نواز شریف: پتا پتا بوٹا بوٹا حال تمہارا جانے ہے

میاں محمد نواز شریف نے کوہ مری کی وادیوں میں چھانگلہ گلی میں واقع اپنے محل میں اپنی صاحبزادی کو پہلو میں بٹھا کر وہ وہ سچ بولا کہ سچ بھی سن کر شرما گیا ہے۔ میاں صاحب پاکستانی سیاست میں ’سچ‘ بولنے کے معاملے میں ہمیشہ سب سے آگے رہے ہیں۔ چاہے وہ سچ ان کی سیاست میں شمولیت کا ہو یا پھر اقتدار میں روز اول سے لاڈلے پن کا، انہوں نے ہمیشہ ’سچ‘ ہی کہا ہے۔
میاں صاحب فرما رہے تھے کہ ان کی حکومت میں شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ پہ پانی پیتے تھے۔ ان کی حکومت میں دودھ اور شہد کی نہریں بہتی تھیں، پیٹرول ڈیزل تو لوگوں کے گھروں کی پانی کی ٹنکیوں میں بھر بھر کر دیا جاتا تھا تاکہ وہ اپنی سہولت کے مطابق استعمال کر سکیں۔ ارزاں اتنا کہ روٹی بھی مہنگی لگے۔ ڈالر تو اتنا سستا تھا کہ کوئی لینے والا ہی نہیں تھا۔ امن و امان ایسا تھا کہ راوی ہر طرف صرف چین ہی چین لکھتا تھا۔
وہ فرما رہے تھے کہ انہیں پچاس سال پہلے یعنی 1983 میں ہی پتا تھا کہ تھر میں کوئلے کی کانیں موجود ہیں اور پھر انہوں نے تھر کے کوئلے کو ملک کی تقدیر بدلنے اور ملک میں بجلی کی پیداوار میں اضافے کے لیے اقدامات اٹھائے۔
انہوں نے یہ بتانا ضروری نہیں سمجھا کہ 1983 میں وہ خود کہاں اور کس پوزیشن پہ تھے۔
میاں صاحب انقلاب رد انقلاب کے فسانے سناتے سناتے آبدیدہ ہو گئے، ساتھ بیٹھی مریم کی بھی ہچکیاں بندھ گئیں، ماحول بہت رنجیدہ ہو گیا۔ وہ کہتے رہے کہ میں ملک کو امریکہ، جاپان، چین اور بھارت کی معیشتوں سے بھی زیادہ ترقی یافتہ بنا رہا تھا۔ میں پاکستان میں وہ انقلاب لانے کے قریب تھا جس کا صرف قصے کہانیوں میں ہی ذکر ہوتا رہا ہے۔
مگر پھر کچھ قوتوں کو پاکستان کی ترقی، خوشحالی، پاکستان میں ڈالر کی ریل پیل، پیٹرول کا پانی کے بھاؤ بکنا، مہنگائی کی شرح دنیا میں سب سے کم ہونا، انصاف ہاتھوں کی ہتھیلیوں پہ ملنا ایک آنکھ نہیں بھایا اور مجھے اپنے بیٹے سے تنخواہیں نہ لینے کی پاداش میں نا اہل کر دیا گیا۔
میاں نواز شریف نے ہمیشہ سچ ہی بولا ہے، وہ فرما رہے تھے کہ انہوں نے کبھی سیاست میں اپنے حریفوں کے خلاف گھٹیا زبان استعمال نہیں کی۔ ان کی زبان 90 کی دہائی میں شہید بھٹو، شہید بینظیر بھٹو کے خلاف صرف پھول جھاڑتی تھی۔ انہوں نے سیاست میں اعلیٰ انسانی اقدار کو اپنی سیاسی حریف شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی بدترین کردار کشی کے ذریعے، اپنے ایک سابقہ ساتھی شیخ رشید کے ذریعے مرحومہ بیگم نصرت بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو پہ گھٹیا فقرے بازیاں کروا کر متعارف کروایا۔
میاں صاحب نے ہمیشہ اپنی جلا وطنی کو جبری جلا وطنی کہا، حالانکہ وہ دو بار ملک سے باہر گئے، دونوں بار معاہدہ کر کے باہر گئے۔ دونوں بار جلاوطنی جبری نہیں بلکہ فرمائشی تھی۔ کیمیکل پہلی بار اتنی خاموشی سے گئے کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی، یہاں تک کہ اپنے قریبی دوست احباب پارٹی رہنما و اہم کارکنان بھی بے خبر رہے، اور میاں صاحب بمع اہل و عیال مال و دولت پھر سے ارض مقدس سدھار گئے۔ میاں صاحب نے اپنی اس دس سالہ وطن واپس نہ آنے اور سیاست سے دور رہنے کی ڈیل کے بارے میں بھی سچ بولا کہ مجھے ”زبردستی نکالا“
دوسری بار اپنے خون ناحق کا ہوا کھڑا کیا۔ پہلے کہا تھا مجھے کیوں نکالا تو اس بار بیانیہ بنایا کہ ”اگر مجھے نہ نکالا“ تو میرا خون ریاست اور عمران خان کے سر ہو گا۔ ریاستی ادارے، عمران حکومت مخمصے کا شکار ہو گئے کہ اگر انہیں باہر نہیں بھیجا تو کہیں خون گلے نہ پڑ جائے اس لیے ایسا ڈرامہ رچا گیا کہ روزانہ کوئی نہ کوئی نامی گرامی ڈاکٹر نیشنل میڈیا پہ کھڑا ہو کر میاں صاحب کے پلیٹ لیٹس کی گنتی گنواتا اور کہتا کہ اس سے پہلے کہ پلیٹ لیٹس کی گنتی میں مزید کمی آئے انہیں باہر بھیجا جائے۔
اور پھر میاں صاحب چار ہفتوں کا وعدہ کر کے چار سال تک پلیٹ لیٹس کی گنتی پوری کرتے رہے اور قوم سے بالکل سچ بولا کہ میں چار ہفتوں میں پلیٹ لیٹس کی گنتی پوری کر کے ملک و قوم کی خاطر جیل کی سختیاں برداشت کرنے واپس آؤں گا، ووٹ کو اس کی لٹی ہوئی عزت واپس دلاؤں گا، یہ تو قوم کے نیلسن منڈیلا کی پلیٹ لیٹس نے ڈھٹائی سے اپنی تعداد کو نچلی سطح پہ منجمد کر کے وطن واپس جانے سے انکار کر دیا ورنہ میاں صاحب کا واپسی کا سوٹ کیس تو تیار تھا۔
میاں صاحب کی سیاست نے 12 اکتوبر 99 سے پہلے کبھی اس طرح کے نشیب و فراز نہیں دیکھے کہ انہیں جیل کا منہ دیکھنا پڑے۔ پھر قوم نے یہ منظر بھی دیکھا جب میاں صاحب نے پاکستان واپسی کا قصد کیا، بینڈ باجوں اور ڈھول تاشوں لاؤ لشکر کے ساتھ پاکستان پہنچے تب کے حاکم وقت جنرل مشرف نے وہ استقبال کیا جس کا تجربہ میاں صاحب کو کبھی نہ تھا۔ ارض مقدس سے وطن واپسی پہ بڑا جوش و خروش تھا، گو مشرف گو کی صدائیں جہاز میں بلند ہوتی رہیں مگر واپسی کا سفر بڑا ذلت آمیز تھا ڈنڈا ڈولی کر کے واپس جہاز میں چڑھایا گیا۔ جن دوستوں نے ریاست کے آہنی جبڑوں سے نکال کر سعودی بھیجا وہی دوست پرچے لہرا کر انہیں دس سالہ معاہدے کی یاد دلا رہے تھے۔
میاں صاحب ایک بار پھر جس دھج سے دیار وطن گئے تھے اسی دھج سے واپس آئے ہیں۔ مگر اس بار یہ تو نظر آ رہا ہے کہ وہ مکمل ریاستی سرپرستی اور پروٹوکول میں وطن واپس آئے ہیں مگر اس بار سیاسی حالات اور عوامی پذیرائی ان کے لیے موافق نہیں لگ رہے۔
میاں صاحب سیاست میں اصولوں اور سچائی کی بات کرتے ہیں مگر خود انہوں نے کبھی اصولوں اور سچائی کی سیاست نہیں کی۔ وہ ہمیشہ طاقتور کو ساتھ ملا کر کھیلنے کے عادی ہیں۔ اس بار بھی جن سے ووٹ کی عزت کرنے کا شکوہ کر رہے تھے، جن طاقتوروں کے نام لے کر کہہ رہے تھے کہ یہ قومی مجرم ہیں انہیں سخت سزا دی جائے ان ہی سے ساز باز کر کے ایک بار پھر اقتدار تک پہنچنے کی تگ و دو کر رہے ہیں۔
میاں صاحب کو یہ خوش فہمی ہے کہ قوم ان کے پینترے نہیں جانتی۔ قوم نہ صرف ان کے طریقہ واردات کو جان چکی ہے بلکہ یہ بھی جان چکی ہے کہ اس بار آپ اٹھارہویں آئینی ترمیم کو رول بیک کرنے کے لیے لائے گئے ہیں۔ اس بار آپ صوبوں کو دی گئی صوبائی خودمختاری کو سلب کرنے کی راہ ہموار کرنے کے لیے لائے گئے ہیں، اس بار آپ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کے حصے میں کٹوتی کے لیے لائے گئے ہیں، کیونکہ آپ کو کوئی جنے یا نہ جانے
پتا پتا بوٹا بوٹا حال تمہارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

