بلال پاشا: سسٹم کی ستم ظریفیوں کا تازہ شکار
ہم سب جس نظام میں جی رہے ہیں یہ آدم خور دیو کا روپ دھار چکا ہے۔ اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے انسانوں کو نگلنا اب اس کی مجبوری بن چکی ہے۔ بلال پاشا اس نظام کے ظلم کا تازہ ترین شکار ہے۔ بلال کو اس نظام کی ستم ظریفیوں کا اندازہ تھا اس لیے وہ خود کو بچانے کے لیے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر چیخ و پکار کرتا رہتا تھا کہ یہ نظام آہستہ آہستہ اس کے وجود کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ لیکن یہ چیخ پکار ہر ایک کو سنانے کے لیے اسے موت کے چوبارے پر چڑھ کر چھلانگ لگانی پڑی کہ اس کے سوا کوئی اس کی آہ و بکا پہ کان دھرنے کو تیار نہ تھا۔ آخر اس کی موت نے ماحول پر وہ سناٹا طاری کیا جو اس کی جاری چیخ و پکار کو سنوانے کے لیے درکار تھا۔ اور اب کل سے ہر طرف ”بلال، بلال“ کا شور برپا ہے۔ نجانے یہ روایت کب دم توڑے گی کہ اس نظام کے خلاف آواز لوگوں تک پہنچانے کے لیے ہر بار موت کا جھولا جھولنا پڑے گا۔
بلال کے ساتھ سسٹم نے کون سا داؤ کھیلا؟
اس آدم خور نظام کے پاس انسانوں کو شکار کرنے کے ان گنت طریقے موجود ہیں بلال کو شکار کرنے کے لیے اس نے جو طریقہ اختیار کیا وہ سب سے خوفناک اور ظالمانہ ہے۔ وہ طریقہ ہے افراد کو ان کے ”اصل“ سے جدا کر دینا اور ”جڑ“ سے کاٹ دینا۔
جی ہاں، اگر آپ بلال کو سنیں اور پڑھیں اور اس کو درپیش حالات کا تجزیہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ اس نظام کی ستم ظریفیوں نے اسے اس کی ”جڑ“ سے جدا کر دیا تھا۔ وہ اپنی اصل سے بہت دور نکل گیا تھا۔ وہ سول سروس کی بظاہر چکا چوند دنیا کا حصہ بننے کے بعد خود کو بے آب و گیاہ، لق و دق صحرا میں پھنسا ہوا بے سہارا مسافر محسوس کرتا تھا۔ لیکن وہ صحرا میں اپنا وجود برقرار کہ پانے والا شجر نہیں تھا۔ وہ حساس تھا۔ اسے اپنے اردگرد ہر وقت انسانوں کے وجود کی ضرورت تھی لیکن اب انسان نما مفاد پرست آکاس بیلوں کے نرغے میں آ چکا تھا۔ سول سروس میں آنے والا ہر وجود کچھ عرصے بعد ان آکاس بیلوں سے گھر جاتا ہے۔ اور یہ وقت کے ساتھ ساتھ اس سے انسانیت، احساس، نرم خوئی، جیسے پھولوں کو ہٹا کر اسے غرور و تکبر، خود نمائی اور خود غرضی جیسے کانٹوں سے بھرا ہوا درخت بنا دیتی ہیں۔
بلال پاشا کو جب آپ سنتے ہیں تو وہ اپنی باتوں میں ”ماں“ بلھے شاہ، غلام فرید، کارل مارکس وغیرہ کا ذکر کرتا ہے۔ وہ اپنی خدمت پر مامور لوگوں کو ”ملازم“ کہنے سے گھبرا جاتا ہے۔ وہ انہیں اپنا مددگار کہتا نظر آتا ہے۔ کہیں وہ پنجابی شاعری کے اندر بیان کی گئی ان حقیقتوں کی تشریح بیان کرتا نظر آتا ہے جن میں سرمایہ دارانہ نظام کی طرف سے قائم کی گئی وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ وہ چاہتا تھا کہ اللہ کی طرف سے دنیا پر وارد کیے گئے تمام وسائل پر ہر انسان کا برابر حق ہو۔
