کارونجھر : الرکھیو کھوسو کا ساتھ دیں
پارکر کی زمین پر محمود شاہ بیگڑے کے گھوڑے کے پاوٴں کے نشان ابھی تک موجود ہیں لیکن تاریخ کے اوراق میں بیگڑے سے مزاحمت کرنے والوں کے بہتے خون کے قطرے غائب ہیں۔ ننگرپارکر کی قتل گاہ میں قبضہ گیر کی تلوار آج بھی چمک رہی ہے اور بھوڈیسر کی مسجد کے احاطے میں موجد نو گزی اجتماعی قبروں میں مدفون مقامیوں کا کہیں اندراج ہی نہیں ہے۔ پارکر غداروں کی غداریوں اور وفاداروں کی وفاداریوں کے مختلف ادوار میں مختلف رنگ دیکھتا ہوا آیا ہے۔ کسی زمانے انگریز سرکار کے خلاف لڑنے والے گوریلوں کی پناہ گاہ بننے والے پہاڑ کارونجھر کو جب حفاظت کی ضرورت ہے تو اپنے اسی پہاڑ کے بلاوے پر آج بھی ہزاروں لوگ ننگرپارکر کے شہر میں جمع ہو جاتے ہیں اور سڑک، بازار، گلیاں لوگوں سے بھر جاتی ہیں۔ ان ہزاروں لوگوں میں سے ایک آدمی کا نام ہے الھرکیو کھوسو جس نے ہاتھ میں اس پہاڑ کو بچانے کے لیے لڑی جانے والی لڑائی کا علم اٹھایا رکھا ہے۔ ظالم اور طاقت ور سے لڑی جانے والی لڑائی کے دکھ، تکلیفیں اور صعوبتیں صرف علم دار ہی جانتا ہے لطیف کا شعر ہے :
لڑنا دوست سنبھالنا، یہ بہادروں کا شیوہ ہے
وہ گھمسان کی لڑائی میں فرق آنے نہیں دیتے
الھرکیو کھوسو ننگرپارکر میں کارونجھر کے تحفظ کی جنگ اپنے مقامی ساتھیوں کے ہمراہ ایک طویل مدت سے جاری رکھے ہوئے ہے۔ اپنے بے داغ کردار اور سچائی کے سبب وہ ملکی سطح پر پارکر واسیوں کا موقف کہ یہ پہاڑ معدنیات نہیں بلکہ ہمارا جیون ہے، تسلیم کرانے میں کامیاب ہوا ہے۔ یہ اس کے صاف ستھرے کردار اور اپنے موقف پر مضبوطی اور استقامت سے ڈٹے رہنے کا نتیجہ ہے کہ پورے ملک کے ماحول دوست اور فطرت آشنا لوگ کارونجھر پہاڑ کے ساتھ کھڑے ہو گئے ہیں اور پارکر واسیوں کی آواز کے ساتھ اپنی آواز ملا رہے ہیں۔
الھرکیو کھوسو سرمایہ داروں کی پہاڑ چرانے کی تمام کوششوں اور سازشوں کو اپنے ساتھیوں کی مدد سے ناکام کرتا ہوا آیا ہے۔ الھرکیو کھوسو جیسے لوگ، جن کے پاوٴں اپنی دھرتی پر جمے ہوئے ہیں، جانتے ہیں کہ مقامی آدمی ہر غاصب سے طاقتور ہے اور مقامی آدمی کی آواز اور پکار کی پراڈو بڑی دیر اور دور تک گونجتی رہتی ہے۔ عین ممکن ہے اس جدوجہد کے خلاف دھونس، دھاندلی اور دھمکیوں کا سلسلہ بھی شروع ہو لیکن الھرکیو کھوسو اور اس کے ساتھی گھبرانے والوں میں سے نہیں ہیں۔ ان کے نہ گھبرانے کا ایک سبب یہ بھی کہ وہ دھرتی کے بیٹے ہیں اور پورے سندھ کے باشعور لوگ اور ملک کے ماحول دوست انسان ان کے ہم نوا ہیں۔
تھرپارکر واسی دنیا کے وہ معتبر شہری ہیں جن کے گھر کے آنگن میں مور کھیلتے ہیں اور وہ اپنے علاقے میں جانوروں کا شکار نہیں کرنے دیتے۔ وہ لوگ جانوروں، پرندوں اور درختوں کے وطن کارونجھر پہاڑ کو بچانے کے لیے ایک لمبے عرصے سے بے ضمیر سرمایہ داروں سے جنگ لڑ رہے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اپنے پہاڑ، پرندوں اور جنگلی جیوت کے لیے نہیں بول سکتے تو پھر یہ زبان کس کام کی۔ یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ زمین زادوں سے سرمایہ دار زور زبردستی سے ان کا پہاڑ چھیننے کی کوشش کر رہا ہے اور جو دھرتی واس ہے اس کو اپنا پہاڑ بچانے کے لیے پلے کارڈ اٹھا کر احتجاج کرنا پڑ رہا ہے۔ ہائی کورٹ سندھ کے جسٹس شفیع صدیقی اور جسٹس ارشد حسین خان نے ایک ایسا تاریخی فیصلہ لکھا ہے جو کہ دھرتی ماں کا بیٹا ہی لکھ سکتا ہے اس فیصلے کا پہلا جملہ ہے۔
” کارونجھر نام سے کوئی بھی جگہ کھدائی کے لیے موجود نہیں ہے۔ یہ پہاڑ مائنز اور منرل ڈپارٹمنٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔“ ستم ظریفی دیکھیں سندھ حکومت اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں چلی گئی ہے۔ آپ سب لوگ اپنا اپنا کردار ادا کریں اور کارونجھر کے بچاؤ میں آواز اٹھائیں تو الھرکیو اور اس کے ساتھی سپریم کورٹ سے بھی یہ کیس جیت جائیں گے، اور کارونجھر جو سندھڑی کے ماتھے کا جھومر ہے، وہ دھرتی ماں کے ماتھے پہ ایسے ہی جرکتا رہے گا، اور اس پہاڑ پہ مور ہمیشہ بولتے رہیں گے۔
کارونجھر پہاڑ کا تعلق آرا ولی پہاڑی سلسلے سے ہے۔ لوک دانش اور سائنس دونوں اس پر متفق ہیں کہ یہ پہاڑ مشرق کو جاتے ہوئے بادلوں کا رخ شمال کی طرف موڑتا ہے۔ اس کی وجہ سے تھرپارکر سے روہی چولستان تک سانونی کی بارشیں ہوتی ہیں۔ ہمارے ہاں سانونی کا وسیلہ یہ پہاڑ ہے ورنہ ہماری بارشیں روٹھ جائیں گی اور تھرپارکر سے چولستان تک قحط ہی قحط ہو گا۔ یہ کون سا حرص ہے، یہ کون سی لالچ ہے جو پورے خطے سے سانونی کی بارشیں چھین کر اسے ویران کر رہی ہے۔ ہمارے ہاں کوئلے کی تباہ کاریاں پہلے ہی جاری ہیں اور وہ لوگ اب اس پہاڑ کے پیچھے پڑ گئے ہیں، جس پہاڑ سے پورے خطے کا ایکو سسٹم جُڑا ہوا ہے، جس پہاڑ سے ہمارے صحرا کا سُکار جُڑا ہوا ہے۔ اس ستم کے خلاف یہ مارُو لوگ کس کے پاس جا کر فریاد کریں۔
جن کا سہارا تھا وہ لوگ ڈاکو بن گئے
اب یہ مارو لوگ کس کے پاس جائیں
منتخب نمائندوں کو عوام کے اس زندگی اور موت سے وابستہ معاملے میں آگے آ کر کھل کر بات کرنی چاہیے اور اس سلسلے میں ہونے والے عوامی احتجاجوں کو لیڈ کرنا چاہیے۔ اگر آپ ایسا نہیں کر سکتے، الھرکیو کھوسو اور اس کے ساتھیوں کا ساتھ نہیں دے سکتے، اپنی دھرتی واسیوں کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف ان کے ساتھ کھڑے نہیں ہو سکتے، ایک پورے خطے کی دربدری کے خلاف احتجاج نہیں کر سکتے تو کم سے کم شیر شاہ کے شکرے تو نہ بنیں، ان لوگوں پہ دباؤ تو نہ ڈالیں، ان کی فریاد کا رستہ تو نہ روکیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ کل جب آپ الیکشن مہم پہ نکلیں تو یہ لوگ آپ کو کوئی مشکل بات بول دیں۔


