بلال پاشا کی موت ”فیرک وکٹری“ کا شاخسانہ ہے یا ذہنی دباؤ کا نتیجہ؟


آج کل ”فیرک وکٹری“ نامی اصطلاح کا بڑا چرچا ہے۔ ” یہ ایک ایسی جان توڑ قسم کی کامیابی ہوتی ہے جو بہت کچھ داؤ پر لگانے کے بعد حاصل ہوتی ہے۔ صحت، وقت، توجہ اور سخت قسم کی محنت کے بعد یہ منزل حاصل ہوتی ہے“

سی ایس پی افسر بلال پاشا کی موت کو اس اصطلاح کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

اور اس حقیقت میں کوئی شبہ بھی نہیں ہے کہ بلال پاشا کو یہ اعزاز خاصی محنت کے بعد حاصل ہوا تھا، غربت و تنگ دستی کے سائے میں پل بڑھ کر جوان ہوا، مکتب سکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور ٹیوشن پڑھا کر اعلیٰ تعلیم کے خواب کو پورا کیا۔

جو کچھ بھی کیا سب اپنے بل بوتے پہ کیا اور زندگی بھر اپنی حیات سے صرف ایک ہی گلہ رہا جس کا وہ اکثر اظہار بھی کرتا تھا ”مجھے ضرورت کے وقت کوئی سکھانے یا رہنمائی کرنے والا نہیں ملا“

اسی محرومی و بے بسی کو بھگتنے کے بعد دوسرے ضرورت مندوں کے لیے اس مشکل صورتحال و کیفیت کا ازالہ کرنے کے لیے انہوں نے مقابلے کا امتحان پاس کر کے بطور سی ایس پی افسر اپنا ایک چینل لانچ کر کے کیا۔ جس میں وہ انتہائی مصروفیت کے باوجود بھی ہزاروں طلباء کو آن لائن پڑھا کر ان کی مکمل رہنمائی کیا کرتے تھے۔

اب کسے خبر تھی کہ ہنسنے ہنسانے والا ایک حسین سا چہرہ نجانے کتنے درد اپنے سینے میں دبائے بیٹھا تھا؟ کسے پتا تھا کہ ہزاروں نوجوانوں کے خوابوں کو اپنی رہنمائی کے ذریعے ایک منفرد سا عنوان دینے والا بلال پاشا نجانے کتنی محرومیوں کے کرب کو اپنے دل و دماغ میں دفن کیے بیٹھا تھا؟ کون جانتا تھا کہ یہی درد ایک دن اس کی جان لے گا اور ہنستا مسکراتا سا چہرہ بہت پہلے ہی ہم سے منہ موڑ لے گا؟

ان کی اچانک موت کے متعلق مختلف افواہیں گردش کر رہی ہیں، وجہ موت کوئی دل کا دورہ بتا رہا ہے تو کوئی خودکشی اور کچھ قتل، اب حقیقت کیا ہے کون جانے؟

راز کھلنے میں کچھ وقت تو لگے گا نا!

البتہ بلال پاشا کی کچھ ویڈیوز دیکھنے اور ان کے والد صاحب کی گفتگو سننے کے بعد ایک بات تو واضح ہو جاتی ہے کہ اس کی شخصیت میں کوئی نہ کوئی ایسا ”خلا“ ضرور موجود تھا جو اسے سکون کی نیند سونے نہیں دے رہا تھا اور اسے اس قدر بلندی پر پہنچنے کے باوجود بھی بے چین کیے ہوئے تھا۔

اب اس خلا کو نفسیاتی عارضہ کہیں، ذہنی تناؤ، اینگزائٹی یا تشنہ خواب اور آرزوئیں کہہ لیں۔
لیکن ایسا کچھ تو ضرور تھا جو اس کی روح کو بے چین کیے ہوئے تھا۔

ایسے لوگ بلندی ملنے کے باوجود بھی مطمئن نہیں ہوتے اور زندگی و مرتبے کو ایک بے معنی سی چیز سمجھنے لگتے ہیں اور زندگی کی بے ثباتی کے قائل ہو جاتے ہیں۔

زندگی کی اس بے معنویت کو بھرنے کے لیے کچھ لوگ مذہب و روحانیت کی راہوں کے راہی بن جاتے ہیں اور دنیا سے بے نیاز ہو جاتے ہیں اور کچھ زندگی بھر خود سے لڑتے رہتے ہیں اور ذہنی توازن کھو بیٹھتے ہیں یا خود کشی کر لیتے ہیں۔

اب بلال پاشا زندگی کے کس پڑاؤ پر تھا کون جانے؟
ایک ویڈیو نظروں سے گزری جس میں وہ کہہ رہا تھا ”جب کبھی میں آفس میں تنہا ہوتا ہوں تو ملازم کو بول دیتا ہوں کہ وہ دروازے کو بند کر دے اور میری اجازت کے بغیر کسی کو اندر نہ آ نے دے، اس کے بعد میں جی بھر کے رو لیتا ہوں اور اکثر مجھے جی بھر کے رونے کی تمنا رہتی ہے“

ایک ویڈیو میں وہ بابا فرید کے ایک کلام
” میرا عشق وی توں میرا قبلہ کعبہ وی توں“
کی اپنے رنگ و کیفیت میں وضاحت کر رہا تھا۔
اب کون جانے کہ وہ ذہن کی کس کیفیت میں داخل ہو چکا تھا؟

ہمارا سسٹم بھی تو بہت ظالم ہے، ایسا شخص جو انتہائی غریب بیک گراؤنڈ سے اپنی دن رات کی محنت کے بل بوتے پر اوپر آ جاتا ہے اسے پیس کے رکھ دیتا ہے۔

ٹاٹ کلچر میں سے ابھر کر آگے آنے والے کو اپنی پسماندگی کی ایک بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے۔ یہ سسٹم بڑے بڑے ذہین افراد کو کھا گیا، اس قسم کی درجنوں مثالیں موجود ہیں جو ٹاٹ سے اٹھ کر بیوروکریسی کا حصہ بنتا ہے ان میں سے اکثر تو استعفیٰ دے جاتے ہیں یا تھک ہار کر سسٹم سے کمپرومائز کر لیتے ہیں یا ذہنی دباؤ کی وجہ سے خود کشی کر لیتے ہیں، دل کا دورہ بھی تو ایک لحاظ سے خودکشی کے زمرے میں ہی آتا ہے۔

” کیونکہ حادثہ ایک دم تو نہیں ہوتا نا!“

کئی  محرکات ہوتے ہیں۔ حال ہی میں میرے ایک انتہائی ذہین دوست بیوروکریسی کا حصہ بنے، ان سے جب میں نے یہ پوچھا کہ جناب اتنی بڑی پوسٹ کے حصول کے بعد کیا احساسات ہیں؟

انتہائی افسردگی سے کہنے لگا یار پہلے نیلی بتی کا نشہ دماغ پر سوار رہتا تھا اور اس کے حصول کے لیے زندگی کھپا ڈالی اور اب یہ خواہش بھی اپنی موت مرنے لگی ہے۔

میں نے پوچھا کہ آخر ایسا کیا ہوا؟ ابھی تو تمہاری سروس کو جمعہ جمعہ آٹھ دن بھی نہیں گزرے۔

کہنے لگا یار سسٹم کے ”سانڈ“ ہم سے بہت طاقتور ہیں جن کے سامنے مجھ ایسے کی قابلیت، طویل تعلیمی جدوجہد اور مقابلے کے امتحان میں کامیابی کی کوئی وقعت و حیثیت نہیں ہے، یہ بلند پوسٹیں ہم جیسے مڈل کلاس اور ٹاٹ سکولوں سے پڑھے ہوئے افراد کے لیے بالکل بھی نہیں ہیں۔ ہم اپنی قابلیت کی بدولت خداوندان سسٹم کے قد کے برابر کبھی بھی نہیں پہنچ سکتے۔ یہ بلندیاں تو ایچی سن ایسے اداروں سے پڑھے ہوئے ایلیٹ کلاس کے بابووں کے لیے ہیں جو اس سسٹم میں بالکل فٹ بیٹھتے ہیں۔

کہنے لگا بھائی! اس پوسٹ پر بیٹھتے ہی اپنے بل بوتے پر کچھ انقلابی سے اقدامات کر بیٹھا تھا جس کا خمیازہ مجھے شروع میں ہی بھگتنا پڑ گیا اور سسٹم کے بڑوں نے جھٹ سے مجھے میری اوقات یاد دلا دی اور اب میں انتہائی دباؤ میں رہتا ہوں اور میری نیند بہت زیادہ ڈسٹرب ہو چکی ہے۔

یہ تو ایک مثال ہے اس طرح کی درجنوں مثالیں ہمارے سماج میں مل جائیں گی، یقین مانیں بلال پاشا جیسے ہزاروں انتہائی ذہین اور کار آمد لوگ ہمارے سماج میں موجود ہیں جنہیں منزل دکھانے والا کوئی نہیں ہے۔ وہ اس نظام کے لیے بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں، انتہائی کوشش اور محنت کے باوجود بھی ان کا قد سسٹم کے برابر نہیں جا پاتا۔ بلال پاشا اس قسم کے محروم طبقے کے لیے کوشاں تھا۔ کسمپرسی کے ماحول میں سے جدوجہد کر کے اوپر آنے والا یہ شخص بہت سوں کی آس اور امید تھا۔ آن لائن لیکچر اور ویڈیوز کے ذریعے سے وہ مایوس دلوں میں امید کا دیا جلایا کرتا تھا اور اس کا یہ ماننا تھا کہ محض محنت کی بدولت ایک غریب بندہ بھی اوپر آ سکتا ہے اور اس نے اپنے عمل سے ثابت بھی کیا تھا۔

لیکن آخر ہار گیا اور ابدی نیند سو گیا۔

اس مضمون کا مقصد سول سروس میں آ نے والوں کا حوصلہ پست کرنا بالکل بھی نہیں ہے بس اتنی سی گزارش کرنا مقصود ہے کہ ”منزلیں اور بھی ہیں نیلی پیلی بتی کے علاوہ“

بیوروکریسی کوئی حرف آ خر یا حتمی منزل نہیں بلکہ بہت سی فیلڈ ہیں جن میں طبع آزمائی کر کے خود کو منوایا جاسکتا ہے اور خود کو منوانا بھی تو اپنی جان کی قیمت پر ہی کیوں؟

Facebook Comments HS