اسلام اور اس کے موجودہ چیلنجز
اسلام ایک ایسا الہامی دین جس میں اللہ تعالٰی کی وحدانیت کا اقرار اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کا نام ہے۔ اللہ تعالٰی نے بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے انبیاء مبعوث کیے اور پھر آخری نبی حضرت محمد کو مبعوث کرتے ہوئے دین کو مکمل کر دیا۔ اب اس دین میں ایک نقطے کے برابر بدلنے کی گنجائش بھی موجود نہیں۔ مسلمانوں کے عروج کے دور میں ان کے دانشور نہ صرف دین کو احسن طور سمجھتے تھے بلکہ انہیں اسی کے ساتھ دنیاوی امور پر بھی دسترس حاصل تھا، اور اسی لئے اسلامی معاشرہ و حکومتیں ترقی کی منازل طے کرتی رہیں۔ ان کی ترقی کے سنہری دور میں ان کے مد مقابل کوئی بھی ٹھہر نہ سکا۔ مسلمانوں کو چیلنجز اس ادوار میں بھی درپیش رہے وہ ان ایشوز سے احسن طور مشاورت کے ساتھ نبرد آزما ہوتے رہے۔
موجودہ دور کے مسلمانوں کو اندرونی و بیرونی طور چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہیں سب سے بڑا چیلنج اپنے اندر سے ہی در پیش ہے جو ایک معاشرتی و سماجی تناؤ کی صورت میں سنگین مسئلہ ہے۔ ہم اگر وقتی طور عالم کے ساتھ اپنے تعلقات، ان کی چیرہ دستیوں اور اسلام بارے منفی رویہ، اسلامی تعلیمات سے نابلد ہونا اور ان کی متواتر محاذ آرائی کو ایک طرف رکھتے ہوئے اگر اپنے اندرونی چیلنجز کو دیکھیں تو ہمارا معاشرہ تھوڑ پھوڑ کا شکار ہوتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔
ہمارا اسلامی تشخص سب سے پہلے تو شیعہ و سنی اور اہل حدیث میں بٹ چکا ہے اب ان میں بھی مزید تقسیم در تقسیم ہوتی چلی گئی ہے۔ اہل سنت کے آگے مزید چار مذاہب ہیں۔ اسی طرح شیعہ بھی تقسیم کا شکار ہیں۔ جب دین اسلام کے نبوی دور میں یا خلفاء راشدین کے دور کی تعلیمات اور ان کے کردار پر نظر پڑتی ہے تو ایسی کسی تقسیم کا ذکر نہیں ملتا۔ یہ سب بعد کی باتیں ہیں۔ ان چیلنجز سے نبرد آزما ہونے میں ہم بری طرح ناکام نظر آتے ہیں۔ مسلمان معاشرے میں اتفاق نام کی شے ناپید ہو گئی ہے۔ اور نہ ہی کوئی ایسی مخلصانہ کوشش کی گئی جس کے نتیجے میں اتفاق و اتحاد کے سوتے پھوٹتے۔
کرہ ارض کی ایک چوتھائی آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے جو تقریباً 1634 ملین افراد پر مشتمل ہے۔ یہ کثیر تعداد میں دنیا کے ہر خطے میں پائے جاتے ہیں لیکن ان میں بر اعظم افریقہ و بر اعظم ایشیاء میں اور اس کے علاوہ ایک خاصی تعداد بحیثیت اقلیتی برادری کے یورپ اور شمالی و جنوبی امریکہ میں پائی جاتی ہے۔ مسلمانوں کے پاس قدرت کی طرف سے ودیعت کردہ ذرائع آمدن تیل کی صورت اور اس کے علاوہ کئی معدنی وسائل کے ذخائر موجود ہونے کے باوجود ان کی کثیر تعداد غربت کی لکیر سے نیچے رہتی ہے۔
بیروزگاری، ناخواندگی، گرتی صحت، معاشرتی، سماجی و سیاسی حالت دگرگوں اور مذہبی انتہاء پسند جذبات ان پر غالب اور طبقات میں بٹے ہوئے آج کے دور کا مسلم معاشرہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے۔ معاشرتی تبدیلیوں کی شرح مسلم معاشرے میں سست رفتار اور اس میں واضح دراڑیں نظر آ رہی ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہمیں ایسے رہنما میسر نہیں جو اس حالت سے نکالنے کے لئے واضح ویژن پیشکش کریں اور ہم سب یکسوئی کے ساتھ اس پر عمل پیرا ہوں۔
اکثر اسلامی ممالک میں اقلیتوں سے جھگڑے، اقتصادی ناہمواری اور سیاسی ہم آہنگی کا فقدان ہے۔ اس کے علاوہ مسلم ممالک میں مغربی تہذیب کے سیاسی و اقتصادی مفاد بھی ان کی ڈوبتی ناؤ کے پیندے میں دراڑیں ڈالنے میں مصروف ہیں۔ اور انہیں قرون اولی کے انسانوں کے رہن سہن کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ مفاد کا یہ ٹکراؤ انتہائی خطرناک ہے۔ مغربی معاشرہ کو یہ بات جان لینی چاہیے کہ اسلامی معاشرہ بنیادی طور اسلام کے اصولوں پر مستحکم کھڑا ہے۔
اس میں انفرادیت سے زیادہ اجتماعیت کا عنصر شامل ہے۔ اور ان کے نزدیک حاکمیت اللہ تعالٰی کی ہے۔ جب تک مغربی معاشرہ اور اسلامی معاشرہ مل بیٹھ کر دنیا کی فلاح و بہبود کے لئے صدق دل سے اپنے اختلافات دور نہیں کرتے یہ اس کرہ ارض پر رہنے والوں کے لئے ایک المیہ ہی ہو گا۔ جہاں مسائل جنم لیتے رہیں گے اور تدارک ممکن نہ ہو سکے گا۔
مسلمان کثیر تعداد میں ہونے کے باوجود ہر جگہ پس رہے ہیں۔ ہم سب اپنا احتساب کرنے کی بجائے دوسروں کا احتساب اور اپنی آراء قائم کرنے پر وقت ضائع کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔ خدارا اب بھی وقت ہے اپنے آپ کو سنبھالیں اور ہم میں سے ہر ایک سب سے پہلے اپنا احتساب کرے اور جو قباحتیں ہم میں در آئی ہیں ان کو جڑ سے نکال باہر پھینکیں۔ دوسرے کے نقطہ نظر کو سننے اور دلیل کے ساتھ جواب دینے کی عادت ڈالنا ہوگی۔ ہم میں ایک اور قباحت جذباتیت کی ہے اور پھر یک دم غصے میں آ کر کسی کی نہ سننا اور جذبات کی رو میں بہہ جانا اور انتہائی قدم اٹھا لینا ہے۔
جس کے بعد زندگی بھر پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں۔ سب سے التماس ہے خدا را اپنے اور وطن عزیز کے لئے مثبت سوچ کے ساتھ خود کو بدلیں۔ جب ایسا ہونا شروع ہوا تو آپ کا نا صرف مادر وطن بلکہ کرہ ارض کی بہتری کا سفر بھی خود مختار طریقہ کار کے ساتھ طے کرنا شروع ہو جائے گا۔ اور پھر آپ کا اپنا معاشرہ و دنیا دونوں مانند جنت لگنا شروع ہوں گے۔ زندگی مختصر اور مقابلہ سخت ہے۔ دنیا میں اگر مقام پیدا کرنا ہے تو خود کو محنت و مشقت کا خوگر بنانا ہو گا۔ مسلمہ اصول ہے وہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں۔ جس کے معاشرے کا ہر ذی روح اس کی ترقی میں اپنا اپنا حصہ ڈالے۔


