انتخابی منشور اور اٹھارویں ترمیم


کوئی بھی سیاسی پارٹی انتخابی میدان میں لنگوٹ کس کر اترتی ہے تو عوامی طاقت اور تائید پر ہی تکیہ کرتی ہے۔ اور عوامی تائید حاصل کرنے کے لیے وہ عوامی بھلائی۔ فلاح و بہبود۔ تعمیر و ترقی اور بہت سے ایشوز کی بابت نہ صرف اپنا منصوبہ پیش کرتی ہے بلکہ عوام سے ایسے پروگرام کی اجازت بذریعہ ووٹ حاصل کرتی ہے۔ ایسا پیش کردہ پروگرام منشور کہلاتی ہے۔

ایسے منشور پر عمل درآمد کرنے کے لیے اقتدار کی سنگھاسن پر آن بیٹھنا لازم ہے۔ کیونکہ اقتدار ہی وہ آلہ ہے جس کے ذریعے سیاسی پارٹی اپنے منشور کو عملی جامہ پہنانے کے قابل ہو سکتی ہے۔ اس لیے جمہوری نظام میں پارلیمان تک پہنچنا عوام کی اکثریت کی تائید کے بغیر ممکن ہی نہیں۔

یہ الگ بات ہے کہ اپنے ملک میں سیاسی پارٹیوں نے جس طرح جمہوریت تو کیا ملکی آئین کو بھی مخول بنا رکھا ہے۔ جب اقتدار تک جا پہنچتے ہیں تو منشور یاد ہی نہیں رہتا اور نہ ہی اس پر نظر دوڑانے کی زحمت گوارا کرتے ہیں۔ اس میں شاید یہ علت بھی ہو کہ سیاسی پارٹیاں عوامی تائید حاصل کرنے کے لیے ایسے عجیب و غریب اور ناقابل عمل نکات اپنے منشور میں شامل کرتے ہیں۔ جو بذات خود عوام کے ساتھ بہت بڑا دھوکا اور ان کا استحصال ہوتا ہے۔

دوسری طرف ایسا بھی ہوتا رہا ہے کہ کہ اقتدار میں آ کے ایسی پارٹیاں اپنے ذاتی، یار دوست، پارٹی قیادت اور دیگر امداد دینے والوں کی اور یا پھر نادیدہ قوتوں کے اشاروں پر ایسے منصوبے اور قوانین بناتے اور لاگو کرتے ہیں۔ جو نہ تو ان کے منشور میں شامل ہوتے ہیں اور نہ ہی عوام نے ان کو اس کا مینڈیٹ دیا ہوتا ہے۔

پاکستان ایک کثیر القومی ملک کے ساتھ ساتھ ایک فیڈریشن بھی ہے۔ اور صوبے اس کے فیڈریٹنگ یونٹس ہیں۔ صوبائی سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے صوبوں، اپنے عوام اور ان کے حقوق کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ لیکن چونکہ ہر صوبے کے الگ الگ مشکلات، قیادت اور حلقہ نیابت ہوتا ہے اس لیے اگر وہ انتخابات میں بھر پور کامیابی بھی حاصل کر لیں۔ کوئی خاص نتیجہ دے نہیں سکتے۔ کہ سارے اختیارات آئین کی رو سے مرکز کو مرتکز کیے گئے ہیں۔ یہ صوبائی پارٹیاں اگر اپنے حقوق کے لیے اپنے موقف اور جدوجہد میں تھوڑی سی بھی سختی لاتی ہے۔ تو وطن دشمنی اور غداری کے فتوے جاری کرنے اور دبانے کے لیے کسی بھی قسم کا منفی رویہ اختیار کرنے سے دریغ نہیں کیا جاتا۔

دوسری طرف ملک گیر سیاسی پارٹیاں دوغلی پالیسی اپنائے رکھے ہوئے ہیں ایک طرف صوبوں میں اپنے پیر مضبوط کرنے کی خاطر ان سے ان کی بولی بولتے ہیں۔ جبکہ مرکز میں پھر ان کی بولی تو کیا اٹھک بیٹھک ہی الگ ہوتی ہے۔

18 ویں ترمیم جو بادل ناخواستہ منظور کرائی گئی تھی۔ اس میں بھی صوبوں اور اس کے عوام کی محبت نہیں بلکہ دو بڑے ملک گیر سیاسی پارٹیوں کی ذاتی دلچسپی زیادہ تھی۔ کیونکہ اس ترمیم سے قبل دو بار سے زیادہ کسی بھی شخص کے وزیر اعظم بننے پر پابندی تھی۔ اور یہ بڑی ملک گیر پارٹیاں اس کو ختم کرنا چاہتے تھے۔ کیونکہ پیپلز پارٹی کی محترمہ بینظیر بھٹو شہید اور مسلم لیگ نون کے جناب نواز شریف صاحب دو دو بار منتخب وزراء اعظم رہ چکے تھے اور تیسری بار ایسا اس کے خاتمے کے بغیر ممکن ہی نہ تھا۔

اس پابندی سے چھٹکارا پانا دونوں پارٹیوں کی خواہش اور ضرورت تھی۔ اس لیے انہوں نے سب کو ملا کے کچھ لو کچھ دو کا راستہ اپنایا۔ اس طرح دونوں بڑی پارٹیوں نے اپنے اپنے رہنماؤں کے لیے تیسری بار وزیراعظم بننے کی راہ ہموار کرلی۔ جو بعد میں نواز شریف صاحب خیر سے تیسری بار وزیر اعظم بن بھی گئے۔ جبکہ بدلے میں صوبائی پارٹیوں کو اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر برائے نام کچھ صوبائی اختیارات دے دیے۔

لیکن جب سے یہ 18 ویں ترمیم وجود میں آیا ہے۔ مخصوص حلقوں کو ابتدا ہی سے ایک آنکھ نہیں بھاتی اور اس کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ جس کا گاہے بگاہے اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

الیکشن 2024 سر پے آچکے ہے۔ اور سیاسی پارٹیاں مسند اقتدار تک پہنچنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ جبکہ مخصوص حلقے اپنے فائدے کی راہ تک رہے ہیں۔ جس میں سرفہرست 18 ویں کا خاتمہ ہے۔ وہ بھی ان ہی کے ذریعے ختم کروانا چاہتے ہیں جنھوں نے اس کو منظور کرایا تھا۔

ظاہر ہے یہ کام ملک گیر سیاسی پارٹیاں ہی کر سکیں گی۔ جو کہ واضح طور پر تین ہی ہیں مطلب پاکستان تحریک انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن۔ پاکستان تحریک انصاف تو جس طرح اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار مار کے معتبر حلقوں میں اپنا اعتبار کھو چکی ہے۔ اور حالات بھی واضح نہیں کہ الیکشن میں اس کی اونٹ کس کروٹ بیٹھے گی۔ ساتھ ہی اس کے چیرمین پر جو مقدمات چل رہے ہیں اس میں سزاوار ہونے اور حتیٰ کہ عین آخر وقت میں ان کا انتخابات سے بائیکاٹ کا امکان بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

اس لیے اس پراجیکٹ سے وہ دور ہی نظر آ رہی ہے۔ پیپلز پارٹی نامعلوم وجوہ کی بناء پر ایسا کھیل رہی ہے کہ بس اننگ ہی پوری کر رہی ہو۔ ساتھ ساتھ ہی اس کی قیادت اور اس کا سارا نہیں تو زیادہ انحصار سندھ صوبے پر ہی ہے۔ اس لیے وہ اس ترمیم کی بھرپور دفاع کر رہی ہے۔ البتہ مسلم لیگ نون جو پنجاب کی قیادت رکھنے والی پارٹی ہے۔ اور پارلیمانی سیاست میں پنجاب اپنا پیٹ مختلف اوقات میں مختلف طریقوں سے اتنا پھلا چکی ہے۔ کہ قومی اسمبلی میں اکیلے اس کی سیٹیں دو صوبوں سے زیادہ ہیں۔

تلخ تجربوں اور عوام دوست سیاسی پارٹی ہونے کی بناء پر مسلم لیگ نون سے بجا طور پر یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے ہی منظور کردہ ترمیم کو اپنے اقتدار کی بھینٹ چڑھا کے باقی تین صوبوں کی دشمنی کبھی مول نہیں لے گی۔ اور اس ترمیم کے خاتمے کا نکتہ اپنے منشور میں شامل ہی نہیں کرے گی۔ اور اقتدار میں آنے کی صورت میں ایک محب وطن، پاکستان گیر اور عوام دوست پارٹی کی حیثیت سے زمینی حالات، اپنی بقا اور ملکی مفاد کے لیے مینڈیٹ سے تجاوز نہیں کرے گی۔ ورنہ وطن دشمنی اور غداری کے فتووں کے پرنٹ نکال نکال کے اور اپنے تمام دور میں باقی صوبوں سے نپٹ کے ملکی تعمیر و ترقی کا موقع داؤ پر لگانے سے احتراز کرے گی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments