(علامتی افسانہ) کدو، ٹینڈے اور کریلے


”اؤے مجھے بوری سے باہر نکالو، اؤے ہم کوئی آڑھتیوں کے غلام ہیں“ بوری کے اندر سے کریلے کے دھاڑنے کی آواز آ رہی تھی۔
کدو اور ٹینڈے کے لبوں پہ طنزیہ مسکراہٹ آ گئی۔ پاس بیٹھی لال مرچی، ہائبرڈ مرچ اور بالوں والا چھوٹا ٹینڈا بھی استہزائیہ ہنسی ہنسنے لگ گئے۔

”کریلے نے مٹروں، مولیوں اور گاجروں کے اندر گالم گلوچ کے کلچر کو فروغ دے کر کھیت کی اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا تھا۔ میرے خلاف اس قدر زہر اگلا کہ کھیت کے مالکوں کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا اور مجبوراً مجھے کھیت کو چھوڑ کر جانا پڑا۔ پھر یہ اتنا منہ زور ہو گیا کہ کھیت کے مالکوں سے ٹکڑ لے بیٹھا اور آج یہ احسان فراموش بوری میں بند ہوا پڑا ہے“ کدو نے کہا۔

ٹینڈے نے اسے لقمہ دیتے ہوئے کہا ”بھائی جی! کریلے اور اس کے حواریوں نے مجھے بھی آپ سے بد ظن کرنے کی بڑی کوشش کی۔ بڑی بڑی آفریں آئیں لیکن آپ میری کمر پہ شاباش کا ہاتھ پھیریں کہ مجال ہے میں نے آپ سے بے وفائی کی ہو“ ۔ کدو نے ٹینڈے کی کمر کی بجائے اس کے سر پہ ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا جس پہ ٹینڈا شرما کر سرخ ہو گیا۔

بوری کے اندر سے کریلے کی پھر سے دھاڑنے کی آواز آئی ”اؤے یہ دونوں جھوٹ بول رہے ہیں۔ کھیت کا سارا پانی تو کدو اور ٹینڈے پی جاتے تھے باقی سبزیاں بیچاری تو پانی کی ایک بوند تک کے لیے ترس جاتی تھیں۔ میرا جرم تو بس یہ تھا کہ کھیت میں پانی کی تقسیم میں ہونے والی کرپشن کے خلاف آواز اٹھانا“ ۔

قریب پڑا بیگن غصے سے جامنی بھبھوکا ہو کر بولا ”اؤے گستاخ کریلے! زبان سنبھال کر بات کر۔ میرے محسن میرے لیڈر، کدو اور ٹینڈے اگر کھیت کو ملنے والا آدھا پانی خود پی جاتے تھے تو باقی کا آدھا دوسری سبزیوں کے لیے بھی چھوڑ دیتے تھے“ ۔ شلجم دبی دبی ہنسی ہنسا اور بڑبڑایا ”سالا وطاؤں بیگن اب تک کئی سبزیاں بدل چکا ہے۔ کدو اور ٹینڈے پہ زوال آیا تو کسی اور کو اپنا باپ بنا لے گا“ ۔

تھوڑے فاصلے سے گوبھی کی آواز آئی ”یہ کریلا دن کو تو کھیت میں کریلا ہوتا تھا لیکن رات کو بھنڈی کا مرید بن جاتا تھا۔ اچھا ہوا آج یہ بوری میں بند پڑا ہے ورنہ پتہ نہیں ہمارا کیا انجام ہوتا۔ دیکھ لینا ایک دن بھنڈی بھی اس کا ساتھ چھوڑ جائے گی“ ۔

کریلے نے یہ سن کر کہا ”خدا کی قدرت، جن کو کھیت میں دوسری بار مانگنے پہ پانی اور کھاد تک نہ ملتی تھی۔ جن کو کھیت میں کوئی جانتا تک نہ تھا۔ یہ تو میں تھا جو ان تلنگوں کو کھیت میں جان پہچان دلوائی اور آج میری ہی اگائی ہوئی سبزیاں میرے خلاف بول رہی ہیں“ ۔ ”اؤے مجھے بوری سے باہر نکالو۔ میں ان سب کی ایک بار پھر دوڑ نہ لگوا دوں تو پھر کہنا“ ۔

سبزی منڈی کے باہر قیمتی گاڑیاں آ کر رکیں تو مسلح گارڈز نے بھاگ کر ان کے دروازے کھولے۔ زرق برق قیمتی پوشاکوں میں ملبوس کچھ لوگ باہر نکلے اور پورے پروٹوکول کے ساتھ منڈی میں داخل ہو گئے۔ یہ لوگ منڈی کے آڑھتی کہلاتے تھے۔ جب یہ لوگ سبزی منڈی کے درمیان بچھائی گئی مخملی کرسیوں پہ بیٹھ گئے تو طرح طرح کے پھل اور میوے ان کے سامنے میزوں پہ سجا دیے گئے۔

سبزی منڈی کے منیجر نے آڑھتیوں کے سامنے روزانہ کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا ”جناب عالی! سبزی منڈی کے اندر چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں کہ سبزیوں کی فروخت سے ملنے والے کمیشن کا بڑا حصہ تو آڑھتی کھا جاتے ہیں۔ سبزیوں کی قیمتوں کو بھی کنٹرول کر کے آسمان تک پہنچایا ہوا ہے۔ بڑے بڑے بنگلے اور قیمتی جائیدادیں بنا کر بیٹھے ہیں۔ مرنے سے پہلے ہی دنیا کے اندر ہی جنت والی زندگی گزار رہے ہیں“ ۔

یہ سن کر بڑی مونچھوں والے آڑھتی نے انگور کے گوشے سے کچھ انگور توڑ کر اپنے منہ میں ڈالے اور کہا ”ہمارے خلاف چہ مگوئیاں اور ہم پر تنقید کرنے والے عوام خود کیا دودھ کے دھلے ہیں۔ ان کو بھی جب بھی جہاں بھی موقع ملے یہ رج کے کرپشن کرتے ہیں“ ۔

قریب بیٹھے اونچی پگڑی اور لمبے بوٹوں والے ایک آڑھتی نے کہا۔ ”سبزی منڈی کے اندر اتنی سڑاند کیوں ہے؟“

قریب کھڑے سبزی منڈی کے چھوٹے منشی نے کان کے پیچھے سے پنسل اور نیفے سے مڑی تڑی کاپی نکالی اور اس پہ سبزیوں کا حساب کتاب لکھتے ہوئے بولا ”سائیں میڈا! اے تر ٹ موئیاں پرانی سبزیاں ترانڈ مچائی پئی ہن“ (سر! کچھ سبزیاں پرانی اور باسی ہو چکی ہیں جو سڑاند پیدا کر رہی ہیں ) ۔

”تو بھئی، ان سب کو بہاول پور ریلوے اسٹیشن کے پاس والے دھوبی گھاٹ کے پانی میں پھینکوا دیا جائے اور سبزی منڈی میں جوان اور ترو تازہ سبزیاں لائی جائیں“ انجمن آڑھتیاں کے صدر نے حکم جاری کیا۔

رات کا کچھ حصہ بیت گیا تو سبزی منڈی کے گیٹ پہ خالی ٹرک لگا دیے گئے اور پرانی اور باسی سبزیوں کو بوریوں میں بند کر کے ٹرک پہ لادنے کا کام شروع ہو گیا۔

( 29 نومبر 2023 کو لکھا گیا علامتی افسانہ)

Facebook Comments HS