سندھ ہائیکورٹ، نور عین کا غیرت کے نام پر قتل اور امیدیں
یہ اسی سال (2023) کی بات ہے۔ جب مجھے ضلع جامشورو میں تعینات کیا گیا تو نورعین نامی ایک لڑکی کے قتل کا کیس سب کی نگاہوں کا مرکز تھا۔
یہ مقدمہ میرے وہاں تعینات ہونے سے کچھ دن پہلے نورعین کے شوہر کی مدعیت میں درج ہوا تھا اور تفتیش ابھی ابتدائی مراحل میں تھی۔ نورعین نے اپنی شادی کا معاملہ صیغہ راز میں رکھا تھا۔ وہ پڑھی لکھی، خود اعتماد اور خود کفیل لڑکی تھی۔ نورعین کے شوہر نے مقدمے میں تحریر کروایا کہ جب اس کی شادی کی بات کھلی تو اس کے والد اور بھائیوں کو ناگوار گزری۔ لیکن نورعین کو یقین تھا کہ وہ اپنے گھر والوں کو راضی کر لے گی اور اس نے والدین کا گھر نہیں چھوڑا۔ نورعین کے شوہر نے مقدمے میں مزید لکھوایا کہ اسی وجہ سے نورعین کو نام نہاد غیرت کے نام پہ قتل کیا گیا۔ اس کے برعکس نورعین کے والدین کا موقف تھا کہ نورعین نے خودکشی کی ہے۔
اس معاملے کے منظر عام تک آنے کی وجہ سیہون کے اے ایس پی صاحب تھے۔ بیدار بخت گوندل صاحب پولیس سروس آف پاکستان کے افسر ہیں۔ انہیں یہ اطلاع ملی کہ کسی لڑکی نے تھانہ بھان سعید آباد کی حدود میں خودکشی کر لی ہے اور والدین کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔ بیدار صاحب یہ خبر ملتے ہی خود ہسپتال پہنچے اور حالات کو مشکوک گردانتے ہوئے پوسٹ مارٹم کروایا۔ مزید جب اس سانحے کی خبر نورعین کے شوہر کو ملی تو انہوں نے حالات واضح کیے اور مقدمہ درج کروایا۔ یوں تفتیش کا آغاز ہوا۔
پولیس نے باریک بینی سے تفتیش شروع کی۔ پولیس کی تفتیش کا دائرہ شواہد اکٹھے کرنا ہوتا ہے تاکہ عدالت کو انصاف کی فراہمی میں معاونت مل سکے۔ تفتیشی افسر تفتیش کے معاملات میں خودمختار ہوتا ہے اور سپروائیزنگ افسران نگرانی کرتے ہیں۔ اس کیس میں بھی ایسا ہوا۔ تفتیشی افسر نے خوب محنت کی اور اے ایس پی بیدار بخت صاحب نے نگرانی کے فرائض انجام دیے۔ میں بطور ضلع پولیس افسر مجموعی طور پر معاملات کو دیکھتا رہا اور مجھے تسلی رہی کہ کیس کی سمت درست ہے۔
تفتیش میں جائے وقوعہ کا ملاحظہ انتہائی اہم ہوتا ہے۔ اس کیس میں جائے وقوعہ ایک کمرہ تھا اور وہ کمرہ چیخ چیخ کے بیان کر رہا تھا کہ کچھ غلط ہوا ہے۔ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے گئے جو کہ پولیس فائل کا حصہ ہیں۔ اس دوران واردات و کرائم سین کو ریکنسٹرکٹ بھی کیا گیا تاکہ تسلی ہو سکے کہ تفتیش درست سطور پہ ہو رہی ہے۔ یوں شواہد کی مدد سے کڑیاں ملتی گئیں اور اتنے ثبوت میسر آ گئے کہ کیس قابل چالان واضح ہوا۔ یوں کیس پراسیکیوشن کی مدد سے معزز عدالت میں سماعت کے لئے جمع کروایا گیا۔
