پاکستان کیوں ترقی نہیں کر رہا؟


دنیا جب سے جدید دور میں داخل ہوئی ہے تب سے دنیا کے ممالک میں مقابلہ جنگوں کے میدان میں نہیں بلکہ ترقی کی رفتار میں ہو رہا ہے۔ جن ممالک میں ترقی کی رفتار بہتر ہے یا تسلی بخش ہے۔ وہاں انسانی زندگی میں خوشحالی ہے اور تنازعات سے یہ ممالک دور ہوتے جا رہے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان اس کی بہترین مثال ہے۔ حالیہ دہائیوں میں چین، جنوبی کوریا، سنگاپور، ملائیشیا اور کئی دیگر ممالک کی مثال دی جا سکتی ہے۔ یہ سارے ممالک قدرتی وسائل سے نہیں بلکہ بہتر انتظام سے آج ترقی یافتہ ہیں۔

بہتر انتظام سے مراد منصوبہ بندی اور اس کے مطابق کام اور کام کی نگرانی ہے۔ جو ممالک دنیا میں اس وقت ترقی نہیں کر رہے ان میں ان تینوں شعبوں کی کمی آپ کو نظر آئے گی۔ بنگلہ دیش گزشتہ ایک دہائی پہلے ان ممالک میں شامل تھا۔ جہاں ترقی کا گراف نیچے جا رہا تھا مگر گزشتہ دس برسوں میں جب سے انہوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کی اور اس کے نتیجے میں کام کا آغاز کیا ہے اور اس کام کی سائنسی بنیادوں پر نگرانی کر رہے ہیں تو وہ تیزی کے ساتھ ترقی کے راستے پر گامزن ہیں۔

ان کے منصوبہ بندی کے ماہرین نے پانچ سالہ اور بیس برس کا جو پلان بنایا ہے۔ وہ اس پر کاربند ہیں جس کے نتیجے میں ابتدائی چار برسوں میں ان کی اکانومی بیرون امداد و قرضوں سے نکل کر خود کفالت کی راہ پر ہے۔ ان کی فی کس آمدنی میں چار گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے لوگوں کی تعداد میں تیزی کے ساتھ کمی ہو رہی ہے اور ان کے شہروں میں مواصلات اور دیگر شعبوں میں بہت تیزی کے ساتھ ترقی اور بدلاو آ رہا ہے۔

جب کے بنگلہ دیش کے مقابلے میں پاکستان چند برس پہلے تک بہتر پوزیشن میں تھا۔ پاکستانی روپے کی قدر بنگلہ دیشی ٹکے کے مقابلے میں کافی بہتر تھی، پاکستانی بنکوں میں ڈالروں کا ذخیرہ ان سے بہتر تھا۔ اور شرح نمو بھی ان سے کہیں بہتر تھی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ بنگلہ دیش کی شرح نمو پاکستان سے بہت بہتر ہو گئی ہے۔ ٹکا روپے کے مقابلے میں بہتر ہو گیا ہے اور اس کے پاس پاکستان کے مقابلے میں زرمبادلہ کے ذخائر دس گنا سے زیادہ بڑھ چکے ہیں۔

بنگلہ دیش میں کرپشن کی شرح بہت زیادہ حد تک کم ہو گئی ہے۔ اگر ان سب کے اسباب تلاش کیے جائیں تو صرف ایک ہی فرق ہے کہ بنگلہ دیش نے اپنی توجہ منصوبہ سازی اور بہتر انتظامی ترتیب کی جانب مبذول رکھی اور پاکستان میں اس کے برعکس کام ہوتے رہے۔ منصوبہ بندی کیوں ضروری ہے۔ اس کی وضاحت ماہرین یہ کرتے ہیں کہ جدید علمی اور سائنسی دور میں درست منصوبہ کرنے سے ہی اپنے وسائل کا درست استعمال کیا جاسکتا ہے اور نئے وسائل پیدا کرنے یا مہیا کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے اور انتظام بہتر بنانے سے مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

لیکن ایسا کرنا تب ممکن ہو گا کہ آپ ترقی کے اس عمل میں کتنا بہترین نگرانی اور جائزہ کا نظام رائج کرتے ہیں۔ مانیٹرنگ اینڈ ایولیوشن کی وجہ سے جو بھی منصوبہ ہو اس کی عملی تکمیل ممکن ہوتی ہے اور مستقبل کے لیے منصوبہ بندی میں سہولت رہتی ہے۔ پاکستان کو ساٹھ کی دہائی میں جو معاشیات کے ماہرین ملے ان کی منصوبہ بندی اور انتظام کی وجہ سے پاکستان نے ترقی کا سفر شروع کیا تھا اور اس کے نتیجے میں بڑے بڑے ڈیم بنے، کراچی میں ایشیاء کا سب سے بڑا لوہے کا کارخانہ لگا۔

