسے اس کے بقایا پیسے ادا کرنے گیا اور اس نے جواب میں میرے ساتھ ہی دھوکا دہی کی۔

مجھے کسی کے اتنا گھٹیا ہونے کا گمان اس سے پہلے نہیں گزرا تھا پر آج وہ گمان یقین میں تبدیل ہو گیا۔

چھٹی کے قریب میں نے آفس انچارج کے فون سے فارم پر درج نمبر پر رابطہ کیا۔ نام کی تصدیق ہونے کے بعد میں مدعے پر آیا۔ قصہ مختصر جواب یہ ملا کہ ”وہ جی میں بھول گیا تھا“ ۔ (اتنے کم وقفے میں کہ آپ چھٹے لینے گئے اور واپس دفتر میں فارم بھی جمع کرانے آئے پر پیسے دینا یاد نہیں رہا) ۔ اس سادگی پر غالب کا ایک شعر یاد آ رہا ہے ؛

اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا!
لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں

گو کہ اس کے جواب میں شرمندگی نمایاں تھی پر اب اس شرمندگی کا کوئی فائدہ نہیں تھا اور اس کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ بھی نہیں تھا کہ وہ اپنے کیے پر پشیماں ہو۔ میں نے تھوڑی جھاڑ پلائی اور پیسوں کی ادائیگی کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ یہ کہا کہ کل آپ دوبارہ دفتر آئیں، اپنی والدہ کو قطار میں لگا کر ٹوکن لیں۔ لمبے انتظار کے بعد نمبر آنے پر دوبارہ یہی پراسیس کرائیں۔ اس کے جواب میں مجھے شرمندگی میں ڈوبی ”ہاں“ سنائی دی بس۔

میں نے غلط کیا یا ٹھیک پتہ نہیں۔ لیکن انسانیت سے گری کوئی اس حرکت کا یہی جواب مجھے درست لگا ورنہ صرف پیسوں کی ادائیگی سے مطلوبہ سبق یاد نہیں رہنا تھا اور یہ سبق بھولنے والا نہیں تھا۔ اس کے بعد مجھے ایک روحانی سکون حاصل ہوا جو اظہار بیان میں ممکن نہیں۔

ابھی قصہ ختم نہیں ہوا۔ ”بس ایک آس باقی ہے“ والا حصہ ابھی باقی ہے۔

آج ہی کے دن جب میں مایوسی اور غصے کے عالم میں اپنے کام میں مصروف تھا۔ دل و دماغ کہیں اور تھے اور انگلیاں کہیں اور چل رہی تھیں تو ایک پراسیس کے اختتام پر میں نے درخواست دہندہ کی طرف ڈھائی سو روپے بڑھائے کہ یہ آپ کے بقایا پیسے! تو اس لڑکے نے جو کہ عمر میں مجھ سے قریبا آٹھ دس سال چھوٹا تھا، نے بڑے اعتماد سے مجھے جواب دیا کہ بھائی آپ نے مجھے میرے پیسے ادا کر دیے ہیں۔ مجھے بڑی حیرت اور بے انتہا خوشی ہوئی اس کے اس عمل پر۔ میں نے دل سے اس کا شکریہ ادا کیا۔ اور میرا دھیان پھر اسی بدبخت کی طرف گیا جس نے ساڑھے سات سو روپے کی خاطر اپنا ایمان بیچ دیا تھا اور اطمینان ہوا یہ سوچ کر کہ اچھائی کی رمق ابھی کہیں نہ کہیں باقی ہے۔

احساس اور ضمیر سے عاری اس منافق معاشرے میں جہاں ہر طرف بے ایمانی اور دھوکہ دہی کے بازار گرم ہیں وہیں کبھی کبھار کوئی ایک آدھ باوصف انسان ان اندھیروں میں اپنی شمع لے کر نکلتا ہے اور اپنا کام کر جاتا ہے۔

Facebook Comments HS