ڈاکٹروں کا مریضوں سے سلوک – کیا صحیح ہے کیا غلط


الف خان صاحب کا وارڈ تھا۔ اتوار کا دن تھا۔ اتوار کا دن چھٹی کا دن ہوتا تھا اور وارڈ کی رگڑ رگڑ صفائی ہوتی تھی۔ بستر مریضوں سمیت برآمدے میں ڈالے جاتے۔ اب شو مئی قسمت سے ہماری ہی ایمرجنسی تھی۔ یہ سن 1984 کی بات ہے۔ ابھی نہ پی جی ایم آئی بنی تھی اور نہ کارڈیالوجی کا یونٹ تھا۔ الف خان نے نرسوں کو بھی ای سی جی اور چیسٹ ایکسرے، خون کے ٹسٹ پڑھنے میں ماہر بنا دیا تھا۔ اب کیجولٹی میں ہر قسم کی میڈیکل ایمرجنسی آتی تو وہاں سے مریض ٹرالی پر سیدھا میڈیکل وارڈ میں رکتا۔

میری ڈیوٹی تھی۔ کیجولٹی سے فون آیا کہ ہارٹ اٹیک کا مریض آیا ہے۔ ای سی جی ہو چکی ہے اور رستے میں ہے۔ ہماری نرس ایمرجنسی ٹرالی لے کر کوریڈور میں بھاگ کے کھڑی ہو گئی۔ میں نے دیکھا کہ ٹرالی آ رہی ہے۔ ایک پچاس پچپن سالہ مریض درد سے کراہ رہا تھا۔ اردلی کے ہاتھ میں ای سی جی لہرا رہی تھی۔ میں نے نرس سمیت دوڑ لگائی اور مریض کی ٹرالی کے ساتھ ساتھ چلنے لگے۔ میں نے ای سی جی پر نظر ڈالی۔ واقعی ہارٹ اٹیک تھا۔ نرس نے فوراً کینولا لگایا اور اللہ الف خان کو سلامت رکھے ہم پر اعتماد کا یہ عالم تھا کہ مارفین کے انجیکشن تک ہماری دسترس میں تھے۔

میں نے نرس کو انجکشن بھرنے کو کہا اور خود بلڈ پریشر لینے لگا۔ ابھی ٹرالی کا سفر جاری تھا اور مریض کراہ رہا تھا ”ڈاکٹر صاحب بہت درد ہے۔ بہت درد ہے“ اس کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ میں نے چلتے چلتے انجکشن آہستہ آہستہ لگانا شروع کیا۔ ”ڈاکٹر صاحب بہت زیادہ درد ہے۔ ڈاکٹر صاحب درد ہے۔ ڈاکٹر صاحب اللہ آپ کا بھلا کرے۔ ڈاکٹرصاحب۔“ مریض کی کراہیں رک گئیں۔ چہرے کے عضلات کا تناؤ ختم ہوا۔ میرا ہاتھ پکڑ کر چوم لیا۔ اور پھر سے سرگوشی میں شکریہ ادا کرتا رہا حتیٰ کہ ہم نے انہیں بیڈ پر منتقل کیا اور اپنے سینئر کو بلایا۔

یہ مریض پڑھے لکھے تھے۔ ایک سکول میں ہیڈ ماسٹر تھے اور کافی عرصہ مجھ جیسے جونیئر موسٹ ڈاکٹر سے ملنے آتے رہے۔

یہ میرے لئے ہمیشہ سے ایک معمہ رہا ہے کہ ایمرجنسی میں جب بھی مریض درد کے ساتھ آتا ہے، ہم سب اس کا خیال رکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ تمام کتابی علم اور تجربہ آزماتے ہیں، مرض کی تفصیل کے ساتھ پوچھ گچھ کرتے ہیں، عرق ریزی سے معائنہ کرتے ہیں۔ تمام ٹسٹ لکھ دیتے ہیں۔ خون ایک دو دفعہ سرنج گھونپ کر لے لیتے ہیں، پیشاب کے لئے نالی ڈال لیتے ہیں۔ ایک مسئلہ جو مریض کو یہاں اس غیر مناسب وقت پر لایا ہے یعنی درد، اس کا کچھ نہیں کرتے۔ حتیٰ کہ خون لینے سے پہلے ہم آسانی کے ساتھ کینولا لگا سکتے ہیں اور اسی سے خون لے مختلف قسم کے انجیکشن اور ڈرپ لگا سکتے ہیں لیکن ہم چونکہ مریض کا درد نہیں محسوس کرتے اس لیے بار بار انجیکشن کے کچوکے ہمارے لئے کوئی معنی نہیں رکھتے۔

اسکی وجہ یہ ہے کہ ہم کبھی بھی مریض کو حاجی صاحب، منظور صاحب، شمائلہ یا بی بی صائمہ نہیں تصور کرتے۔ ہمارے لئے یہ اپینڈکس ہے اور وہ بواسیر، یہ بچہ ٹانسل اور وہ نومولود نمونیہ ہے۔ ان امراض کے ساتھ انسان نہیں بندھے۔ اب مریض کراہے یا درد کی دہائی دے تو دیتا رہے، وہ اپینڈکس تھوڑی بول رہا ہے۔ پتہ نہیں کون شور مچا رہا ہے! درد ہمیں محسوس نہیں ہوتا اس لیے درد کش انجیکشن ہمارے ذہن میں آتا ہی نہیں۔ بھلے ڈاکٹر صاحب! خدا را ایک ذرا سا درد کیوں نہیں کم کرتے۔ بقول فیض:

بے دم ہوئے بیمار دوا کیوں ‌نہیں ‌دیتے
تم اچھے مسیحا ہو شفا کیوں ‌نہیں ‌دیتے

(بعض مرتبہ درد کی دوا سے تشخیص میں فرق پڑتا ہے اس لئے سینئر ڈاکٹر کا انتظار کرنا پڑتا ہے، لیکن یہ بسا اوقات ہی ہوتا ہے )

آپریشن تھیٹر کا ماحول بہت ڈراؤنا ہوتا ہے۔ میری ایک سرجری چھ سال کی عمر میں ہوئی تھی۔ یقین مانیے اگلے چالیس سال تک مجھے ڈراؤنے خواب آتے رہے جس میں انیستھیزیا کا ماسک اور آپریشن تھیٹر کی لائٹ مجھے پسینے پسینے کر دیتے  تھے۔ ہماری ایک لیڈی سرجن کا سی سیکشن ہوا، ان کو تین سال تک یہ خواب تنگ کرتے رہے۔ مہذب ممالک میں بچوں کو وارڈ میں ایک ہاتھ سن کرنے والی کریم لگا کر کینولا لگا دیتے ہیں۔ بچہ ماں کی گود میں آپریشن تھیٹر کے اندر ایک چھوٹے کمرے میں جس کی دیواروں پر کارٹون لگے ہوتے ہیں، کینولا میں دوا دے کر یا گیس سنگھا کر سلا دیا جاتا ہے اور پھر ماں کو رخصت کر کے بچے کو ٹیبل پر لٹایا جاتا ہے ۔

یہاں اچھے اچھے پرائیویٹ ہسپتالوں میں ایک کرخت صورت اردلی روتے ہوئے بچے کو ماں کی گود سے چھین کر لے جاتے ہیں۔ بچے کے رونے کی آوازیں ماں تک پہنچتی رہتی ہیں، جس کے آنسو دیکھے نہیں جاتے اور ہم اپنے آپ کو مسیحا کہتے ہیں۔

اب وہ بچہ اگلی دفعہ ہسپتال میں داخل ہوتے ہی رونا کیوں نہ شروع کردے؟ اس ماں کے دل پر آرے کیوں نہ چلیں؟ یہاں تو ڈاکٹر وہ بلا بن چکا ہے جس سے بچوں کو ڈرانے کا کام لیا جاتا ہے۔ ”چپ، ورنہ ڈاکٹر انجیکشن لگا دے گا“ ۔ میں ان ماں باپ سے درخواست کرتا ہوں کہ بچے کو ابھی سے جھوٹ نہ سکھائیں۔ میں نے اپنے کلینک میں لالی پاپ سے بھرے ڈبے رکھے ہوتے ہیں۔ میں بچے سے کہتا ہوں، نہیں میرے پاس انجیکشن ہے ہی نہیں۔ میرے پاس تو یہ لالی پاپ ہیں، لو، ان میں سے جون سا بھی لینا ہو۔ اگلی دفعہ لالی پاپ کی لالچ میں نہ صرف مریض بچہ خوشی خوشی میرے کلینک میں آتا ہے بلکہ ساتھ میں کوئی بہن بھائی بھی لے کر آتا ہے۔ اور ایک دو لالی پاپ ان کے لئے بھی جھپٹ لیتے ہیں۔ بچے تو من کے سچے ہوتے ہیں نا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments