شيراز کے صوفی روزبھان بقلی کے کشف الاسرار


صوفی روزبھان بقلی 1128 ع میں فاسا شہر میں دیلامائٹ نسل کے ایک خاندان میں پیدا ہوئے، جو آج ایران کے صوبے فارس کا شہر ہے۔ صوفی روزبھان بقلی ایک پنساری کے طور پر کام کرتے تھے۔ اگرچہ صوفی روزبھان بقلی نے بتایا ہے کہ انہیں تین، سات اور پندرہ سال کی عمر میں عشق الٰہی کے اسرار ملنے شروع ہو گئے تھے۔ آپ نے کشف قلوب اسراروں کی نقاب کشائی میں ان خوابوں کو وجدانی کیفیت کے طور پر بیان کیا ہے۔

15 سال کی عمر میں، حضرت بقلی نے 18 مہینے صحرا میں گزارنے کے لیے فاسا کو چھوڑ دیا، اس دوران آپ پر مزید اسرار و رموز روشن ہوئے۔ صحرا سے نکلنے کے بعد آپ ایک صوفی خانقاہ میں شامل ہو گئے۔ راز و اسرار کی نقاب کشائی میں، صوفی روزبھان بقلی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی پہلی ”راز افشاں“ صوفیاء کے ساتھ تربیت کے دوران کی۔ آخرکار آپ ایک صوفی مرشد اور روحانی رہنما کی تلاش کے لیے فاسا واپس آئے۔ وہاں آپ کی ملاقات مرشد شیخ جمال الدین ابی الوفاء ابن خلیل الفساعی سے ہوئی اور آپ ان کے شاگرد و مرید ہو گئے۔

صوفی روزبھان بقلی نے شام، عراق، ایران، سمیت عرب میں کرمان کا سفر کرتے ہوئے دو بار حج کیا۔ آپ 1165 ع میں شیراز واپس آئے اور ایک خانقاہ قائم کی، جہاں آپ نے 50 سال تک صوفیا، مریدین کو تصوف کی تعلیم دی، اور کئی مریدین آپ سے مستفید ہوئے۔ آپ کے دو بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں۔ آپ کا انتقال ع 1209 میں شیراز میں ہوا۔ اور آپ کو آپ کی قائم کردہ خانقاہ میں دفنایا گیا۔

صوفی روزبھان بقلی کی خانقاہ صوفیا کرام کی تربیت کا مرکز اور آپ کی تعلیمات آپ کی موت کے بعد کئی نسلوں تک جاری رہی۔ اور آپ کا مزار شیراز شہر کی زیارت گاہ بن گیا۔ 1972 ع میں، صوفی روزبھان بقلی کے مقبرے کو ایرانی محکمہ آثار قدیمہ میں شامل کر کے دوبارہ سے مزار کو بحال کیا گیا۔

آپ کے بارے میں دو سب سے اہم ملفوظات (ہیجوگرافی) آپ کی وفات کے تقریباً ایک صدی بعد آپ کے خاندان کے افراد نے لکھی ہیں : ایک ”دی گفٹ ٹو دی پیپل آف نوسس“ ، سن ( 1300 عیسوی) ؛ اور دوسری ”اسپرٹ آف دی گارڈن“ ، روزبھان کی زندگی پر سن ( 1305 عیسوی) ۔ مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا، ہندوستان اور فارس کے بہت سے لوگ اور صوفیا اسکول آج بھی ان کی تحریروں کا مطالعہ کرتے ہیں۔

صوفی روزبھان بقلی نے اپنے روحانی تجربات اور اپنی شاعری کو ایک گھنے اور روحانی نثری انداز میں لکھا ہے۔ آپ نے زیادہ تر عربی اور فارسی میں لکھا ہے۔ آپ کی تحریریں منفرد ہیں، آپ اپنی ذاتی زندگی اور اپنے خاندان کے بارے میں بتاتے ہیں۔ حضرت بقلی بہت سے ابتدائی صوفیاء کرام کے پرجوش اقوال (شطحیات) سے لگاؤ اور دفاع کے لیے جانے جاتے تھے اور اسی لیے آپ کو ”ڈاکٹر ایکسٹیٹکس“ کہا جاتا تھا۔

صوفی روزبھان بقلی نے اپنی کتاب ”شرح الشطحیات“ جو 1174 ء میں مکمل کی۔ آپ نے 1184 ء میں ’ ”دی سپرٹ فونٹ“ بھی لکھی۔ اسرار و کشف کی نقاب کشائی یا ”کشف الاسرار“ آٹھ سال بعد 1189 ء میں مکمل کی۔ یہ ایک سوانح عمری بھی ہے اور کشف السرار اور صوفی تعلیمات کی ڈائری بھی۔ آپ کے بہت سے قلمی کام عشق حقیقی کے صوفی نظریات پر زور دیتے ہیں، اور ابتدائی صوفی بزرگوں کا آپ اپنے پرجوش کلام میں دفاع بھی کرتے ہیں۔ حضرت بقلی کے قلمی متن میں صوفی بزرگ منصور حلاج (رضہ) ایک بنیادی مثال تھے۔ آپ خوبصورتی، محبت و عشق، وحدانیت اور وحدت الوجود کے نظریے کے لیے جانے جاتے تھے۔ تاہم آپ کی تحریروں کا مطالعہ پندرہویں صدی کے جامی اور سترہویں صدی کے ایک مغل شہزادے نے کیا تھا۔

صوفی روزبھان بقلی اپنی سوانح عمری میں اپنی زندگی کا سفر یوں بیان کرتے ہیں :

” میں پندرہ سال کا تھا جب ان راز و اسرار کی ابتدا میرے دل میں ہوئی۔ میں اب پچپن سال کا ہوں ؛ میں آپ کو اپنی پردہ پوشی کے راز اور اپنی باریک گواہی، جو چیزیں آپ کو نہی معلوم، کیسے بیان کروں؟ لیکن میں کچھ باتیں بیان کروں گا جو پچھلے دنوں مجھ پر نازل ہوئی تھیں، اور میں آپ کو بتاؤں گا کہ اس کے بعد میرے ساتھ کیا ہوا، اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا۔

سمجھو (اور خدا تمہاری سمجھ میں برکت دے! ) کہ میں ان جاہل شرابیوں کے درمیان میں پیدا ہوا ہوں جو گمراہ ہو گئے تھے، اور میری پرورش بازار کے عام لوگوں نے کی تھی۔ ”گویا وہ گدھے ہیں جو ڈرتے ہوئے، شیر سے بھاگ رہے ہیں، (القرآن)“ ۔ تین سال کی عمر تک۔ میرے دل میں سوال پیدا ہوا، ”تمہارا خدا، مخلوق کا خدا کہاں ہے؟“ ہمارے گھر کے گیٹ پر مسجد تھی۔ میں نے کچھ بچوں کو دیکھا اور ان سے پوچھا کیا تم اپنے خدا کو جانتے ہو؟

انہوں نے کہا کہ: کہا جاتا ہے کہ اس کے ہاتھ پاؤں نہیں ہیں۔ کیونکہ انہوں نے اپنے باپوں اور ماؤں سے سنا تھا کہ خدا اعضاء اور اعضاء سے بالاتر ہے۔ لیکن جب میں نے یہ سوال پوچھا تو میں بے انتہا خوشی سے بھر گیا۔ میرے ساتھ کچھ ایسا ہی ہوا جو خدا کے نام [ذکر] اور مراقبہ کی زیارت کے دوران ہونے والی روشنیوں سے ہوتا ہے، لیکن مجھے اس کی حقیقت کا علم نہیں تھا۔

میں سات سال کی عمر کو پہنچا، اور میرے دل میں اللہ پاک کی یاد اور اطاعت کی محبت پیدا ہوئی، اور میں نے اپنے ضمیر کو تلاش کیا اور میں نے جان لیا کہ یہ کیا ہے۔ پھر میرے دل میں پرجوش محبت پیدا ہوئی۔ میرا دل پرجوش محبت میں پگھل گیا۔ میں اس وقت عشق کا دیوانہ تھا اور میرا دل اس وقت یاد ازلی کے سمندر میں اور تقدس کے عطروں کی خوشبو میں غوطہ زن تھا۔ پھر بغیر کسی تکلیف کے میرے اندر خوشیوں کی سیر نمودار ہوئی، ایک نازک جذبات نے میرے دل کو مشتعل کر دیا، اور میری آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔ میں نہیں جانتا تھا کہ یہ کیا ہو سکتا ہے، لیکن خدا کے ناموں کا ذکر اعلیٰ ترین اور افضل کام ہے۔ اور اس وقت میں سارے وجود کو ایسے دیکھ رہا تھا جیسے وہ خوبصورت چہرے ہوں اور اس دور میں مجھے خلوتوں، دعاؤں، عبادتوں اور بڑے بڑے صوفی مرشدوں کی زیارت کا شوق بڑھ گیا۔

جب میں پندرہ سال کو پہنچا تو گویا پوشیدہ دنیا سے مجھے مخاطب کیا گیا اور مجھ سے کہا گیا کہ آپ نبی ہیں۔ میں نے اپنے ضمیر سے کہا، ”میں نے اپنے والدین سے سنا ہے کہ محمد (ص) کے بعد کوئی نبی نہیں ہے، تو میں کیسے نبی ہو سکتا ہوں، جب کے میں کھاتا پیتا ہوں، فطرت کی پکار پر لبیک کہتا ہوں، اور شرم گاہیں رکھتا ہوں؟“ کیونکہ میں سمجھتا تھا کہ نبیوں میں یہ عیب نہیں ہوتے۔ وقت گزرتا گیا، اور میں جذباتی محبت میں کھو گیا۔

میں اپنی دکان سے ظہر کی نماز کے لیے اٹھا اور وضو کے لیے پانی کی تلاش میں صحرا میں نکل گیا۔ میں نے ایک خوبصورت آواز سنی، اور میرا ضمیر اور میرا دل جھنجھلا گیا۔ میں نے کہا، ”تم بولنے والے کون ہو! میرے قریب آؤ!“ میں قریب ایک پہاڑی پر چڑھا تو میں نے درویش کے لباس میں ایک خوبصورت شخص کو دیکھا لیکن میں بولنے سے قاصر تھا۔ اس درویش نے خدائی وحدانیت کے بارے میں کچھ کہا، لیکن میں اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا۔ ایک حیران کن اور حیران کن کیفیت مجھ پر طاری ہو گئی۔

میں خوفزدہ تھا، اور لوگ ادھر ادھر گھوم رہے تھے۔ میں ایک کھنڈر میں تھا، اور رات ڈھلنے تک وہیں رہا۔ پھر میں وہاں سے چلا گیا اور اپنی دکان پر واپس آیا، اور خوشی، پریشانی، آہوں اور آنسوؤں میں صبح تک وہیں رہا۔ میں حیران و پریشان تھا۔ میری زبان پر بے اختیار یہ الفاظ نکلے، ”تیری بخشش! تیری بخشش!“ ۔ میری زبان خاموش تھی، اور ایسا لگتا تھا جیسے میں کئی دن سے یہاں بیٹھا ہوں۔ میں ایک گھنٹہ وہاں بیٹھا رہا۔ پھر خوشی مجھ پر حاوی ہو گئی، اور میں نے دکان سے پیسے کا ڈبہ اور جو کچھ دکان میں تھا سب سڑک پر پھینک دیا۔ میں اپنے کپڑے پھاڑ کر صحرا کی طرف چلا گیا۔ میں ڈیڑھ سال اسی حالت میں رہا، پریشان اور حیران، روتا اور پرجوش رہا۔ زبردست جوش و خروش اور پوشیدہ ملاقاتیں (کشف) ہر روز ہوتی تھیں۔ میں نے آسمانوں، زمینوں، پہاڑوں، صحراؤں اور درختوں کو ایسے دیکھا جیسے وہ سب روشنی ہوں۔

میں [اپنی ابتدائی زندگی کے ] اس کشف سے نکل آیا تھا، اور میں صوفیاء کی خدمت کا متمنی تھا۔ چنانچہ میں نے اپنا سر منڈوایا، حالانکہ میرے اچھے اور خوبصورت بال تھے۔ میں صوفیوں میں داخل ہوا، اور ان کی خدمت میں رہ کر کام کیا، اور روحانی و ذکر کی مشقیں کیں۔ میں نے قرآن پڑھا اور حفظ کیا۔ میرا زیادہ تر وقت صوفیوں کے درمیان، خوشی اور روحانی کیفیت میں گزرتا تھا۔ لیکن چھپی ہوئی کشف الاسرار کی راہ میں میرے ساتھ کچھ نہیں ہوا یہاں تک کہ ایک دن میں خانقاہ کی چھت پر پوشیدہ دنیا پر غور کر رہا تھا۔ اور میں نے نبی کریم ﷺ کو حضرت ابوبکر رض کو، حضرت عمر رض کو، حضرت عثمان رض اور علی رضی اللہ عنہم کو اپنے سامنے سے گزرتے ہوئے دیکھا، اور یہ میری پہلی کشف الاسرار تھی۔

لیکن اس وقت میرے پاس کوئی مرشد نہیں تھا، اور میں اپنے گھر [پاسا] واپس آیا تاکہ ایک ایسے مرشد اور رہنما کی تلاش کروں جو خودی سے نجات پانے والوں میں سے ہو۔ پھر خدائے بزرگ و برتر نے مجھے شیخ جمال الدین ابی الوفا ابن خلیل الفساعی رحمۃ اللہ علیہ کی طرف رہنمائی فرمائی۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنی صحبت میں میرے لیے فرشتوں کے دائرے اور بلا روک ٹوک کشف الاسرار کے دروازے کھول دیے، اور مرشد کی صحبت میں روحانی پوشیدہ علوم اور اسرار سے بھر گئیں، یہاں تک کہ بے شمار خوشیاں اور اسرار بے نقاب ہوئے۔

Facebook Comments HS