سوشل میڈیا پر ”جنسی روحانیت“ کے چرچے
جنسی روحانیت کی اصطلاح میری نہیں ہے، یہ میں نے مستعار لی ہے۔
عابد علی عابد جن کا تعلق ہمارے علاقہ میاں چنوں سے ہے جو ایک معروف دانشور اور شاعر ہیں نے اس اصطلاح کو برتا ہے، من کو بہت بھائی تو میں نے اسے اپنے مضمون کا عنوان بنا لیا۔
آج کل معروف روحانی پیشوا خاور مانیکا کے ایک انٹرویو کے بڑے چرچے ہیں جس کے متعلق ہمارا یہ ماننا ہے کہ
”اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت“
بے وقت کی راگنی فضول ہوتی ہے اور سمے بیت جانے کے بعد تھپڑ مارنے کی غرض سے اٹھنے والا ہاتھ اپنے ہی منہ پر مار لینا چاہیے۔
ہمارے ہاں مذہب اور روحانیت بہت ہی منافع بخش کاروبار ہے جس میں سرمایہ کاری زیرو ہوتی ہے جبکہ منافع کئی گنا بلکہ زندگی بھر کا دھندا بن جاتا ہے جس پر کئی نسلیں راج کرتی ہیں اور شرمناک بات یہ ہے کہ ہم مذہب کو مفادات کی بھینٹ چڑھانے سے بھی باز نہیں آتے۔
جو جتنا بڑا پاپی یا رانگ نمبر ہوتا ہے وہی مذہب و روحانیت کا سب سے بڑا پرچارک ہوتا ہے اور مذہب و روحانیت کا بے دریغ اور ببانگ دہل استعمال کرتا ہے۔
اس کے سینے پہ جھنڈا چسپاں ہوتا ہے اور ہاتھ میں ”ورچو سمبل“ یعنی تسبیح ہوتی ہے، ان دو علامات کی بنیاد پر ایک دیکھنے والے لگتا ہے کہ یار بندہ بڑا محب وطن، نیک و پرہیزگار یا کوئی پہنچی ہوئی ہستی ہے اور اس کے ساتھ ہر وقت موکلات و جنات کی فوج موجود رہتی ہوگی جو اسے غیبی باتوں سے باخبر رکھتے ہوں گے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو بندہ خود کو روحانیت کا منبع سمجھتا ہو اور قدرت کے قرب کا دعویدار بھی ہو وہ بھلا بے خبر کیسے ہو سکتا ہے؟
ایسے شخص کی بات کو کیسے تسلیم کیا جا سکتا ہے جو یہ کہے کہ اس کی عدم موجودگی میں فلاں بندہ ”پیر خانے“ آ یا کرتا تھا اور اس کی ناک کے نیچے یہ سب ”بد تہذیبی“ چلتی رہیں۔
اور اب یہی شخص اسی چھپ چھپا کے ملنے والے بندے کے دورحکومت میں بالکل خاموش رہا لیکن جیسے ہی طاقت کا تختہ پاؤں کے نیچے سے سرکا تو جھٹ سے بول اٹھا کہ اس بندے نے میری زوجہ کے ساتھ 28 سالہ رفاقت کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا تو بتائیے اس قسم کے شخص کو کیا کہا جائے یا کیا کہا جانا چاہیے؟
ویسے 28 سالہ رفاقت پر بھی ایک بڑا سا سوالیہ نشان ہے جس کا حتمی نتیجہ مکروہ و نجس قسم کی گند زبانی کی صورت میں سامنے آ یا تو وہ کاہے کی رفاقت اور کہاں کی اپنائیت یا تعلق؟
مردانہ سماج میں تو ویسے بھی خاتون کی وقعت و حیثیت بس اتنی سی ہی ہوتی ہے اور طاقت کے کھیل میں برابر کے پارٹنر ہونے کے باوجود بھی خاتون کو ہی اپنے کردار کی قربانی دینا پڑتی ہے۔
مثال آپ کے سامنے ہے مانیکا جی کردار کے غازی اور اہلیہ سب برائیوں کی جڑ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سارے انٹرویو میں بریکنگ نیوز یا ہوش اڑا دینے والا کیا ہے؟
کیا اس اساطیری بندوبست کے متعلق ذی شعور لوگ پہلے سے نہیں جانتے تھے کہ یہ روحانی گینگ کس بندوبست کے تحت معرضِ وجود میں آ یا ہے اور اس سسٹم کے کاروباری موکل کون ہیں؟
کیا مصنوعی صادق و امین، بشریٰ بی بی، زلفی بخاری، فرح گوگی، جمیل گجر اور خاور مانیکا خود سے اپنی حیثیت میں اتنے مضبوط ہوسکتے تھے کہ وہ نظام کو ہائی جیک کرتے اور تن تنہا اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتے؟
پیری مریدی یا مرشد کے اس دھندے نے جو انڈے بچے دیے ہیں اس کی اکیلی بشریٰ بی بی کیسے ذمے دار ہو سکتی ہے؟
سسٹم نے جس کی جتنی جتنی رسی دراز کر رکھی تھی ان سب نے اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنا حصہ ہتھیایا اور چلتے بنے۔
منظر عام پر آنے والے یہ سب کردار تجرباتی بندوبست کے بینیفشری ہیں مگر طاقت ور کی تان ہمیشہ کمزور پر آ کر ہی ٹوٹتی ہے۔
خاور مانیکا بھی تو اسی منافق سماج کا نمائندہ ہے وہ بھلا مختلف کیسے ہو سکتا ہے؟
اس نے بھی خود کو پاک صاف اور دودھ کا دھلا ثابت کرنے کے لیے سارا ملبہ اہلیہ پر ڈال دیا اور خود پرہیزگاران کی صف میں جا کھڑا ہوا۔
خاور مانیکا نے جس گندے کھیل یا غلاظت کا تذکرہ کیا ہے ان سے پھر پوچھنا تو بنتا ہے نا!
جناب شروع کس نے کیا تھا اور گھٹیا طریقے سے ختم کون کر رہا ہے؟
موصوف تو خود اس فاؤل گیم کا نہ صرف کردار تھا بلکہ پورا پورا بینیفشری بھی تھا، قندیل بلوچ نے تو یہ سب بہت پہلے بتا دیا تھا جن کا تذکرہ مانیکا جی اب فرما رہے ہیں۔
کرپشن کی داستانیں اور کردار کشی کا چلن ہر اس سماج کا حصہ ہوتے ہیں جہاں سسٹم کو چلانے کے لیے خداوندان نظام نت نئے تجربات کرتے رہتے ہیں، بدقسمتی سے ایسے معاشرے اس قدر کھوکھلے، بودے، مصنوعی یا دو نمبر ہوتے ہیں کہ جہاں کاروبار ریاست ہی کرپشن اور کردار کشی کے سہارے چلنے لگتا ہے اور وہ منافقت اور جھوٹ کے بیچ جھولتے رہتے ہیں۔
ایسے سماج کے بڑوں کی مجبوری بن جاتی ہے کہ وہ جھوٹے اور مصنوعی کرداروں پر پاکیزگی و طہارت کا لیپ کر کے سامنے لائیں تاکہ دھندا چلتا رہے۔
خاور مانیکا کی زبانی جس قسم کا کلچر ہمیں سننے کو ملا ہے یہ ہر اس سماج کی کہانی ہوتی ہے جہاں گھٹن عروج پر ہو اور لوگوں کو پاکباز یا فرشتہ بنانے کے لیے غیر فطری بندوبست یا طریقوں کا سہارا لیا جاتا ہو، ان طریقوں سے کوئی خاطر خواہ فرق تو نہیں پڑتا البتہ انتہائی خوفناک طرز کا ایک زیر زمین کلچر فروغ پانے لگتا ہے اور مصنوعی معاشرے میں چھپ چھپا کے سب کچھ چلتا رہتا ہے۔
اس قسم کے معاشروں میں مرد تو ہمیشہ نیک اور صالح ہی رہتے ہیں مگر خواتین کو شیاطین کے درجے پر فائز کر دیا جاتا ہے جن کا کام بس اتنا سا رہ جاتا ہے کہ وہ صالح مردوں کو لبھائیں، دل پشوریاں کریں اور متقین کے نازک سے ایمان خراب کرتے پھریں، منافقت کا معیار تو ذرا ملاحظہ کیجئے کہ گاہک یا خریدار تو دودھ کا دھلا ہی رہتا ہے لیکن جس کا جسم نوچ کر تسکین کا بندوبست کرتے ہیں وہ ہمیشہ سے راندہ درگاہ، رنڈی اور گناہوں کی طرف آ مادہ کرنے والی کہلاتی ہے؟
سیکولر اور ایک انسان دوست کی حیثیت سے ہمارے ورلڈ ویو کے مطابق کوئی اپنی نجی زندگی میں کیا کرتا ہے، کس کے ساتھ رہتا ہے اور کس جینڈر کے ساتھ اپنی جنسی خواہش پوری کرتا ہے کوئی فرق نہیں پڑتا اور ہمیں اس سے کوئی سروکار بھی نہیں ہونا چاہیے اور ہر دو بالغ اپنی ایک آزادانہ حیثیت رکھتے ہیں جس میں ناک گھسیڑنا بدتہذیبی یا بداخلاقی کے زمرے میں آتا ہے۔
ہمارا مسئلہ منافقت سے ہے، جب آپ زبردستی ایک معاشرے میں مذہب کی بنیاد پر کچھ ہارڈ اینڈ فاسٹ قسم کے اصول اپناتے ہیں، مورل پولیسنگ کرتے ہیں اور انہی بنیادوں پر رول ماڈل کے طور پر کچھ افراد کو اقتدار دینے کے نام پر سامنے لاتے ہیں تو پھر سوال تو اٹھیں گے اور لوگ ان شخصیات پر سوال بھی اٹھائیں گے جو پارسائی یا ریاست مدینہ کے دعویدار ہوں گے۔
جب آپ کردار کو مذہب کے پلڑے میں تولیں گے اور اسی معیار کو فائنل کسوٹی سمجھیں گے تو ظاہر ہے آپ کو جوابدہ تو ہونا پڑے گا۔
خوف، روحانیت یا روحوں کا دھندا کرنے والوں اور قرب ایزدی کا دعویٰ رکھنے والوں کو جواب تو پھر دینا ہو گا۔