ریلوے اور پی آئی اے نے اپنا دور زرین دیکھا۔ بنکنگ کا نظام جدید خطوط پر استوار ہوا۔ ملک میں صنعتی یونٹ لگے۔ مگر جو کام وہ نہیں کرسکے وہ تھا نگرانی اور جائزے کا کوئی عملی نظام بنانا جو اس ترقی کی مزید راہ ہموار کرتا اور مستقبل کے منصوبوں کی راہ ہموار کرتا۔ پاکستان میں منصوبہ بندی کا ایک قومی اور چار صوبائی ادارے ہیں۔ پلاننگ کمیشن اف پاکستان اور صوبائی پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ کے شعبہ جات مگر یہ ادارے سیاسی طور پر ترقیاتی بجٹ کے بندر بانٹ سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہیں۔

ان اداروں نے پاکستان کا مکمل اقتصادی سروے ہی نہیں کرایا اور نہ اپنے وسائل کی مکمل ڈیجیٹائزیشن کی ہے۔ نہ ان کے پاس وسائل کی تقسیم کا کوئی عملی نظام ہے۔ اور جو ترقیاتی سرمایہ یہ لگا رہے ہیں وہ کرپشن کی نذر ہوجاتا ہے اور کام اگر ہو بھی جاتا ہے تو اس کا معیار اتنا ناقص ہوتا ہے کہ اس کا عملی فائدہ نہیں ہوتا۔ یہ ادارے اب تک اس بات پر متفق نہیں ہو سکے کہ ان کا اگلے دس یا پندرہ برسوں کے لیے کیا منصوبہ بندی ہے۔

جتنا پیسہ صرف لاہور شہر پر لگا اس کا نصف بھی پورے جنوبی پنجاب پر نہیں لگا۔ اس لیے جنوبی پنجاب میں ترقی کا کوئی نشان نظر نہیں آتا۔ اس طرح فاٹا کے وہ اضلاع جو اب خیبر پختونخوا میں ہیں ان پر کھربوں روپے کاغذوں میں خرچ کیے گئے مگر عملاً ان علاقوں میں زندگی کی کوئی سہولت میسر نہیں ہے۔ یہی حال اندرون سندھ کا ہے جہاں کاغذوں میں کھربوں کا بجٹ خرچ کیا گیا مگر عملاً نتیجہ صفر ہے۔ بلوچستان بھی اس کی تفسیر پیش کر رہا ہے۔

پاکستان کے اپنے وسائل بھی بہت زیادہ ہیں اور پاکستان نے گزشتہ برسوں میں 130 ارب ڈالرز سے زیادہ کے بیرونی قرضے بھی لیے ہیں۔ اور موجودہ صورتحال یہ ہے کہ ان قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے مزید قرض لیے جائیں گے۔ جبکہ عملاً دیکھا جائے تو پاکستان میں کہیں بھی کوئی ترقی یا پیش رفت دکھائی نہیں دیتی۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں گزشتہ دہائیوں میں کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی اور نہ ہی نگرانی اور جائزے کا کوئی عملی انتظام کیا گیا۔

اس لیے پاکستان میں ترقی نہیں ہو رہی۔ پاکستان میں حکومت کے ساتھ ساتھ گزشتہ کچھ دہائیوں سے این جی اوز نے بھی کھربوں روپے عالمی اداروں سے لے کر کاغذوں میں خرچ کر دیے ہیں۔ ان کے کاموں کو آپ صرف ان کے شایع کردہ یا ڈونرز کو جمع کردہ رپورٹوں میں دیکھ سکتے ہیں۔ عملی طور پر ان کا وجود بھی آپ کو کہیں نظر نہیں آئے گا۔ آپ ورلڈ بنک کے گزشتہ بیس برس کے جائزہ رپورٹوں کو اٹھا کر پڑھ لیں۔ آپ حیران رہ جائیں گے کہ جن کاموں کا تذکرہ ان رپورٹوں میں ہے وہ کہاں پر ہیں۔

پاکستان میں صرف منشیات کی لعنت ختم کرنے لیے کھربوں روپے خرچ کیے گئے۔ آپ جس بھی شہر میں ہیں باہر نکل کر دیکھیں کہ کوئی کام آپ کو کہیں نظر آتا ہے۔ منشیات کی استعمال میں دس گنا سے زیادہ اضافہ ہو گیا ہے اور منشیات کے عادی افراد پاکستانی معاشرے کی بوسیدہ لاش کندھے پر اٹھائے آپ کو ہر گندگی کے ڈھیر پر پڑے نظر آئیں گے۔ یہاں ہزاروں کی تعداد میں خیراتی ادارے آپ کو ملیں گے۔ جو دونوں ہاتھوں سے غریبوں کو لوٹ رہے ہوتے ہیں۔

آپ خون کے ٹسٹ ان خیراتی اداروں سے کروائیں یہ آپ سے سرکاری ہسپتالوں کے مقابلے میں دس گنا سے بھی زیادہ قیمت وصول کرتے ہیں۔ یہ سب اس وجہ سے ہے کہ ہم نے نہ منصوبہ بندی کی اور نہ ہی نگرانی اور جائزہ کا بندوبست کیا۔ کیا یہ مقام حیرت نہیں ہے کہ پورے پاکستان کے کسی بھی تعلیمی ادارے میں نگرانی اور جائزہ کا مضمون ہی نہیں ہے اس پر کسی بھی یونیورسٹی میں کوئی ڈگری نہیں دی جاتی۔ اس کے لیے کوئی انسٹی ٹیوٹ ہی نہیں ہے۔ تو اس کے ماہرین کہاں سے آئیں گے۔ سرکاری اداروں میں اس مقصد کے لیے خانہ پری کے طور پر کچھ لوگوں کو بھرتی کیا جاتا ہے۔ جن کو اس کی الف بے کا بھی پتہ نہیں ہوتا۔ وہ دفتر میں بیٹھ کر ٹھیکیداروں سے چند روپے لے کر فارم بھر کر دستخط کرتے ہیں اور ملک کی ترقی کے تابوت میں کیل ٹھونگ دیتے ہیں۔

دنیا کی ترقی کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ ترقی کرنے والے ممالک نے نگرانی اور جائزہ کے لیے ایک منظم اور جدید نظام بنایا۔ انہوں نے اس کو باقاعدہ یونیورسٹیوں میں ایک لازمی سبجیکٹ کے طور پر پڑھایا۔ اس کے اصول دریافت کیے۔ اس کے لیے جدید آلات اور ذرائع سے مدد حاصل کی۔ اس طرح انہوں نے اپنا سرمایہ خردبرد ہونے سے بچایا اور وقت پر ترقی کی رفتار کو ترتیب سے جاری و ساری رکھا جس کے نتیجے میں ان کے ممالک ترقی کرتے چلے گئے۔ مگر اس کے مقابلے میں ہمارے ملک میں اس کام پر مامور افراد نے ان افراد کی دل کھول کر مدد کی جو اسے لوٹ رہے تھے۔ یہاں ترقی کے کاموں کے لیے جو محکمے بنائے گئے وہ سب سے زیادہ کرپشن کرتے ہیں۔

پی ڈبلیو ڈی، سی اینڈ ڈبلیو، ایریگیشن، این ایچ اے یہ سب محکمے اپنے فرائض ادا کرنے میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔ اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ ان سب پر نظر رکھنے اور جائزہ لینے کے لیے کوئی عملی اور سائنسی انتظام ہی نہیں کیا گیا۔ جس کی وجہ سے ان اداروں نے ترقیاتی کام کرنے کی جگہ قومی وسائل کا زیاں کیا۔ حیرت اس امر پر ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے بھی ملک کی ضروریات کا کوئی سروے نہیں کرایا اور اس کے مطابق اپنا تعلیمی نظام ترتیب نہیں دیا۔

اب جب پوری دنیا ڈیجیٹل ہو چکی ہے اور سب کچھ مشینوں کی کنٹرول میں آ چکا ہے اس دور میں بھی ہم صرف اپنی کرپشن کے لیے کسی بھی دفتر اور نظام کو ڈیجٹل پلیٹ فارمز پر نہیں لے جا رہے ہیں۔ اس لیے کہ اگر ایسا کریں گے تو وہ لوگ جو گزشتہ بوسیدہ فائلوں کے نظام کا سہارا لے کر کرپشن کر رہے ہیں ان کی دکان بند ہو جائے گی۔ ہمارے پاس این ایچ اے کی کل آمد نی کا کوئی حساب نہیں ہے اس لیے کہ ان کا پورا نظام ڈیجیٹل سسٹم پر نہیں ہے۔

پاکستان کے ترقی نہ کرنے کے پیچھے بہت سارے محرکات ہیں۔ لیکن سب سے بڑی وجہ نظام کا نہ ہونا ہے۔ اگر ہم نے ترقی کرنی ہے تو نگرانی اور جائزہ کا وہ نظام جو دنیا میں رائج ہے اسے مکمل پروٹوکولز سمیت یہاں بھی رائج کرنا ہو گا۔ اور یہ کام ہنگامی بنیادوں پر کرنا ہو گا۔ ورنہ بہت دیر ہو جائے گی اس لیے کہ دنیا جس تیزی کے ساتھ تبدیل ہو رہی ہے اس میں ہم کہیں بھی نظر نہیں آرہے۔ اگلے چند برسوں میں جن کے پاس ڈیجیٹل نظام ہو گا ان کو پیسے ملیں گے اور جن کے پاس نہیں ہو گا وہ بھوکے مر جائیں گے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments