وہ اک تارا قسط نمبر 16

اور اس وقت جب ماسکو کی کیرماوٹسکایا Karmavitsky سٹریٹ کے ایک فلیٹ اور انگلینڈ کے چیسٹر فیلڈ کے مابین کوئی ڈیڑھ گھنٹہ تک ہونے والی گفتگو کا سلسلہ منقطع ہوئے بھی خاصی دیر ہو چکی تھی وہ ابھی تک کرسی میں دھنسی خود کو ڈھیلا چھوڑے ہوئے کہیں دور منظروں میں گم تھی۔ وہ منظر جو ان بوجھل دنوں میں اس کے لئے امید اور سکون کا باعث تھے۔
جب وہ ایسا کرتی تھی، نہیں جانتی تھی کہ رات کے اس دوسرے پہر فراٹے بھرتی ایک جیپ مضافات سے اولڈ ماسکو میں داخل ہور ہی تھی۔ نیو ارباط کی کشادہ شاہراہ سے نوونسکایا پر ٹرن لیتے ہوئے اس کی تیز رفتاری میں ذرہ برابر بھی فرق نہیں آیا تھا۔ پر وزارت خارجہ کی شاندار جاہ و جلال والی عمارت کے سامنے سے گزرتے اور سمولنسکایا چوک تک آتے ہوئے رفتار آہستہ ہو گئی تھی۔
ڈرائیو کرتے ہوئے سارجنٹ نے اک ذرا رخ پھیر کر ساتھ بیٹھے سکیورٹی افسر کی طرف استفہامیہ انداز میں دیکھا تھا۔
”دائیں ہاتھ ذرا آگے Beljard ہوٹل ہے۔ وہاں سے بائیں طرف مڑنا۔ چرچ کے پاس رک جانا۔“
ماسکو کی راتیں یورپ کے شہروں کی طرح جوان رہنے لگی ہیں۔ اولڈ ارباط سٹریٹ سے سیاحوں کے پرے مختلف ملحقہ سڑکوں پر بھی پھیلے ہوئے تھے۔
جیپ رک جانے پر تیس بتیس سال کی عمر کا نوجوان اترا اور سامنے چلتے ہوئے ایک تین منزلہ فلیٹ کو بغور دیکھنے لگا۔ حافظے نے کہا تھا۔ ٹھیک پہنچے ہو۔
دوسری منزل پر رکنا پڑا تھا۔ غربی سمت کے گہرے براؤن رنگ کے بند دروازے پر لگی نیم پلیٹ پر لکھے گئے دو نام ہیثم آگالیف اور اینا پولٹکو سکایا Anna Politkovskaya بڑے نمایاں نظر آئے تھے۔ اس نے فوراً بیل پر انگلی رکھ دی۔ اتنی جلدی اسے انٹر کوم پر جواب کی توقع نہیں تھی۔ مدعا بتایا اور بس چند لمحوں بعد دبلا پتلا ایک وجود یوں باہر نکل آیا جیسے وہ منتظر ہی بیٹھا ہو۔
یہ کیسا چہرہ تھا۔ متین سا، نرمی کی پھوار میں بھیگا بھیگا چہرہ جس کے نقوش میں کہیں سختی نہیں تھی۔ آنکھوں کے نیچے سرخی مائل حلقے تھے۔ آنکھیں چمکدار، ذہانت اور دلیری کی روشنی سے جیسے جگمگاتی سی بوائے کٹ براؤن شیڈ دیتے روکھے روکھے بکھرے بال، رائل بلیو پینٹ پر آف وائٹ موٹا ڈھیلا بے سرا سا پرانا کا رڈیگن۔
اور جب وہ اس کے کاغذات چیک کرتی تھی۔ سکیورٹی افسر نے اپنے دل میں کہا تھا۔
”تو یہ ہے وہ دھان پان سی پونے چھ فٹی عورت۔ چیچنیا کے لوگوں کی خیرخواہ۔ پیوٹن اور اس کی پالیسیوں کی بدترین ناقد۔“
اس کے ساتھ ساتھ چلتی ہوئی وہ آ کر جیپ کے پچھلے حصے میں بیٹھ گئی جو چاروں طرف سے بند تھی۔
اس وقت اسے احساس ہوا تھا کہ اس نے رات کا کھانا نہیں کھایا تھا۔ میخائل خودورکوسکائے Khodorkovskyکی گمشدگی پر مضمون لکھنے میں ایسی جتی تھی کہ سلسلہ اس وقت ٹوٹا تھا جب ہیثم کی انگلینڈ سے کال آئی۔ حالانکہ صبح اس نے اسے یاد دلایا تھا۔
”اینا تمہاری برتھ ڈے ہے آج۔ یاد رکھنا۔“
وہ پھر بھی بھولی بیٹھی تھی۔ اپنی ذات سے متعلق ہر بات وہ ہمیشہ سے نظر انداز کرنے اور بھولنے کی عادی تھی۔
اور اب سوچتی تھی کہ کیا تھا اگر وہ اس کی بات مان لیتی۔ اس وقت معدہ کتنا خالی خالی سا محسوس ہوتا ہے اور کافی کی طلب کتنی بڑھ گئی ہے؟
جیپ ڈھلانی راستوں کے پیچ و خم سے گزرتی ہوئی ایف ایس بی سکیورٹی سروس کی دنیا میں داخل ہو گئی جو کبھی ”کے جی بی“ کے نام سے جانی جاتی تھی۔ اب نام بدل گیا تھا۔ تب آج کی نسبت مار دھاڑ زیادہ تھی۔ حربے تو آج بھی وہیں ہیں۔ بس ذرا انداز بدل گئے ہیں۔
ڈرائیور نے دروازہ کھول کر کسی قدر رعونت سے اسے باہر آنے کا کہا۔ سکیورٹی افسر اسے عمارت کے مختلف حصوں سے گزارتا ہوا جہاں لے کر آیا، یہ سٹیل اور سیمنٹ کے ملاپ سے بنے ہوئے عالیشان بلاک کا ایک حصہ تھا جہاں ایک چھوٹے سے کمرے میں ایک بڑی میز کے گرد کرسیوں پر چھ لوگ بیٹھے تھے۔
کمرے میں قبرستان جیسی خاموشی تھی۔ چھ کے ٹولے میں سے صرف دو نے نیم ایستادہ ہو کر اسے احترام دیتے ہوئے اس کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا جو ساتویں اور غالباً اس کے انتظار میں تھی۔ بڑی تیکھی اور نوکیلی نظریں تھیں، جنہوں نے بار بار اٹھ اٹھ کر اسے دیکھا تھا۔ میز پر دیگر چیزوں کے ساتھ اس کی تینوں کتابیں Putin ’s Russia، Life In a Failing Democracy ”“ اور ”A dirty war“ کے ساتھ ایک موٹی فائل بھی پڑی تھی۔
”اس فائل میں یقیناً میرے نوایا Novaya Gazeta میں لکھے جانے والے مضامین ہوں گے۔ اس نے سوچا تھا۔“
اندر داخل ہونے اور بیٹھنے تک کے مرحلے میں اس نے برقی انداز میں ایک ایک چہرے کو پل پل ان پر رکتے ہوئے دیکھ ڈالا تھا۔ داہنے ہاتھ دوسرے نمبر پر بیٹھے ہوئے جس افسر نے سوال کیا تھا اس کا چہرہ ہی کرخت نہ تھا، لہجہ بھی پور پور حقارت میں ڈوبا ہوا تھا۔
”چیچنیا کے بارے میں ضرورت سے زیادہ حساس ہیں۔ ہمدردی کے پس منظر میں چیچن مسلمان سے محبت اور اس سے شادی نہیں ہے کیا؟“
سوال کرنے والا کتنے پانی میں ہے؟ یہ تو اس پر پہلے ہی ہلے میں ظاہر ہو گیا تھا۔
اس کی نظروں میں ٹھہراؤ تھا۔ گہرائی تھی۔ جیسے کسی لبالب بھرے پر سکون سے تالاب میں کوئی جاہل پتھر مار کر سمجھے کہ اس نے پانیوں کو درہم برہم کر دیا ہے۔
”پہلی بات میں نے کسی مسلمان سے نہیں انسان سے محبت اور شادی کی ہے اور یہ میرا نجی معاملہ ہے۔ دوسرے گزشتہ چھ سالوں میں جتنے چوٹی کے جرنلسٹ قتل کیے گئے یا جیلوں میں سڑ رہے ہیں نہ وہ خود مسلمان ہیں اور نہ ان میں سے کسی نے بھی کسی مسلمان سے شادی کی۔ سچائی ان کا جرم تھا۔
دفعتاً ڈائریکٹر جنرل کے موبائل کی بیپ سنائی دی۔ دوسری جانب سے استفسار یقیناً اسی کے بارے میں تھا۔ گفتگو کوڈ الفاظ میں تھی۔ ڈی جی کے چہرے پر بکھرے تاثرات اس جیسی زمانہ شناس عورت نہ سمجھتی بھلا کہیں ممکن تھا۔ گفتگو کا سلسلہ جب دوبارہ شروع ہوا۔ اس کا لہجہ نہ صرف حتمی تھا بلکہ اس میں سختی بھی تھی۔
آزادی چیچنیا کے لوگوں کا حق ہے۔ تیل کے ذخائر ان کی ملکیت ہیں۔ روس تو بڑے اوچھے ہتھکنڈوں پر اترا ہوا ہے۔ کسی بھی لڑائی کو جیتنے کے لئے کوئی اخلاقی جواز ہوتا ہے۔ یہاں سرے سے ہی کچھ نہیں۔ مظلوم اور محکوم کمیونٹی وہ خواہ کوئی بھی ہو اسکی سپورٹ اخلاقی فریضہ ہے۔ ”
ڈائریکٹر جنرل یوری چیکانے قدرے رسان سے کہا۔
”آپ روسی مفادات کے خلاف مت جائیے۔ روس کی ایک بہادر ترین اور بہترین جرنلسٹ کی حیثیت سے مجھے آپ کا بہت احترام ہے۔ مگر ہماری مجبوریوں کا کچھ خیال کیجیئے۔ ہم پر حکومت کا شدید دباؤ ہے۔“
وہ خفیف سا ہنسی۔
”کسی بھی پولیس کے لئے جرائم سے چشم پوشی کرنا گویا جرائم کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔“
”تم تو خود ڈاکو اور لٹیروں کی اولاد ہو۔ تمہارے آباء“ کوساک ”تھے نا۔
تیسرے نمبر پر بیٹھنے والے کا لہجہ ترشی اور نفرت سے بھرا ہوا تھا۔
بڑا گھٹیا سوال اور تضحیکی رویہ تھا جو اس کی انا کو کچلتا ہوا اسے اس سوکھی لکڑی کی طرح چٹخا گیا جو آگ میں ڈالتے ہی بھڑ بھڑ جلنے لگتی ہے۔ اس کے لہجے میں زہر گھل گیا تھا۔ اس کی آنکھوں سے طنز بھرے تیروں کی بوچھاڑ نکلی جو ان کے کلیجوں میں ایک طرح پیوست ہو گئی۔
”پڑھا کرو۔ تاریخ سے واقفیت تم لوگوں کے لئے بہت ضروری ہے تاکہ نالائقی ظاہر نہ ہو۔“
”یہ جس ماسکو میں تم بیٹھے بڑھکیں مار رہے ہو یہ میرے آباء کو ساکوں کا زاروں کو دان پن تھا۔ جو تاتاریوں کے تلوے چاٹتے تھے۔ ویہود (خراج) ادا کرتے تھے۔ میرے بڑے، زاروں کے ہاتھوں کی وہ کنجیاں تھے کہ جن کے بغیر وہ مشرق کا دروازہ کھولنے کے اہل ہی نہ تھے۔“
اگر ڈائریکٹر جنرل وہاں موجود نہ ہوتا تو یقیناً بقیہ لوگوں نے اسے کسی ٹارچر سیل میں لے جا کر اس کی تواضع کرنی تھی اور اسے یوں پٹر پٹر بولنے کا مزہ چکھانا تھا۔ پر ہلکی پھلکی تنبیہ کے ساتھ اسے رخصت کر دیا گیا۔

