ایک حسینہ، ایک بات، کئی رخ
سنو اس کا چہرہ رائٹ سائیڈ سے زیادہ دلکش لگتا ہے۔
آپ کو لگتا ہو گا مجھے تو لیفٹ سائیڈ زیادہ پسند ہے خاص طور پر جب وہ ناک میں لونگ ڈالتی ہے۔
پتا نہیں تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے تیسرا بولا مجھے تو اس کے چہرے میں لال سرخ ہونٹوں کے سوا کچھ اور پُر کشش نہیں لگتا۔
چوتھا ایک دم بیچ میں بولا سب غلط تم لوگوں نے شاید اُس کی آنکھیں نہیں دیکھیں، قسم سے اُس کی بڑی بڑی آنکھیں دیکھ کر حور بھی شرما جائے۔
پانچواں اُٹھا اور یہ کہتے ہوئے چلا گیا سب اپنی اپنی ہانک رہے ہو یہ ظاہری حسن کچھ نہیں ہوتا اس کا اخلاق بہترین ہے۔ اُس سے بات کرو تو لگتا ہے نغمہ سن رہے ہیں۔
چھٹا بولا چھوڑو یار اس کو کیا معلوم۔ حسن کیا ہوتا ہے میں بتاتا ہوں، اُس کے لمبے اور گھنے بال ہی اُس کی خوبصورتی کا راز ہیں۔
ساتواں جو اپنے گٹار کی تار ٹھیک کر رہا تھا اچانک بولا چھوڑ نا یار اگر وہ اپنے بال کاندھوں تک کٹوا لے تو بالکل گڑیا جیسی لگے گی۔
آٹھواں ہنسنے لگا بولا کیوں بچاری کے بال کٹوانے پر تلے ہو بس اس کے ہونٹوں کے نچے سرمے کا ایک تل لگا دو قسم سے اس کے حسن کی تاب نہ لاتے ہوئے بے ہوش ہو جاؤ گے۔
نواں بولا ہاں یار لیکن تل ہونٹوں کے نیچے نہیں بلکہ اُوپر ہونا چاہے۔
پہلا پھر بولا اوپر تو ٹھیک کہا لیکن تل ہونٹوں کی بجائے رخسار پر ہو تو قیامت بھی احساس کمتری کا شکار ہو جائے گی۔
دسواں بولا تم کیا جانو میں بتاتا ہوں تل اگر اُس کی گردن پر ہو تو دیکھنے والوں کی سانس تک رک سکتی ہے۔
تیسرا بولا گردن چہرے اور جسم کے درمیان بالکل اُس جگہ ہو جو کالر سے کبھی چھپتی ہے اور کبھی دکھائی دیتی ہے۔
گیارہواں جو کب سے ان کی بات سن رہا تھا بولا وہ حسین ہے یا بد صورت مجھے کوئی غرض نہیں میں تو اُس کے جسمانی خد و خال دیکھتا ہوں تو آہ بھرے نہیں رہ سکتا۔
پہلا بولا ہاں ہاں اُس نے اپنے فگر کو بہت خیال سے رکھا ہوا ہے ماشاءاللّہ۔
چوتھا بولا کیا خاک اچھا ہے اتنا زیادہ بھی نہ ہو کہ بُرا لگے۔
پانچویں نے بولا ابے یار تمہیں شرم نہیں آتی کسی کے فگر پر بحث کر رہے ہو میں تو کہتا ہوں اُس کے قد کاٹھ پر بات کرو چال دیکھو جیسی ہوا چل رہی ہو۔
آٹھواں بولا کیوں وہ تیری بہن لگتی ہے جو تجھے بُرا لگ رہا ہے۔
پانچواں پھر بولا میری بہن تو نہیں لگتی اور گالیاں بکتا ہوا چلا گیا۔
چھٹا بولا اُس کی پنڈلیاں دیکھیں ہیں کسی نے۔ ایک بار سمندر کی لہروں سے کھیل رہی تھی قسم سے پانی بھی اُس کے پاؤں ایسے چھو رہا تھا جیسے لوگ پیر صاحب کے پاؤں عقیدت سے چوم رہے ہوتے ہیں۔ یقیناً سمندری مخلوق بھی اُس دن ساحل پر جمع ہوجاتی ہوگی جس دن وہ سمندر پر جاتی ہے۔
دسواں بولا تم لوگ دانشور نہ بن جاؤ اگر تمہیں اصل حسن کہاں ہوتا ہے پتا چل جائے
دوسرا بولا مطلب کیا ہے؟
دسواں اپنی آنکھیں بند کر کے بولا کبھی تم نے اُسے جاتے ہوئے پیچھے سے دیکھا ہے یقین کرو زمانہ پیچھے پیچھے ساٹھ کے اوپر کی گنتی گنتا ہوا چلتا ہے۔
ساتواں بولا بھائی تم تو عجیب نسواری قسم کے مرد ہو۔
دسواں غصے سے چلو تم لوگ دفعہ ہو جاؤ اور خود ہی چلا گیا۔
نوجوانوں کی اس بحث میں میں اتفاق سے پہنچ گیا تھا۔ برا تو بہت لگا کہ نامعلوم کس انجان کے حوالے سے گفتگو ہو رہی ہے۔ میں وہاں سے تو اُٹھ آیا ہوں مگر اب بیٹھا یہ سوچ رہا ہوں کہ جب ایک لڑکی پر اتنے اختلاف ہیں۔ اتنی لمبی اور شدید جذباتی بحث ہو رہی ہے کہ ذرا برداشت کم ہو اور قتل ہوجائیں تو سوچیے ہمارے معاشرے میں کتنے اختلافات ہوں گے ہر شخص دنیا کو اپنی پسند کے مطابق کی دیکھنا چاہتا ہے۔
کسی کو میوزک پسند ہے تو کسی تو بنا میوزک کی دنیا اچھی لگتی ہے۔
کرکٹ کا شوقین شاہ رخ خان کو اہمیت نہیں دیتا تو فلموں کے شوقین کو شاہد آفریدی سے کوئی غرض نہیں۔ کسی کے لیے سیاست عبادت ہے تو کسی کے لیے کبڈی نشہ ہے۔ کوئی امیتابھ سے ملنے کے لیے بے چین ہے تو کوئی امیتابھ کو جانتا ہی نہیں اُسے تو ڈاکٹر عافیہ، ملا عمر، اسامہ کے نقش قدم پر چلنا ہے۔
کوئی اُسامہ سے بے زار ہے لیکن ملالہ، عاصمہ جہانگیر، ماروی سرمد کی باتیں غور سے سن رہا ہے۔
کسی کو گوشت کھانا پسند ہے تو کسی کو گوشت لفظ سے ہی الرجی ہے۔
غرض جتنے لوگ اُتنے اختلافات، ستر سال ہو گئے پاکستان کو بنے ہوئے لیکن آج بھی یہ بحث ہو رہی ہے کہ پاکستان کو کیسا ہونا چاہیے۔ کیا یہ عجیب نہیں لگتا کیوں کہ انسانی فطرت میں اختلاف رکھنا ہے پھر چاہیے علمی ہو یا نہ ہو۔
ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اس طرح منزل نہیں ملتی بس رہ نما ملتے ہیں جو کبھی منزل پر آپ کو پہنچانا ہی نہیں چاہتے وہ جانتے ہیں کہ اگر سفر ختم ہو گیا تو پھر ہماری رہ نمائی کی نوکری ہی ختم ہوجاتی ہے۔
بقول شاعر
تھک جائے گا سورج یہ سفر ختم نہ ہو گا۔
کیوں کہ پہلے رخ دو یا چار ہوا کرتے تھے جنہیں بدلا یا درست کیا جاسکتا تھا۔ پر اب لوگ ایک چیز کے لاکھوں کروڑوں رخ دیکھ رہے ہیں اگر بدلنا بھی چاہیں تو نہ بدل پائیں۔


