آصف زرداری کا مس فائر اور بلاول کا شدید ردعمل


پاکستان پیپلز پارٹی کے کو چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کے حالیہ انٹرویو نے ملکی سیاست میں تو ہلچل مچا دی ہے لیکن اس کی اپنی پارٹی میں ایک نئے تنازع نے جنم لے لیا ہے۔ آصف زرداری نے اپنے انٹرویو میں ملکی سیاسی صورتحال پر تو کھل کر گفتگو کی لیکن اپنے بیٹے اور پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا بلاول بھٹو ابھی مکمل طور پر تیار نہیں ہوا، اس کی ٹریننگ جاری ہے، ساتھ ساتھ یہ بھی کہا بلاول بھٹو کا بزرگوں کو گھر میں بیٹھ کر آرام کرنے کا مشورہ بالکل غلط ہے، کیونکہ آج کی نسل سمجھتی ہے کہ والدین کو کچھ نہیں آتا، سب کچھ ان کو ہی آتا ہے، لیکن میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ تجربہ تجربہ ہوتا ہے۔

آصف زرداری کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب بلاول بھٹو زرداری خیبرپختونخوا میں کامیاب جلسے منعقد کر رہا تھا، پشاور سے چترال تک اپر دیر سے مانسہرہ تک ایسا کوئی شہر نہیں جہاں بلاول بھٹو کا والہانہ استقبال نہ کیا گیا ہو اور ہر ایک شہر میں تاریخی کراؤڈ جمع ہوا، جہاں بلاول بھٹو نے ایک تو واضح کردی تھی کہ وہ آئندہ الیکشن میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہو کر ملک کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے۔

سمجھ سے بالاتر بات یہ ہے کہ بلاول بھٹو کا سیاسی سفر انتہائی شاندار طریقے سے چل رہا ہے اور وہ ابھی بچے نہیں پینتیس سال کے گھبرو نوجوان ہیں، جس کو اچھے اور برے کی اچھی طرح خبر ہے، گزشتہ پی ڈی ایم حکومت میں سولہ ماہ تک بطور وزیرخارجہ ان کی خدمات کی تعریف ان کے مخالفین بھی کرتے ہیں، کراچی میں جیالے میئر کا منتخب ہونا بھی بلاول بھٹو کی کامیابی سمجھی جاتی ہے، مٹھی کے کامیاب جلسے کے بعد ملک بھر میں بلاول بھٹو کی سیاسی سرگرمیوں سے مخالف پارٹیاں تو پریشان نظر آ رہی تھی لیکن ان کی اپنی پارٹی کے کو چیئرمین اور والد آصف علی زرداری کی ناپسندیدگی کی وجہ کچھ سمجھ سے باہر ہے۔

اس وقت بلاول بھٹو ملک کے اگلے وزیراعظم کے امیدوار کی دوڑ میں سب سے آگے نظر آتے ہیں اور وہ بار بار عوام سے ایک ہی بات کرتے نظر آ رہے ہیں کہ آپ مجھے موقع دیں، نوجوان ہوں، خدمت کروں گا، ملک کو سنواروں گا۔ ایسے وقت میں آصف زرداری کی جانب سے بلاول بھٹو کو ناتجربہ کار کہنا ان کی سیاسی ساکھ خراب کرنے کے سوال کچھ نہیں، یقیناً آصف علی زرداری سینئر سیاستدان ہیں لیکن جب لوہا گرم ہو تو اس پر پانی ڈالنا بے وقوفی یا مس فائر سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا، آصف زرداری کے اس بیان کے بعد پیپلز پارٹی اور بلاول بھٹو کے مخالفین کو ایک بیانیہ بیچنے کو مل گیا ہے، جب بلاول بھٹو کے والد ہی ان کو ناتجربہ کار کہہ رہے ہیں تو ایسے میں ان کو وزیراعظم ایسے منتخب کیا جائے، جب والد ہی بول رہے ہیں کہ میرے بیٹے کو ابھی اور ٹریننگ کی ضرورت ہے اور ان کو سیاست کا اتنا تجربہ نہیں، تو آخر کار ایک ناتجربہ کار لڑکے کو چوبیس کروڑ عوام کا ملک کیسے حوالے کیا جائے!

آصف علی زرداری کے اس انٹرویو کو بلاول بھٹو نے انتہائی سنجیدگی سے لیا ہے اور وہ خیبر پختونخواہ کا دور مکمل کرنے کے بعد جیسے ہی گزشتہ رات کراچی پہنچے تو کسی کو بتائے بغیر نجی طیارے میں دبئی روانہ ہو گئے ہیں، بلاول بھٹو کی اچانک دبئی روانگی کی خبر کو ملکی سیاست میں ایک دھماکہ قرار دیا جا رہا ہے اور ہر زباں عام یہ بات ہو گئی ہے کہ بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری میں اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں، پیپلز پارٹی کی جانب سے ایسی باتوں کی تو تردید کی جا رہی ہے، لیکن سیاست کا ایک اصول ہے آپ جس خبر کی تردید کرتے ہیں وہ حقیقت ہی ہوتی ہے، اب خبر یہ بھی سامنے آئی ہے کہ بلاول بھٹو کی اچانک دبئی روانگی کے بعد آصف علی زرداری نے بھی نجی طیارہ تیار کرا لیا ہے اور وہ بھی دبئی جا رہے ہیں۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ آصف زرداری کو یہ توقع نہیں تھی کہ ایک انٹرویو کا بلاول بھٹو اتنا خطرناک ری ایکشن دے گا، اوپر سے الیکشن ہو رہے ہیں، بطور چیئرمین بلاول بھٹو کو ہی انتخابی مہم کی سربراہی کرنی ہے، اگر وہ ناراض ہو گئے تو پورا ملک تو چھوڑے سندھ میں الیکشن جیتنا بھی دشوار ہو جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ آصف علی زرداری نے بلاول کو راضی کرنے کے لیے دبئی میں مقیم اپنی بیٹی بختاور سے مدد مانگ لی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ بختاور ثالثی کا کردار ادا کر کے باپ بیٹے میں صلح کرا دے۔

ذرائع نے بتایا بلاول بھٹو اب سیاست اور پارٹی میں خود مختاری چاہتے ہیں، ان کا موقف ہے کہ جو بات میں ملکی سیاستدانوں کے لیے دہراتا ہوں وہ سب سے پہلے میری اپنی پارٹی پر لاگو ہو، والد سینئر سیاستدان ضرور ہیں، لیکن اب ملکی حالات اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ پرانی سیاست کو دہرایا جائے، یہ نیا دور ہے نئی سیاست کی ضرورت ہے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں آصف علی زرداری کا یہ انٹرویو ایک ایسے وقت میں دینا کئی سوالوں کو جنم دیتا ہے، اس وقت پارٹی چیئرمین اور اپنے بیٹے کو ناتجربہ کار کہنا جب اس کی سیاسی اڑان کئی لوگوں کو کھٹکتی ہو، بیٹے کے حوصلے کمزور کرنے کے سوا کچھ نہیں، بلاول بھٹو اب وہ بلاول نہیں رہے جو شہید بے نظیر بھٹو کی شہادت کے وقت دبئی سے پاکستان آئے تھے، اب بلاول بھٹو وہ بلاول نہیں رہا جس کو انگلی پکڑ کر چلایا جائے، بلاول بھٹو کی عمر اس وقت پینتیس سال ہے اور وہ میچور نوجوان ہے، اس کو اچھے اور برے کی اچھی طرح جان پہچان ہے، اب وہ ایک ایسے سیاسی شخصیت بن گئے ہیں جس کو ملکی عوام پسند کرتی ہے اور ایسے لیڈر کو بچا اور ناتجربہ کار کہنا کسی صورت پارٹی کو بھی قبول نہیں ہو گا، کہنے والے کہتے ہیں کہ زرداری کا یہ سیاسی بیان کسی مفاہمت کی طرف اشارہ ہے، شاید وہ اگلے وزیراعظم اپنے بیٹے کو نہیں کسی اور کو دیکھنا چاہتے ہیں، جس کو وزیراعظم بنانے کے لیے اور لوگ بھی ذہنی طور پر تیار ہو گئے ہیں، اگر آصف زرداری کا اپنے بیٹے سے متعلق یہ بیان سیاسی مفاہمت ہے تو یہ مفاہمت آصف زرداری کو شاید ہضم نہ ہو۔

Facebook Comments HS