چکوال مدرسہ کیس – بچوں کے ساتھ جنسی درندگی
”جب میں دو ہفتوں کے بعد ہاتھ میں فروٹ لیے اپنے بچوں سے ملنے مدرسہ جامعہ المصطفی گیا تو میرا بیٹا سامنے آتے ہی مجھ سے لپٹ گیا اور رونا شروع کر دیا۔ میں نے جب بیٹے سے پوچھا کہ کیا ہوا ہے تو اس نے بتایا کہ ہمارے استاد حافظ ذیشان اور حافظ انیس نے نہ صرف میرے ساتھ غلط حرکات کی ہیں بلکہ بدفعلی بھی کی ہے۔ میں نے یہاں نہیں پڑھنا، مجھے یہاں سے لے جائیں“ ۔ یہ جملے ایک شکستہ باپ کے ہیں جس نے یہ سوچ کر اپنے لخت جگر کو پاکستان کے معروف نعت خوان خالد حسنین خالد مرحوم کے تعمیر کردہ مدرسے میں داخل کروایا کہ ایک دن وہ نہ صرف عالم بلکہ ایک مشہور نعت خوان بن کر اپنے خاندان کا نام روشن کرے گا۔ اس باپ کو کیا خبر تھی کہ خالد حسنین خالد کے مدرسے کا انتظام ان کی رحلت کے بعد ایسے افراد کے ہاتھوں میں آ گیا ہے جو خالد حسنین خالد کا نام بیچ کر آئے روز خود تو عمرے اور زیارتیں کر رہے ہیں لیکن مدرسے کے حالات سے اتنے غافل اور بے خبر ہیں کہ انہیں یہ علم تک نہیں کہ ان کا مدرسہ جنسی درندوں کی کچھار بن چکا ہے جہاں سات سے بارہ تیرہ سال کے بچوں کو نہ جانے کب سے جنسی درندگی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان کی چیخیں اور سسکیاں کبھی اذان کی آواز میں دب جاتی ہیں تو کبھی قرآن کی تلاوت اور کبھی نعت کی آواز میں حائل ہو جاتی ہیں۔
بارہ سال کے اس معصوم کے دادا بھی چکوال کے ایک مشہور نعت خوان تھے۔ بچے کے والد نے مجھے بتایا کہ جب اس کا بیٹا روتے ہوئے درندگی کی یہ کہانی سنا رہا تھا تو مدرسے کے اور بچے بھی وہاں اکٹھے ہو گئے۔ دوسرے بچوں نے بھی اپنے ساتھ ہونے والی جنسی درندگی کی تصدیق کی اور یہ بھی بتایا کہ جنسی درندے نہ صرف ان معصوم بچوں سے بدفعلی کرتے تھے بلکہ ان کے جسموں پر اپنے دانت گاڑتے تھے اور چھری سے ان کے جسموں پر انگریزی حرف ”زیڈ“ کندہ کرتے تھے۔ بچوں کے منہ سے دل دہلا دینے والی کہانی سننے کے بعد اس بدقسمت باپ نے اپنے بڑے بھائی کو اطلاع دی جو بچے کو لے کر ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) واحد محمود کے پاس چلا گیا۔ کہانی سنتے ہی ڈی پی او پولیس کی نفری لے کر خود چوآ چوک کے قریب جہلم روڈ پر واقع جامعہ المصطفی پہنچ گئے۔ ڈی پی او کے بقول بچوں نے اپنے ساتھ کھیلے جانے والے جنسی درندگی کے اس ہولناک کھیل کی تصدیق کی۔ پولیس پندرہ بچوں کو طبعی معائنے کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال لائی جہاں ڈاکٹرز نے جب بچوں کو دیکھا تو ان کے جسموں پر دانتوں اور چھری سے کندہ کیے گئے انگریزی حرف ”زیڈ“ کے نشانات تھے۔
جمعہ کی رات کو مجھے موبائل پر اس درندگی کی اطلاع اس وقت ملی جب ہسپتال میں ڈاکٹرز بچوں کے طبعی معائنہ میں مصروف تھے۔ تصدیق کے لئے میں نے ڈی پی او، ہسپتال میں موجود پولیس انسپیکٹر اور ملزموں کے چھاپے کے لیے گئی ہوئی پولیس ٹیم کے سربراہ اور ڈاکٹرز سے بات کی۔ مدرسہ کے مہتمم نوید حیدری جو ابھی دو دن پہلے ہی بیرونِ ملک سے لوٹے تھے کا موقف جاننے کے لیے ان سے رابطہ کیا۔ انہوں نے مجھے یہ بتایا کہ نو نومبر کو ایک بچے نے شکایت کی کہ ایک قاری نے اسے ”بوسہ“ دیا ہے۔ نوید حیدری کا کہنا تھا کہ جب انتظامیہ نے سی سی ٹی وی کیمرا کی فوٹیج دیکھی تو قاری کی اس حرکت کی تصدیق ہو گئی اور گیارہ نومبر کو قاری کو مدرسے سے نکال دیا گیا۔
