تاریخ پہ تاریخ: طلبہ ذہنی دباؤ کا شکار


نا جانے بلوچستان میں عدلیہ اور عدالتی نظام کیوں اتنی غیر سنجیدگی کا شکار ہے؟
عدالت میں بیٹھے لوگ کیونکر اتنی بے حِس ہیں؟

عوام کی تو بات ہی نہ کریں، طلبا جو کہ مستقبل کے معمار اور قوم و ملک کے اصل اثاثے ہیں، کو بھی بلوچستان کی سست اور کاہل عدالتی نظام نے رلا دیا ہے۔

جس طرح سب کو معلوم ہے کہ چند ماہ پہلے محکمہ تعلیم کی جانب سے آٹھ ہزار سے زائد خالی آسامیوں کا اعلان کیا گیا تھا اور ان آسامیوں پر بھرتی کے لئے سردار بہادر خاں وومن یونیورسٹی (ایس بی کے ) کو ٹیسٹ لینے اور شفافیت سے اہل اور قابل افراد کو ان آسامیوں پر تقرری کا اختیار دیا گیا تھا۔ ایس بی کے نے حتی الامکان شفاف طریقے سے ٹیسٹ لیا اور آنسر کیز (answer keys) کے ذریعے تمام افراد کو ان کی اہلیت اور نا اہلی کی خبر بھی دی گئی۔

تاہم نتیجہ حتمی فیصلے کی جانب روا دوا تھا کہ اچانک ایک ایسے شخص نے جس کا محکمہ تعلیم سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں، عدالت عدلیہ میں کیس دائر کر کے نتائج کو اس بنیاد پر رُکوا دیا کہ بہادر خان وومن یونیورسٹی نے میرٹ کو پامال کیا ہے۔

طلبہ میں مایوسی کی ایک لہر دوڑ گئی اور وہ جو برسوں سے خالی آسامیوں کا منتظر تھے اب اپنے آرڈرز کے لیے انتظار کی اذیتوں سے گزر رہیں ہیں۔
سوال یہ ہے کہ نتیجے سے پہلے میرٹ کی پامالی کا الزام کس طرح لگایا گیا؟

اگر وومن یونیورسٹی کی کارکردگی پر شک تھا تو اس وقت کیس دائر کر کے ایس بی کی بجائے کسی اور ادارے کو ٹیسٹ لینے کی ذمہ داری دینے کیلے کیونکر اقدامات نہیں کیے گئے جب شروع شروع میں یہ ذمہ داری وومن یونیورسٹی کی سپرد کردی گئی تھی۔

تیسرا اور اہم سوال یہ کہ اس شخص کا محکمہ تعلیم اور خصوصاً بالخصوص ان آسامیوں کے ساتھ کیا تعلق ہے کہ کیس دائر کر کے خود ایک سماعت پر بھی حاضر نہیں ہو پاتا۔ یقیناً دال میں کچھ کالا ہے۔

یوں کیس چلتا رہا، تاریخ پہ تاریخ آتے گئے مگر طلبہ تھے کہ ہمت حوصلہ اور صبر سے انتظار کیے جا رہے تھے۔

پچھلے دنوں 24 نومبر کو کیس کی آخری فیصلہ ہونا تھی جس میں سمیت ان مہربانوں کی شکست جن کا دست شفقت مقدمہ کرنے والے شخص کے سر پر ہے اور اُن منتظر، بے روزگار اور بے یارو مددگار طلبہ کی جیت پکی تھی کہ عدالت عدلیہ نے یہ کہہ کر کیس کی تاریخ دسمبر تک مزید ملتوی کردی کہ ان کی دلدادہ اور من پسند مدعی شخصیت، عدالت میں حاضر ہونے سے قاصر تھے۔

پاس طلبہ کی کسی وٹس۔ ایپ گروپ میں اس معاملے میں باتوں کو سن کر دل خون کے آنسوں روتا رہا جہاں عدالت عدلیہ اور نظامِ انصاف پر مشتعل طلبا مایوسی کا شکار دکھائی دیتے تھے۔
کہیں کسی کی روہانسی آواز آتی تو کہی کوئی بے روزگاری اور عدالت عدلیہ کی اس چوہا بلی کھیل کی وجہ سے خودکشی کو ہی آخری حل بتا رہا تھا۔
کسی نے روڈ بلاک کرنے کی مشورہ دیا تو کسی نے عدالت کے سامنے سخت احتجاجی مظاہرے اور دھرنے دینے کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے لوگوں کو مخاطب کیا۔

خدا جانے کہ کب کیا ہو مگر عدالت عدلیہ اور جج صاحبان نے ثابت کر دیا کہ یہ نظام عدلیہ اور انصاف کے نام پہ ایک دھبہ ہے جہاں میرٹ پر پاس ہونے والے چند طلبا بھی انصاف نہیں پا سکتے تو دوسرے امور کی تو بات ہی نہیں بنتی۔

تمام مشتعل طلبا کے اس مختصر پیغام کو پہنچاتے ہوئے عدالت عدلیہ، اعلی حکام اور محکمہ تعلیم کے وزرا سے گزارش کی جاتی ہے کہ وہ ان طلبا کو انصاف فراہم کرتے ہوئے میرٹ پر ان کی ایس بی کے کی جانب سے تیار نتیجے کا فوراً اعلان کیا جائے۔

عدالت عدلیہ کو چاہیے کہ صوبے میں رہی سہی انصاف کی جگہ (عدالت) پر سے لوگوں کا یقین اٹھ جانے سے پہلے انہیں ہر صورت میں فوری انصاف فراہم کریں اور پاکستان اور بالخصوص عدالتی نظام کو بدنامی و رسوائی سے بچائیں۔

Facebook Comments HS