دادا جی والا پاکستان
ریڈیو کو ریشمی غلاف سے ڈھانپ کر چوراہے کی نیم پر کھونٹی سے لٹکا رکھا تھا۔ سبھی گاؤں والے اس کے ارد گرد جمع تھے۔ آج کی خبر بہت اہم تھی۔ آدھا گاؤں اس خبر کو پیشگی بھانپ کر مال مویشی سمیت راتوں رات بھاگ چکا تھا۔ پندرہ بیس لوگ موجود تھے جو سہمے ہوئے تھے اور ہر لمحے نزدیک آتی موت کو محسوس کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک میرے والد بھی تھے جن کی میں اکلوتی اولاد تھا۔ میں اس وقت ابا جی کے ساتھ ریڈیو کے پاس حیران کھڑا تھا۔
سب کے اترے ہوئے چہروں کو دیکھ رہا تھا۔ سوچ رہا تھا کہ اب کیا ہونے والا ہے۔ ریڈیو پر کوئی آہستہ سے بولتا ہے۔ رات کے بارہ بجے ہیں۔ یہ ریڈیو پاکستان ہے۔ پاکستان آزاد ہو چکا ہے۔ آپ سب کو پاکستان بننے کی بہت بہت مبارک باد۔ سبھی خوشی سے پہلے کھل اٹھے پھر خاموش ہو گئے۔ بغیر کچھ کہے سنے اپنے اپنے گھر کو لوٹ گئے۔ میں ابا کے ساتھ گھر کی طرف چل پڑا۔ راستے میں ابا جی سے پوچھا کہ ابا! پاکستان بن گیا ہے۔ اب کیا ہو گا۔
پاکستان کہاں بنا ہے؟ کیا ہم پاکستان میں نہیں رہتے۔ ہم تو اسی گاؤں میں رہتے ہیں۔ کیا اب ہم وہاں جائیں گے جہاں پاکستان بنا ہے؟ میرے آدھے دوست اپنے رشتہ داروں کے پاس چلے گئے ہیں۔ رام، جیون، سادھو کے علاوہ موہنی بھی چلی گئی ہے۔ میں اکیلا رہ گیا ہوں۔ کیا ہم یہیں رہیں گے یا جہاں پاکستان بنا ہے وہاں جائیں گے اور کب جائیں گے؟ ابا جی نے میرے سوالوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ خاموشی چلتے رہے۔ گھر پہنچ کر انھوں نے مجھ سے کہا کہ جاؤ، سو جاؤ۔
میں دادی کے پاس چلا گیا۔ دادی کو کہا کہ دادی! پاکستان بن گیا ہے۔ اب ہم پاکستان جائیں گے؟ دادی نے خوش ہو کر کہا کہ یہ تو بڑی اچھی خبر ہے۔ اب ہم انگریزوں سے ہمیشہ کے لیے آزاد ہو گئے ہیں۔ یہ ملک ہم نے اسلام کے نام پر حاصل کیا ہے۔ اب ہم آزادی سے اسلام کی تعلیمات پر عمل کریں گے۔ اب کوئی ہندو ہماری اذان کو نہیں روکے گا اور کوئی سکھ ہماری عبادت گاہ پر حملہ آور نہیں ہو گا۔ اب ہمیں چھپ کر گائے ذبح نہیں کرنی پڑے گی اور نہ ہی گوشت پکانے سے جیون کی اماں کی گالیاں کھانا پڑے گی۔
جیون سے مجھے یاد آیا۔ میں نے دادی سے کہا کہ جیون تو اپنے رشتہ داروں کے پاس چلا گیا ہے۔ کہتا تھا کہ بہت خون خرابا ہونے والا ہے۔ اب ہم اکٹھے کبھی نہیں کھیلیں گے۔ اب ہم علاحدہ علاحدہ رہیں گے اور علاحدہ سکول میں پڑھیں گے۔ سب کچھ بدل جائے گا اور ہم بھی بدل جائیں گے۔ میں نے جیون سے پوچھا کہ تم یہ سب کیوں کہہ رہے ہو؟ جیون نے کہا کہ اس کی بڑی پھوپھو نے کل رات اسے یہ بتایا ہے کہ جب بٹوارا ہوتا ہے تو بہت خون خرابا ہوتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو مارتے ہیں اور سب کچھ چھین لیتے ہیں۔ کوئی کسی کا ساتھ نہیں دیتا۔ ہر کسی کو اپنی پڑی ہوتی ہے۔ کسی کی جان محفوظ نہیں رہتی۔ لوگ پاگل ہو جاتے ہیں اور سب کو شیر کی طرح چیڑ پھاڑ دیتے ہیں۔ دادی نے کہا کہ جیون کی پھوپھو بڑی لڑاکا ہے۔ تم اس کی باتوں پر توجہ نہ دو۔ کچھ نہیں ہونے والا۔ ہم نے اپنا وطن حاصل کر لیا ہے۔ کل ہم اپنے وطن چلیں جائیں گے۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ مجھے نیند آئی ہوئی تھی۔ میں سو گیا۔