حقیقت اس کے برعکس تھی۔ ایک قاری کو اگر ایک معصوم طالب علم کو بوسہ دینے پر نکالا گیا تو دوسرے قاری کو اسی دن کیوں نکالا گیا؟ مدرسہ انتظامیہ کی ڈھٹائی ملاحظہ ہو کہ وہ معصوم بچوں کو بوسہ دینے، ان کے جسموں پر دانت گاڑنے اور چھری سے نقش تراشنے کے عمل کو جنسی نہیں بلکہ جسمانی تشدد کہنے پر بضد ہے۔ ڈی پی او کے مطابق مدرسہ انتظامیہ کو اس درندگی کا پتہ ایک ماہ پہلے ہی لگ چکا تھا لیکن پولیس کو بتانے کی بجائے انتظامیہ نے گیارہ نومبر کو دونوں جنسی درندوں کو مدرسے سے نکال کر ان دل دہلا دینے والے واقعات کو دبا دیا۔ اگر پندرہ بچوں کے والدین میں سے ایک بچے کا والد اس جنسی درندگی کو بے نقاب کرنے کی ہمت نہ کرتا تو یہ معاملہ کبھی سامنے نہ آتا۔
ہمارا معاشرہ ایک جنسی گھٹن زدہ معاشرہ ہے جہاں جنسی درندے اپنی ہوس مٹانے کے لیے معصوم بچوں کو بھی نہیں بخشتے۔ ہمارے معاشرے میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات آئے روز سامنے آتے رہتے ہیں کیونکہ پانچ چھ سال سے لے کر بارہ تیرہ سال کی عمر کے بچے جنسی درندوں کا آسان ہدف ہوتے ہیں۔ بچوں کے جنسی استحصال پر کام کرنے والی تنظیم ”ساحل“ کے مطابق سال 2022 میں پاکستان میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے 4253 واقعات ملکی اور علاقائی اخبارات میں رپورٹ ہوئے جبکہ سال 2021 میں 3852، سال 2020 میں 2960 اور سال 2019 میں 2846 واقعات منظر عام پر آئے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہر روز بارہ بچے جنسی زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں۔ یہاں ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ ایسے گھناؤنے واقعات کی ایک بہت بڑی تعداد رپورٹ ہی نہیں ہوتی۔ یا تو بچے خوف کی وجہ سے بتاتے نہیں اور اگر بتا بھی دیں تو ان کے والدین یا تو غربت کی وجہ سے یا بدنامی کے ڈر کی وجہ سے پولیس کے پاس نہیں جاتے۔ جن چند واقعات کے مقدمات درج ہوتے ہیں ان میں سے اکثر مقدمات کے مدعی کچھ عرصے کے بعد کہیں ہمارے نظام ِ انصاف سے مایوس ہو کر تو کہیں ملزمان سے راضی نامہ کر کے مقدمات سے دستبردار ہو جاتے ہیں اور یوں ان جنسی درندوں کو اور شہ مل جاتی ہے اور معاشرے میں بچوں کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی بڑھتی ہی جا رہی ہے
تلہ گنگ کا ایک واقعہ ملاحظہ کریں۔ 12 اپریل 2021 کو تلہ گنگ کے گاؤں ڈھوک پھلاری کی مسجد میں تین سال سے جاری جنسی درندگی منظر عام پر آئی۔ خبر دل دہلا دینے والی تھی لیکن اپنی نوعیت میں نئی ہر گز نہیں تھی۔ ہوا یوں کہ امام مسجد تین سال تک مسجد میں روزانہ قرآن پڑھنے کے لئے آنے والے معصوم بچوں اور بچیوں کو جنسی درندگی کا نشانہ بناتا رہا اور اس کا نائب اس گھناؤنے کرتوت کی موبائل سے ویڈیوز بناتا رہا۔ تین سال گزرنے کے بعد اللہ کے گھر میں امامت جیسا مقدس فریضہ سر انجام دینے والے ان دو مولویوں کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے۔ جس کے موبائل میں اس درندگی کی ویڈیوز تھیں وہ اس وقت تلہ گنگ میں تعینات ڈی ایس پی سکندر گوندل کے پاس یہ سوچ کر چلا گیا کہ ڈی ایس پی کو اپنے شریک جرم کی ویڈیوز دکھانے سے اسے ساری زندگی نہ بھولنے والا سبق سکھا لے گا۔ اس نے ڈی ایس پی کو بتایا کہ اس کے ساتھی مولوی نے چار معصوم بچیوں جن کی عمر محض چھ سے نو برس تھی اور ایک بارہ سال کے لڑکے کے ساتھ جنسی زیادتی کی ہے اور ثبوت کے طور پر یہ ویڈیوز ہیں۔ ڈی ایس پی سکندر گوندل نے متاثرہ لڑکے سے جب پوچھا تو اس نے بتایا کہ امام مسجد نے اس کے ساتھ پانچ دفعہ جنسی زیادتی کی ہے۔ پولیس نے جب دوسرے مولوی کو پکڑا تو اس نے بتا دیا کہ وہ دونوں مل کر یہ قبیحہ فعل کرتے تھے۔ دونوں درندے پکڑے گئے اور دونوں نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔ پولیس کے پاس ثبوت کے طور پر ویڈیوز موجود تھیں لیکن دو تین ماہ گزرنے کے بعد مدعی مقدمے سے دستبردار ہو گیا اور یوں دونوں جنسی درندے پھر سے آزاد ہو گئے۔
سترہ نومبر کو جامعہ المصطفی میں ہونے والی جنسی درندگی کا منظر عام پر آنا نہ تو ہمارے ملک میں اس نوعیت کا پہلا واقعہ ہے اور نہ ہی آخری۔ جون 2021 میں جمعیت علمائے اسلام کے رہنما، ستر سالہ مفتی عزیز الرحمن کی ایک شرمناک ویڈیو آئی جس میں وہ ایک طالب علم کے ساتھ جنسی زیادتی کر رہے تھے۔ متاثرہ طالب علم کے مطابق مفتی کے روپ میں چھپا یہ جنسی درندہ اسے ایک سال سے زائد عرصے تک جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا رہا تھا۔ اس ویڈیو کے فوراً بعد ایک شیعہ عالم مظہر حسین نجفی کی ویڈیو آتی ہے جس میں وہ بھی اسی جنسی درندگی کا مظاہرہ کر رہا ہوتا ہے۔ چکوال کی مساجد اور مدارس میں بھی ایسے کئی واقعات گزشتہ سالوں میں سامنے آچکے ہیں۔ کبھی جمال وال میں امام مسجد نے ایک بچے کو مسجد کے احاطہ میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تو کبھی بھلہ گاؤں کی مسجد میں یہ انسانیت سوز حرکت کی گئی۔ فہرست لمبی ہے۔
جامعہ المصطفی کے پندرہ بچوں نے بتایا کہ ان کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی ہے لیکن پندرہ میں سے دس بچوں کے والدین نے قانونی کارروائی کرنے سے انکار کر دیا۔ پانچ بچوں کا میڈیکل ہوا۔ لیکن میڈیکل میں جنسی زیادتی کا ثابت ہونا اب ناممکن ہے کیونکہ ایسے معائنہ کے لیے ضروری ہے کہ نمونے جنسی زیادتی ہونے کے بعد بہتر گھنٹوں کے اندر اندر لے لیے جائیں اور اس سانحے کے ملزموں کو تو مدرسہ انتظامیہ سات دن پہلے ہی بھگا چکی تھی۔ تاہم مدرسے سے ملنے والے نمونوں، چھری کی برآمدگی، پولیس کی تفتیش اور بچوں کے بیانات ملزموں کو سزا دلوانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
غیرت کے نام پر قتل ہمارے معاشرے کا ہی ایک تاریک پہلو ہے کہ پاکستانی مردوں کی ساری غیرت اپنی بہنوں اور بیٹیوں کی ٹانگوں کے درمیان ہوتی ہے۔ باپ یا بھائی خود جنسی درندہ ہی کیوں نہ ہو، غیرت تب ہی جاگتی ہے جب اپنی بہن یا بیٹی کسی کو پسند کرنے کا گناہ کر بیٹھتی ہے۔ پہلے یہاں اگر بھائی اپنی بہن کو غیرت کے نام پر موت کے گھاٹ اتار دیتا تھا تو بطور ولی اس کا باپ اپنے ”بہادر اور غیرت مند“ سپوت کو معاف کر دیتا تھا اور یوں غیرت کے نام پر عورتوں کا قتل تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ آخر 2016 میں ریاست نے قانون میں ترمیم کی اور اس ترمیم شدہ قانون کے تحت اب اگر غیرت کے نام پر قتل کے مقدمے میں اگر ولی (مقتولہ کا وارث) قاتل کو معاف بھی کر دے تو پھر بھی قاتل عمر قید سے نہیں بچ سکتا کیونکہ اس صورت میں مدعی ریاست خود بن جاتی ہے۔ بچوں کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کو روکنے کے لیے بھی ریاست کو چاہیے کہ قانون میں ترمیم کر کے ایسے مقدمات میں خود مدعی بنے تاکہ جنسی درندوں کو سزا مل سکے۔
بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات تو آئے روز ہوتے رہتے ہیں لیکن جب ایسے واقعات ایک دینی مدرسے یا مسجد کے احاطہ میں ہوں، جہاں پانچ وقت اذان ہو رہی ہو، قرآن کی تلاوت اور نبی اکرم ﷺ کی ثناء خوانی ہو رہی ہو اور جہاں والدین اپنے بچوں کو بطور امانت مدرسہ انتظامیہ کے سپرد کریں، وہاں ہی اگر معصوموں کی معصومیت کو نوچ لیا جائے تو باقی معاشرے کا کیا بنے گا؟
لیکن رجعتی سوچ رکھنے والے اس بھونڈی منطق کا راگ الاپ کر تعمیری بحث کی بجائے اس کج بحثی کو ہوا دے رہے ہیں کہ ایسے واقعات تو پاکستان کے کالجوں اور جامعات میں بھی ہوتے رہتے ہیں۔ عقل سے عاری یہ لوگ اپنی اس بھونڈی منطق کے دفاع میں چکوال کے جامعہ المصطفی کے اندر ہونے والی جنسی درندگی کا موازنہ جولائی میں منظر عام پر آنے والے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے سکینڈل کے ساتھ کر کے انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ یونیورسٹی کو تو نہ بند کیا گیا اور نہ اس سکینڈل پر اتنا شور اٹھا۔ عقل کے ان اندھوں کو یہ کون سمجھائے کہ یونیورسٹی میں پڑھنے والی طالبات عاقل اور بالغ ہوتی ہیں نہ کہ جامعہ المصطفی کے بچوں کی طرح معصوم۔ یونیورسٹی والا سکینڈل بھی انتہائی قابل مذمت تھا لیکن اس کا موازنہ ایک دینی مدرسے میں پڑھنے والے سات سے دس بارہ سال کی عمر کے معصوم بچوں کے ساتھ ہونے والے جنسی تشدد کے ساتھ کرنا کہاں کی لاجک ہے؟
جامعہ المصطفی کی انتظامیہ نے منگل کی شام مدرسے کے باہر ایک پریس کانفرنس کی جس میں مدرسے کے مہتمم کے ایک دوست مسعود شاکر نے انتہائی ڈھٹائی اور بے شرمی سے بچوں کے ساتھ ہونے والے اس قبیحہ فعل کو جنسی تشدد کی بجائے جسمانی تشدد کا رنگ دینے کی کوشش کی۔ ان کو اس بات سے کیا مطلب کہ جن معصوم بچوں کے ساتھ یہ بربریت ہوئی ہے وہ ساری عمر اپنی شخصیت پر لگے اس داغ کے ساتھ کیسے جئیں گے اور اس اذیت کا کرب ان کی ذہنوں سے کیسے نکلے گا؟
پریس کانفرنس کے لیے لگائے گئے بینر پر چکوال کے ڈی پی او کی پالیسیوں کو دین دشمن قرار دیا گیا۔ ڈی پی او کو دشمنِ دین قرار دینے کی سند مدرسہ انتظامیہ نے محض اس وجہ سے جاری کی کہ ڈی پی او نے قانون کے مطابق کارروائی کیوں کی ہے؟ اس مدرسے کی انتظامیہ کو یہ وہم بھی ہے کہ اس گھناؤنے کھیل کے منظرِعام پر آنے سے چکوال کی بدنامی ہوئی ہے۔ ان کو کون بتائے کہ جناب چکوال کی پہچان اس مدرسے کے چار پانچ لوگ ہر گز نہیں ہیں۔ ہاں اس جنسی درندگی کے آشکار ہونے سے ان لوگوں کی آمدن پر شاید فرق پڑ جائے جو چکوال کی دھرتی سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی شہرت یافتہ نعت خوان خالد حسنین خالد کے نام پر موجیں کر رہے ہیں۔ اس مدرسے کے پہلو میں دفن خالد حسنین خالد کی روح یقیناً جنت میں تڑپ رہی ہوگی۔
پاکستان میں اس وقت وزارتِ تعلیم کے مطابق چھتیس ہزار مدرسے ہیں جن میں بائیس لاکھ سے زائد بچے زیرتعلیم ہیں۔ یقیناً سارے مدرسوں میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی نہیں ہوتی اور نہ اس ملک میں ان مدرسوں کو بند کیا جاسکتا ہے جس ملک میں دو کروڑ اٹھائیس لاکھ سے زائد پانچ سے سولہ سال کے بچے پہلے ہی سکولوں سے باہر ہوں لیکن مدارس کی اصلاحات جو گزشتہ کئی سالوں سے التواء کا شکار ہیں فوراً کی جانی چاہیں تاکہ دینی مدارس میں ایسے دل دہلا دینے والے واقعات رونما نہ ہوں جو نہ صرف انسانیت بلکہ ہمارے مذہب اسلام کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔

