عبداللہ حسین اور آج کا ڈیلیما ( حصہ اول )


چار پانچ سال پہلے جب اچانک دل کا معاملہ سامنے آیا تھا اور صورتحال غیر یقینی اور ان جانی بن گئی تھی تو جن تازہ فوت شدہ متعلق انسانوں کے بارے میں لکھنا باقی رہ گیا تھا اور جس کا ملال اس حالت میں زندگی کا واحد ملال تھا، ان میں سے ایک نام عبداللہ حسین کا تھا۔ وہ تو خیر گزری، دل کی بند شریانیں بغیر کسی بڑے تردد کے تائید ایزدی کے توسل سے رواں ہو گئیں۔ مگر برا یہ ہوا کہ وہ ملال بھی طاق نسیاں پر دھرے کا دھرا رہ گیا۔

عبداللہ حسین کا اداس نسلیں آج بھی میری نظر میں اردو کا سب سے بڑا ناول ہے۔ حالانکہ بعد میں چند اور بڑے، مشہور اور نقادوں کے پسندیدہ ناول پڑھنے کا موقع ملا۔ مگر میری اوائل عمری کی وہ رائے برقرار رہی۔ پچھلے دنوں ”نادار لوگ“ پڑھ کر فارغ ہوا تو ایک بار پھر اردو کے اس سب سے بڑے ناول نگار کے بارے میں لکھنے کی تڑپ دل میں جاگی۔ اس کا قصہ بھی دلچسپ ہے۔ مہینوں یہ ناول موبائل میں پڑا رہا۔ پڑھنا شروع کیا مگر تسلسل نہ بن سکا۔

پھر کہانی بڑھتے بڑھتے وہاں آ پہنچی ( اور اتفاقاً سوشل میڈیا سے فراغت بھی میسر آ گئی ) کہ اسے چھوڑنا ممکن نہ رہا۔ پھر کیا سوشل میڈیا اور کیا روز مرہ کی روٹین، کچھ بھی آڑے نہ آیا، لگا حالات حاضرہ کی ہی بات ہو رہی ہے۔ عبداللہ حسین نے یہ ناول ضیاء دور کے اختتام کے بعد لکھنا شروع کیا اور مشرف دور سے قبل مکمل کر لیا۔ یہی وہ دور تھا جب ملٹری اسٹبلشمنٹ کے حسن و قبح پر کسی حد تک گفتگو کی جا سکتی تھی۔ ویسے تو ناول پہلی جنگ عظیم سے شروع ہوتا ہے اور دیہات کا ماحول، کسانوں کے شب و روز، جنگ کا ذکر پڑھ کر لگتا ہے کہیں اداس نسلیں دوہرا یا تو نہیں جا رہا مگر جلد ہی کہانی لمبے ڈگ بھرتی ہوئی تقسیم ہندوستان تک جا پہنچتی ہے۔ یہاں سے آگے کہانی نے مجھے اپنے سحر میں ایسا جکڑا کہ جب جب وقت ملا میں نے نکال کے اسے پڑھنا شروع کر دیا۔ شروع میں سرفراز کا ذکر زیادہ ہے اور وہ مرکزی کردار لگنے لگتا ہے۔ اعجاز کی حیثیت ثانوی سی لگتی ہے مگر جوں جوں کہانی آگے بڑھتی ہے اعجاز حاوی ہوتا چلا جاتا ہے۔

اعجاز اسی بیماری میں مبتلا ہے جو ہمارے ہاں اکثر متوسط طبقے کے پڑھے لکھے لوگوں کو لاحق ہو جاتی ہے یعنی وہ سماج سدھار کا غم پال لیتے ہیں۔ سچ کی تلاش اور غلط کو غلط کہنے کی ہمت کر بیٹھتے ہیں۔ ان کے اندر ظلم اور نا انصافی کو دیکھ کر ایک لاوا پکنے لگتا ہے جو وقت بے وقت بہہ نکلتا ہے۔ اعجاز اس بیماری کی وجہ سے پہلے ایوبی مارشل لا کے دوران معلمی کی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ اور پھر جب ٹریڈ یونین کے دھندے میں پڑ کر دن رات ایک کر کے ایک نام بناتا ہے، نئی بننے والی پیپلز پارٹی کی بے لوث انتخابی مہم چلاتا ہے۔ اپنے لیڈر کے گن گاتا ہے اور اس کے جلسوں سے سرشار ہو کر اپنے خوابوں کی تعبیر اس سے وابستہ کر لیتا ہے تو اسے ایک اور جھٹکا لگتا ہے۔ الیکشن جیتنے کے بعد اس کی محبوب پارٹی ایک باغیانہ تقریر کی پاداش میں اسے دفتر سے بے دخل کر کے کھڈے لائن لگا دیتی ہے۔

اس سارے عرصے میں سرفراز جو ایک اچھا طالب علم اور بڑے بھائی کی امیدوں کا محور ہے فوج میں کمیشن حاصل کر کے لیفٹیننٹ سے کیپٹن اور کیپٹن سے میجر بن کر، مشرقی پاکستان کے محاذ پر خجل خوار ہو کر، جنگی قیدی بن کر، بھارت کی جیلوں میں وقت گزار کر واپس آ چکا ہوتا ہے۔ قید کے دوران سرفراز کے اپنی منگیتر کو پین کی الٹی سائیڈ سے لکھے گئے خط خاصے کی چیز ہیں۔ تین قیدیوں کا انڈر ویئر میں چھپا کر لائے گئے ابلے ہوئے انڈے کا ڈنر جسے سرفراز نے اپنے خط میں سات کورس کا ڈنر لکھا، صبح و شام پتلی ریتلی دال کھانے والے قیدی افسروں کی نفسیاتی اور جذباتی کیفیات کی عمدہ عکاسی کرتا ہے۔

سرفراز کے اندر بھی لامحالہ بڑے بھائی کے جراثیم موجود ہیں۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد ایک لاوا اس کے اندر بھی پک رہا ہے۔ یہاں اعجاز کی اس باغیانہ تقریر کی ایک جھلک ملاحظہ کریں جو پارٹی کی الیکشن میں شاندار کامیابی کے باوجود عوامی مسائل سے عدم توجہی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی فرسٹریشن اور سوسائٹی کے دوغلے پن کی عکاس ہے۔

”۔ اب میں اپنے علاقے کی جانی پہچانی شخصیت، عظیم مزدور لیڈر، پاسبان انسانیت، ملک محمد اعجاز اعوان سے، جو خاص طور سے ہماری دعوت پر آپ سب کو اڈریس کرنے کے لیے تشریف لائے ہیں، درخواست کرتا ہوں کہ آئیں اور آپ سے باتیں کریں“ ۔ اس نے ہاتھ اٹھا کر نعرہ لگوایا۔ ”ملک اعجاز اعوان۔“ ”زندہ باد“ لوگوں نے جواب دیا۔ کچھ تالیاں بجیں، ایک دو مزید نعرے لگے۔ اعجاز نے اٹھ کر مائیکرو فون کی چابی ڈھیلی کی اور اسے اپنے قد کے برابر اٹھا کر چابی کس دی۔

پھر اس نے ہاتھ اٹھا کر لوگوں کو خاموش ہونے کا اشارہ کیا۔ ”میں آج کوئی لمبی چوڑی تقریر کرنے نہیں آیا۔ صرف، اور صرف،“ اعجاز نے دو انگلیاں ہوا میں اٹھائیں، ”دو باتیں کہنے آیا ہوں۔ مگر یہ باتیں کہنے سے پہلے ایک چھوٹا سا واقعہ بیان کرنا چاہتا ہوں۔ ابھی میں نہایت عزیز دوست کے گھر سے تعزیت کر کے واپس آیا ہوں۔ راستے میں میں نے دیکھا کہ ایک علاقے میں آٹا دکانوں سے غائب ہو گیا ہے“ ۔

” ایک نہیں ملک صاب،“ مجمعے میں سے ایک آدمی چلا کر بولا، ”سارے علاقوں میں ختم ہو گیا ہے“ ۔

” وہاں پر،“ اعجاز نے اپنی بات جاری رکھی ”دکان کے سیدھے دروازے کے آگے لوگوں کی لمبی قطار لگی تھی، جو خالی ہاتھ دھکم پیل کر رہے تھے، حالانکہ دکان کا دروازہ بند تھا۔ جب میں الٹی طرف سے گزرا تو دیکھتا ہوں کہ کچھ لوگ پچھلے دروازے کے راستے ایک ایک کر کے داخل ہو رہے ہیں اور آٹے کے تھیلے لے لے کر نکل رہے ہیں۔ میں آپ سے ایک سوال پوچھتا ہوں۔ سیدھے دروازے کے آگے دھکم پیل کرنے والے لوگ کون تھے؟“

” عوام تھے“ مجمعے سے دو تین آوازیں آئیں۔ ”یہ عوام تھے“ ۔

” اوں ہوں،“ اعجاز نے نفی میں سر ہلایا اور ساتھ ہی اپنی دائیں انگلی ہلائی۔ ”یہ لوگ عوام نہیں تھے۔ آپ پوچھیں گے کہ عوام نہیں تھے تو پھر کون تھے؟ میں کہتا ہوں کہ یہ عوام نہیں تھے“ ۔

ڈھائی سو آدمی بے سمجھی سے منہ اٹھائے خاموش بیٹھے تھے۔

” میں آپ کو بتاتا ہوں کہ کیوں یہ لوگ عوام نہیں تھے۔ پچیس سال ہو گئے ہیں، ہم سن رہے ہیں کہ عوام کے لیے یہ ہو رہا ہے اور عوام کے لیے وہ ہو رہا ہے۔ جو بھی حاکم آتا ہے یہی رٹ لگاتا ہے کہ ہم عوام کی بھلائی کے لیے آئے ہیں۔ اب دیکھیے کہ ان پچیس سالوں میں بھلائی کس کی ہوئی ہے۔ بھلائی ہوئی ہے امیروں اور کبیروں کی، افسروں اور جاگیرداروں کی، نفع خوروں اور رسہ گیروں کی، بلیکیوں اور سمگلروں کی، بدعنوانوں اور رشوتیوں کی۔ ان سب کی بھلائی ہوئی ہے۔ تو پھر آپ مجھے بتاؤ کہ عوام کون ہوئے؟“ ۔

اب لوگوں کو اعجاز کی الٹی منطق کی کچھ کچھ سمجھ آنی شروع ہو رہی تھی۔
” امیر اور کبیر لوگ،“ ایک آواز آئی۔
” ہاں ہاں،“ دوسری آواز اٹھی ”امیر اور رسہ گیر“ ۔
” مل مالک،“ تیسرے آدمی نے جھجکتے ہوئے کہا۔

” درست،“ اعجاز انگلی اٹھا کر بولا۔ ”آپ کی بات سو فیصدی درست ہے۔ حکومتیں جھوٹ نہیں بولا کرتیں۔ حکومتوں نے ان لوگوں کا نام عوام رکھ دیا ہے اور پچیس سال تک ان کا فائدہ کرتی رہی ہیں۔ دکان کے سامنے خالی ہاتھ قطار میں کھڑے لوگ عوام نہیں ہیں۔ عوام وہ ہیں جو پچھلے دروازے سے سفارشی پرچیاں لے کر آٹا لے جا رہے ہیں۔ حکومتوں نے عوام کے نام اور پتے بدل دیے ہیں، اور ہمیں ابھی تک پتہ ہی نہیں چلا۔ “ میرے بھائیو، ، یہ دکانوں کے سامنے دھکے کھانے والے لوگ عوام نہیں، یہ تو غریب لوگ ہیں ”۔

یکا یک اعجاز کے سامنے بیٹھے ہوئے لوگوں میں بھنبھناہٹ کا شور اٹھا، گویا مجمع جاگ اٹھا ہو۔ درمیان سے ایک آدمی اٹھ کھڑا ہوا۔

” عوام“ اس نے نعرہ لگایا۔
” نا منظور“ لوگوں نے جواب دیا۔
” غریب لوگ“ ۔
” منظور“ ۔

” آج سے،“ اعجاز نے ہاتھ بلند کر کے انھیں چپ کرایا۔ ”آج سے ہمارا مطالبہ ہے کہ کوئی حکومت اور کوئی لیڈر“ عوام ”کا لفظ استعمال نہ کرے۔ یہ دھوکہ دہی کا لفظ ہے“ ۔

اب مجمع پوری طرح سے اعجاز کے خیال کی رو میں شامل ہو چکا تھا۔ دو چار آدمی کھڑے ہو کر نعرے لگوانے لگے۔ ان میں سے ایک ایک بولتا، اور مجمع جواب دیتا جاتا

” عوام کون“ ۔
” امیر کبیر“ ۔
” عوام کون“ ۔
” رسہ گیر“ ۔
” عوام کون“ ۔
” رشوت خور“ ۔
” عوام کون“ ۔
( نادار لوگ از عبداللہ حسین۔ صفحہ 469 تا 471 )

پارٹی نے چونکہ ”عوام“ کے نام پر ووٹ لیا تھا اس لیے بظاہر چھوٹے سے مجمعے میں کی جانے والی اس تقریر کی بازگشت بہت اوپر تک پہنچی اور اعجاز کو خمیازہ بھگتنا پڑا۔

اعجاز میں اگر عقل کی رمق ہوتی تو وہ ان دو جھٹکوں کے بعد ”راہ راست“ پر آ جاتا، زمینداری پر توجہ مبذول کرتا اور گاؤں میں پہلے سے بنے ہوئے اپنے ٹہکے سے لطف اندوز ہوتا، بیوی بچوں میں وقت گزارتا مگر یہ بیماری اتنی جلدی جان چھوڑنے والی نہیں تھی۔ پارٹی نے پیچھا چھڑانے کے لیے صحافت کے میدان میں طبع آزمائی کرنے کا مفت مشورہ دے کر اسے فارغ کیا تو وہ سچ مچ اس میدان میں کود پڑا۔ یہاں بھی چھوٹتے ہی اس کے عاقبت نا اندیش ایڈیٹر نے اسے اور خود کو ایک صنعت کار سے بھڑا دیا۔

ناقص گھی کا سکینڈل منظر عام پر لا کر اعجاز نے اپنے دل سے اٹھنے والی ”فرض کی پکار“ پر لبیک تو کہا اور ہر طرف اس کی واہ واہ بھی ہوئی مگر نوزائیدہ ہفت روزہ اور اس کا جذباتی اور کنگال مالک مقدمے بازی کی دلدل میں دھنس گئے۔ پہلے تو اعجاز کی حوصلہ مندی اور ایک مفت کے قابل وکیل کی معاونت سے مقدمہ ان کے حق میں جاتا دکھائی دیا مگر صنعتکاروں کے ہاتھ لمبے تھے۔ انھوں نے جج کو قابو کر لیا اور شہادتوں کو غائب کر کے مرضی کا فیصلہ لکھوا لیا۔ ایڈیٹر اس صدمے کی تاب نہ لا سکا اور دل کے دورے سے چل بسا۔ اعجاز کے لیے یہ ایک اور جھٹکا تھا۔ اس نے تو نیک نیتی سے ناقص گھی کی شکل میں عوام کی صحت سے کھیلنے والے پوشیدہ کرداروں کو بے نقاب کرنے کی مخلصانہ کوشش کی تھی مگر اس کا نتیجہ یہ نکلا۔ ایک اور کیرئیر کا اختتام ہوا۔

Facebook Comments HS