کراچی آتشزدگی: ہم صرف خواب ہی دیکھ سکتے ہیں
انتہائی افسوس ناک خبر کراچی میں گلستان جوہر کے علاقے میں واقع شاپنگ مال میں آتشزدگی کے نتیجے میں گیارہ قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں ہیں چالیس افراد زخمی ہوئے ہیں۔ کروڑوں روپے کا سامان جل گیا ہے۔ عمارت بھی تباہ ہو گئی۔ مالی نقصان کی تو خیر ہے جیسے تیسے پورا ہو جائے گا مگر جو افراد دنیا سے چلے گئے وہ تو کبھی واپس نہیں آ سکتے۔ کہنے کو تو صرف گیارہ افراد جان کی بازی ہارے مگر وہ جن گھرانوں کے چشم و چراغ تھے وہ تا حیات اندھیرے میں ڈوب گئے۔
شہریوں کے ذہنوں سے اس واقعے کی یاد محو نہیں ہو گی کہ ایسا ہی دوسرا واقعہ رونما ہو جائے گا۔ مرنے والوں کے لواحقین روتے پیٹتے رہ جائیں گے اور ارباب اختیار بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کے ٹیکسوں کے پیسے پے پھر سے اپنے اہل و عیال کے ساتھ عیاشیوں میں مگن ہو جائیں گے۔ ہمارے ارباب اختیار عوام کے زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکتے تو بس ایک احسان ہی کر دیا کریں کہ زخموں سے چور عوام کے زخموں پر اپنے بیانات سے نمک نا چھڑکا کریں۔
اب کراچی کے میئر بالجبر مرتضیٰ وہاب کی سنیں موصوف جائے حادثہ پر فرما رہے تھے کہ یہ علاقہ کے ایم سی اور کے ڈی اے کی حدود میں نہیں ہے یہ کنٹونمنٹ کی حدود ہیں اس کا عملہ کیوں نہیں پہنچا؟ کسی نے انہیں یہ نہیں بتایا کہ جناب والا آپ ڈیفینس کے رہائشی ہیں اور ابراہیم حیدری کے علاقے سے بلدیاتی انتخاب میں قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے زبردستی شہر کے میئر بن بیٹھے ہیں اس وقت آپ کو علاقائی حدود کا خیال نا آیا کام کرنا پڑا تو علاقائی حدود یاد آ گئیں۔
کمشنر کراچی کی سنیں۔ فرما رہے تھے کہ عمارت میں خارجی راستہ اور فائر الارم سسٹم موجود نہیں تھا۔ کوئی ان سے پوچھے کہ حضور آپ کیا کوہ قاف سے تشریف لائے ہیں؟ آپ کو نہیں پتا کہ یہاں کس طرح عمارات کے نقشے منظور ہوتے ہیں؟ کیا آپ کو شہر کی چھوٹی بڑی رہائشی اور تجارتی عمارتوں کی حالت زار نہیں پتا؟ شہر میں ایسے واقعات معمول ہیں پھر بھی آپ کی طرف سے ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے اقدامات نہیں کیے جاتے۔ آپ کا کام تو بس ہر غیر قانونی کام کی سرپرستی کرنا اور اپنا حصہ بقدر جثہ وصول کرنا ہے۔ حادثہ ہو تو اللہ جانے اور مرنے والا جانے۔ یعنی آپ کا کام پورا بھاڑ میں جائے نورا۔
نگران وزیر اعلیٰ بھی بیان دینے میں کسی سے پیچھے نہیں رہے۔ انہوں نے بھی تجارتی اور سرکاری اداروں میں حفاظتی انتظامات کی عدم موجودگی پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ صرف اظہار برہمی کافی نہیں ہے انہیں سمجھنا چاہیے کہ ان گیارہ ہلاکتوں اور چالیس زخمیوں کی ذمہ داری ان پر بھی عائد ہوتی ہے۔ وہ اس صوبے کی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہے ہیں۔ عدالت عوام کے جان و مال اور حقوق کی محافظ اور ضامن ہوتی ہے۔ جب وہ۔ چیف جسٹس تھے تو کیا کبھی اس شہر میں ایسے واقعات نہیں ہوئے تھے؟
انہوں نے کبھی اس مجرمانہ غفلت کا نوٹس نہیں لیا تھا یا ان کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنے کے احکامات نہیں دیے تھے؟ اگر ارباب اختیار میں سے کسی ایک نے بھی ان حادثات کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے ہوتے یا عوام کی جان و مال کی کوئی وقعت سمجھی ہوتی تو آج یہ گیارہ ہلاک شدگان بھی اپنے پیاروں کے ساتھ موجود ہوتے۔
ٹیلے وژن چینلز سارا دن آتشزدگی کے مناظر دکھاتے رہے۔ عمارت سے بلند ہوتے شعلے فائر انجن اور ایمبولنس کے چیختے سائرن اسٹریچر پر نکلتی سوختہ لاشیں اور زخمی لواحقین کی آہ و بکا یہ قیامت کے مناظر تھے جو دیکھنے والوں کے کلیجے چھلنی کر رہے تھے۔ یہ قیامت کا منظر دیکھتے دیکھتے رات ہو گئی آگ اور پھیل گئی آگ نے ایک اور عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ارے یہ تو کے ایم سی کی عمارت ہے۔ کراچی کے تمام بلدیاتی اداروں کے حکام یہاں جمع ہیں عمارت چاروں طرف سے شعلوں میں گھری ہے پھر اچانک فائر انجن اور ایمبولنس چیختی چنگھاڑتی نمودار ہوتی ہیں۔
پھر فائر انجن آگ بجھاتے ہیں رضا کار اسٹریچر لے کر اندر جاتے ہیں تھوڑی دیر میں سفید چادروں سے ڈھکی لاشیں باہر آنا شروع ہوتی ہیں۔ لواحقین دیوانہ وار اپنے پیاروں کو ڈھونڈ رہے ہیں مگر لاشوں کی کوئی پہچان نہیں سب ایک سی سوختہ لاشیں ہیں کوئی زندہ نہیں بچا وہی قیامت کا منظر ہے۔ اچانک تیز ہوا چلتی ہے بجھتی ہو کئی آگ سے ایک چنگاری اڑتی ہے اور ایک دوسری عمارت پر جا گرتی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ عمارت بھی شعلوں میں گھرنے لگتی ہے۔
عمارت جانی پہچانی ہے۔ اوہ خدایا یہ تو صوبائی اسمبلی کی عمارت ہے۔ اس وقت تو اس میں اسمبلی کا اجلاس چل رہا ہے پورے صوبے کے عوامی نمائندے یہاں موجود ہیں شعلے آسمان تک بلند ہو رہے ہیں چاروں طرف دھواں پھیل رہا ہے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے اندر جتنے افراد ہیں وہ ایک ایک کر کے مر رہے ہیں۔ کسی کا دم دھواں گھٹ رہا ہے تو کسی کو شعلے جھلسا رہے ہیں۔ مرنے والے بے بسی سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہیں۔ ایک دوسرے کو مدد کے لئے پکار رہے ہیں مگر ان کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہیں۔
ان کے لواحقین میں سے کوئی دوسرے شہر میں ہے تو کوئی دوسرے ملک میں۔ وہ سب اپنے ٹھنڈے کمروں میں محو استراحت ہیں اور ان کو خبر ہی نہیں کہ ان کے پیارے کس جہنم میں جل رہے ہیں۔ پھر وہی قیامت کا منظر ہے۔ ہر طرف چیخ و پکار ہے۔ دل سے بس ایک ہی صدا نکل رہی ہے یا اللہ مدد یا اللہ رحم۔ پھر اللہ کی مدد آ پہنچی۔ منظر بدل گیا۔ شعلے ٹھنڈے پڑ چکے تھے۔ ہر طرف ایک افسردہ خاموشی تھی۔ نیا دن طلوع ہو چکا تھا۔ اللہ کا شکر ادا کیا کہ جو کچھ دیکھا وہ ایک خواب تھا۔
حقیقت یہ تھی کہ رزق حلال کمانے والے اپنے اللہ کے حضور پیش ہو چکے تھے اور رزق حرام کے متمنی تیار ہو کر اپنے دفتروں کی جانب رواں دواں تھے کمشنر کراچی نے ایک کام تو کیا کہ انکوائری کمیٹی بنا دی ہے جس کا کوئی فائدہ لواحقین کو نہیں ہونے والا بہتر ہوتا کہ وہ ایک بچت کمیٹی بنا کر لواحقین کی مالی امداد کر دیتے تاکہ ان کے آنسو پونچھتے۔ میں سوچ رہی تھی کہ ہم مجبور بے بس اور لاچار عوام کر بھی کیا سکتے ہیں؟ ہم صرف خواب ہی دیکھ سکتے ہیں۔

