بوسنیا کی چشم دید کہانی۔ 53۔


شام کے کھانے کے لیے میں نے میکڈونلڈ کی راہ لی۔ کاؤنٹر پر سروس والی لڑکیوں کے سامنے گاہکوں کی قطاریں لگی تھیں۔ حالانکہ ہر کاؤنٹر پر ہر طرح کی سروس دستیاب تھی لیکن ایک کاؤنٹر پر دوسروں کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہی لمبی قطار تھی۔ ذرا آگے بڑھا تو اس قطار کی لمبائی کا راز بھی کھل گیا۔ ایک شمشاد قد، بیگانہ احساس جمال یہاں خدمت پر مامور تھی۔ میں نے سوچا سیانے تو کہتے ہیں کہ پیٹ نہ پیاں روٹیاں۔ تے سبھے گلاں کھوٹیاں، لیکن یہاں تو جلوہ حسن نے اس قول ہی کو کھوٹا ثابت کر دیا ہے۔ اس کا قد کاٹھ اور تیکھے نقوش کچھ ایسے پر تاثر تھے کہ جیسے فیض کا کوئی مصرعہ یا خورشید انور کی کوئی دھن۔ زیر دستخطی بھی دل کی بے اختیاری کے ہاتھوں اس قطار کا حصہ بنا اور اس کے بعد کی کچھ شاموں کے دوران بھی یہی معمول رہا۔

ع۔ تیرے عہد میں دل زار کے سبھی اختیار چلے گئے

میں نے پیرس میں چار دن قیام کرنا تھا۔ لیکن طبیعت ناساز ہونے کے باعث میں نے لندن جانے کی ٹھانی۔ وہاں زاہدہ بہن کی صورت میں ایک اچھی تیماردار کی سہولت میسر تھی۔ اگلے دن پیرس سے کوچ کرنے کا ارادہ کیا اور بقیہ دو دن واپسی پر یہاں گزارنے کا پروگرام بنایا۔ اس ارادے کے بعد جب جگمگاتے شانزالیزے سے کوئی نصف شب کے قریب سہ بطخی ہاسٹل واپس لوٹا تو اس کے صحن کی ہنگامہ خیز رونق کا وہی عالم تھا۔ طبیعت کی ناسازی اور دن بھر کی تھکاوٹ کی وجہ سے میری ہنگامہ پسند طبیعت کو اس وقت یہ ہنگامہ آرائی ناگوار گزری۔ بہرحال نیند غالب آ گئی۔

اگلی صبح میں کافی دیر سے اٹھا۔ تیار ہو کر کل کی طرح چائے اور بسکٹ کا نام نہاد ناشتہ کیا۔ تاہم خوراک میں چکنائی سے اجتناب کا رجحان میری پراٹھے کی پسندیدگی پر اثر انداز نہیں ہوا۔ یہ نعمت بوسنیا میں بھی بشکریہ اقبال مستقل طور پر حاصل رہی۔ پیرس میں اس بارے میں سمجھوتہ بہر حال ناگزیر تھا۔ پچھلے دو دن سے قیام کی وجہ سے کاؤنٹر پر مختلف شفٹوں میں کام کرنے والے لڑکے لڑکیوں سے اچھی علیک سلیک ہو گئی تھی۔ وہ میرے سامنے آتے ہی ”ہیلو واحید“ کا آوازہ لگا کر میرا استقبال کیا کرتے تھے۔ میرا دل تو یہ چاہتا تھا کہ وہ مجھے ”خان“ یا پھر تھوڑی سی مزید کوشش کر کے ”خان صاحب“ پکار کر خوش آمدید کہا کریں لیکن اس خواہش کے اظہار کا ارادہ قیام کے مختصر ہونے کی وجہ سے ترک کر دیا۔

کوئی گیارہ بجے کے قریب ہاسٹل سے نکل کر میں فیلیکس فاری کے زیر زمین اسٹیشن پر آیا اور وہاں سے Balard سے آنے والی میٹرو پر سوار ہو گیا۔ سٹرابرگ سینٹ ڈینس کے اسٹیشن پر میں نے میٹرو تبدیل کی اور Gare۔ du۔ Nord پہنچ گیا۔ میٹرو سے اتر کر سطح زمین پر آیا۔ پھر اس وسیع و عریض اسٹیشن کے مطلوبہ حصہ تک پہنچنے کے لیے بہت سی بھول بھلیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ یوروسٹار سے آج 2 مئی 1997 کی شام کی روانگی اور 9 مئی کی شام کی واپسی کی ٹکٹ حاصل کی اور اپنے مسکن پر لوٹ آیا۔ میری گاڑی کی روانگی کا وقت شام سات بجے تھا۔ لہٰذا میں نے واپسی پر پیرس کی مشہور عمارتوں میں سے ایک Opera دیکھنے کا ارادہ کیا۔

یہ محفل موسیقی کی نسبت سے تقریبات کے انعقاد کے لیے دنیا کا سب سے بڑا تھیٹر ہے۔ اس کی عمارت ایک لاکھ بیس ہزار مربع فٹ پر پھیلی ہوئی ہے، جس میں ایک وقت میں دو ہزار تماشائیوں کے سمانے اور 450 فن کاروں کے سٹیج پر اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ اسے 1862 تا 1875 ء کے درمیان تعمیر کیا گیا۔ یہ نپولین سوئم کے زمانے کے فن تعمیر کا سب سے مثالی نمونہ ہے۔ اس کے لمبے لمبے ستون، کشادہ کھڑکیاں، منقش در و بام اور ہلکے سبز رنگ کا بیضوی گنبد کسب کمال کا نمونہ ہیں۔ عمارت کے اندرونی حصے کی چھت کو چھوتی ہوئی ان گنت محرابیں ہیں۔ جن کے درمیان مصوری اور نقش نگاری کے خوب صورت نمونے دیواروں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ یہ عمارت بیرونی ساخت میں پراگ کے اوپیرا کی تقریباً ہم شکل ہے لیکن اس کا محل وقوع اس سے کہیں زیادہ دلکش ہے۔

میں یوروسٹار کی روانگی سے پون گھنٹہ قبل ریلوے اسٹیشن پر موجود تھا۔ گاڑی میں سوار ہونے سے قبل سیکورٹی چیک کے مرحلے سے اس طرح گزرنا پڑا جیسے ہوائی سفر سے پہلے ائرپورٹ پر گزرنا پڑتا ہے۔ یہ عمل روانگی سے کوئی آدھا گھنٹہ قبل شروع ہوا۔ مقررہ وقت پر گاڑی پیرس کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دور تک پھیلے ہوئے ہرے بھرے کھیتوں میں ہوا سے باتیں کرنے لگی۔ میرے ڈبے میں مسافروں کی تعداد بہت کم تھی۔ ماسوائے میرے کسی کی نظر ندیدوں کی طرح کھڑکی پر ٹکی ہوئی نہ تھی۔

ہر کوئی کسی کتاب یا رسالے کے مطالعے میں محو تھا۔ ایک گھنٹہ بیس منٹ کے سفر کے بعد گاڑی فرانس کے سرحدی قصبے Calais Frethun پہنچی اور پھر رودبار انگلستان کو پار کرنے کے لیے زیر سمندر سرنگ میں گم ہو گئی۔ آدھا گھنٹہ کے سفر کے بعد جب یہ دوبارہ سطح زمین پر نمودار ہوئی تو برطانیہ کا سرحدی قصبہ Ashfold ہمارے سامنے تھا۔ اس دوران برطانوی امیگریشن کا عملہ گاڑی میں داخل ہو چکا تھا۔ میرے پاسپورٹ پر باوردی تصویر دیکھ کر برطانوی افسر مسکراتے ہوئے سیلوٹ کے انداز میں ہاتھ ماتھے تک لے گیا اور پیٹی بندی کے تعلق کی وضع داری نبھائی۔ میرا پرکردہ امیگریشن کارڈ ملاحظہ کرنے کے بعد اس نے خلاف توقع کوئی سوال وغیرہ بھی نہ کیا اور میرے پاسپورٹ پر داخلے کی مہر ثبت کر دی۔ Ashfold ٓسے لندن کے واٹر لواسٹیشن تک پہنچنے کے لیے گاڑی نے کوئی ایک گھنٹہ لیا۔

لندن میں مجھے زاہدہ کے ہاں ٹھہرنا تھا۔ وہ سلیم کی بیگم تھی۔ اپنی سہیلیوں کے گروہ میں سب سے شریف خاوند کی شریک حیات ہونے کا اعزاز رکھتی تھی جبکہ اس کے اپنے نزدیک یہ شہرت کسی رسوائی سے کم نہ تھی۔ ان کی شادی کو تقریباً گیارہ سال ہو چکے تھے لیکن میں اور سلیم ابھی تک ایک دوسرے سے نہیں ملے تھے۔ پیرس سے روانگی سے قبل میں نے آمد کی اطلاع کی خاطر اپنے میزبان جوڑے سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ گھر پر موجود نہیں تھے۔ یہ اطلاع فون پر ریکارڈ کروا دی گئی تھی۔ نتیجتاً میں اسٹیشن پر اپنے استقبال کی توقع لیے ہوئے تھا لیکن معاملہ ”یہ کہاں نصیب میرے“ والا ہوا۔

زاہدہ کا پتہ میرے پاس تھا۔ مڈل سیکس، بائرن روڈ، نارتھ ویمبلے۔ بظاہر یہ پتہ کچھ غیر شریفانہ تھا لہٰذا اس تک رسائی کے لیے کسی کی راہ نمائی حاصل کرنے میں بھی جھجک کا سامنا تھا۔ چنانچہ فیصلہ یہ کیا کہ کیوں نہ فون کے ذریعے رابطہ کیا جائے۔ فون کی دوسری گھنٹی پر ہی ریسیور اٹھا لیا گیا۔ اب میں زاہدہ سے ہم کلام تھا۔ پیرس سے روانگی سے قبل میں نے جو پیغام چھوڑا تھا وہ ٹیپ کے ختم ہو جانے کی وجہ سے پورا ریکارڈ نہ ہو سکا تھا۔

اس پر وہ بہت شرمندہ تھی۔ خیال خاطر احباب کے حوالے سے وہ انیؔس کے مکتبہ فکر کی پیروکار تھی۔ اسی وجہ سے اسے اپنی سہیلیوں کی طرف سے ”ملکہ جذبات“ کا خطاب دیا گیا تھا۔ اس اطلاع پر کہ میں لندن میں واٹر لواسٹیشن سے بول رہا ہوں وہ پھولی نہ سما رہی تھی۔ ساتھ ہی ساتھ وہ سلیم کو کوس رہی تھی کہ جس کے گھر پر موجود نہ ہونے کی وجہ سے اس کا اسٹیشن تک آنا ممکن نہیں تھا۔ اس نے نارتھ ویمبلے کے اسٹیشن تک پہنچنے کے لیے میری راہ نمائی کی۔ جب میں وہاں پہنچا تو میں نے اسے اسٹیشن کے باہر اپنا منتظر پایا۔

Facebook Comments HS