دادا جی یہ کہہ کر خاموش ہو گئے۔ میں نے دادا سے پوچھا کہ صبح اٹھ کر آپ نے پاکستان کو بنے ہوئے دیکھا تھا۔ دادا نے آہ بھری اور رونے لگے۔ میں حیران ہوا۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ دادا اچانک رونے کیوں لگ گئے ہیں۔ دادا نے بتا یا کہ جب میں صبح اٹھا تو ویرانے میں ایک بڑھیا کی گود میں پڑا تھا۔ میں نے اماں، اماں پکارا تو اس بڑھیا نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور کہا کہ چپ ہو جاؤ۔ نہیں تو یہ لوگ تمہیں مار ڈالیں گے۔ آواز نہیں نکالنا۔ میں نے سہمی ہوئی آواز میں پوچھا کہ تم کون ہو؟ میں یہاں کیسے پہنچا؟ میری اماں، ابا، دادا اور دادی کہاں ہیں۔ اس نے روتے ہوئے کہا کہ سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔ کچھ بھی باقی نہیں رہا ہے۔ اب میں ہی تمہاری سب کچھ ہوں۔ تم بس چپ رہو اور خاموشی سے یہیں پڑے رہو۔ کوئی پوچھے کہ یہ تمہاری کیا لگتی ہے تو بتا نا کہ یہ میری دادی ہے۔ میں نے دادا سے پوچھا کہ پھر کیا ہوا؟ دادا نے بتایا کہ انگریز سے آزادی حاصل کرنے کی سزا ملی۔
سزا کیسی؟ دادا نے بتایا کہ انگریزوں سے ہم نے آزادی مانگی تھی۔ انھوں نے ہمیں آزاد تو کر دیا لیکن اس آزادی کے بدلے مجھے اپنے ماں باپ، دادا، دادی، گھر اور وطن سے محروم ہونا پڑا۔ میں نے دادا سے پوچھا کہ آزادی کے لیے آپ نے سب کچھ گنوا دیا تھا۔ کیا آپ کو اس بات کا دکھ ہے کہ آزادی کے لیے یہ قربانی نہیں دینی چاہیے تھے؟ دادا جی نے کہا کہ یہ انسان کے اختیار میں نہیں ہوتا کہ وہ کیا چاہتا ہے اور قدرت اس کے مقدر میں کیا لکھ رکھتی ہے۔
ہمیں کیا پتہ تھا کہ آزادی کا مطلب ہر چیز کی قربانی تھا۔ میں نے دادا جی سے کہا کہ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ اب اگر کوئی مجھے یہ کہے کہ ہم آپ کو اس ملک سے آزاد کرتے ہیں۔ آپ اس آزادی کے بدلے اپنے والدین اور دادا، دادی کی قربانی دے دیں۔ تو کیا میں یہ قربانی دے دوں؟ دادا جی خاموش ہو گئے۔ انھوں نے میرے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔ کافی دیر میں دادی جی کی طرف دیکھتا رہا کہ شاید وہ جواب دیں مگر وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبے رہے۔
میں نے دادا جی کی خاموشی سے یہ نتیجہ نکالا کہ دادا جی اپنے کیے پر اور اپنے ساتھ بیتے ہوئے سانحے پر خوش نہیں ہیں۔ اگر کوئی مجھ سے یہ کہے گا کہ تمہیں اس ملک سے آزادی کے بدلے والدین اور دادا، دادی کی قربانی دینی ہوگی اور یہاں سے ہمیشہ کے لیے جانا ہو گا تو میں کبھی یہ قربانی دینے کے لیے تیار نہیں ہوں گا۔ جو کچھ مرضی ہو جائے۔ میں اسی ملک میں رہوں گا اور اس ملک کی غلامی کو اپنے لیے غنیمت سمجھوں گا۔ میں ایسی آزادی کو لے کر کیا کروں گا جس پر میں اپنے دادا کی طرح مطمئن نہ ہو سکوں!

