ملک امبر: ایک حبشی غلام جس نے ہندوستان میں پہلی افریقی ریاست قائم کی


دکن کا تاج محل: جسے اورنگزیب نے اپنی بیوی کی یاد میں بنوایا
1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے

چاند بی بی کی موت 1600 ء میں ہوتی ہے جس کے بعد مغلوں نے احمد نگر فتح کر کے راجہ کو قید کر لیا لیکن ملک امبر اور احمد نگر کے دیگر عہدیداروں نے مغلوں کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھی۔ انھوں نے ایک اور شہر کو اپنا ہیڈ کوارٹر بنایا اور ملک امبر اس کا وزیر اعظم بنا۔ اس نے ایک نئے شہر کھڈکی بعد میں اورنگ آباد کی بنیاد رکھی اور اپنا صدر مقام اس نئے شہر میں منتقل کر دیا۔ یہ ملک امبر کون تھا اور کہاں سے آیا تھا؟ یہ بھی ایک دلچسپ داستان ہے کہ کس طرح ایک حبشی غلام ہندوستان میں ایک ریاست کا حکمران بنا؟

ملک امبر کے بارے عمر حامد علی نے ایک کتاب Malik Ambar: Power and Slavery Across the Indian Ocean کے نام سے لکھی ہے۔ عمر حامد علی لکھتے کہ ملک امبر ایک افریقی غلام تھا جسے بغداد کے ایک تاجر نے خریدا تو اس نے اسلام قبول کر لیا۔ اس کی اعلٰی فکری اور جسمانی صلاحیتوں کو پہچاننے کے بعد اس کا نام امبر رکھا گیا۔ اسے کئی مرتبہ بیچا گیا اور اس کی وجہ اس کی اعلیٰ جسمانی اور دماغی صلاحیتیں تھیں۔ اس کا عرب مالک اسے ہندوستان لے آیا جہاں اسے ایک سابقہ حبشی غلام چنگیز خان نے خرید لیا جو احمد نگر سلطنت کے وزیر اعلی ٰکی حیثیت سے خدمات سر انجام دے رہا تھا۔

آقا کے انتقال کے بعد ملک امبر کو اس کے آقا کی اہلیہ نے رہا کر دیا۔ آزاد ہونے کے بعد اس نے بیجا پور کے سلطان کی ریاست میں ملازمت شروع کر دی۔ اس کی قابل داد خدمات کے بدلے سلطان نے اسے ”ملک“ کا خطاب دیا۔ اس نے علاقے میں مغلوں کے بڑھتے ہوئے قدم روکنے میں بے حد اہم کردار ادا کیا۔ اس دوران اس نے ایک گھڑسوار دستہ تیار کر لیا جس کی تعداد سات ہزار کے قریب تھی۔ ایک وقت آیا کہ اس کی فوج میں دس ہزار حبشی اور دکن کے چالیس ہزار لوگ شامل تھے۔ میرے لیے اتنی بڑی تعداد میں حبشی لوگوں کا ہندوستان میں موجود ہونا ایک اچنبھے کی بات ہے۔

ملک امبر نے اپنا دارالحکومت جنڈار سے کھڈکی منتقل کیا جس کی بنیاد اس نے خود رکھی۔ ملک امبر کی وفات کے بعد اس کے بیٹے نے اپنے نام پراس شہر کا نام فتح پور رکھا جسے بعد میں شہنشاہ اورنگزیب نے اورنگ آباد میں تبدیل کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ ملک امبر دکن کے خطے میں گوریلا جنگ کا بانی ہے جس کی وجہ سے اس کی زندگی میں مغل اس علاقے پر قبضہ نہ کر سکے۔ اس کی موت کے بعد خلد آباد میں اس کا مقبرہ بنایا گیا۔

میرے علم کے مطابق ہندوستان میں کسی بھی مغل بادشاہ کے نام پر یہ واحد بڑا شہر ہے۔ اورنگ آباد اس شہر کا تیسرا نام تھا جو اب تک برقرار ہے۔ مغل سلطنت کے کمزور ہونے کے بعد اس علاقے پر ریاست حیدرآباد کے حکمرانوں نے قبضہ کر لیا۔ 1960 ء میں یہ مہاراشٹرا کا حصہ بن گیا۔ اس شہر میں تیس فیصد سے زائد مسلمان آباد ہیں۔

دکن کا تاج محل: جسے اورنگزیب نے اپنی بیوی کی یاد میں بنوایا

بی بی کا مقبرہ اورنگ آباد، مہاراشٹرا میں واقع ہے۔ مغل بادشاہ اورنگزیب نے اسے 1660 ء میں اپنی بیوی بانو بیگم کی یاد میں شروع کیا۔ یہ مقبرہ اورنگزیب کی والدہ ممتاز محل کے مقبرے تاج محل سے گہری مماثلت رکھتا ہے۔ اسی مماثلت کی وجہ سے اسے دکن کا تاج محل بھی کہا جاتا ہے۔ اس مقبرے کو عطا اللہ معمار اور ہنسپت رائے انجینئر نے مل کر بنایا تھا۔ عطاء اللہ، تاج محل کے پرنسپل ڈیزائنر استاد احمد لاہوری کے بیٹے تھے۔ اورنگزیب کے بیٹے اعظم شاہ نے بعد میں اسے مکمل کیا۔

رات کافی بیت چکی تھی اور میں تصور ہی تصور میں اپنے آپ کو اس علاقے میں محسوس کر رہا تھا۔ جیسے جیسے میں کتاب میں اس علاقے کی تفصیلات پڑھتا جا رہا تھا ویسے ویسے میرا اورنگ آباد دیکھنے کا شوق بھی زیادہ ہو رہا تھا لیکن ایسا کوئی موقع میسر نہیں آیا تھا۔ میرے تمام ساتھی گہری نیند سو رہے تھے۔ مجھ پر بھی نیند غالب آ رہی تھی۔ میرے احساسات اور جذبات کے ساتھ ساتھ مجھ پر یہ حقیقت بھی واضح ہو رہی تھی کہ ہندوستان کے جن علاقوں میں مسلمان بزور طاقت داخل ہوئے ان کے اکثر شہروں میں مسلمانوں کی آبادی دس سے بیس فیصد کے درمیان ہے جب کہ جنوبی ہندوستان کے کئی شہر ایسے ہیں جہاں تیس سے چالیس فیصد مسلمان رہتے ہیں۔ یہ سب جان کر میں اس نتیجے پر پہنچا کہ جن لوگوں نے بھی اسلام کی تبلیغ کا کام اپنے اخلاق اور کردار کی مدد سے کیا ان علاقوں میں بہت سے مقامی لوگ مسلمان ہوئے۔

انکلیشور: جس کے متعلق ایک خیال یہ بھی ہے کہ اسے ترکوں نے آباد کیا

انکلیشور، بھروچ سے دس کلومیٹر دور واقع ہے جو ہندوؤں اور جین مندروں کے لیے مشہور ہے۔ اس شہر میں کیمیکل بنانیوالے پانچ ہزار سے زائد کارخانے ہیں جس کی وجہ سے اسے ایشیاء کا سب سے بڑا انڈسٹریل سٹی ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہاں پر ایک گاؤں میں کچھ ایسے لوگ آباد ہیں جن کی وضع قطع سے اس بات کا قیاس کیا جاسکتا ہے کہ نسلی طور پر وہ ترک ہیں۔ محمود غزنوی نے 1025 ء میں انکلیشور پر فتح حاصل کی تھی۔ مقامی زبان میں اس شہر کو ترک سور (ترکوں کے ذریعہ فتح کیا گیا) بولا جاتا ہے۔

یہ وہی دور ہے جب محمود غزنوی نے سومنات کے مندر پر حملہ کیا تھا۔ ( جس کا تفصیلی ذکر آگے آئے گا) ۔ ان شواہد کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس دور میں چند ترک اس علاقے میں آباد ہو گئے تھے اور اب ان کی نسل کے بہت سے لوگ یہاں آباد ہیں۔ ایک دلچسپ بات یہ سامنے آئی کہ زمانہ قدیم میں یونانیوں نے بھی اس علاقے پر قبضہ کرنا چاہا تھا۔ ان سب سے لگتا ہے کہ یہ علاقے قدیم زمانوں سے ہی فاتحین کے لیے بے حد کشش رکھتے تھے۔ اس علاقے میں موجود مسلم آبادی سے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ اسلام قبول کرنے سے پہلے اعلی ہندو براہمن ذات سے تعلق رکھتے تھے۔ (یہ سب قیاس آرائیاں ہی ہیں کیونکہ تاریخ کے اوراق میں ایسی کوئی مصدقہ چیز نہیں ملتی لیکن اکثر لوگوں کا خیال کچھ ایسا ہی ہے ) ۔

رات کے نو بج رہے تھے اور سب لوگ سونے کی تیاری کر رہے تھے۔ میں اس انتظار میں تھا کہ بھروچ (Bharuch) شہر دیکھ سکوں۔ یہاں ہماری گاڑی کا سٹاپ نہ ہونے کا مجھے بے حد افسوس تھا۔ بھروچ آٹھ ہزار سال پرانا شہر ہے۔ یہ ہندوستان کا دوسرا قدیم شہر ہے۔ اس پر یونانی بھی قابض رہے ہیں۔ یہی وہ شہر ہے جس کے راستے عرب، افریقی اور یورپی لوگ ہندوستان میں داخل ہوئے تھے۔ یہاں آٹھویں صدی عیسوی میں چوہدری نام کی ایک ریاست بھی کئی صدیوں تک قائم رہی۔ اس سے مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ چوہدری صرف پنجابی کا لفظ نہیں ہے بلکہ یہ لفظ اور بھی کئی زبانوں میں استعمال ہوتا رہا ہے۔

Facebook Comments HS