"ساڈی گل ہوگئی اے ” کے بعد انتخابات کی کیا ضرورت ہے!


ساڈی گل ہو گئی اے (ہماری بات ہو گئی ہے) یہ وہ تاریخی ڈائلاگ ہے جس نے چشم زدن میں ملک گیر شہرت حاصل کرلی ہے۔ یہ ڈائلاگ مسلم لیگ نون جھنگ کے ایک عہدیدار نے اس وقت بولا جب وہ اپنے علاقے میں اپنی جماعت کے لیے لوگوں کو ووٹ دینے کی ترغیب دے رہا تھا۔ لوگوں نے ووٹ دینے سے ٹکا سا جواب دیا تو موصوف چند میٹھے بول بول کر کہنے لگا کہ“ تواڈے ووٹ دی کوئی ضرورت وی نہیں ہے، ساڈی گل ہو گئی اے ” (تمہارے ووٹ کی کوئی ضرورت نہیں، ہماری بات ہو گئی ہے) اور پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔

اس چھوٹے سے عام سے جملے نے دو باتیں بڑی تشویشناک بنا دی ہیں ایک اسٹیبلشمنٹ کی غیرجانبداری اور دوسری الیکشن کمیشن کی مجرمانہ خاموشی۔

مسلم لیگ نون اور اسٹیبلشمنٹ کی کیا ڈیل ہوئی، کن شرائط اور بنیادوں پہ ہوئی یہ سب باتیں آہستہ آہستہ عوام میں ہر گزرتے روز افشا ہوتی جا رہی ہیں، اور ملک کے طول و عرض میں نون لیگ اور اسٹیبلشمنٹ کی جے جے کار کے بجائے تھو تھو کار ہو رہی ہے۔ خاور مانیکا کا شاہزیب خانزادہ کو دیا گیا انٹرویو جلتی پہ تیل کا کام کر گیا ہے۔

پاکستان کی جنتا اب یہ سوچنے پہ مجبور ہو گئی ہے کہ کئی دہائیوں سے جاری یہ غیر جمہوری، مفاداتی تجربات آخر کب ختم ہوں گے جن کی بنیاد پہ ملک پہ جمہوریت کے نام پر کسی نہ کسی سیاسی جماعت کو لاڈلے کا درجہ دے کر مسلط کر دیا جاتا ہے اور پھر کچھ سالوں میں ہی اس جماعت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے پہلے اسے عوام میں ذلیل کیا جاتا ہے اور پھر اقتدار سے بے دخل کر کے وہی تجربہ کسی دوسری کٹھ پتلی پہ آزمایا جاتا ہے۔

منیرؔ اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ

میاں نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کی ڈیل کی خبروں پہ کچھ دن قبل آئی ایس پی آر کی تردید آ چکی ہے جس سے یہ تاثر مزید تقویت پکڑ رہا ہے کہ کچھ تو ایسا ہے جس کی پردہ داری ہو رہی ہے، کیونکہ تردید ہمیشہ اس بات کی ہوتی ہے جس میں کچھ نہ کچھ صداقت ہوتی ہے۔ جبکہ پیپلز پارٹی سمیت کچھ جماعتیں مسلسل بہ آواز بلند اس ممکنہ ڈیل پہ اپنے شدید خدشات اور تحفظات کا اظہار کر رہی ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بار بار نون لیگ اور اسٹیبلشمنٹ گٹھ جوڑ پہ آواز اٹھا رہے ہیں۔ وہ تحریک انصاف سمیت ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے لیے انتخابات میں برابر کے مواقع اور منصفانہ غیر جانبدارانہ آزادانہ انتخابات کا مطالبہ دہرا رہے ہیں۔ بلاول چیف جسٹس پاکستان، چیف الیکشن کمشنر اور اسٹیبلشمنٹ کو مخاطب کر کے فرما رہے ہیں کہ اب ملک مزید تجربات کا متحمل نہیں ہو سکتا نہ ہی کوئی بھی سیاسی جماعت 2018 والے انتخابات کو قبول کرے گی۔

بلاول بھٹو صاحب کے خدشات اس لیے بھی جائز لگتے ہیں کہ جس طرح تحریک انصاف کے رہنماؤں کو مختلف مقدمات میں انتہائی بھونڈے طریقوں سے پہلے گم کیا جاتا ہے پھر ایک سے دوسرے مقدمے میں پھنسا کر ان کو منظرعام پہ لاکر ان سے پریس کانفرنس کروا کر یا تو کنگز پارٹی میں یا پھر نون لیگ میں شمولیت کروائی جا رہی ہے یہ ساری کارگزاریاں نہ صرف تشویشناک ہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کی غیرجانبداری اور الیکشن کمیشن کی مجرمانہ خاموشی کو مزید مشکوک بنا رہے ہیں۔

بلوچستان میں باپ پارٹی کے لوگوں سمیت موسمی پرندوں کی ایک بار پھر نون لیگ میں شمولیتیں کروانا بھی انہیں طاقتوروں کا ہی کام ہے۔

ملک میں انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے، جلسے جلوسوں ریلیوں کی اجازت بھی ہے، مگر نہ تو سیاسی جماعتیں نہ ہی سیاسی امیدوار کہیں میدان میں نظر آتے ہیں۔ تحریک انصاف کے باقی بچ جانے والے رہنماؤں اور کارکنان کو جلسہ تو کیا اکٹھے ہونے کے بھی لالے پڑے ہوئے ہیں تو دوسری طرف صرف پیپلز پارٹی ہے جو عوامی ووٹ کی طاقت پہ بھروسا رکھتے ہوئے ورکرز کنوینشن کے ذریعے عوام سے رابطہ شروع کیے ہوئے ہے، جبکہ ہمیشہ مقتدرہ کے کندھے استعمال کر کے اقتدار حاصل کرنے والے آج بھی سیاست کی غلام گردشوں میں سازباز کے ذریعے اقتدار حاصل کرنے کی تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں۔

بلاول بھٹو کی یہ بات بھی درست ہے کہ اگر یہ انتخابات آزادانہ منصفانہ اور غیر جانبدارانہ طور پہ منعقد نہ ہوئے تو انہیں کوئی قبول نہیں کرے گا اور پھر سے ایک وزیراعظم بن کر مسند پہ بیٹھے گا تو دوسرے احتجاج کرتے دھرنے دیتے نظر آئیں گے اور پاکستان اسی طرح سیاسی افراتفری اور عدم استحکام کا شکار ہے رہے گا۔

پاکستان کی مقتدرہ کو ملک میں جاری سیاسی تجربات کو اب ہمیشہ کے لیے ختم کرنا پڑے گا، کیونکہ موجود عالمی سیاسی و معاشی تناظر میں پاکستان کو بھی اپنی اندرونی سیاسی اور معاشی پالیسیوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان کو ضرورت ہے ایک ایسے میثاق کی جس میں پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں اور اسٹیبلشمنٹ ساتھ بیٹھ کر ملک کے لیے ایک ایسا طویل مدتی روڈ میپ ترتیب دیں جس میں ہر کسی کو اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے اپنی ذمے داریاں سرانجام دینے کا پابند بنایا جائے۔ جس پہ مکمل عمل درآمد سے پاکستان سیاسی، جمہوری اور معاشی طور پہ مستحکم ہو سکے۔

پاکستان پہلے ہی ڈیفالٹ کے خطرات سے دوچار ہے۔ ہماری معیشت دنیا کی بدترین معیشتوں میں سے ایک ہے۔ قانون و انصاف کی درجہ بندی میں ہم نچلے نمبروں پہ ہیں۔ سالانہ ترقی کی شرح افغانستان جیسے جنگ زدہ ملک سے بھی بدتر ہے۔ معاشرتی اقدار کے لحاظ سے بڑی تیز رفتاری سے انحطاط پذیری کی جانب گامزن ہیں۔

چار جانب چیختی سمتوں کا شور
ہانپتے سائے تھکن اور انحطاط

ایسی تشویشناک صورتحال میں پاکستان کو سیاسی معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور ان حالات میں اگر ”ساڈی گل ہو گئی اے“ جیسے جملے ایک مخصوص لاڈلی سیاسی جماعت کی قیادت و کارکنان کے لبوں سے ہر وقت نکلیں گے تو نہ صرف سیاسی عدم استحکام بڑھے گا بلکہ اداروں پہ پہلے سے متزلزل عوامی اعتماد مزید کمزور ہو گا۔ انتخابی میدان میں موجود دیگر جماعتوں کی ان حالات میں تشویش جائز ہے بلکہ ان کا یہ مطالبہ بھی بالکل جائز ہے کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور الیکشن کمیشن کو اپنی غیرجانبداری کو ثابت کرنے کے لیے دیرپا اور ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ دونوں اداروں کا یہ اولین فرض بھی ہے کہ وہ ”ساڈی گل ہو گئی اے“ کے تاثر کو زائل کر کے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے خدشات کو دور کریں اور ملک میں تمام سیاسی جماعتوں بشمول تحریک انصاف کے سب کو انتخابات میں حصہ لینے اور انتخابی مہم چلانے کا پورا پورا موقع اور ماحول فراہم کریں۔

Facebook Comments HS