قاری حنیف قریشی بمقابلہ انجینئر محمد علی مرزا

26 نومبر کا دن اس حوالے سے یاد رکھا جائے گا کہ اس دن قاری حنیف قریشی کا انجینیئر محمد مرزا کے ساتھ مناظرہ کی صورت میں ایک ٹاکرا ہونا تھا۔ بقول قاری حنیف کہ ہم نے تقریباً ایک ماہ پہلے انجینئر صاحب سے مناظرے کا وقت لے لیا تھا اور دونوں کے مابین 26 نومبر کی تاریخ طے پا گئی تھی لیکن عین موقع پر حسب روایت انجینیئر جی رفو چکر ہو گئے۔ ملنے اور مناظرہ سے صاف انکاری ہو گئے، حسب روایت کا لفظ اس وجہ سے استعمال کیا ہے کہ غالباً ایک ڈیڑھ سال پہلے بھی جہلم میں کچھ اسی قسم کا میدان لگا تھا، جس کے روح رواں مفتی طارق مسعود تھے۔ ان کا بھی کچھ اسی قسم کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے بھی انجینیئر جی سے مناظرے کا وقت لیا تھا اور اپنی کتابوں اور کیمروں سمیت قاری حنیف کی طرح جہلم کی سرزمین پر پہنچے، ملنے اور گفتگو کے لیے گزارش کی مگر انجینیئر جی نے کوئی رسپانس نہیں دیا۔
اور بقول ٹی وی اینکر اویس ربانی کے ” کمرے کی فضا ہے اور مناظرے کی فضا اور ہے”
مرزا جی اپنی اکیڈمی کے کمرے میں دبکے بیٹھے رہے مگر باہر نہیں آئے اور اس طرح سے دونوں شخصیات کو جہلم سے ناکام لوٹنا پڑا۔
مفتی طارق مسعود کی واپسی پر انہیں ہار وغیرہ پہنائے گئے تھے، اکابر کی طرف سے مبارکباد دی گئی اور فتح مبین کا اعلان کیا گیا کہ مفتی صاحب جہلم سے غازی بن کر لوٹے ہیں۔ ایسا ہی کچھ شاہی پروٹوکول اکابر کی طرف سے قاری حنیف کو بھی دیا گیا، ہار پہنائے گئے اور غازی بن کر لوٹنے پر فتح مبین کا اعلان کیا گیا۔
اب ان باتوں میں کتنی سچائی ہے اور کون بنا غازی؟ اس قسم کی سطحی سی باتوں سے ہمارا کیا تعلق؟
ہم تو بس اتنا جانتے ہیں کہ اس قسم کی دکھاوا بازی یا اسسٹنٹ سے کروڑ پتی ضرور بنے ہوں گے، بھلا اس سے بڑا منافع بخش کاروبار اور کون سا ہو سکتا ہے؟
جس میں زیرو سرمایہ کاری ہو اور منافع کئی گنا، بس چرب زبانی کا ہنر اور مذہب کے نام پر معصوم لوگوں کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کرنا آنا چاہیے، بس پھر تو آپ کی موجیں ہی موجیں ہیں۔
اب اس سارے تناظر میں جو بات اصول کی بنیاد پر درست ہے یا دل کو لگتی ہے وہ سامنے رکھنا بہت ضروری ہے۔
انجینئر کے بقول وہ ہر اس عالم کے ساتھ بیٹھنے اور بات چیت کرنے کو تیار ہیں جو کسی بھی مسلک کا نمائندہ یا معتبر شخصیت ہو، جس پر اس کے مسلک کی اکثریت کا اتفاق ہو۔ اس حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ وہ بریلوی مکتب فکر کا نمائندہ مفتی منیب الرحمن، اہل حدیث مسلک کا نمائندہ پروفیسر ساجد میر، دیوبند مسلک کا نمائندہ مفتی تقی عثمانی اور شیعہ مسلک کا نمائندہ علامہ ساجد نقوی کو سمجھتے ہیں اور وہ ان کے قدموں میں بیٹھ کر بات چیت کرنے کو تیار ہیں۔
ان کے علاوہ باقی مولویوں کو وہ چھوٹی موٹی "شرلیاں” یا شہرت کے بھوکے معمولی سے "یوٹیوبر” سمجھتے ہیں جو فقط ریٹنگ یا پیسہ بنانے کے چکروں میں خجل و خوار ہوتے رہتے ہیں۔
اسی لیے اپنی ریٹنگ یا فالوونگ کے چکروں میں اب تک جو دو اصحاب جہلم کی سرزمین پر پہنچے ہیں وہ ان کی نظر میں جلدی ٹھس ہو جانے والی چھوٹی موٹی شرلیاں تھیں جن میں اتنا دم خم نہیں تھا اور نا ہی وہ اپنے مسلک کے نمائندگان تھے۔
اتنی سی بات تو مزاحیہ فنکار ناصر مدنی بھی اچھے سے جانتے ہیں جنہوں نے "مناظرہ مناظرہ” کے اس ڈرامہ کے بعد اپنی ویڈیو پیغام میں کہا ” کہ اگر تم نے انجینیئر کا مقابلہ کرنا ہے تو سڑکوں پر تماشہ کرنے کی بجائے سنجیدہ مطالعہ کریں، اپنی انگریزی اچھی کریں اور مضبوط بنیادوں پر یوٹیوب کلپ کے ذریعے سے اس کے سوالوں کا جواب دیں، قاری حنیف کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ان پر تو پہلے ہی توہین مذہب کی ایف آئی آر کٹی ہوئی ہے اور بریلوی مسلک کی اکثریت ان سے نالاں ہے تو ایسا بندہ کیسے اپنے مسلک کی بنیاد پر مناظرہ کر سکتا ہے”؟
یہاں تک تو ہو گئی مولاناوں کی باتیں، اب کچھ سنجیدہ باتیں بھی کر لیتے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن اکابر کا نام انجینیئر نے لیا ہے اور جن کے ساتھ بیٹھ کر وہ گفتگو کرنا چاہتے ہیں کیا اس قسم کا "شوشہ یا تیر” انہوں نے یونہی "ہوا” میں چھوڑا ہے؟ بالکل نہیں وہ بڑے اچھے سے جانتے ہیں کہ اکابرین "اندر” کی باتیں ساری سمجھتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ کتابوں میں ایسا بہت کچھ ہے جنہیں وہ ثابت تو درکنار وضاحت تک کا خطرہ مول نہیں لے سکتے ورنہ نمائندگی و قیادت خطرے میں پڑ جائے گی۔
اس لیے اکابر تو کبھی بھی اس قسم کی جرات نہیں کریں گے البتہ چھرلیاں یا چھوٹے موٹے یوٹیوبر یونہی تماشہ لگاتے رہیں گے اور مل ملا کر سب کی روزی روٹی ایسے ہی چلتی رہے گی۔
بالکل اسی طرح سے جس طرح بڑے صاحب کا حصہ دیانتداری و رازداری سے ماتحت عملہ پہنچاتا رہتا ہے۔
نقلی یا روایتی علوم سے نکلنا نکالنا تو خیر کچھ نہیں، لاکھوں ہزاروں تفسیریں، شرحیں اور کئی گنا وضاحتی کتابیں لکھی جا چکی ہیں اور لکھی جا رہی ہیں لیکن اتحاد امت و مسلم کا خواب شاید کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہو پائے۔
جیسے جیسے شرحیں و مذہبی کتابیں بڑھتی جا رہی ہیں ویسے فرقوں کی صورت میں تقسیم بھی بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کوئی ایک دوسرے کی تعبیر و تشریح کو ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہے۔
اب رہا یہ سوال کہ مناظرہ بازی کے تناظر میں اگر کبھی اکابر بیٹھ بھی جاتے ہیں تو آپ کا کیا خیال ہے کہ معاملہ افہام و تفہیم سے سمٹ جائے گا؟
بالکل نہیں جناب! بلکہ زیادہ بکھر جائے گا اور کلٹ مینٹلٹی اور بھی زیادہ مضبوط ہوگی اور مزید کلٹ لیڈر سامنے آئیں گے۔ ہماری نظر میں تو یہ سارے مذہبی اکابر چاہے چھوٹے ہوں یا بڑے سب آبی نرگس کے پھول کی مانند ہیں اور متھالوجیکل کردار "نارسس” کے نمائندے ہیں۔ جو اپنی ہی شخصی عکس کا دیوانہ ہو گیا تھا، یہ ایک نفسیاتی عارضہ یا کیفیت ہے جس میں انسان خود سے ہی پیار کرنے لگتا ہے۔
مذہبی فکر کے نمائندگان بشمول انجینئر محمد علی مرزا سب نارسسٹ ہیں جو اپنی انا کو ہر صورت میں سر بلند رکھنا چاہتے ہیں، اس ضد میں یہ اتنا آگے نکل چکے ہیں کہ "میں میں” کی گردان کے علاوہ کچھ اور سننا ہی نہیں چاہتے اور اس حقیقت سے اس قدر غافل ہو چکے ہیں کہ ان کے اس قسم کے رویوں کی وجہ سے لوگ مذہب بیزار ہو رہے ہیں اور ان کو سمجھ آنے لگی ہے کہ جب اکابر کو اتنی کاوشوں کے باوجود مذہب سمجھ میں نہیں آیا اور آج بھی وہ ایک دوسرے کی لکھی ہوئی کتابوں میں کیڑے یا غلطیاں نکالنے میں مصروف ہیں تو ہم ایسے سادہ دل لوگ بھلا مذہب کو کیا سمجھ پائیں گے؟
ان کو خبر بھی نہیں ہے یا جان بوجھ کر آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں کہ ان کی ایسی عجیب و غریب حرکتوں کی وجہ سے لاکھوں لوگ تشکیک کی راہوں پر چل پڑے ہیں، یقین مانیں لوگوں کے ذہنوں میں ہزاروں سوالات ہیں جو مولویوں کے ڈر و خوف کی وجہ سے وہ اپنی زبان پر نہیں لاتے اور ان کو بھی اچھے سے پتہ ہے کہ ہمارے پاس بھی ان کے سوالوں کا تسلی بخش جواب موجود نہیں ہے۔ اسی لیے تو "توہین توہین یا مناظرہ مناظرہ” کا کھیل کھیلتے رہتے ہیں۔
روز بروز بڑھتے ہوئے سوالات، تیزی سے بڑھتا ہوا الحاد یا تشکیکی رویے اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ لوگوں میں مذہب کے متعلق شعور و اگہی پھیل رہی ہے اور اب وہ میٹھی میٹھی باتوں سے بہلنے والے نہیں ہیں۔
اب ہمارے علمائے کرام کو سوچنا ہے کہ اگر تو واقعی انہوں نے مذہب کو آج کے جدید دور میں زندہ رکھنا ہے تو انہیں اپنی روش اور طور طریقے بدلنا ہوں گے اور ان کو بھی کھلے دل سے قبول کرنا ہوگا جو ان سے ہٹ کر سوچتے ہیں یا مشکل قسم کے سوالات پوچھتے ہیں۔
آج کا دور مناظرے کا نہیں بلکہ ڈائیلاگ کا ہے اور اپنے اپنے خیالات کو مل بیٹھ کے بانٹنے کا ہے۔
آپ اپنے خیالات دیانتداری سے پیش کر دیں، ماننا یا نہ ماننا سامنے والے پر چھوڑ دیں اور اپنے اندر انکار کو سننے اور ہضم کرنے کا حوصلہ پیدا کریں۔
شیخ احمد دیدات، مولانا مودودی، ڈاکٹر اسرار احمد، وحید الدین خان، مولانا اسحاق، ذاکر نائیک، علامہ پرویز اور جاوید احمد غامدی ایسی شخصیات کا بھی یہی دعویٰ تھا اور ہے کہ ہم مذہب کی جو تشریح فرما رہے ہیں وہی حقیقت کے عین قریب ہے اور بعض نے تو اپنی تشریحات کو سائنس تک کے ساتھ جوڑ ڈالا۔ ان سب کاوشوں کے باوجود بھی ان کی تشریحات میں کافی حد تک اختلاف پایا جاتا ہے اور بہت سارے معاملات میں وہ ایک دوسرے سے متفق بھی نہیں ہیں۔
بظاہر یوں لگتا ہے کہ یہ اصحاب روایتی فکر یا علم الکلام کو بائی پاس کر کے کچھ نیا دریافت کرنے کی کوشش فرما رہے ہیں یا تھے، حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ سب فلسفیانہ اصطلاحات کا کمال ہے یا انگریزی اصطلاحات کی موشگافیاں ہیں جس کے ذریعے وہ اپنے موقف میں جان ڈالنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
اپنے رائٹنگ میوز ڈاکٹر خالد سہیل کے ایک خوبصورت قول کا حوالہ دینا چاہوں گا کہ "دنیا میں اتنی ہی سچائیاں ہیں جتنے انسان اور اتنی ہی حقیقتیں ہیں جتنی دیکھنے والی آنکھیں”۔