دوران تفتیش مقتولہ کا ایک بھائی گرفتار ہوا۔ اس کے دوسرے بھائی اور والد نے ضمانت کروا لی لیکن شامل تفتیش نہ ہوتے اور تفتیش میں روڑے بھی اٹکاتے رہتے۔ ان کی ضمانت منسوخ کرانے کے لئے درخواست دائر کی گئی، سیشن کورٹ نے ضمانت منسوخ کی لیکن وہ فرار ہو گئے۔ اس کے بعد انہوں نے سندھ ہائیکورٹ، حیدرآباد بینچ سے ضمانت کروائی۔
تاحال کیس عدالت میں زیرسماعت ہے۔ کچھ دن پہلے نورعین کے والد اور بھائی کی ضمانت کی کنفرمیشن کے لئے سندھ ہائیکورٹ، حیدرآباد بینچ میں سماعت ہوئی۔ محترم جسٹس خادم حسین تنیو صاحب سماعت کر رہے تھے۔ معزز عدالت کے سامنے ملزم کے وکیل نے دلائل پیش کیے ۔ تفتیشی افسر بمع شواہد حاضر ہوا، اے پی جی، محترم سراج بجارانی صاحب اور مدعی کی طرف سے وکیل، محترم میر محمد منگریو صاحب نے بھی دلائل دیے۔ قانون و انصاف کے تقاضے معزز عدالت کے سمت دیکھ رہے تھے کہ فیصلہ کیا آتا ہے!
لارڈ شپ محترم جسٹس خادم حسین تنیو صاحب نے دلائل کا بغور تجزیہ کرتے ہوئے ایک شاندار آرڈر تحریر کیا جو کہ حوالے کے طور پہ تاریخ کا حصہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ محترم جسٹس خادم حسین تنیو نے تحریر کیا کہ غیرت کے نام پہ قتل، اس مقتول کے ساتھ وہ زیادتی ہے کہ جس سے قتل ہونے کہ بعد بھی مقتول کی پاک دامنی پہ انگلی اٹھا دی جاتی ہے۔ اس مخصوص کیس میں ایک جواں سال عورت کی زندگی کے دیے کو بجھا دیا گیا، ایسی تعلیم یافتہ عورت کہ جس کے سامنے زیست اڑان بھرنے کے لئے پر پھلائے کھڑی تھی۔ افسوس یہ ہے کہ اس نے کوئی گناہ نہیں کیا تھا۔ اس کے قتل نے تو اسے اپنی پاکدامنی کو ثابت کرنے کا موقعہ تک نہ دیا۔ ظاہراً مقتولہ کے والد کو اسے موت کے گھاٹ اتارنا تو قبول تھا لیکن اپنی بیٹی کا آزاد مرضی استعمال کرنے کا حق قبول نہیں تھا۔ لہٰذا معزز عدالت ان کی ضمانت کنفرم نہیں کرتی۔
اس آرڈر میں جو نکات اٹھائے گئے ہیں، وہ انتہائی اہم ہیں جنہیں سمجھنا ضروری ہے۔ بطور تفتیشی ادارہ، پولیس نے شواہد اکٹھے کیے جن کا تذکرہ ہائیکورٹ نے اپنی آرڈر میں بھی کیا ہے۔ پولیس کا کردار قابل ستائش جانا جا سکتا ہے کہ انہوں نے پیشہ ورانہ مہارت کا احسن طریقے سے استعمال کیا۔ ٹرائل میں کیا فیصلہ آتا ہے، وہ عدالت کا اختیار ہے، ہاں معزز عدالت سے امیدیں تو وابستہ ہیں۔ امیدیں اس مرحومہ کی، جس کا بے گناہ قتل سوال کرتا ہے ؛ امیدیں اس معاشرے اور ایسی کئی نورعینوں کی، جو نام نہاد غیرت کے نام پہ قتل ہوتی رہی ہیں۔


