نپولین اور پاکستانی سائنسدان جنرلز


بچپن میں ہالی وڈ کی فلم ”گلیڈییٹر“ دیکھی جس کا اثر کئی دن تک رہا، سچویشنز، بیک گراؤنڈ میوزک، فائٹ سیکوئنسز اور ہیرو کی خاندانی ٹریجڈی پر اس کی بیچارگی، اتنی نپی تلی فلم کہ جس سے ہر عمر اور طبقے کے لوگ لطف اندوز ہوئے۔

اس کے کچھ عرصہ بعد جب کچھ ہوش سنبھالا تو کسی دوست کے کہنے پر ہالی وڈ کی ایک اور فلم ”کنگڈم آف ہیون“
(Kingdom of Heaven)

دیکھی، یہ فلم تیسری صلیبی جنگوں میں ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے جس میں عیسائی بادشاہت، سلطان صلاح الدین ایوبی کے حملوں سے یروشلم کا دفاع کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

گو کہ یہ فلم زیادہ تر فکشن ہے لیکن رائٹر اور ڈائریکٹر نے کمال مہارت اور مذہبی رجحان سے ہٹ کر حقائق کو پیش کیا، تکنیکی اعتبار سے بھی یہ فلم ایک کمال ہے، جب بھی موقع ملے اس کے مختلف حصے ضرور دیکھتا ہوں کیونکہ یہ میری فیورٹ فلموں میں سے ایک ہے، یہی فلم میرا ہالی وڈ کے عظیم ہدایت کار ”رڈلی سکاٹ“ سے تعارف بنی اور مجھے تب پتہ چلا کہ گلیڈییٹر بھی رڈلی سکاٹ کا ہی شاہکار ہے۔

خیر آج ہمارا موضوع رڈلی سکاٹ نہیں بلکہ اس کی حالیہ ریلیز ہونے والی فلم ”نپولین“ کا صرف ایک پہلو ہے، فلم مشہور فرانسیسی جرنیل اور بادشاہ نپولین کی زندگی پر مشتمل ہے، وہ کامیاب فاتح ہونے کے ساتھ تاریخ میں ایک متنازع کردار بھی ہے، ایک عام فوجی افسر سے جرنیلی اور اس کے بعد بادشاہت تک کے سفر میں جنگی حکمت عملی اور ملکی حالات کے ساتھ اس کا سب سے بڑا ہتھیار میڈیا پر کنٹرول تھا۔

صرف 27 سال کی عمر میں جرنیل بن جانے والا نپولین، آرٹ کا دلدادہ ہونے کے ساتھ مطالعہ، تحقیق اور اخبارات کی ترویج میں انتہائی دلچسپی رکھتا تھا، اس نے بہت سے اخبار شروع کروائے اور بقیہ شائع ہونے والے پرچوں اور ان کے منتظمین سے تعلق اس کی ترجیحات میں شامل رہا، یاد رہے یہ سب کچھ وہ اس وقت کر رہا تھا جب وہ ایک جرنیل تھا، اس طرح اس وقت کا تمام میڈیا نپولین کا پرستار بن چکا تھا اور نپولین ایک اسٹار۔

تمام اخبارات میں نپولین کی شخصیت اور کامیابیوں کے بارے میں خوبصورت دیو مالائی سکیچز کے ساتھ (جن کی تشبیہات الیگزینڈر اور سیزر سے ہوتی تھیں، ( نپولین بھی اپنے آپ کو سیزر کے روپ میں دیکھتا اور اسے آئیڈیلائز کرتا تھا) ) روزانہ کی بنیاد پر مضامین چھپتے تھے، جن میں یہ باور کروایا جاتا تھا کہ نپولین تو سیاست سے ہٹ کر ایک عظیم اور کامیاب شخصیت ہے، اسے کسی قسم کا کوئی لالچ نہیں، جہاں پورا ملک، معاشرہ اور حکمران کرپٹ ہیں وہاں یہ ایک عظیم جرنیل اپنا کام کیے جا رہا ہے وغیرہ وغیرہ۔

یہ سلسلہ کئی سال تک جاری رہا، اس دوران نپولین نے برٹش کے خلاف جنگی حکمت عملی کے تحت مصر پر چڑھائی کی، جس کے بعد اس کا ارادہ انڈیا پہنچ کر ٹیپو سلطان کی مدد کرنے کا تھا، تاکہ برٹش ایمپائر کو کمزور کیا جا سکے، تقریباً ایک سال مصر میں پھنسے رہنے کے بعد بری طرح ناکام، اپنی فوج چھوڑ کر نپولین چپکے سے واپس فرانس نکل آیا۔

اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس ناکام مہم پر نپولین کا مواخذہ ہوتا، اس پر تنقید کی جاتی، اس ناکام مہم کی تفصیلات لوگوں کو بتائی جاتیں، اس کے دعووں کے برعکس، ناکامیوں کو زیر بحث لا کر اسے کسی نہ کسی صورت سزا دی جاتی، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا، بلکہ حیران کن حد تک بندرگاہ پر اس کا ایک ہیرو کی طرح استقبال کیا گیا، لوگوں نے ترانے گائے، اس کے حق میں جلوس نکالے، شاعروں نے نظمیں لکھیں، پینٹروں نے تصویریں بنائیں، موسیقاروں نے دھنیں ترتیب دیں، نثر نگاروں نے اس کے حق میں نثری خاکے لکھے کہ ایسا عظیم انسان تو تاریخ میں نہیں آیا، کرپٹ حکمران اس کے آگے کیا بیچتے ہیں۔

اس والہانہ استقبال پر وہ خود بھی حیران تھا، یاد رہے مصر کی ایک سالہ مہم کے دوران اخبارات نپولین کے حق میں اپنا کام کرتے رہے، یہ وہ وقت تھا جب ریوولیوشن کے بعد ملک تقریباً انارکی کی حالت میں تھا، اس وقت کے حکمرانوں پر کرپشن اور اقربا پروری کے شدید الزامات لگ رہے تھے۔

ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے نپولین نے اپنی جگہ ہموار کرنا شروع کی اور حکومت کے خلاف ”کو“ کر دیا، ایک کونسل بنا کر اپنے آپ کو ”چیف ایگزیکٹو“ نامزد کر لیا، میڈیا نے اس کے حق میں لوگوں کے دلوں میں ایسی جگہ بنا دی تھی کہ اس کے ہر صحیح و غلط اقدام کو عوام کی طرف سے تہ دل سے قبول کیا جا رہا تھا۔

اب سلسلہ شروع ہوتا ہے ریفرنڈم (سرویز) کا، ہر کچھ عرصے کے بعد نپولین نے ریفرنڈم کروائے، جن کے نتیجے اس کے حق میں 99.9 پرسنٹ حاصل ہوئے یا کیے گئے، یہ ریفرنڈمز ایک سیریز تھی اور آخری سروے تھا کہ (ترقی، خوشحالی اور عظمت کو برقرار رکھنے کے لیے ) کیا نپولین کو اس ملک کا بادشاہ بن جانا چاہیے؟

نتیجہ تھا ”ہاں“ ( 99.9 پرسنٹ) ۔

کہتے ہیں کہ نپولین کی جنگی حکمت عملی دنیا کی تمام بڑی افواج میں بطور سلیبس پڑھائی جاتی ہے، یقیناً ہمارے خطے کی تمام افواج میں بھی پڑھائی گئی ہوگی، تاریخ کے یہ کردار حکمرانوں جرنیلوں اور ریاستی عہدے داروں کے لیے بہت کچھ چھوڑ کر گئے ہیں۔

لیکن ہمارے ہاں گزشتہ دہائی میں یہ کیسا عجیب معجزہ ہوا کہ چند جرنیلوں نے ایک جرنیل کی بجائے ایک سویلین کو نپولین بنانے میں خوب حصہ ڈالا، کیا انہوں نے تاریخ نہیں پڑھی تھی کہ اگر سالہا سال میڈیا پر یک زبان ایک ہی راگ الاپا جائے تو اس کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے؟ لوگ کس طرح ”الیوژن“ کا شکار ہو سکتے ہیں؟ یہ سائنسدان جرنیل یا تو خود بہت نالائق تھے یا سبق پڑھنے یا پڑھانے میں کہیں کوئی کوتاہی رہ گئی۔

نپولین ٹھیک تھا یا برا وہ تاریخ کا حصہ بن چکا اور تاریخ کسی کو معاف نہیں کرتی، لیکن آج کے جدید دور میں جب جمہوریت (تمام تر الائشوں، قباحتوں اور بین الاقوامی طاقتوں کی رسہ کشی کے ساتھ ) ایک ورلڈ آرڈر کی حیثیت اختیار کر چکی ہے، کیا ہم جیسی کمزور ریاستیں ایسے تجربات برداشت کر سکتی ہیں؟

ہمارے سائنس دانوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ 25 کروڑ بھوکی و مفلس عوام کا ملک ہے، آپ تجربے کرتے ہیں، وہ ناکام ہوں یا کامیاب، ان کی تپش آپ کی نسلوں تک نہیں پہنچ پاتی، فرق صرف یہ ہے کہ نپولین کو شکست کے بعد سزا کے طور پر دور دراز جزیرے پر بھیج دیا گیا جہاں اس کی وفات ہوئی، جبکہ ہمارے سائنسدان اپنی مرضی سے جزیروں پر شفٹ ہو جاتے ہیں، مرنے کے لیے۔

Facebook Comments HS