منطقی انجام کسے کہتے ہیں؟


مولائے روم ؒ کا قول ہے

” تم اپنے جوابات کو اپنے سوالات میں تلاش کرو۔“ اپنے سوالوں کے اندر جھانکو، تمہیں جوابات نظر آئیں گے۔ جب ہم آئینے کے اندر جھانکتے ہیں تو ہمیں اپنا عکس نظر آتا ہے۔ اور اگر ہم اپنے سوال کا نقاب الٹیں تو جواب مسکراتا ہوا خوش آمدید کہے گا۔ اگرچہ رومی ؒ نے یہ بات تصوف کے رنگ میں کہی لیکن علم منطق میں بھی اس کا انکار نہیں۔ بلکہ عین منطقی بات ہے۔ اس کا جواب قوانین منطق میں آئے گا۔

سوال کے اندر جواب تب نظر آتا ہے جب سوال اپنی ذات کے اندر پورا سوال ہو۔ سوال محض نہ ہو۔ کہا جاتا ہے کہ سوال آدھا علم ہوتا ہے۔ کہنے والے نے یہ بات محتاط رہتے ہوئے کہی۔ ہمارا تو یہ ماننا ہے کہ سوال ہی اصل علم ہوتا ہے۔ سوال شرمندہ تعبیر ہو کر بھی چٹان کی طرح اپنی جگہ پہ قائم رہتا ہے۔ یا یوں سمجھیے کہ سوال ایک ندی ہے جس میں سے جواب کا پانی ہر کوئی بقدر ضرورت لیتا ہے۔ سوال ایک صحرا ہے جو کتنے ہی طوفانوں کا پانی پی کر بھی پیاسا دکھائی دیتا ہے۔

اس ساری تمہید کا ایک مقصد قاری کی توجہ کی بھیک مانگنا بھی ہے۔ جیسے ایک اچھے کھانے کی خوبی ہے کہ وہ غذائیت اور لذت کا توازن لیے ہوتا ہے، اسی طرح ایک تحریر کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ نفس مضمون اور دلچسپی کا نازک سا اشتراک قائم رکھے۔ جارج برنارڈ شاہ اپنے کرداروں کی زبان سے بولتا ہے :

پہلا شخص: ہم تمام آدم کی اولاد ہیں۔
دوسرا: ہر ایک یہ کہتا ہے مگر کوئی ایک بھی یہ مانتا نہیں!

ہر سیاستدان، رہنما، تحقیقاتی کمیشن کا سربراہ اور ’مقدس‘ جرنیل یہ کہتا ہے کہ ہم اس کام کو/ذمہ داروں کو/ دہشت گردوں کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ ارباب اختیار شوق شعلہ بیانی میں یہ الفاظ بول تو جاتے ہیں مگر جانتے نہیں، یا پھر مانتے نہیں۔ تاریخ طبری میں کہیں یہ پڑھا تھا، ایک عباسی عورت کہتی ہے کہ اپنے دور سے ہر شخص کو گلا رہا ہے کیونکہ وقت ہر نئی (شے ) کو پرانی اور ہر بچے کو بوڑھا کر دیتا ہے۔ بعینہ منطق اور منطقی انجام سے ارباب اختیار خوف کھاتے یا چشم پوشی کرتے ہیں۔ کیونکہ منطق ہر دلیل کے خلاف دلیل لے کر آتی ہے اور اپنے مخالف کو طاقت کی مسند سے اتار کر دلیل کے حمام میں لے آتی ہے۔ جیسا کہ عظیم فلسفی سقراط اپنے وقت کے سیاست دانوں، ججوں نیز ہر شعبے کے ماہر کو اپنے منطقی سوالوں سے بیچ چوراہوں کے ننگا کرتا تھا۔ ان کے علمی لبادے اتار پھینکتا تھا۔

اب ہم چند اصول منطق کی وضاحت میں مملکت خداداد کی سیاست کو بحث میں لاتے ہوئے منطقی انجام کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں :۔

(1)
عقلی دلیل کے رد میں عقلی دلیل لائی جائے :

حجتہ الاسلام امام غزالی نے الفارابی اور ابن سینا کا رد انہی کی منطق استعمال کرتے ہوئے کیا۔ منطقی دلیل کا رد بھی منطقی دلیل سے ہی ہو گا۔ اس کے مقابلے میں کسی مذہبی صحیفے کا حوالہ نہیں دیا جائے گا۔ اور نہ ہی تلوار یا بندوق کی نوک سے بات منوائی جائے گی۔ سائنس کے رد میں سائنس لائی جائے گی۔ اور مذہبی کتاب کا موازنہ بھی سائنس سے نہیں کسی دوسری مذہبی کتاب سے کیا جائے گا۔ جب قرآن چیلنج دیتا ہے کہ اس جیسی کوئی ایک سورت یا ایک آیت ہی لاؤ تو یہ مجادلہ و مقابلہ عربی زبان کی فصاحت و بلاغت کا ہے۔

چند مثالیں اب اپنی سوسائٹی کی لیتے ہیں۔ جب اداروں کو کہا جائے کہ اپنی آئینی حدود سے متجاوز نہ ہوں تو جواب کی بجائے ڈبل کیبن ڈالا آ جاتا ہے۔ سیاست دان سے پوچھیں کہ آپ نے قوم کے لیے کیا کیا؟ آپ ایک ایسا ہسپتال نہ بنا سکے جہاں آپ اپنا علاج کرا سکیں تو کہتے ہیں کہ آپ علاج پر سیاست نہ کریں! کیا یہ سوال اس جواب کا مستحق تھا؟ مذہبی اکابرین سے کہیں کہ ٹیکسٹ کی تشریح نو کریں، آج کے دور اور ضرورتوں کے پیش نظر، تو لا دینیت کے فتوے لگ جاتے ہیں۔ اسے منطق کی زبان میں مغالطہ دلیل شخصیت کہتے ہیں۔ مطلب آپ سوال کا جواب دینے کی بجائے اس شخص پر الزام تراشی شروع کر دیتے ہیں جس نے کوئی دلیل پیش کی ہو۔

(2)
:نتیجہ مقدمات سے لازمی اخذ ہوتا ہے
تمام انسان فانی ہیں۔
سقراط ایک انسان ہے۔
لہذا سقراط فانی ہے۔

پہلے دو جملے مقدمات دلیل ہیں جبکہ تیسرا جملہ استنباط یا استنتاج کہلاتا ہے۔ جیسے دو جمع دو چار ہوتے ہیں۔ اسی طرح مقدمات سے نتیجہ اخذ ہوتا ہے۔ مقدمات مثبت اور آفاقی ہوں تو نتیجہ بھی مثبت اور آفاقی ہو گا۔ اگر ایک مقدمہ بھی جزئیہ ہو گا تو نتیجہ بھی جزئیہ۔ جیسا کہ اوپر والی دلیل میں دیکھا گیا ہے۔ اب اس کا اطلاق اپنی ملکی سیاست پر کرتے ہیں۔ ایک جماعت کو ملک دشمن اور غدار قرار دیتے ہیں۔ پھر اسی کو تھالی میں رکھ کر حکومت کی پیشکش کی جاتی ہے۔ کیا غداری کے قضیوں یا مقدمات سے سربراہ حکومت کی پیشکش اخذ ہوتی ہے؟

پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے

(3)
لکڑی لکڑی ہے، لکڑی لوہا نہیں ہے :

اس کو اصول عینیت یا اصول شناخت بھی کہتے ہیں۔ اس اصول میں یہ طے کیا جاتا ہے کہ ہر شے کی کوئی نہ کوئی شناخت ضرور ہوتی ہے۔ اس شے کی صفات کی بنا پر وہ شے اپنا تعارف رکھتی ہے۔ مثلا:

کرسی کرسی ہے۔
کرسی میز نہیں ہے۔

دودھ دودھ ہے، شربت نہیں ہے۔ پارلیمنٹ پارلیمنٹ ہے، اسٹیبلشمنٹ کی کٹھ پتلی نہیں ہے۔ فوج سرحدوں کی محافظ ہے، حکومت کرنا اس کے مینڈیٹ میں نہیں۔ یہ ملک ایک سیاسی و جمہوری جدوجہد سے عمل میں آیا۔ کسی ادارے نے اسے فتح نہیں کیا جو اسے اس کے سیاہ و سفید کا حق دے دیں۔ اقتدار اعلی عوام کے پاس ہے۔ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔ امریکی آئین کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے : ”ہم، امریکہ کے عوام۔“ ہماری قرارداد مقاصد میں بھی طاقت خدا اور عوام کی عطا کردہ ہے۔

(4)
دو تضاد ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے :

فکر یا منطق کے اس اصول کو اصول مانع اجتماع نقیضین کہتے ہیں، کے مطابق دو متضاد اشیاء ایک ہی وقت میں ایک جگہ اکٹھی نہیں ہو سکتیں۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی شے ہے بھی اور نہیں بھی ہے۔ کوئی شخص زندہ بھی ہے اور مردہ بھی ہے۔ کوئی حاضر بھی ہے اور غیر حاضر بھی۔ آئین توڑنا غداری ہے مگر اس کے توڑنے والے ہمارے مسیحا بھی ہیں۔ حکمرانوں نے صحت اور تعلیم کے شعبے میں انقلاب برپا کر دیا ہے مگر ان کے اپنے علاج باہر ہوتے ہیں اور بچے باہر پڑھتے ہیں۔ کیا یہ تضاد نہیں ہے کہ آپ پڑھتے کسی اور سماج میں ہیں اور حکمرانی کسی اور سماج پر؟

کیا یہ نو آبادیاتی ذہن نہیں ہے؟ ہم نے کولونیل ماسٹر سے آزادی اس لیے حاصل کی تھی کہ ہم اس نظام کو نہیں مانتے۔ ہم اپنی روایات اور اقدار میں اپنے نظام کو بڑھائیں گے۔ کیا آزادی سے مراد آقا کی تبدیلی ہوتی ہے یا غلام کی آزادی؟

آئیے اب مملکت خداداد میں جاری ’نظام‘ کے چند منطقی انجام ہا کا تعین کرتے ہیں۔ چند اصول وضع کرتے ہیں۔ اصول اول یہ ہے کہ جو ادارہ جتنا طاقت کا محور ہے وہ اتنا ہی اس کے حالات کا ذمہ دار ہے۔ دوسرا منطقی انجام یہ ہے کہ جو ماورائے عدالت قتل اور اغوا کیے جاتے ہیں، اس طرح ریاستی ادارے خود ریاست کے اخلاقی و قانونی جواز پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔ معاہدہ عمرانی کے تحت ریاست ماں یا باپ کا کردار ادا کرتی ہے۔ ریاست کا وجود ہم سب کی بقا کا ضامن ہے۔

خدا کرے کہ میری ارض پاک پہ اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو

خدا کرے زندگی ملال نہ ہو، سانس محال نہ ہو، ارض پاک کو میلی آنکھ سے دیکھنے کی کسی کی مجال نہ ہو۔ لیکن فریاد یہی ہے کہ حرکت میں آئیں، عمل میں لائیں، اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے۔ قانون کا نفاذ کریں، احترام کریں، مبادا قانون قدرت کی گرفت ہو۔ منطق کو سمجھیے، دلیل کے مقدمات و قضایا پر غور و خوض کریں، تب کہیں منطقی انجام تک پہنچیں گے۔ اگر اس انسانی منطق پر عمل نہ کیا گیا تو خدائی منطق کا سامنا کرنا پڑے گا۔

کوئی تقدیر کی منطق سمجھ سکتا نہیں ورنہ
نہ تھے ترکان عثمانی سے کم ترکان تیموری
اقبالؒ

Facebook Comments HS