گاؤں کا پنچایتی نظام


گاؤں کے چوک میں ایک کنواں تھا۔ صبح شام کنویں کے رہٹ میں بیل جوت کر پانی نکا لا جاتا یہیں پر ایک حوض بنا ہوا تھا۔ جیسے پانی سے بھر دیا جاتا اور گاؤں کے لوگ یہاں سے اپنے ڈھور ڈنگروں کو پانی پلاتے اور نہلا بھی لیتے۔ لوگوں کے نہانے کے لیے بھی یہاں غسل خانے موجود تھے۔ اور رہٹ کی مدد سے نکالے گئے پانی کی ڈائریکٹ سپلائی یہاں پر موجود تھی۔ لوگ ان غسل خانوں میں ٹونٹیوں کے نیچے کھڑے ہو کر نہا لیا کرتے تھے۔

گھریلو استعمال کا پانی لینے کے لیے الگ سے ٹونٹیاں لگی ہوئی تھیں۔ گاؤں کی عورتیں ان ٹونٹیوں سے گھڑوں اور بالٹیوں میں پانی بھر کر اپنے گھروں میں جمع کر لیتیں۔ صبح اور شام رہٹ کے چلنے کے اوقات مقرر تھے۔ اگر بے وقت کسی کو پانی کی ضرورت ہوتی تو کنویں پر بندھی ہوئی چرخیوں کے ساتھ رسے کی مدد سے بندھے ہوئے ڈول موجود ہوتے ان کی مدد سے لوگ حسب ضرورت پانی نکال لیتے۔ کنویں کے پاس ہی ایک طرف دانے بھوننے والی بھٹی موجود تھی۔

ماسی جنتے ظہر اور عصر کے درمیان بھٹی میں آگ جلا کر دانے بھوننا شروع کر دیتی۔ وہ پورے گاؤں کی ماسی تھی۔ سبھی چھوٹے بڑے اسے ماسی کہہ کر پکارتے۔ یہیں پر ایک بہت بڑا بوڑھ کا درخت تھا۔ جس کے نیچے بوڑھ کی جسامت سے مناسبت رکھتا ہوا ایک لکڑی کا تخت پوش تھا۔ جو خاصی اونچائی پر تھا۔ دو اطراف سے بنی ہوئی سیڑھیوں پر چڑھ کر تخت پر پہنچا جاتا۔ گاؤں کے پنچ اور سر پنچ یہیں پر بیٹھ کر پنچایت کے ذریعے مختلف معاملات اور جھگڑوں کو نمٹا یا کرتے۔ یہ گاؤں کی عدالت تھی جہاں پر تھانہ کچری کے جھنجٹ میں پڑے بغیر ہی دیہاتی اپنے جھگڑوں کے فیصلے کر لیا کرتے۔ آج کل سستے اور فوری انصاف کے حصول کے لیے سٹڈیز کی جا رہی ہیں۔ سیمنارز منعقد کروائے جا رہے ہیں۔ تجاویز دی جا رہی ہیں۔ بحث مباحثے ہو رہے ہیں لیکن عملی طور پر کچھ بھی نہیں کیا جا رہا۔ آپ صرف گاؤں اور محلہ کی سطح پر پنچایت سسٹم بحال کر دیں۔ 80 فیصد مسائل فوری حل ہو جائیں گے اس سسٹم کا سب سے بڑا نقصان یہی ہو سکتا ہے کہ پنچوں کی قانون سے لاعلمی اور مقامی سطح پر ان تک رسائی کے حصول میں آسانی کی بدولت غلط فیصلے ہونے کے خدشات موجود ہیں۔ لیکن کیا موجودہ سسٹم کے تحت عدالتوں میں تمام مقدمات کے فیصلے مبنی پر انصاف ہی ہوتے ہیں۔

کیا عدالتوں میں کیے گئے تمام فیصلوں کو بطور مثال کے قبول کیا جاتا ہے۔ کیا کنگرو کورٹس کی اصطلاح انہی عدالتوں کے لیے مستعمل نہیں ہے۔ کیا وکیل کی بجائے جج کرنے کی باز گشت انہی کے بارے میں نہیں سنائی دیتی رہتی۔ قصہ مختصر یہ ہے کہ تمام مقدمات کے فیصلے یہاں پر بھی میرٹ کے مطابق نہیں کیے جاتے۔ بہت سے بیرونی عوامل ان فیصلوں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جس طرح پنچایت کے فیصلوں پر ہوتے ہیں۔ لیکن پنچایت میں چلائے گئے مقدمات پر فریقین میں سے کسی کا بھی کوئی خرچہ نہیں ہوتا۔

مدعی اور ملزم دونوں کی معاشی حیثیت کو متاثر کیے بغیر چند دنوں میں ہی جھگڑوں کو نمٹا دیا جاتا ہے۔ جبکہ موجودہ طریق کار میں تھانے کے چپڑاسی سے لے کر پولیس افسران تک اور دوسری طرف منشی متصدی، وکیل اور عدالتی اہل کاروں سے لے کر اوپر تک فیسوں کی ادائیگی فریقین مقدمہ کو کنگال کر دیتی ہے۔ ان کے گھر اور زمینیں بھی بک جاتی ہیں۔ لیکن مقدمات کے فیصلے نہیں ہو پاتے۔ اکثر اوقات دیکھنے میں آتا ہے کہ دادا نے جس مقدمے کی تاریخیں بھگتی تھیں پوتا بھی اسی کیس کی تاریخیں اس سے بڑی عدالت میں بھگت رہا ہوتا ہے۔ گویا کہ ہمارا موجودہ عدالتی نظام ایسی خون چوسنے والی جونکوں کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ جو نسلوں تک لوگوں کا خون چوستا ہی چلا جاتا ہے۔

اس کے برعکس گاؤں کی پنچایت منشی، متصدی، وکیل، بابو، کلرک، سپاہی اور تھانیدار قسم کے لوگوں سے قطعی بے نیاز ہوتی ہے۔ گاؤں کا نمبردار چوکیدار کی مدد سے چار پانچ حقوں کا انتظام کر لیتا ہے۔ پنچایت میں حقے اور باتیں ساتھ ساتھ چلتیں۔ وقوعے کی تحقیق و تفتیش یہیں پر بیٹھ کر کی جاتی۔ جس کسی کو اس کیس کے بارے میں جو کچھ علم ہوتا، یہاں پر بے کم و کاست بیان کر دیا جاتا۔ یہاں پر نہ ہی کسی کے بولنے پر پابندی ہوتی اور نہ ہی کسی کے بولنے سے عدالت کی توہین ہوا کرتی۔

مدعی اور ملزم دونوں موجود ہوتے اپنا اپنا مدعا بیان کرتے۔ لیکن موجودہ عدالتوں کی طرح سچ کو جھوٹ بنا کر دکھانے کے لیے کسی کو بھی بے جا وکالت کی اجازت نہ دی جاتی۔ عام کیس جن میں ڈھکی چھپی کوئی چیز نہ ہوا کرتی۔ عموماً ایک آدھ بیٹھک میں ہی ان کا فیصلہ کر دیا جاتا اور اگر کہیں ضرورت محسوس ہوتی تو پنچایت کو مزید بیٹھکیں کرنے میں بھی کوئی قباحت نہ ہوتی۔ غرض کہ ہفتہ دس دن کے اندر اندر ہر کیس کو نمٹا دیا جاتا۔ ان پنچایتی عدالتوں کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ مدعی و ملزم کا ایک بھی دھیلا خرچ ہوئے بغیر مقدمات کے فیصلے دنوں میں سنا دیے جاتے۔ پنچایت نہ صرف اپنے فیصلوں پر پورا پورا عمل درآمد کرواتی بلکہ ایسے اقدامات بھی کرتی کہ آئندہ اس قسم کے جھگڑوں کے امکانات معدوم ہو جائیں۔

Facebook Comments HS