امکانی معاشی راستے۔
مجیب الرحمن شامی، سہیل وڑائچ اور پیر ضیاء الحق نقشبندی نے سی ایس ایس کے امتحان میں تیاری کی غرض سے ایک اکیڈمی قائم کر رکھی ہے۔ یہ اکیڈمی کاروباری مقاصد کے لئے نہیں ہے۔ مجھے اس اکیڈمی میں سی ایس ایس کے تحریری امتحان میں کامیاب امیدواروں کے انٹرویو کی تیاری کی غرض سے دعوت دی گئی کہ میں ان امیدواروں سے خارجہ امور پر گفتگو کروں اور وہ اپنے انٹرویو کی تیاری کر سکے۔
وہاں پر ایک امیدوار نے مجھ سے سوال کیا کہ اس بات کا بہت غلغلہ مچا ہوا ہے کہ ہمارے خطے میں ریجنل کنیکٹیویٹی یعنی علاقائی روابط، اشتراک سے کاروباری سرگرمیوں کو بہت بڑھایا جا سکتا ہے کیا یہ درست ہے؟ اور پاکستان کے لئے اس کے کیا امکانات ہیں؟ اور اس ریجنل کنیکٹیویٹی کے علاوہ معیشت کو بہتر کرنے کی غرض سے کیا مواقع پاکستان کو بین الاقوامی حالات کے تناظر میں حاصل ہے؟ اس میں کوئی دوسری رائے سرے سے قائم ہی نہیں کی جا سکتی ہے کہ علاقائی مضبوط باہمی روابط اور کاروباری سرگرمیاں خطے کی اقتصادی صورتحال کو یکسر بدل دینے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں اور اس باہمی اشتراک سے کاروباری سرگرمیوں کو بہت زیادہ بلندیوں پر پہنچایا جا سکتا ہے مگر یہ تمام اہداف صرف اسی صورت میں حاصل کیے جا سکتے ہیں کہ جب اس سرگرمی کے لئے مناسب ماحول بھی دستیاب ہو اور یہ مناسب ماحول تنہا صرف پاکستان ہی نہیں قائم کر سکتا ہے۔
الزام دھر دیا جائے، بحث برائے بحث کی جائے تو اور بات ہے کہ پاکستان کی فوج علاقائی اشتراک کو قائم نہیں ہونے دیتی ہے حالاں کہ حقیقت اس سے کوسوں دور ہے اس اشتراک کے قائم ہونے میں سب سے بڑی رکاوٹ انڈیا کا وہ رویہ ہے کہ جس میں یہ خواہش شامل ہے کہ اس کو علاقے کا تھانیدار تسلیم کر لیا جائے اور تھانیدار بھی ایسا کہ جس کا اپنا ہی قانون ہو اور اپنی ہی عدالت اور تمام تنازعات میں اس کی مرضی و منشا کے آگے سر تسلیم خم کر دیا جائے اور جب تک وہاں پر ذہن سازی اسی انداز میں ہوتی رہے گی اس وقت تک کسی بڑے علاقائی تعاون کا صرف خواب ہی دیکھا جا سکتا ہے اس کو عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکتا ہے۔
پاکستان کے اس معاملے میں خواہش کوئی ڈھکی چھپی ہوئی نہیں ہے ملک کی اعلی سطح کی قیادت تک اس پر اپنے خیالات کا اظہار کرتی رہتی ہے مگر اگر ہم اس حوالے سے دیگر ممالک کی جانب نظر دوڑائیں تو سب سے پہلے نظر بنگلہ دیش پر جا کر ٹھہرتی ہے۔ بنگلہ دیش میں عملی طور پر یک جماعتی نظام حکومت قائم ہے اور اس نظم حکومت کی سربراہ شیخ حسینہ واجد کو اس نظام بلکہ اپنی آمریت کو قائم رکھنے کی غرض سے انڈیا کی اندھا دھند حمایت درکار ہے جو کہ ان کو حاصل بھی ہے اور اس حمایت کے عیوض وہ انڈیا کی نا صرف کے ہاں میں ہاں ملاتی ہوئی دکھائی دیتی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اپنی اپوزیشن کا گلا گھونٹنے کے لئے بھی مختلف اقدامات کرتی رہتی ہے، انہوں نے تو اپنے مخالفین کو سولیاں تک دے دی، ان جا سیاسی بیانیہ مکمل طور پر پاکستان مخالف ہے اور ان کے اقتدار پر براجمان رہتے ہوئے اس بات کا گمان بھی کرنا کہ وہ پاکستان کے لئے کوئی مناسب فیصلہ کرے گی ان کی سیاست کا درست تجزیہ نہیں ہو گا۔
انڈیا کے متعلق میں پہلے ہی عرض کر چکا ہوں کہ وہ ایک مائنڈ سیٹ کا مسئلہ ہے اور وہاں پر جب تک وہ مائنڈ سیٹ طاقت ور ہے پاکستان جتنا مرضی میٹھا بن جائے ان کو کڑوا ہی لگے گا اور اب تو ان کے پاس پیسہ بھی اچھا خاصا جمع ہو گیا ہے جب کہ ہم نے ایک دوسرے کو صرف پچھاڑنے کی غرض سے معاشی کارکردگی کو بار بار داؤ پر لگا دیا۔ انڈیا دنیا سے کس قسم کا برتاؤ روا رکھنا چاہتا ہے اس کی جھلک حالیہ کرکٹ ورلڈ کپ میں اس کے رویوں سے ظاہر ہو رہی تھی یہ کسی قوم کے مزاج کو واضح کرتی ہے دیگ کا ایک دانہ ہی چکھنا کافی ہوتا ہے۔
ایک کردار افغانستان کا بھی ہے اور ایک وقت میں یہ گمان کیا جاتا تھا کہ پاکستان کی افغانستان کی جانب سے ٹھنڈی ہوا اس لئے نہیں آ رہی ہے کہ کابل میں حامد کرزئی اور پھر اشرف غنی انڈیا کے قریب ہے اور پاکستان افغان طالبان کے لئے نرم گوشہ رکھتا ہے اور جب افغان طالبان دوبارہ سے بر سر اقتدار آ جائیں گے تو پاکستان کو اس سرحد کی جانب سے ایک یک گونہ اطمینان نصیب ہو جائے گا مگر بد قسمتی سے یہ خواہش بس ایک سراب ہی قائم ہوئی اور پاکستان کے مصائب میں دن بدن اضافہ ہی ہو رہا ہے ابھی پاکستان نے غیر قانونی طور پر مقیم باشندوں کی ان کے ممالک واپسی شروع ہی کی کہ افغان طالبان حکام کا لب و لہجہ جو پہلا ہی تلخ ہو چکا تھا تلخ کلامی تک پر اتر آیا ابھی افغان طالبان کے نائب وزیر خارجہ ملا کلیم اللہ کی پاکستان اور بانی پاکستان کے حوالے سے گفتگو سن لو، کابل کا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ پاکستان سے اس کو کوئی مسئلہ ہے اس کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ظاہر شاہ سے لے کر سردار داؤد سے ہوتے ہوئے آج تک ایک سبق وہاں پڑھایا گیا ہے اور اس کو پاپولر سٹنٹ بنا دیا گیا ہے اس لئے اپنی ہر ناکامی کا ملبہ با آسانی پاکستان پر ڈالا جا سکتا ہے اور وہ یہ ملبہ ڈالتے رہتے ہیں۔
ان تینوں ممالک کی سیاسی حالت کو دیکھتے ہوئے سر دست کسی ریجنل کنیکٹیویٹی کے خواب کا شرمندہ تعبیر ہونا ممکن نظر نہیں آتا ہے اور پاکستان کی اقتصادی بحالی کو اس سے منسلک نہیں کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے پاس اس ریجنل کنیکٹیویٹی کے علاوہ ایک تو طے شدہ راستہ ہے کہ پاکستان سی پیک کو کامیابی کے لئے ہر ممکن کوشش کرے اور اگر اس حوالے سے پاکستان کے کسی بھی علاقائی گروہ یا طاقت ور طبقات میں سے بھی کسی کو کوئی تحفظات ہے تو ان تحفظات کو چین سے ڈسکس کرے اور ان کا تدارک کرے۔
اس کے علاوہ یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ سی پیک کی حمایت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ پاکستان امریکہ اور مغرب سے اپنے تجارتی تعلقات کو اہمیت نہ دے یا ان کو بڑھانے کو کوشش مت کرے بلکہ ان سی پیک اور امریکہ، مغرب کے مابین ایک توازن کو حکمت عملی کو اختیار کرے کیوں کہ اس سے ہی اقتصادی بحالی کا ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔

