ظالم کی حمایت: پردہ لطف میں یہ ظلم و ستم کیا کہیے


سترہویں صدی کے وسط میں، مغربی ریاستوں میں ویسٹ فیلیا معاہدہ ہوا جس کی رو سے‘ جدید مغربی ریاست کی داغ بیل ڈالی گئی اور ’بنیادی اصول‘ وضع کیے گئے۔ مغربی ریاستوں نے پہلی بار یہ تسلیم کیا کہ وہ آئندہ ایک دوسرے کی ’علاقائی وحدت اور جغرافیائی سرحدوں کا احترام عملاً یقینی بنائیں گے۔ سادہ الفاظ میں ریاست چھوٹی ہو یا بڑی، کمزور ہو یا طاقتور، امیر ہو یا غریب اپنے مخصوص علاقے میں مکمل خود مختار اور آزاد‘ ہوگی اور کوئی دوسری ریاست جنگ کے ذریعے اس کے علاقوں پر قبضہ نہیں کرے گی۔ مغرب کے سیاسی تصورات، ریاست اور جمہوریت کا مدفن سرزمین فلسطین بننے جا رہی ہے۔ کیونکہ یہ دونوں نظریات صرف اپنے لیے ہیں مسلم فلسطینی ہوں یا کشمیری ان کے لیے نہیں۔

مغرب زندہ رہنے اور جستجو کرنے میں ہی اپنی بقا سمجھتا ہے اسی لیے وہ ہمیشہ اپنے معاشی مفاد کو نظریے پر فوقیت دیتا ہے۔ اس کے مقابلے میں فلسطینی فنا کے لیے تیار ہیں لیکن اپنے نظریات اور تصورات ترک کرنے کے لیے نہیں۔ وہ مادی زندگی سے زیادہ اپنے نظریات کو قیمتی سمجھتے ہیں۔ اسی لیے غیور فلسطینی اپنے خون سے تاریخ لکھ رہے ہیں۔

فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے تین نقطہ ہائے نظر ہیں۔

1۔ ایک ریاستی حل کا پہلا فارمولا: آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام فلسطینیوں کا آفاقی اور عالمی قوانین کے تحت قانونی حق ہے جسے اصولاً تسلیم کیا جانا چاہیے۔ اسرائیل کے قیام کے لیے فلسطینیوں کی زمین پر قبضہ کر کے دنیا بھر سے یہودی لا کر بسائے گئے۔ اگر عالمی ضمیر نام کی کوئی چیز ہوتی تو اس کا بہترین حل ایک ریاستی (فلسطین) ہے کیونکہ بنیادی طور پر اسرائیل ریاست نہیں بلکہ ایک ناجائز قبضہ ہے جسے دنیا نے جواز بخشا ہے۔

2۔ ایک ریاستی حل کا دوسرا فارمولا: دوسرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ اسرائیل دو ریاستی حل نہیں مانتا تو پھر ایک ریاستی حل ایسا ہو کہ فلسطینی اسرائیل کے ساتھ مل کر رہیں۔ ایسے وقت میں جب فلسطینیوں پر قیامت ٹوٹی ہوئی ہے، اسرائیلی خواہشات کے مطابق ایک ریاستی حل کی تجویز صدر مملکت عارف علوی نے پاکستانی ریاست کے دیرینہ موقف کو پامال کرتے ہوئے دی ہے۔ معاملے کی سنگینی کے باعث دفتر خارجہ کو اس سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے او آئی سی اور اقوام متحدہ کو بھی آگاہ کرنا پڑا کہ صدر کا بیان ہماری پالیسی نہیں۔

صدر نے یہ تجویز نادانستگی میں نہیں بلکہ بقائمی ہوش و حواس دی، جو ان کے الفاظ سے عیاں ہے کہ ”اگر اسرائیل کو دو ریاستی حل پسند نہیں تو پھر ایک ریاستی حل نکال لینا چاہیے جہاں سب مل کر رہیں“ ۔

صدر کی مجوزہ ”ایک ریاست“ سے مراد اسرائیل ہے۔ ”عیاں را چہ بیاں“ کے مصداق یہ تجویز اسرائیلی خواہشات کی آئینہ دار ہے۔ کہ زمین کے اصل وارث فلسطینی اپنے حق سے دستبردار ہو کر اسرائیل کے شہری بن جائیں۔ ایک عرصے سے محب وطن حلقے یہ کہتے رہے ہیں کہ تحریک انصاف عالمی اسٹیبلشمنٹ کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے۔ ریاست کا موقف دو ریاستی حل ہے اگر صدر ریاستی پالیسی کے خلاف اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں تو انہیں صدارتی منصب چھوڑ دینا چاہیے۔ براؤن یونیورسٹی کے ہولوکاسٹ اور نسل کشی سے متعلق انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر عمر برتوف کے بقول موجودہ صورت حال میں ایک ریاستی حل پاگل پن لگتا ہے۔ مسلسل تشدد اسرائیلی معاشرے سے جمہوریت کے خاتمے اور آمرانہ اور نسل پرستانہ عناصر کے ابھرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

3۔ دو ریاستی حل: اسرائیل کے قیام سے ایک سال قبل 1947 میں اقوام متحدہ نے ایک قرارداد کے ذریعے فیصلہ دیا کہ فلسطین میں دو ریاستیں قائم ہوں گی ایک یہودی اور ایک عرب۔ اسرائیل اور اس کے پشت پناہ ممالک کے رویے سے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا خواب دھندلا گیا تو امریکی اور یورپی سکالرز نے دو ریاستی حل کی تجویز آگے بڑھائی۔ کہنے کو اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو بھی ماضی میں کہا کرتے تھے، کہ وہ دو ریاستی حل پر یقین رکھتے ہیں اوسلو، کیمپ ڈیوڈ معاہدات اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، اسرائیلی رویے کے باعث ممکن نہ ہو سکا۔ سعودی شاہ عبداللہ ’امن منصوبے میں اسرائیل کے لیے ایک شرط کے ساتھ علیحدہ آزاد ریاست کی حیثیت کی بات کی گئی کہ‘ یروشلم ’کی حیثیت کیتھولک عیسائی دنیا کے مرکز کی طرح ہو، لیکن اسرائیل نے اس امن منصوبے کو بھی مسترد کر دیا تو دو ریاستی حل سے فلسطینیوں کا اعتماد ختم ہو گیا۔

اب دو تہائی فلسطینی سمجھتے ہیں کہ دو ریاستی حل ناقابل عمل ہو چکا ہے۔ الفتح کی ناکامی پر حماس نے اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اسرائیلی حکومت کا مطالبہ ہے کہ فلسطینی پہلے اسرائیل کو ایک یہودی ریاست تسلیم کریں۔ اگر فلسطینی ایسا کرتے ہیں تو ان کا یہ موقف کمزور پڑتا ہے کہ اسرائیل کے قیام کے وقت بے دخل ہونے والے فلسطینیوں کو واپس آنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ دو ریاستی حل میں سب سے بڑی قباحت یہ ہے کہ اسرائیل جیسی ایٹمی طاقت کے مقابلے میں ایک میونسپلٹی سے بھی کمزور فلسطینی ریاست کو اسرائیلی جارحیت سے کیسے بچایا جاسکتا ہے۔

دو ریاستی حل کی حمایت کا خاتمہ اسرائیل کی جارحیت اور عالمی طاقتوں کے نا انصافی پر مبنی فیصلوں سے ہوا۔ بش حکومت کی وزیر خارجہ کونڈا لیزا رائس رملہ کے دورے پر آئیں تو انہیں یاد دلایا گیا کہ فلسطینی اسرائیل کے 78 فیصد سرزمین کی واپسی کو اپنا جائز حق تسلیم کرتے ہوئے دو ریاستی حل قبول کر لیں گے تو انہوں نے جو اباً کہا کہ ”78 فیصد بھول جائیں، اس وقت گفتگو بقیہ 22 فیصد پر ہو رہی ہے“ ۔ یعنی فلسطینیوں کو اپنی مزید سرزمین سے دستبرداری کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اخلاقیات کا جنازہ نکالتے ہوئے ایک فتنہ کی بنیاد رکھی کہ یروشلم کی متنازعہ حیثیت کے باوجود اس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا اور سفارت خانہ بھی تل ابیب سے یروشلم منتقل کیا۔ ایک خود مختار، فلسطینی ریاست جس کا دارالحکومت یروشلم ہو، عیسائیوں اور یہودیوں کے لئے بھی بیت المقدس کے دروازے کھلے ہوں تو پھر دو پرامن ریاستوں کے قیام کی ضمانت دی جا سکتی ہے۔ یہی وہ حل ہے جو شاہ عبداللہ نے پیش کیا تھا لیکن اسرائیل نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

حماس کے حملوں نے مغرب کے نام نہاد جمہوری اور اسلامی ملکوں کے چہروں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ایک طرف مزاحمت ہے اور دوسری طرف ظلم و جبر ہے۔ قابض کی موجودگی میں کسی چھوٹے سے گھر میں امن قائم نہیں ہو سکتا تو مسلمانوں کے قبلہ اول پر یہودی قبضے میں کس طرح امن قائم ہو سکتا ہے۔ جمہوریت کی عمارت ’ایک انسان ایک ووٹ‘ کے اصول پر کھڑی ہے۔ اسرائیل چونکہ فلسطین کے مقبوضہ علاقوں پر مشتمل ریاست ہے اور آج بھی فلسطینیوں اور عربوں کی ایک کثیر تعداد وہاں آباد ہے۔ اسرائیل اونچی دیواریں کھڑی کر کے فلسطین کے قابض علاقوں کی تقسیم اس طرح سے کیے ہوئے ہے کہ اس کی مصنوعی اکثریت قائم رہے۔

مغرب اس جارحانہ ریاست کے پیچھے کھڑا ہے جو کسی قانون کو خاطر میں نہیں لاتی۔ کوئی پتھر پھینکے تو اس کا جواب وہ بستیاں اجاڑ کر اور انہیں کھنڈروں میں تبدیل کر کے دیتا ہے۔ مغربی عوام میں اسرائیل کے جارحانہ اقدامات کے خلاف شدید ردعمل ہے۔ جس کا ثبوت حالیہ مظاہرے ہیں مغرب کا میڈیا چاہے جتنی جانبداری کر لے لیکن فلسطینیوں کا خون پکار پکار کر اسرائیلیوں کے ظلم کی داستان سنا ریا ہے۔ ایسے ظالم کی حمایت مظلوموں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔

پردہ لطف میں یہ ظلم و ستم کیا کہیے
ہائے ظالم ترا انداز کرم کیا کہیے

حالیہ جنگ میں 20 ہزار فلسطینی مرد و زن اور بچے شہید ہو چکے۔ ان میں 5 ہزار سے زائد بچوں کی عمریں ایک دن سے 5 سال کے درمیان ہیں۔ اسرائیلی بربریت کے ان شرمناک مظاہروں کو جمہوریت اور انسانی حقوق کے ”پاسدار“ ممالک نے نہ صرف درست قرار دیا بلکہ صدر جو بائیڈن نے ہسپتالوں پر حملوں کے متعلق کہا کہ اسرائیل کو دفاعی حق حاصل ہے کہ وہ ہر اس خطرے کا نشان مٹا دے جو مستقبل میں اس پر منڈلا سکے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اسرائیل فلسطین تنازع فلسطینیوں کو قومی خودمختاری اور ریاستی شناخت سے محروم کرنے کا نتیجہ ہے۔

Facebook Comments HS