زخمی کپتان اور پاکستان کا پھنسا ہوا ثور انقلاب
تبدیلی کی حقیقت قدیم زمانے کے فلاسفا سے لے کر عصر حاضر کے مفکروں کے لئے چند اہم موضوعات میں سے ایک رہا ہے۔ یونانی فلسفے میں ایک گروپ کا خیال تھا کہ ”ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں“ یعنی تبدیلی کائنات کی بنیادی حقیقت ہے تو دوسرا گروہ یہ کہتا سنائی دیتا ہے کہ تبدیلی نظر کے فریب کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اس فلسفیانہ مباحثے میں گئے بغیر اگر انسانی معاشروں کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو ہمیں دو طرح کی تبدیلیاں دکھائی دیتی ہیں۔ ایک بتدریج تبدیلی اور دوسری بذریعہ انقلاب۔ ایک طرف وہ ممالک ہیں جہاں سیاسی نظام مستحکم رہا ہے اور تبدیلی انتخابات کے ذریعے آیا کرتی ہے۔ دوسری طرف وہ ممالک ہیں جہاں سیاسی نظام ہلچل کا شکار رہتا ہے اور وہاں تبدیلی انقلاب کے ذریعے آتی رہی ہے۔ پاکستان کی کہانی بھی ایک ایسے ہی ترقی پذیر ملک کی کہانی ہے۔
فیض احمد فیض محبوب سے گلہ کر گئے تھے کہ :
نہ گئی تیرے غم کی سرداری
دل میں یوں روز انقلاب آئے
پاکستان بھی کسی شاعر کے دل کی طرح انقلابات کی تجربہ گاہ بنا رہا ہے۔ خود فیض صاحب ایک انقلاب کے شریک ملزم کی حیثیت سے راولپنڈی سازش کیس میں پابند سلاسل بھی رہے۔ پاکستان معرض وجود میں آیا تو ابھی فوج برطانوی جرنیل کی کمان میں تھی۔ اس وقت کے انقلابات اس لیے سول سروس سے لائے گئے سیاستدانوں کے برپا کردہ تھے۔ جب ایوب خان کی صورت فوج پاکستانی ہو گئی تو انقلابات پر بھی خاکی رنگ چھا گیا۔ دیگر غیر مستحکم سیاسی ملکوں کی طرح فوج خود کو ایک غیر سیاسی اکائی سمجھتے ہوئے پاکستان کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی واحد امین سمجھنے لگی۔
ایوب خان سے لے کر پرویز مشرف کے نافذ کردہ فوجی انقلابات کی ایک مشترکہ خاصیت یہ تھی کہ فوج کی نظر میں تمام سیاسی جماعتیں پاکستان کی شکست و ریخت کا باعث تھیں اور وہ بطور ادارہ ایک مسیحا بن کر پاکستان کو بچانے کی ذمہ داری پوری کیا کرتی تھی۔ اس لحاظ سے پاکستان دیگر ترقی پذیر ممالک سے مختلف نہ تھا جہاں فوجی جرنیل سیاستدانوں کو ملکی سالمیت کے لئے خطرہ قرار دے کر بزور بازو اقتدار پر قبضہ کرتے رہے ہیں۔
افغانستان میں 1978 میں رونما ہونے والا ثور انقلاب اس لحاظ سے مختلف تھا کہ یہ کوئی خالص فوجی انقلاب نہیں تھا گو اس کو برپا کرنے میں فوجی افسران کا کلیدی کردار تھا۔ عمران خان کو بھی شاید ایک ایسے ہی ثور انقلاب کی امید تھی۔ پی ٹی آئی کے انقلاب کی کوشش کا جائزہ لینے سے پہلے ضروری ہے کہ افغانستان کے ثور انقلاب پر ایک نظر ڈالی جائے تاکہ عمران خان کی کوشش کو سمجھنے میں مدد ملے۔
افغانستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہاں سماجی و سیاسی طاقت کے تین سرچشمے رہے ہیں۔ اول بادشاہت، دوئم قبائلی سرداران اور سوئم مذہبی راہنما۔ گویا اقتدار میں شرکت کا واحد غیر موروثی راستہ بذریعہ مسجد و محراب ہی ممکن تھا۔ روس میں اشتراکی انقلاب نے دنیا کے اکثر ممالک میں پڑھے لکھے افراد میں انقلابی جذبات پیدا کر کے ان میں اقتدار میں حصہ مانگنے کی امنگ بیدار کردی۔ افغانستان پڑوس میں تھا اور سوویت یونین اس کی اقتصادی مدد کرنے کے علاوہ وہاں کے طلبا کو اپنی درسگاہوں میں تعلیم کی سہولت بھی مہیا کر رہا تھا۔
اس قربت کا پہلا اثر نوجوانوں پر مبنی ایک تنظیم ”ویش زلمیان“ (بیدار نوجوانان) کی صورت دیکھنے کو ملا۔ یونیورسٹیاں سیاسی نظریات اور تحریکوں کی آبیاری کیا کرتی ہیں۔ مذہبی اور اشتراکی نظریات پر مبنی طلبا تنظیموں کی بنا بھی کابل یونیورسٹی میں ہوئی۔ نور محمد ترہ کئی ایک انتہائی غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والے ٹیچر تھے۔ یکم جنوری 1965 ء کو ان کے گھر پر ببرک کارمل، اور چند دیگر متحرک سیاسی کارکنان نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان (PDPA) کی تاسیسی کانگریس منعقد کر کے کمیونسٹ پارٹی کا آغاز کر دیا۔
پارٹی بنیادی طور پر انقلاب برپا کرنے کے خواہشمندوں کا گروہ تھا جو پورے افغانستان میں اپنا پیغام عام کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی تھی۔ تاہم تعلیم کی کمی اور مخصوص سماجی حالات کے باعث پارٹی کا اثر و رسوخ درمیانے طبقے کے ان پڑھے لکھے لوگوں میں زیادہ رہا جو مختلف تعلیمی اداروں سے بطور طالب علم یا استاد منسلک تھے۔ کلاسیکی مارکسی فلسفے میں انقلاب فیکٹری کے مزدوروں کے ذریعہ آنا تھا۔ لیکن افغانستان میں نہ فیکٹریاں تھیں اور نہ فیکٹری کے مزدور۔
اس حقیقت کے پیش نظر پارٹی کے راہنماؤں نے شارٹ کٹ انقلاب کا راستہ ڈھونڈ نکالا۔ اور یہ تھا انقلاب براستہ فوجی بغاوت۔ اس نسخے میں یہ حقیقت مددگار تھی کہ سوویت یونین افغانستان کی فوجی معاونت کر رہا تھا اور بہت سے نوجوان افسران ماسکو سے تربیت لے کے آئے تھے اور پارٹی کی تبلیغی کارروائیوں کے لئے مناسب ہدف تھے۔ فوج میں پارٹی کی حمایت حاصل کرنے کا فریضہ حفیظ اللہ امین کو سونپا گیا جو امریکہ سے تعلیم یافتہ تھے اور تنظیمی اور تقریری صلاحیتوں میں اچھی شہرت رکھتے تھے۔
صدر داؤد خود کو ایک لبرل اور جمہوریت پسند حکمران کے طور پر پیش کیا کرتا تھا اس لیے شروع میں اس نے زیادہ سختی نہیں کی لیکن جب خوف دامن گیر ہوا تو اس نے اس انقلابی جماعت کو نیست و نابود کرنے کی ٹھان لی۔ یہ وہ نازک لمحہ ہوتا ہے جب تاریخ فیصلہ کرتی ہے کہ کون آر یا پار ہوتا ہے۔ انقلاب کامیاب ہو جائے تو معزول بادشاہ اور خاندان کے ارکان تخت کے ساتھ جان سے بھی ہاتھ دھو دیتے ہیں۔ برطانیہ میں چارلس اول کا سر قلم ہوا۔ انقلاب فرانس میں بادشاہ اور ملکہ اور انقلاب روس میں زار اور پورا خاندان مارے گئے۔ ہم اپنی طرف آ جائیں تو مجیب الرحمن اور ذوالفقار علی بھٹو کی مثالیں سامنے ہیں۔ دوسری طرف انقلاب کی کوشش اگر ناکام ہو جاتی تو باغیوں کے سر قلم کر کے ان کی لاشوں کے ٹکڑے سرعام جلائے جاتے یا جانوروں کو کھلا دیے جاتے۔ عصر حاضر میں ترکی کی ناکام بغاوت کے بعد طیب اردگان نے چن چن کر باغیوں اور ان سے وابستہ افراد کو ٹھکانے لگایا۔
تخت یا تختہ۔ یہی مختصر روداد ہے ہر باغیانہ کوشش کی۔ چنانچہ ایک طرف داؤد نے ممکنہ باغیوں کو مکمل ختم کرنے کی کوشش کی تو دوسری طرف باغیوں کے لیے بھی جہد للبقا کی آزمائش آ چکی تھی۔ حفیظ اللہ امین نے فوج میں پارٹی کے حامی افسران کو راست اقدام کی ہدایت جاری کردی جو ٹینک لے کر صدر داؤد کی رہائش گاہ پر چڑھ دوڑے۔ کابل شہر صدر داؤد اور کمیونسٹ پارٹی کے حامی فوجی دستوں کے مابین جنگ کا میدان بن گیا اور جب اس آر یا پار گھڑی کا دھواں چھٹا تو داؤد اپنے خاندان سمیت قتل ہو کے منظر سے غائب ہو چکا تھا۔ ترہ کئی، ایک چرواہے کا تعلیم یافتہ بیٹا، نئی انقلابی حکومت کا سربراہ بن گیا اور افغانستان کی کہانی ایک نئے دور میں داخل ہو گئی۔
پی ٹی آئی کے پاس کوئی انقلابی پروگرام نہیں تھا اور سارا انقلاب ”جب عمران آئے گا تو سو ارب آئی ایم ایف کے منہ پر مارے گا“ جیسے سہانے خوابوں پر مبنی تھا، تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ فوجی افسران اور بیگمات کے ایک قابل ذکر حلقے میں یہ سہانے خواب مذہبی بنیاد پرستی کی حد تک اپنی جگہ بنا چکے تھے۔ جب شہباز گل نے اے آر وائے کے پروگرام میں فوجی افسران کی عمران سے محبت اور اپنی قیادت سے شکایت کی تقریر کی تھی تو وہ دراصل اسی قسم کا پیغام تھا جو حفیظ اللہ امین نے دوران حراست اپنے حامی فوجی عناصر کو بھیجا تھا۔
اور 9 مئی کے حملے دراصل اس امید پر کیے گئے تھے کہ پاکستان کا ثور انقلاب پوری آب و تاب کے ساتھ کامیاب ہو گا اور جب انقلابی ریلا گزر جائے گا تو موجودہ فوجی و سیاسی قیادت خس و خاشاک کی طرح بہہ چکی ہوگی اور عمران باغیوں کے کاندھوں پر بیٹھا ہوا واپس تخت نشیں ہو گا۔ ہمارے جسٹس منیر صاحب فرما گئے ہیں کہ بزور طاقت اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کامیاب ہو جائے تو اس کو انقلاب کہہ کے قانونی سمجھا جائے اور ناکام ہو جائے تو پھر وہ بغاوت کہلاتی ہے۔
ایسا لگتا ہے ہے کہ پاکستان کا ممکنہ ثور انقلاب بری طرح پھنس چکا ہے۔ نہ تخت کا صحیح طور فیصلہ ہوا اور نہ تختہ مقدر بنا۔ باغیوں کے کچھ ہمدردوں کا خیال ہے کہ یہ وقتی جھٹکا ہے، بہت جلد ان کا باغی لیڈر سب کو روندتا ہوا واپس مسند اقتدار پر ہو گا۔ پچھلی دفعہ جب عام حالات تھے تو انتقامی کارروائیوں سے صبح کو شام کیا جاتا تھا۔ اب جب زخمی کپتان تخت پر بیٹھے گا تو وقت کا سازندہ بول پڑے گا۔
جانے کس کس کی موت آئی ہے۔
آج رخ پر کوئی نقاب نہیں
دیکھیں یہ جہد للبقا کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

