بلوچستان کی تعلیمی حالت


بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے جس کا رقبہ 347190 مربع کلو میٹر پر مشتمل ہے۔ اور آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے جس کی کل آبادی تقریباً 2 کروڑ 94 لاکھ ہے۔ صوبہ بلوچستان میں مختلف اقوام آباد ہیں، جس میں پشتون، بلوچ، ہزارہ کثیر تعداد میں ہیں۔ اس صوبے کو پاکستان کی آزادی سے لے کر موجودہ دور تک ہر طرح سے نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ معدنیات سے مالا مال اور سونا اگلتی زمین آج بے بس و لاچار ہے۔ اس وقت تعلیم جیسے اہم اور بنیادی موضوع پر بات کرتے ہیں۔ صوبہ بلوچستان میں معیاری تعلیم کی بات تو درکنار، غیر معیاری نظام تعلیم بھی خستہ حال اور شکستہ حال ہے۔ اس کا ذمہ دار کس کو ٹھہرایا جا سکے اور کون اس کا جواب دہ ہے؟

صوبہ بلوچستان کے مکتبی نظام پر سرسری نگاہ ڈالتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق بلوچستان بھر میں کل 14 ہزار 978 سرکاری سکول ہیں جن میں 10 ہزار 55 سکول لڑکوں کے، چار ہزار 238 لڑکیوں جب کہ 686 سکول لڑکوں اور لڑکیوں کے مشترکہ ہیں۔

محکمہ تعلیم کے اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان میں 11 ہزار 786 سکول فعال ہیں جب کہ تین ہزار 193 سکول غیر فعال ہیں۔ 13 ہزار 21 سکولز عمارت جب کہ 1958 سکول بغیر عمارت کے ہیں۔ جو عمارتی سکول ہیں ان میں 47 فیصد عمارتیں خستہ حال اور غیر اطمینان بخش ہیں۔ 9 ہزار سکول ایسے ہیں جہاں واش رومز کی سہولیات میسر نہیں ہیں یعنی ہر چار میں سے تین کو بیت الخلا کا مسئلہ ہے۔ 12 ہار 680 سکولوں میں پانی کی سہولت موجود نہیں ہے یعنی ہر 3 میں سے 2 سکولز کو پانی کی قلت درپیش ہے۔ ان کے علاوہ صوبے میں آٹھ ہزار چودہ سکولوں کی چاردیواری نہیں ہے جب کہ 11 ہزار 865 میں بجلی کا انتظام نہیں ہے یعنی ہر پانچ میں سے 4 میں بجلی نہیں ہے۔

”الف اعلان“ تنظیم کے سروے کے مطابق بلوچستان میں 27 لاکھ بچوں کی عمر سکول جانے کی ہے، مگر اس میں صرف 9 لاکھ سکولوں میں ہیں باقی تقریباً 18 لاکھ بچے سکول سے باہر ہیں۔ پرائمری میں کثیر تعداد میں داخلے ہوتے ہیں، مڈل تک آتے آتے آدھے سے زیادہ سکول چھوڑ دیتے ہیں۔ سکول چھوڑنے کی شرح خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے۔

سروے کے مطابق 5 سے 16 سال کی عمر کی 62 فیصد لڑکیاں سکول نہیں جاتیں، لڑکیوں کے پرائمری سطح پر داخلے کی شرح 35 فیصد ہے جب کہ میٹرک تک آتے آتے چار فیصد رہ جاتی ہے۔ 23 فیصد ایسی لڑکیاں ہوتی ہیں جو کبھی سکول گئی ہوں۔

بلوچستان میں مردوں کی شرح خواندگی 37 فیصد اور خواتین کی 15 فیصد ہے۔ اساتذہ کی 17 فیصد منظور شدہ اسامیاں خالی ہیں۔ 30 فیصد اساتذہ ہر روز غیر حاضر رہتے ہیں۔

یہ وہ سرسری تجزیاتی نگاہ تھی جس سے پورے بلوچستان کی تعلیمی معیار کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس کے پیچھے کچھ بنیادی عناصر ہیں جیسے غربت، جنسی تفریق اور ٹرانسپورٹ کی کمی وغیرہ۔

غربت نے عوام کو شعور کی راہ پر گامزن ہونے ہی نہیں دیا، نہ جنسی تفریق نے خواتین کی کامیابی کے راستے ہموار کرنے دیے بلکہ ہر جگہ پر اس تفریق نے شعور کے راستے میں روڑے اٹکائے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ کی کمی کی وجہ سے ہر شخص کو شہر تک آنے جانے کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس عوض وہ تعلیمی سفر جاری نہیں رکھ سکتا ہے۔

حکومت پاکستان اور چند پر اسرار طاقتوں نے تو پہلے ہی دن سے یہ عہد کیا ہے کہ بلوچستان کو آگے بڑھنے اور باشعور ہونے دینا ہی نہیں ہے کیوں کہ اگر یہ باشعور ہو گئے تو اپنا حق مانگنے لگ جائیں گے وہ جو کہ ان کو ہر گز ملنا نہیں چاہیے۔

Facebook Comments HS