ایک ویڈیو میں وہ ایک پنجابی شعر کو اپنا پسندیدہ شعر بتاتے ہوئے خدائی وسائل پر سرمایہ داروں کے غاصبانہ قبضے پر افسردگی کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔
رحم دلی، علم دوستی، وسائل کی منصفانہ تقسیم کا پرچار، ادبی ذوق، ماں بولی سے محبت، طبقاتی تقسیم کی مخالفت، یہ سب بلال کا اصل تھا۔ اور اس سسٹم نے اس اصل کے حامل شخص کو سول سروسز کے صحرا میں لا کھڑا کیا۔ جہاں مذکورہ تمام خصوصیات کے حامل کسی بھی پودے کا پھلنا تو دور اپنا وجود قائم رکھ پانا بھی ممکن نہیں رہتا۔
اگر ہمارے نظام میں لوگوں کو مجبور کر کے انہیں اپنی اصل سے دور کر دینے کی ظالمانہ خصلت نہ پائی جاتی ہوتی تو بلال سول سرونٹ بننے کی بجائے ایک استاد ہوتا یا پھر ادیب بن کر اپنے خیالات کی تحریک کو مزید نوجوان ذہنوں میں منتقل کرتے ہوئے دیے سے دیا جلانے والی مشعل کا کام کرتا۔ یوں وہ بھری جوانی میں ڈپریشن کا شکار ہو کر بے موت نہ مارا جاتا۔
لیکن سسٹم نے اسے مجبور کیا کہ یہاں اس سماج میں کیڑے مکوڑوں کی بجائے انسانوں کے حقوق حاصل کرنے ہیں تو اشرافیہ کا حصہ بننا پڑے گا اور اشرافیہ کا حصہ بننے کے لیے سماج نے اس پر دباؤ ڈالا۔ وہ خود اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ وہ سول سروس میں آنے سے قبل خوش تھا لیکن اس کے باپ کی خواہش تھی کہ وہ سرکاری ملازمت کرے اور باپ کی خواہش سماج کے دباؤ کی براہ راست عکاسی کرتی ہے۔ سماج جو ہر باپ کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنی اولاد پر دباؤ ڈالے کہ اس کی اولاد وہ سب کچھ حاصل کر لے جو وہ خود کسی وجہ سے حاصل نہیں کر پایا۔
وہ سماج جس میں استاد اور ادیب کو وہ مقام حاصل نہیں کہ کوئی باپ اپنی اولاد کو استاد بننے کی ترغیب دلا سکے۔
شاید اس باپ کو اپنے بیٹے کی قلبی حساسیت کا ادراک ہی نہیں تھا اور نہ سماج یہ ادراک حاصل ہونے دیتا ہے۔ یوں بلال ایک حساس دل لے کر سول سروس کے کانٹوں بھرے راستے کا مسافر ہو گیا اور یہ کانٹے کچھ ہی عرصے میں اس کے لیے سوہان روح بن گئے۔
یہ بلال تو سوشل میڈیا کی چیخ و پکار کی وجہ سے اور گزشتہ کچھ عرصے سے اشرافیہ کا حصہ ہونے کہ وجہ سے مرنے کے بعد خبروں کی زینت بن گیا۔ لیکن نہ جانے کتنے ان گنت بلال ایسے ہیں جو اپنی اصل سے جدا کر دیے جانے کی سسٹم کی روایت کی نذر ہو کر بے موت مارے جا رہے ہیں۔ اور جو مرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے وہ روز مرنے کا عذاب سہتے ہیں۔ ضمیر کا گلا گھونٹ کر زندہ رہنے کو ترجیح دینا ان کی سانسیں تو برقرار رکھتا ہے لیکن وہ جذبات و احساسات سے عاری ہو کر اپنے وجود کی لاشیں اپنے کندھوں پر اٹھائے پھرتے ہیں۔
خدارا، میری ہاتھ جوڑ کر التجا ہے کہ اپنے بچوں کو ان کی اصل سے جدا کرنے کے لیے سسٹم کا معاون بننا بند کر دیجیے ورنہ بلال کے والد کی طرح اپنے ناتواں ہاتھوں سے اپنے جواں سال بچوں کی لاشیں دفنانے کے لیے ہمہ وقت تیار رہیے۔
ہو سکتا ہے اگلا بلال پاشا آپ کا وہ بچہ ہو جس نے آپ کی ضد کی وجہ سے اپنی جڑ اور اپنی اصل سے لا تعلقی اختیار کر لی ہو۔


