سوچ کا دائرہ
موسم سرما کا یہ اداس جھٹپٹا گویا دل میں کسی یاد کی ہوک اٹھانے کو ناکافی تھا کہ افق پر بادلوں نے بھی سورج کو اپنی آغوش میں لے لیا۔ نجانے کیا تھا بادلوں کی اس ادا میں کہ شفق کے چہرے پر سرخی دوڑ گئی۔ سرد شام اب نرم گرم اور گلابی ہو گئی۔
بے غرض اور حقیقی محبتوں کا مسئلہ یہ ہے کہ دل میں گداز پیدا تو کرتی ہیں لیکن اشک شوئی کی اجازت نہیں دیتیں۔ وہ لوگ مجسم ہوس ہوتے ہیں جو خود بھی بدنام ہوتے ہیں اور محبوب کو بھی بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بقول پروین شاکر۔
کانپ اٹھتی ہوں میں یہ سوچ کے تنہائی میں
میرے چہرے پہ تیرا نام نہ پڑھ لے کوئی
اور اردو شاعری میں یہ مضمون بہت کثرت سے پایا جاتا ہے۔ کہ خود بھی رسوا ہوں، محبوب کو بھی محلے بھر میں رسوا کر چھوڑیں۔ لیکن کچھ ایسے وضع دار عاشق بھی پائے جاتے ہیں جو کہتے ہیں
یہ بھی آداب محبت نے گوارا نہ کیا
ان کی تصویر بھی آنکھوں سے لگائی نہ گئی
اور ہمارے دل میں بھی یہی ایمان کی طرح راسخ ہے کہ ”ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں“ ۔ محبت کی معراج گویا یہی ہے کہ محبوب کی رضا میں راضی رہا جائے۔ اور یہ نکتہ صرف وہی سمجھ سکتا ہے جس نے حقیقت سے، اور حقیقت میں محبت کی ہو صرف ظاہری طلب نہ ہو۔
خیالوں کی ریشمی ڈور کہیں مزید نہ الجھ جائے اور اس آنچ کی تپش سے میرا آتشیں آنچل بھڑک نہ اٹھے یہ سوچ کر میں نے اپنی پسندیدہ کڑھائی چولہے پر چڑھائی اور سوجی کا حلوہ بنانے کی تیاری کرنے لگی۔
جب دھیمی دھیمی آنچ پر سوندھی سوندھی سوجی کی خوشبو اٹھی تو دل گویا شب برات کی پھلجھڑی بن گیا۔ دیسی گھی اور الائچی کی مہک کا رومانس مجھے پھر اس کی باتیں یاد دلانے لگا۔
’آپ کو اپنا خیال رکھنا ہو گا۔ ابھی آپ کی عمر نہیں ہے یہ روگ پالنے کی۔ ”
اس نے چھوٹتے ہی کہا۔
میں مسکرا کر رہ گئی۔ ابھی پرسوں ہی تو ملاقات ہوئی تھی اس سے۔ نہیں، مجھے اس کے بارے میں نہیں سوچنا چاہیے۔
میں نے اس کے خیال اور باتوں کو دل سے جھٹکنے کی کوشش کی۔
”میں اس کو سر پر سوار نہیں کروں گی، میں گھٹ گھٹ کر نہیں مرنا چاہتی، میں خوش رہنا چاہتی ہوں“
سوجی کی بھنائی، شیرے کی میٹھی خوشبو، خشک میوہ جات اور پھر زعفران کی خوشبو۔ حلوہ نہیں تھا گویا زندگی تھی جس میں ہر رنگ اور ہر ذائقہ موجود تھا۔ لیکن مہجور دلوں کو چاشنی کہاں راس آتی ہے۔ فوراً خیال آیا،
”دھڑکن بے ترتیب ہوتی ہے؟“ اس نے بہت دھیرے سے پوچھا۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا۔
آنکھ میں ایک ستارہ ٹمٹمایا۔ یہ میرے ساتھ ہی کیوں ہوا، میرے سارے خواب، میری زندگی اتنی پھیکی اور بے رونق کیوں گزرے؟
مجھے آخری بار اس کا خیال آیا
”اگر آپ اپنے آپ سے محبت کرتی ہیں تو آپ کو خود پر قابو پانا ہو گا“
میں نے ایک گہرا سانس لے کر حلوے کی ساری خوشبو اپنے اندر سمیٹی اور کہا ”جہنم میں جاؤ، میں پرہیز نہیں کر سکتی“ ۔
میں نے آنکھیں بند کر کے چشم تصور سے آخری بار اپنے ڈاکٹر کو دیکھا جو مجھے میٹھی اور چکنی چیزوں سے پرہیز کرنے کی تاکید کر رہا تھا۔ اور پھر مزے لے لے کر سوجی کا حلوہ کھانے لگی۔
ہر افسانے میں ہیروئن کو ہیرو ہی یاد نہیں آتا۔ سوچ کا دائرہ وسیع کریں۔


