عدت میں نکاح : کھیل ختم پیسہ ہضم


صاحبان اگر آپ نے شطرنج کھیلی ہو تو علم ہو گا کہ مخالف کی اگلی تمام ممکنہ چالوں اور اس کے بعد آپ کے جواب کے بدلے میں نئی چالوں کا حساب کتاب رکھنا پڑتا ہے۔ الجبرا اور ریاضی کے پاکستانی طالب علم سوال اگر حل نہ کر سکتے ہوں تو کسی دوست سے پہلے جواب پوچھتے ہیں اور پھر پرچہ امتحان پر بیس لائن بعد جواب لکھ کر واپس اوپر کی طرف جانا شروع کر دیتے ہیں تاوقتیکہ سوال تک پہنچ جائیں۔

ایک اچھے وکیل، قانون شکن، ہیکر اور ہیکنگ سے بچانے والا بھی دو تین قدم آگے کی سوچتا ہے۔

اب اس مقدمہ کو لے لیں جہاں لوگ عدالتوں میں اپنی عزتوں کو فخریہ اچھالتے پھررہے ہیں۔ میرے پچھلے مضامین پر جناب خالد مسعود خان ملتانی اور منیر بلوچ جیسے کئی رفقاء نے جہاں پذیرائی کی وہیں شکوہ بھی کیا کہ دونوں مضامین بہت تیکنیکی ہو گئے تھے۔ (جبکہ میرے مطابق کچھ کسر ابھی بھی باقی تھی) اس سلسلہ میں امکان تو یہی ہے کہ یہ آخری تحریر ہوگی۔ جس کے بعد شاید تیکنیکی مسائل بھی نہ رہیں۔ میں خوارِ مونیکا کی دی ہوئی طلاق کا کاغذ ڈھونڈ رہا تھا جو مجھے اب تک محدود رسائی کی وجہ سے نہیں مل سکا۔

ہمارا المیہ ہے کہ پاکستان میں اب تک شرعی طلاق اور قانونی طلاق کے علاوہ خلع کا شرعی اور قانونی طریقوں کے علاوہ تنسیخ نکاح کا معاملہ بے انتہا پیچیدہ، فرسودہ اور گنجلک ہو چکا ہے۔ شرعی معاملات جن میں مسالک کے مسائل بھی آ جاتے ہیں ان میں پھر بھی کچھ بہتری موجود ہے لیکن قانونی طریقے، لکھے ہونے کے باوجود، اُن پر عمل نہیں ہوتا یا معاملات اتنے مہنگے ہو جاتے ہیں کہ بالخصوص عورت کے لئے خلع یا تنسیخ نکاح حاصل کرنا انتہائی مشکل ہوجاتا ہے۔ اکثر خواتین کے پاس تو اپنے نکاح کی کاپی بھی نہیں ہوتی اور شوہر سے شرعی طلاق لینے کے بعد بھی ان کو یہ علم نہیں ہوتا کہ قانونی طور پر طلاق ہو چکی ہے یا نہیں۔ جب وہ دوسری شادی کر لیتی ہیں تو پچھلا شوہر ان پر موجودہ مقدمے کی طرح زنا، نکاح پر نکاح یا عدت میں نکاح جیسے مقدمات قائم کروا دیتا ہے۔ اس سلسلے میں عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ بھی موجود ہے جسے نئی قانون سازی سے ہلکا کیا جاسکتا۔ اس سلسلے میں ایک مضمون ادھار رہا۔

اب تک جو اطلاعات مجھے خاور بمقابلہ بشری وٹو مقدمے میں ملی ہیں۔ پاکستان میں رائج قانونی طریقے سے تو یہ طلاق، خلع، یا تنسیخ نکاح شاید ہوا ہی نہیں ہے۔ (اور شرعی طریقے سے نکاح سو فی صد ختم ہو چکا ہے ) اس لئے کہ نکاح کی رجسٹریشن، بچے کی پیدائش، فوتیدگی اور طلاق کا ریکارڈ صرف متعلقہ یونین کونسل جاری کرتا ہے۔ اور یونین کونسل ہمیشہ عورت کو پہلے رجسٹرڈ پوسٹ یا اخبار کے ذریعے شوہر کی طرف سے طلاق دیے جانے سے آگاہ کرتا ہے جس کے بعد عورت مرد دونوں کو یونین کونسل کی مصالحتی کمیٹی کے سامنے پیش ہونا ہوتا ہے۔ اور اس کے لگ بھگ تین مہینے بعد ہی طلاق کا سرٹیفیکیٹ جاری ہوتا ہے جو عورت (یا اس کے بھائی باپ کسی بزرگ مرد) کو رجسٹرڈ ڈاک سے بھیجا جانا ضروری ہے۔ یہاں خاور صاحب نے کسی ”طلاق نامہ کا کاغذ“ خود ہی بیوی کی سہیلی کے حوالے کر دیے جو قانوناً جرم بھی ہے۔ یعنی یونین کونسل کے معاملات کی تو یہاں نوبت ہی نہیں آئی۔ جو عائلی قوانین 1961 ء کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایسی نام نہاد کاغذ پر طلاقوں کے بعد ہی عورتیں شادی کر لیتی ہیں۔ جبکہ انہیں قانونی داؤ پیچ اور طلاق کے قانونی طریقے کا علم ہی نہیں ہوتا اور یوں چھ سال بعد بھی لوگ عورت پر ہی تھو تھو اور مقدمات کر رہے ہوتے ہیں۔

اب آتے ہیں ایک سادہ سے حساب پر۔ چونکے قانونی طور پر تو طلاق ہوئی ہی نہیں کیونکہ بادی النظر میں یونین کونسل کا معاملہ ادھورا ہے۔ اس لیے میں قانون کی بجائے صرف شرعی معاملے پر آتا ہوں۔ بالفرض 14 نومبر 2017 ء کو تین طلاقیں کسی کاغذ پر لکھ کر شوہر نے بیوی کو دے دیں۔ یہ طلاق مغلظہ کہلاتی ہے جس کے بعد صرف حلالہ ہی ممکن ہے۔ نہ رجوع نہ نکاح ثانی بہرحال اگر ایک یا دو طلاق لکھی یا دی ہیں۔ تو عدت میں رجوع بھی ہو سکتا ہے اور عدت کے بعد بھی مختلف مسالک کی رو سے اسی شخص سے نکاح ثانی بھی ہو سکتا ہے (لیکن اس میں عورت کی رضامندی لازم ہے۔ یہ شوہر کا حق نہیں ہوتا) ۔ اب آتے ہیں کہ عدت کا دورانیہ کیا ہے۔ اگر شوہر کا انتقال ہو جائے (چاہے عورت اس دوران نامکمل عدت میں ہو۔ رخصتی نہ ہوئی ہو یا 80 سالہ عورت ہو) ۔ وہ خودبخود بیوگی کی عدت میں چلی جاتی ہے اور اس میں عدت اس تاریخ سے شروع ہوگی جس دن انتقال ہوا۔ (چاہے عورت کو چھ مہینے بعد علم ہو) ۔ اس بیوگی کی عدت کا دورانیہ چار قمری مہینے اور دس دن ہے جو انتقال سے لگ بھگ 130 (ایک سو تیس) دن بنتا ہے۔ (عامر لیاقت اور ان کی بیوی دانیہ کا بعینہ یہی مقدمہ تھا کہ وہ عامر کے انتقال کے وقت شاید طلاق کی عدت میں تھی۔ اور یوں وراثت میں حصے دار بن گئی ہوگی) ۔

طلاق یا خلع کا دورانیہ ”دنوں میں کوئی مستقل تعداد نہیں ہوتی“ ، بلکہ شرعاً یہ تین نئے پیریڈز (تین نئی ماہواری یا حیض) آنا مانے جاتے ہیں۔ اور لوگ اسے تین مہینے کی تکرار میں استعمال کرتے ہیں۔ جو غلط ہے۔ جبکہ ہم شرعی عدت کی بات کر رہے ہیں قانونی عدت کی نہیں۔

بالفرض ایک شخص نے اپنی بیوی کو کاغذ پر لکھ کر یا زبانی 14 نومبر کو تین طلاقیں دے دیں۔ مطلقہ کو محض دو دن بعد نئے پیریڈز آ گئے (اور اس کا حساب اس نے خود رکھنا ہوتا ہے مولوی یا شوہر نے نہیں ) ۔ یعنی پہلے پیریڈز 16 نومبر کو ہو گئے (کسی کو اعتراض ہے! ) ۔ طبی اور شرعی مسائل میں ماہواری کا دورانیہ پہلے دن سے اگلے پہلے دن تک، 21 سے 35 دن تک عام مانا جاتا یا ممکن ہے۔ اس خاتون کو بھی 22 دن بعد پیریڈز آتے ہیں۔ یوں دوسری ماہواری 16 جمع 22 ( 8 دسمبر کو آئے ) ۔ اور عدت کے لئے اسے تیسری اور آخری ماہواری 30 دسمبر کو آئی۔ یوں 30 دسمبر کو اس عورت کی عدت کا ختم ہونا عین ممکن ہے۔ ایسی صورت میں یکم جنوری کو نئے نکاح کے وقت عورت حالت حیض میں ممکن ہے ہو لیکن اس سے نکاح ختم نہیں ہوجاتا۔ ممکن ہے انہیں میرے جیسے کسی نیم حکیم نے کہا ہو کہ حالت حیض میں نکاح مکروہ ہوتا اس لئے دوبارہ پڑھ لیں۔ اور انہوں نے دوبارہ زبانی نکاح کر لیا ہو۔

اس مقدمے میں یہ تاثر لینا کہ عدت فروری تک ہونی تھی۔ بالکل غلط ہے۔ اور یہی افسوس ہوتا ہے کہ ہمارے قانونی ماہرین اور خود مولوی حضرات بھی شرعی اور قانونی مسائل سے بے بہرہ ہیں۔

حقیقت تو یہ ہے کہ یہ ہمارے معاشرے کا ایک عام مقدمہ ہے جہاں عورت کو طلاق کے نام پر الجھایا اور رلایا جاتا ہے۔ ملک میں اگر قانون موجود ہو تو مولوی سعید اور خاور مانیکا دونوں قانوناً مجرم ہیں۔

عمران خان کا دوسرا نکاح تو ویسے بھی رجسٹر نہیں ہوا اور زبانی تھا تو اس کا کسی کے پاس کیا ثبوت ہے کہ وہ قانونی طور پر واقع ہوا۔ دَسیوں ایسے مسائل ہیں جن کی رو سے میاں بیوی دوبارہ نکاح کرلیتے ہیں اور ان پر لازم نہیں کہ وہ یہ حقیقت نکاح پڑھانے والے کو بھی بتائیں۔ یہ مقدمہ نکاح خوانوں کے لئے بھی ایک سبق ہے کہ وہ ہر طرح سے چھان پھٹک کر کے نکاح کو رجسٹر کیا کریں۔ مولوی سعید کے مفتی ہونے پر ویسے بھی شک ہی ہے کیونکہ اگر یہ اس کے علم میں آ گیا تھا کہ عدت میں پہلا نکاح غلط تھا تو اس کو دوسرا نکاح نہیں پڑھانا تھا کیونکہ ایسی صورت میں عدت کا دورانیہ چھ ماہواری بن جاتا ہے۔ لیکن اس کا حساب چھ مہینے سے نہیں لگے گا بلکہ پیریڈز کی تعداد سے ہو گا۔

14 Nov 2017 Divorce
Medically allowed Menstrual cycle (21 to 35 days)
16 Nov 2017 : 1st Period (2 days after divorce)
8 Dec 2017 : 2nd Period (22 day cycle)
30 Dec 2017 : 3rd Period (Iddah completed)

للہ اس گند کو اب ختم کریں۔ وگرنہ کل کو کوئی بھی شخص کسی بھی سیاستدان کے بچوں کے خون یا تھوک کا ریکارڈ جمع کر کے ثابت کرتا پھر رہا ہو گا کہ کس سیاستدان کا کون سا بچہ اُس کا نہیں ہے۔ اور کون اُس کا بچہ ہے مگر ریکارڈ پر کسی اور کا ہے۔ یا کس کی تندرست بچی رخصتی کے پانچ چھ مہینے بعد پیدا ہو گئی تھی۔ احتیاط کریں۔ اگلا زمانہ اور خراب ہو گا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments